ملاحوں کی ہلاکت اور امریکہ کی مذمت ؟

ملاحوں کی ہلاکت اور امریکہ کی مذمت ؟

ملاحوں کی ہلاکت اور امریکہ کی مذمت ؟

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

خلیج فارس میں فی الحال 13؍ہندوستانی پرچم بردار جہاز اور 18 ہزار سے زائد انڈین ملاح پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں 562 ملاح ہندوستانی پرچم بردار اور باقی دیگر پر جہازوں موجود ہیں۔وزارتِ جہاز رانی نے’سیٹ بیلو‘ نامی آئل ٹینکر پر ہونے والے حالیہ حملے کے بعد ابتدائی طور پر یہ دعویٰ کردیا کہ سارے لوگ محفوظ ہیں اور ان کے انخلا کا عمل جاری ہے لیکن بعد میں اعتراف کرنا پڑا کہ اس میں موجود 21 ملاحوں کوہی بچا یا جاسکا اور تین ہلاک ہوگئے۔ یہ لوگ امریکی حملے میں ہلاک ہوئے مگر یو ایس اے کی سینٹرل کمانڈ کو اس کا کوئی افسوس نہیں اس لیے اس نے معذرت کرنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی بلکہ الٹا یہ الزام لگا دیا کہ آئل ٹینکر سیٹ بیلو نے ایران سے تیل لے جاتے ہوئے ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی تھی۔ اس نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’امریکی افواج کی جانب سے بار بار وارننگ کے باوجود جہاز کے عملے نے اسے نظرانداز کیا۔ اس کے بعد ایک امریکی طیارے نے جہاز کے انجن کو نشانہ بناتے ہوئے درست ہتھیاروں سے حملہ کیا۔‘ امریکی فوج کی ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ اس نے اپنی اس کارروائی کی ایک ویڈیو بھی جاری کردی ۔اس حملے کے باوجود مودی جی تو خاموش رہے مگر ان کی حکومت امریکہ کےخلاف سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئی ۔یہ احتجاج بس اتنا تھا کہ حکومت ہند نے نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے نائب سربراہ جیسن میکس کو طلب کیا اور اس واقعے پر اعتراض جتادیا اور پھر سارا معاملہ ٹائیں ٹائیں فش ہوگیا ۔
اس حملے سے دو دن قبل عمان ہی کے ساحل سے قریب امریکی افواج نے میریویکس نامی ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا،جس میں سے 24 انڈین ملاحوں کو نکال لیا گیا ۔ اس وقت چونکہ کسی کی ہلاکت نہیں ہوئی اس لیے مودی سرکار نے احتجاج کرنا تک گوارہ نہیں کیاحالانکہ اگرپہلے ہی زور مذمت کی جاتی اور امریکی سفیر کو واپس بھیج دیا جاتا تو ٹرمپ کی عقل ٹھکانے آجاتی مگر وہ جانتے ہیں کہ ان کا عزیز دوست ایسی جرأت نہیں کرسکتا۔ اس سانحہ کے بعد بھی ہندوستانی وزارت خارجہ کی مذمت میں امریکہ کا نام ندارد ہے۔ اس نے کہا کہ ’عمان میں ہندوستانی سفارت خانہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ تلاش اور بچاؤ کی کارروائی کے لیے عمانی حکام کے ساتھ فعال رابطہ برقرار ہے۔‘ ایسے میں ٹرمپ کی مودی جی کو ہمیشہ کے لیے سربراہ دیکھنے کی خواہش قابلِ فہم ہے۔ ویسےسمندری انٹیلی جنس ویب سائٹ لائیڈز لسٹ کے مطابق، سیٹ بیلو عمان کے دُقْم بندرگاہ کے قریب رکے ہوئے تھے امریکی بحریہ کی نگرانی میں شامل جہازوں میں سے ایک تھا۔ حکومتِ ہند نے سوچا ہوگا کہ امریکہ دوستی کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے نرمی برتے گا مگر اس نے تو نرم چارہ سمجھ کر دوسروں کو ڈرانے کا ذریعہ بنادیا ۔ اس پر بھی وزارتِ خارجہ نے خطے میں تجارتی جہازوں پر مسلسل حملوں تشویش کا اظہار کرکے چھوٹ گیا۔ حکومتِ ہند نے خطے میں تجارتی جہازوں کے نشانہ بنانے کو روکنے پر تو زور دیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ رکاوٹ کون ڈال رہا ہے اور اسے کیسے دور کیا جاسکتا ہے؟
تہران نے جب امریکہ پر دباو ڈالنے کے لیے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت پر پابندیاں عائد کی تو جواب میں 13؍ اپریل سے امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کردی ۔اس کے بعد سیٹ بییلو نامی جہاز نے مارچ اور اپریل میں دو بار چین کا سفر کیا اس لیے پر امریکہ بہادر کو غصہ آگیا اور اس نے مودی جی کی پروا کیے بغیر اس پر حملہ کردیا۔اس واقعے نے خلیج میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی، سمندری تجارت کے تحفظ اور بیرونی تنازعات میں پھنسے انڈین ملاحوں کی سلامتی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ۔امریکہ اپنے آپ کو بلا وجہ خدائی فوجدار سمجھتا ہے۔اس کا سینٹرل کمانڈ ایرانی ساحلوں کی امریکی ناکہ بندی کے آغاز سے ایم ٹی سیٹّبیلو تک امریکی افواج کی جانب سے آٹھ جہازوں کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ کرتا ہے۔سینٹ کام کا کہنا ہے کہ اس دوران 134؍ جہازوں نے امریکی افواج کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنا رخ تبدیل کردیا مگر جن آٹھ نے اس کی ہدایات کو ٹھکرا دیا ان میں پالاؤ کے پرچم بردار سیٹّبیلو بھی شامل تھا اس لیے اسے ‘ناکاره’ بنانے کے چکر میں تین ہندوستانی ملاح ہلاک ہوئے ۔ یہ بدقسمت 42؍ انسانی امداد کے جہازوں میں شامل نہیں تھا جن کو ناکہ بندی کے باوجود امریکی افواج نے آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت دی تھی ۔
صدر ٹرمپ نے تو یہ د عویٰ کردیا ہےکہ امریکی فوج نے ایک ‘خفیہ مشن’ کے تحت 200 تجارتی جہازوں کو آبنائے سے گزرنے میں مدد فراہم کی لیکن ان کے بیانات کو کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا کیونکہ وہ جو منہ میں آئے بک دیتے ہیں۔ ویسے ایران بحری گزرگاہ ‘پوری طرح ‘ بندہونے پر اصرار کرتا ہے۔ خلیج عمان میں پالاؤ کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم ٹی سیٹی بیلو پر ہوئے حملے کے بعد لاپتہ ہونے والے تین ہندوستانی ملاحوں کی ہلاکت کے بعد مرکزی وزیر برائے بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزر گاہ سربانندسونووال نے اس واقعہ کوہندوستانی بحری برادری کے لیے ایک گہرا صدمہ قرار دیا ۔ سونووال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مہلوکین کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔سونووال نے کہا کہ مودی حکومت اس مشکل کی گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اورمہلوکین کے لواحقین کی ہر ممکن مدد کے لیے پُرعزم ہے۔مرکزی وزیر نے بچ جانے والے عملے کے ارکان اور جاں بحق ہونے والوں کی لاشوں کو وطن واپس لانے کے لیے اقدامات کرنے کی اطلاع دی۔ انہوں نے کہاکہ میں نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ بچائے گئے عملے کی فوری وطن واپسی اور مہلوکین کے جسد خاکی کو آخری رسومات کے لیے جلد از جلد ہندوستان پہنچانے کو یقینی بنایا جائے۔
عمان ساحل کے قریب اس حملے کے 24 گھنٹےبعد ہی شیناس بندرگاہ کے قریب ایک ہندوستانی جہاز ’ایم ٹی جل ویر‘ پر حملے کی ویڈیوز میں اسے جلتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس معاملے میں افسران کی جانب سے جاری بیان میں انکشاف کیا گیا کہ جمعرات کو شیناس بندرگاہ کے پاس ایک جہاز سے متعلق حادثہ کی خبر ملی ہے۔ معاملے کی سنگینی کو پیش نظر رکھتے ہوئے حالات کی لگاتار نگرانی کی جا رہی ہے۔ جاری بیان کے مطابق حادثہ سے متعلق تفصیلی جانکاری حاصل کرنے کے لیے مقامی انتظامیہ اور متعلقہ افسران کے ساتھ رابطہ کیا جا رہا ہے۔ اس حملہ کی معلومات عمان میں ہندوستانی سفارت خانہ کی جانب سے دی گئی اور اندیشہ ظاہر کیاگیا کہ جہاز پر موجود ساز و سامان کو شدید نقصان پہنچا ہے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ان حملوں میں چونکہ امریکہ براہِ راست ملوث ہے اس لیے حکومتِ ہند اور اس کے اہلکار گول مول باتیں کرکے اصل بات کہنے سے کترا رہے ہیں۔ اس کی سب سے واضح مثال ہندوستان کے اقوام متحدہ میں مستقل نمائندے اور سفیر پرَوتھنینی ہریش کا بزدلانہ بیان ہے ۔ ان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں’’بین الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ: مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی حل کو فروغ دینا: دیرپا امن کے لیے ثالثی اور مکالمہ‘‘ کے موضوع پر کھلی بحث میں حصہ لینے کا نادر موقع ملا مگر انہوں نےاس میں امریکہ کی مذمت کرنے بجائے چکنی چپڑی باتو ں کی مدد سے کو گنوا دیا۔
ہندوستانی سفیر ہریش نے کہا کہ ہندوستان خطے اور اس سے باہر کے لوگوں کے لیے امن، خوشحالی اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے مقصد کی حصولیابی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے لیکن وہ نہیں بتا سکے کہ اس بابت حکومتِ ہند کیا اقدامات کررہی ہے۔ برکس کے صدر کی حیثیت سے خودمودی جی کی کیا سرگرمیاں ہیں؟ان سوالات کا جواب کوئی نہیں جانتا۔مودی جی توڈٹ کر امریکہ و اسرائیل کے پیچھے کھڑے ہیں جبکہ ساری دنیا نے ان دونوں کا ساتھ چھوڑدیا ہے۔ہریش کے مطابق ان تنازعات کے حل میں انسانی مرکزیت کے نقطہ نظر اختیار کرکے جنگوں اور تنازعات میں خواتین، بچے اور دیگر کمزور طبقات کو متاثر ہونے سے بچانا چاہیے مگر ہندوستان کی موجودہ سفارتی پوزیشن اس بابت موثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ اس تنازع کے سبب تجارتی اور توانائی کے سپلائی چینز میں رکاوٹ ہندوستانی معیشت پر سنگین اثرات مرتب کررہی ہے لیکن مودی جی کی بزدل قیادت ’ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہے‘۔ہریش نے درست کہا کہ کہ مغربی ایشیا کے عوام پائیدار امن اور معمول کی زندگی کے حق دار ہیں لیکن افسوس کے حکومت ہند اسے غارت کرنے والے اسرائیل اور امریکہ کی ہمنوا بنی ہوئی ہے اور مودی جی خود دنیا و مافیہا سے بے نیاز طویل ترین وزیر اعظم کے اعزازسے دل بہلا کر خوش ہورہے ہیں۔ ہندوستانی جہاز پر حملے اور تین ملاحوں کی ہلاکت کے خلاف بہت ہمت کرکے وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے سامنے سخت الفاظ میں احتجاج کرنے کی جرأت کی تو انہیں جھٹک کر کہا گیا ناکہ بندی کی مخالفت برداشت نہیں کی جائے گی یعنی مستقبل میں بھی ایسے حملے ہوتے رہیں ۔ اس جواب سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مودی جی امریکہ کا نام اپنی زبان پر کیوں نہیں لاتے؟ کیونکہ اگر کچھ کہنے کی ہمت کی تو ٹرمپ کی جانب سے ایسی ہی رسوائی ہاتھ آئے گی ۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے