الحمدللہ! میں مسلمان ہو گیا ہوں . نو مسلم محمد علی کا اعلانِ حق

الحمدللہ! میں مسلمان ہو گیا ہوں . نو مسلم محمد علی کا اعلانِ حق

الحمدللہ! میں مسلمان ہو گیا ہوں
نو مسلم محمد علی کا اعلانِ حق

ازقلم:عبدالعزیز

وراثتاً جو لوگ مسلمان ہیں ان کو شاید ہی معلوم ہو کہ مسلمان ہونا یا کہنا کتنا مشکل ترین کام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ عنکبوت میں فرمایا ہے کہ ’’کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ زبان سے اتنا کہنے پر چھوٹ جائیں گے کہ: ’’ہم ایمان لے آئے ہیں اور ان کو آزمایا نہ جائے گا۔ ‘‘ علامہ اقبالؒ نے فارسی کے ایک شعر میں کہا ہے کہ ؎ ’’چوں میگویم مسلمانم بلرزم – دانم مشکلاتِ لا الٰہ را‘‘ (جب میں کہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں، تو لرز جاتا ہوں)۔
2014ء سے پہلے بھی ہندستان میں کسی کا مذہب بدلنا اور خاص طور پر مسلمان ہونا اتنا مشکل نہیں تھا جتنا مشکل کام 2014ء کے بعد ہورہا ہے۔ نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں جہاں ریاستی سطح پر بھاجپا کی حکومت ہے تبدیلیِ مذہب کا قانون نافذ العمل ہے۔ جو لوگ دعوتِ حق دیتے تھے ان میں سے کچھ لوگوں کو برسوں سے جیل کی سلاخوں کی پیچھے کر دیا گیا ہے۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ دین حق کی دعوت دیتے تھے اور ان کے توسط سے کچھ لوگ اسلام قبول کرلیتے تھے۔ آر ایس ایس 1925ء میں قائم ہوا۔ اس وقت سے لے کر آج تک ہندو بھائیوں کو مسلمانوں سے خائف رکھنے اور دور رہنے کی تعلیم اور تنبیہ کی جاتی ہے۔ جب تک کلی طور پر سنگھ پریوار کی حکومت ہندستان میں نہیں تھی تبدیلیِ مذہب کا قانون نہ بنا تھا اور نہ نافذ ہوا تھا۔ سنگھ پریوار کے لوگ ہندو بھائیوں کو فرضی طور پر مسلمانوں کو ہندوؤں کا دشمن قرار دیتے ہیں اور یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مسلمان زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں، ان کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ایک وقت آسکتا ہے کہ ہندستان میں مسلمانوں کی تعداد ہندوؤں سے زیادہ ہوجائے گی۔ جب مسلمانوں کی تعداد ہندوؤں سے زیادہ ہوجائے گی تو ہندستان میں پھر مغل راج قائم ہوجائے گا۔
مرکز اور کئی ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہونے کی وجہ سے اور میڈیا پر پورے طور پر بھاجپا کے کنٹرول کرلینے سے یہ غلط اور فرضی پروپیگنڈہ کہ ’’ہندوؤں کے لئے ہندستان میں اسلام اور مسلمانوں سے خطرہ لاحق ہے‘‘ بڑے پیمانے پر پھیل چکا ہے۔ ریاستی فرقہ پرست حکومتیں معمولی معمولی شکایت پر کسی کے قبولِ اسلام کے مسئلے پر مسلمانوں کے لئے قید خانے کے دروازے کھول دیتی ہیں۔ اس کا دو مطلب ہوتا ہے کہ کوئی قبول حق نہ کرے، گرفتاری اور جیل جانے سے ڈرے اور دوسرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت نہ کرے۔ حالانکہ ملک کے دستور میں صاف طور سے درج ہے کہ ہر شخص کو اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق عمل کرنے اور تبلیغ و اشاعت کرنے کی آزادی ہے۔ تبدیلیِ مذہب کے معاملے میں بھی دستور ہند میں آزادی دی گئی ہے کہ کوئی بھی کسی بھی دین کو اپنی مرضی سے بغیر کسی لالچ اور دباؤ کے قبول کرسکتا ہے۔ دستور کے اندر اس بنیادی حقوق کو پامال کرنے میں آر ایس ایس یا بھاجپا کو کوئی دقت یا مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے، کیونکہ ملک کی چھوٹی بڑی عدالتیں بھاجپا کے لئے مائل بہ کرم ہیں۔
آیوش ملک کا قبولِ اسلام: اس وقت 33سالہ آیوش ملک کا قبول اسلام سرخیوں میں ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا پر اس کا غیر معمولی چرچا ہے۔ آیوش ملک بار بار صفائی پیش کر رہے ہیں کہ ’’الحمدللہ! میں کسی لالچ، دباؤ کے بغیر مسلمان ہوگیا ہوں۔‘‘ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کو نہایت حق گوئی اور بے باکی سے دندانِ شکن جواب بھی دے رہے ہیں کہ ’’میں کسی قیمت پر ترکِ اسلام نہیں کرسکتا چاہے میری جان چلی جائے۔ جہاں تک دباؤ کی بات ہے تو مجھ پر اسلام قبول کرنے کا کوئی دباؤ نہیں تھا لیکن ہندو بنانے کا دباؤ شدت کے ساتھ ہے‘‘۔ انھوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ان کا اسلام قبول کرنے کا فیصلہ مکمل طور پر رضاکارانہ تھا اور وہ بچپن سے ہی اس مذہب کے بارے میں معلومات رکھتے تھے۔ انہوں نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب ایک مسلمان ہیں اور اپنے اس فیصلے پر مطمئن ہیں۔
در حقیقت یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب آیوش ملک کے والد دیوراج ملک نے جو کہ شاملی، اتر پردیش کے ایک معروف میڈیکل تاجر ہیں، پولیس میں ایک شکایت درج کروائی۔ والد کا الزام تھا کہ چاندنی قریشی اور ان کے والد اسلام قریشی نے ان کے بیٹے کو اپنے جال میں پھنسایا ہے تاکہ وہ ان کی خاندانی جائیداد پر قبضہ کر سکیں۔ چاندنی، جو ایک جِم ٹرینر کے طور پر کام کرتی تھیں، کے ساتھ آیوش کے قریبی تعلقات استوار ہوئے جس کے بعد دونوں نے شادی کر لی۔ والد کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے شاملی پولیس نے چاندنی اور ان کے والد کو گرفتار کر لیا تھا جو اس وقت عدالتی ریمانڈ پر ہیں۔
شاملی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ این پی سنگھ کے مطابق دیوراج ملک ایک قائم شدہ تاجر ہیں جن کی تین شادی شدہ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ خاندانی ذرائع کا کہنا تھا کہ آیوش نے رفتہ رفتہ خاندان سے دوری اختیار کر لی تھی اور ان کا طرزِ زندگی مکمل طور پر بدل گیا تھا۔ پولیس کے مطابق آیوش ملک پاکستان کے معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر اسرار احمد (مرحوم) کے خطبات اور قرآنی تفاسیر کی ویڈیوز سے کافی متاثر تھے، جو برصغیر میں بڑے پیمانے پر دیکھی جاتی ہیں۔
آیوش ملک نے اچانک انتہا پسندی کی طرف مائل ہونے یا جائیداد کے لالچ سے متعلق تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ اسلام کی طرف ان کا سفر کئی سالوں کے مطالعے اور غور و فکر کا نتیجہ ہے، یہ کوئی راتوں رات ہونے والا واقعہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان پر کسی نے ویڈیوز دیکھنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا بلکہ وہ اپنی ذاتی پسند کی بنیاد پر ان کے بیانات سنتے تھے۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ انہوں نے فروری کے مہینے میں ہی اپنے گھر والوں کو اسلام قبول کرنے اور نکاح کے بارے میں مطلع کر دیا تھا اور وہ اپنے والد کی جائیداد میں کوئی حصہ نہیں چاہتے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ جائیداد ان کی والدہ اور بہنوں میں تقسیم کر دی جائے۔
خاندانی اختلافات اور دوریوں کے باوجود آیوش ملک نے دونوں خاندانوں کے لیے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والدین سے بھی محبت کرتے ہیں اور اپنی اہلیہ کے خاندان سے بھی، اس لیے وہ کسی ایک کو دوسرے کے لیے نہیں چھوڑ سکتے۔ آیوش نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ان کے والد پر مقامی دائیں بازو کی تنظیموں اور ہندوتو عناصر کی طرف سے شدید دباؤ ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے یہ پولیس کیس درج کروایا۔ یہ معاملہ ہندستان میں ذاتی عقیدے، خاندانی توقعات اور بین المذاہب تعلقات کے پیچیدہ پہلوؤں کو نمایاں کرتا ہے۔
نومسلم محمد علی کا جذبۂ ایمانی اور اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کا ایک ایسا مظاہرہ ہے جس سے دشمنِ اسلام یا دشمنِ مسلم کا کوئی مفاد اور مقصد نہ پورا ہوگا اور نہ ہی ایک ایسے نوجوان جس کے دل و دماغ میں ایمان اور اسلام میں وہ پختگی آچکی ہے جو یہ کہتا ہوا نظر آئے کہ ’’اگر میرے ایک ہاتھ میں چاند اور دوسرے ہاتھ میں سورج دے دیا جائے جب بھی میں اسلام یا دین حق کو نہیں چھوڑ سکتا‘‘۔ جو لوگ جاہل اور اندھ بھکت ہیں ممکن ہے ان کو تو نو مسلم محمد علی کے عزائم اور حوصلے کے کم فرق پڑے لیکن عام انسانوں پر غیر معمولی فرق پڑے گا کیونکہ اسلام کے لئے کروڑوں کی جائیداد اور تجارت کو چھوڑنے کے لئے تیار ہے مگر اسلام کو کسی قیمت پر چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ یہ ایسا عزم ہوتا ہے جو انسانی دلوں کو ہلا دیتا ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سارے کفار اور مشرکین جب دباؤ ڈالنے لگے اور ان کے چچا ابو طالب نے بھی اپنے بھتیجے کو نصیحت کی کہ جب کفار و مشرکین تمہارے خدا کو تسلیم کرنے اور ہر طرح کی چیزوں سے نوازنے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ تم ان کے سارے خداؤں یعنی 364 خداؤں کو مان لو۔ آنحضرتؐ نے اپنے چچا کو یہی جواب دیا تھا کہ ’’وہ حق بات کہنے سے نہیں پھریں گے چاہے ان کے ایک ہاتھ میں سورج دے دیا جائے اور دوسرے ہاتھ میں چاند‘‘۔
مولانا الطاف حسین حالیؔ نے اس عزم بامصمم کو نہایت منظوم اور پُر اثر طریقے سے ’مسدس حالی‘ میں بیان کیا ہے ـ:
وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادی عرب کی زمیں جس نے ساری ہلادی
نئی ایک لگن سب کے دل میں جگادی اک آواز میں سوتی بستی جگا دی
کہ گونج اٹھے دشت و جبل نام حق سے پڑا ہر طرف غل یہ پیغام حق سے
ہندستان کے نو مسلم محمد علی سے پورے ہندستان کی زمین تو نہیں ہلے گی لیکن اس نے بہتوں کے دل و دماغ میں اسلام کی یقینا لو لگا دی ہوگی۔
مشہور امریکی باکسر کیسیس کلے جب مسلمان ہوئے اور اپنا نام محمد علی رکھا تو ان کے خلاف اسلام دشمنوں کی آواز بلند ہوئی، یہاں تک کہ جب امریکی حکومت نے انھیں ویت نام جنگ میں جانے کے لئے دستخط کرنے کو کہا تو مردِ مجاہد نے انکار کردیا جس کی وجہ سے اسے جیل میں بھیجنے کا فیصلہ سنایا گیا مگر امریکہ کے غیور شہری محمد علی کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ امریکی حکومت کو محمد علی کے سامنے جھکنا پڑا اور جیل بھیجنے کا فیصلہ رد کرنا پڑا۔ محمد علی اپنے زمانے کا ایسا بہادر ترین انسان تھا ،اتنا سچا اور پکا مسلمان کہ اس کے حریف بھی اس کے متعلق سچ بولنے سے ذرا بھی ہچکچائے نہیں۔ اس کا مد مقابل اس کا حریف جارج فورمین کہتا ہے: ’’تم کو بخوبی معلوم ہے کہ میں محمد علی کو دنیا کے بہترین انسانوں میں سے ایک سمجھتا ہوں۔ اس سے بہتر انسان مجھے کبھی نہیں ملا۔ اس نے ’جنگل‘ نامی ایونٹ میں مجھے پچھاڑ دیا۔ اس رات رِنگ میں پہنچنے سے پہلے اس سے میری کوئی بحث و تکرار نہیں ہوئی۔ میں نے ہر چیز سے اسے مارا جتنی مجھ میں طاقت و صلاحیت تھی‘‘۔ اس نے کہا کہ ’’جارج! بس تم میں اتنی قدرت ہے‘‘۔ ’’محمد علی!وہ کیسی خوشنما رات تھی جو فراجیر اور میں ایک ساتھ رہتے تھے۔ میرے جسم کا ایک حصہ مجھ سے الگ ہوگیا جب وہ دنیا میں نہ رہا جسے میں اپنے جسم کا عظیم ترین حصہ تصور کرتا تھا‘‘۔ محمد علی کا حریف جارج فورمین نے محمد علی کی وفات پرانھیں غیر معمولی خراج عقیدت پیش کیا۔ محمد علی نے ایک بار کہا تھا کہ ’’ایک سچے اور پکے مسلمان کی حیثیت سے میں ان کے ساتھ کھڑا رہوں گا جو عیش و عشرت کی مخالفت کرتے ہیں جو اپنے ذاتی ایجنڈے کو پورا کرنے کے لئے اسلام جیسے سچے اور اچھے مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں‘‘۔
ہندستان کے نو مسلم محمد علی کا اندازِ بیان مومنانہ ہے اور امریکہ کے محمد علی سے بہت حد تک ملتا جلتا ہے۔ اس کے عزم اور ارادے کو دیکھ کر اس کی اپنی بہن بھی حق کی گواہی دینے کے لئے تیار ہوگئی ہے۔ وہ کہنے لگی ہے کہ ’’میرے بھائی کو کوئی دباؤ دینے کی کوشش نہ کرے، میرا بھائی اپنے ایمان اور اسلام سے ہر گز نہیں پھرے گا خواہ اس کی جاں چلی جائے‘‘۔
محمد علی اسلام کو پوری طرح سمجھ چکا ہے اور اسلام کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔ جب اس سے یہ کہا گیا کہ ’’اس کی بیوی چاندنی قریشی بھی اسے چھوڑنے کے لئے تیار ہوگئی ہے‘‘ تو اس نے کہاکہ ’’اگر مجھے ساری دنیا بھی چھوڑ دے تو میں اسلام کو نہیں چھوڑ سکتا‘‘۔
چاندنی قریشی کے بارے میں یہ بات صحیح نہیں معلوم ہوتی کہ چاندنی قریشی نے آیوش ملک کا Brainwash کیا ہے، کیونکہ چاندنی قریشی کا لباس محمد علی کے رابطے میں آنے سے پہلے مسلمانوں جیسا نہیں تھا بلکہ وہ ایک جدید اور ماڈرن لڑکی کا لباس پہنتی تھی لیکن محمد علی سے شادی کرنے کے بعد اس کا ذہن بھی بدلا اور وہ پردہ بھی کرنے لگی۔ ایک طرح سے وہ بھی محمد علی کی طرح نومسلم ہے۔ امید یہ ہے کہ اس کا بھی ایمان پہلے سے کہیں زیادہ پختہ ہوگیا ہوگا۔ سچائی بہت کم لوگوں کی سمجھ میں آتی ہے۔ محمد علی کا باپ اگر تعصب کا عینک اتار دے تو اسے اپنے بیٹے سے نفرت اور بیزاری کے بجائے پیار اور محبت ہوجائے۔ محمد علی کے چہرے پر جو رونق ہے نماز اور داڑھی کی وجہ سے ہے۔ وہ رونق اسلام قبول کرنے سے پہلے نہیں تھی۔ یہ بین فرق باپ ماں ہوں یا کوئی ہو اسے اسلام کی حقانیت سمجھ میں آسکتی ہے۔ محمد علی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنے خاندان کو نہیں چھوڑے گا اور نہ اپنی اہلیہ کے خاندان کو چھوڑنے کی کوشش کرے گا۔ دونوں خاندانوں سے اس کی محبت جاری رہے گی خواہ اس پر جتنا بھی ستم ہو۔
اس مضمون کے ذریعے میں چاہتا ہوں کہ کوئی برد بار اور دانش مند مسلمان محمد علی کے باپ سے ملاقات کرے اور بتائے کہ اس کا بیٹا پہلے سے کہیں زیادہ اچھا اور بہتر انسان ہوگیا ہے اور آپ ایک اچھے اور بہتر انسان کے باپ ہوگئے ہیں۔ یہ چیز کسی خاندان یا کسی ماں باپ کو نصیبے سے ملتی ہے۔ آپ بہت ہی خوش نصیب ماں باپ ہیں کہ ایک اچھا اور سچا بیٹا ملا ہے۔ اس کی قدر کیجئے۔ اللہ چاہے گا تو آپ پہلے سے سکون اور اطمینان کی زندگی گزارنے میں کامیاب ہوں گے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے