اسرائیل سے نفرت میں اضافہ

اسرائیل سے نفرت میں اضافہ

اسرائیل سے نفرت میں اضافہ

ترتیب: عبدالعزیز

دنیا کی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جب ظلم کی داستانیں اتنی ہولناک ہو جاتی ہیں کہ ضمیر ِ انسانی مزید خاموش رہنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ آج ہم ایک ایسی ہی تاریخی تبدیلی کے گواہ بن رہے ہیں۔ وہ اسرائیل، جسے دہائیوں تک مغربی طاقتوں اور عالمی میڈیا کی غیر مشروط حمایت حاصل رہی، آج عالمی سطح پر تنہائی اور شدید عوامی نفرت کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ نفرت کسی عارضی غصے کا نام نہیں، بلکہ دنیا بھر کے انسانوں کے ٹوٹتے ہوئے صبر کا پیمانہ ہے۔ غزہ کی گلیوں میں بہنے والا معصوم بچوں کا خون، اسپتالوں کے ملبے سے اٹھتی چیخیں اور تعلیمی اداروں کی راکھ نے دنیا کا رخ بدل دیا ہے۔ اب یہ جنگ صرف مشرقِ وسطیٰ کی سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ دنیا بھر کے عوام کے دلوں میں لگی وہ آگ بن چکی ہے جو اسرائیلی پالیسیوں اور بن یامین نیتن یاہو کی حکومت کو جھلسانے کے لیے تیار ہے۔ غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں، فلسطینی شہریوں کی بڑے پیمانے پر شہادتوں اور انسانی بحران نے انسانیت کے ماتھے پر ایسا کلنک لگا دیا ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ اسرائیل کی جارحیت نے دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا عالمی قوانین صرف کمزوروں کے لیے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے خلاف اٹھنے والی یہ آواز اب صرف مسلم دنیا تک محدود نہیں رہی۔ مغرب کے وہ ملک جن کے ایوانوںمیں، کبھی اسرائیل پر تنقید کرنا ایک جرم سمجھا جاتا تھا، آج سڑکوں پر نکلنے والے لاکھوں کے ہجوم سے گونج رہے ہیں۔ امریکا، کینیڈا، یورپ، آسٹریلیا، جاپان اور جنوبی کوریا کے عوام نے اپنی حکومتوں کی منافقت کو مسترد کرتے ہوئے فلسطینیوں کے حق میں ایک ایسا محاذ کھڑا کر دیا ہے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ طلبہ، انسانی حقوق کے کارکنوں، دانشوروں اور عام شہریوں نے اپنی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل سے متعلق اپنی پالیسی پر نظر ِ ثانی کریں، غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے دبائو ڈالیں اور فلسطینی عوام کے حقوق کو تسلیم کریں۔
اس بدلتی ہوئی عالمی رائے کی سب سے خوبصورت اور طاقتور مثال مغرب کے تعلیمی ادارے ہیں۔ امریکا اور یورپ کی نامور یونیورسٹیوں کے نوجوانوں نے تمام تر ذاتی مفادات اور سیکورٹی کے خوف کو بالائے طاق رکھ کر فلسطینیوں کے درد کو اپنا درد بنایا ہے۔ تعلیمی اداروں کے میدان جنگ بن جانے کے باوجود، طلبہ کے نعروں نے حکومتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان کا مطالبہ صرف سیاسی نہیں، بلکہ خالصتاً ایک انسانی مطالبہ ہے’’غزہ میں جاری اس قتل ِ عام کو فوری روکا جائے، معصوموں کی نسل کشی بند ہو اور فلسطینیوں کو ان کی اپنی زمین پر جینے کا حق دیا جائے‘‘۔ مغرب کے نوجوانوں کا یہ جذبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پروپیگنڈے کی دیواریں گر چکی ہیں اور سچائی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ امریکا کی بڑی یونیورسٹیوں سے لے کر یورپ کے معروف تعلیمی اداروں تک، نوجوان نسل نے فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کی۔ یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ مغربی معاشروں میں اسرائیل کے خلاف اس پیمانے پر عوامی ردعمل پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ یہ صرف جذبات نہیں ہیں، بلکہ عالمی سروے کے وہ کاٹ دار اعداد و شمار ہیں جو اسرائیل کی اخلاقی شکست کی گواہی دے رہے ہیں۔
8 فروری سے 13مئی تک تمام براعظموں کا احاطہ کرنے والے ایک سروے میں 44,657 بالغ افراد سے اسرائیل کے بارے میں رائے پوچھی گئی جس کے نتیجے میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ اوسطاً 67 فی صد عوام اسرائیل کے بارے میں شدید منفی رائے رکھتے ہیں، جبکہ مثبت سوچ رکھنے والے صرف 25 فی صد رہ گئے ہیں۔ مسلم اکثریتی ممالک مثلاً ترکیہ، پاکستان، بنگلا دیش، انڈونیشیا اور ملائیشیا میں یہ غصہ انتہا کو چھو رہا ہے۔ خاص طور پر ترکیہ میں 91 فی صد جواب دہندگان نے اسرائیل کے بارے میں انتہائی منفی رائے کا اظہار کیا۔ اسرائیل کے قدیم دوست کینیڈا میں 65 فی صد اور اسرائیل کے سرپرست امریکا میں 60 فی صد عوام اب اسرائیل کو ایک منفی ریاست کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مغربی حکومتوں کی اندھی حمایت اور ان کے عوام کی سوچ کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا ہو چکی ہے۔
یورپ کا دل بھی اب فلسطین کے لیے دھڑک رہا ہے۔ سویڈن اور اسپین جیسے ممالک میں 78 فی صد عوام اسرائیل کی پالیسیوں کے مخالف ہوچکے ہیں۔ اٹلی، ہالینڈ، جرمنی اورفرانس جیسے اسرائیل کے روایتی حامی ممالک میں بھی نصف سے زائدآبادی اسرائیل کے نام سے بیزارہے۔ اسپین جیسے ممالک اب علامتی طور پر فلسطین کو تسلیم کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔ مشرقِ بعید اور بحرالکاہل کے خطے میں بھی اسرائیل کے بارے میں منفی رجحان نمایاں ہے۔ جاپان میں 83 فی صد، آسٹریلیا میں 79 فی صد اور جنوبی کوریا میں 70 فی صد عوام نے اسرائیل کی جارحیت کو مستردکیا ہے۔ صرف ہندستان ایک ایسا ملک ہے جہاں 32 فی صد جواب دہندگان نے اسرائیل کے بارے میں مثبت رائے دی ہے۔ دنیا کے 24 میں سے 13 بڑے ممالک میں سال 2025ء کے بعد اسرائیل سے نفرت میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس تمام تر نفرت اور عالمی تنقید کے مرکز میں ایک شخص کھڑا ہے، اور وہ ہے بن یامین نیتن یاہو۔ کینیا اور فلپائن جیسے چند گنے چنے ممالک کے علاوہ پوری دنیا نیتن یاہو کو امن کا قاتل اور انسانیت کا مجرم سمجھتی ہے۔ یہ ایک عالمی بیداری ہے۔ دنیا بھر کے عوام نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ طاقتور کے ظلم میں اس کے شراکت دار نہیں بنیں گے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا، تو وہ وقت دور نہیں جب اسرائیل دنیا کے نقشے پر اخلاقی، سفارتی اور عوامی سطح پر مکمل طور پر تنہا ہو جائے گا۔ حکومتیں شاید اب بھی اپنے سیاسی مفادات کے لیے اسرائیل کا ساتھ دیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کا ضمیر جاگتا ہے، تو بڑے بڑے فرعونوں کے برج الٹ جایا کرتے ہیں۔ غزہ کے مظلوموں کی فریاد رنگ لا رہی ہے، اور دنیا اب ایک نئے رخ پر چل پڑی ہے۔ ڈاکٹر فرقان حمید

E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے