دن، ہفتے، مہینے اور سال یہ سب انسانوں کے لیے بنائیں گئے ہیں؛ تاکہ وہ وقت کی قدر کر سکیں، ہر نئے سال پر اسے نئی امیدوں کے ساتھ آگے بڑھنے کی مدد ملتی ہے، نئے سال کا چاند بنی نوع انسان کے ماضی کی تلخ حقیقتوں کو پیچھے چھوڑے گا اور ماضی کا ایک حصہ بن جائے گا جانے والے سال میں جو خوشگوار یا ناخوشگوار واقعات ہمارے ساتھ پیش آئے ہیں وہ تمام ایک یاد ماضی بن کر رہ جائیں گے اور یہ جانے والا سال زندگی کے کچھ رنگا رنگ فتوحات اور دل برداشتہ کر دینے والی ناکامیوں کا تحفہ دیتے ہوئے منظر عام سے یکسر غائب ہو جاتا ہے اور صرف اور صرف یادوں کا سرمایہ ہی ہمارے پاس چھوڑ جاتا ہے جو کبھی ہمارے لبوں پر دل فریب مسکراہٹ بن کر کھلتی ہے تو کبھی یہ آنسو بن کر ہمارے انکھوں سے چھلکنے لگتی ہے؛ لیکن ہم ان کھٹی میٹھی یادوں کو اپنی ذات سے یکسر جدا نہیں کرتے؛ بل کہ ان یادوں کو سجا کر رکھتے ہیں۔
گزرا ہوا سال تلخ تجربات، حسین یادیں، خوشگوار واقعات اور غم و الم کے حادثات چھوڑ کر رخصت ہو جاتا ہے اور انسانوں کو زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا پیغام دے کر الودا کہتا ہے، سال ختم ہوتا ہے تو حیات مستعار کی بہاریں بھی ختم ہو جاتی ہے اور انسان اپنی مقررہ مدت زیست کی تکمیل کی طرف رواں دواں ہوتا ہے۔
اسی کو شاعر نے کہا ہے
غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹا دی
حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ میں کسی چیز پر اتنا نادم اور شرمندہ نہیں ہوا جتنا کہ ایسے دن کے گزرنے پر جس کا سورج غروب ہوگیا جس میں میرا ایک دن کم ہوگیا اور اس میں میرے عمل میں اضافہ نہ ہوسکا۔(قیمة الزمن عند العلماء، ص: ۲۷)
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ یہ ایام تمہاری عمروں کے صحیفے ہیں، اچھے اعمال سے ان کو دوام بخشو۔
حسن بصری فرماتے ہیں: کہ اے ابن آدم! تو ایام ہی کا مجموعہ ہے، جب ایک دن گزرگیا تو یوں سمجھ تیرا ایک حصہ بھی گزرگیا( قیمة الزمن عند العلماء، ص:۲۷)
یہ عمر اور زندگی جو ہم کو عطا ہوئی ہے وہ صرف آخرت کی ابدی زندگی کی تیاری کی خاطر عطا ہوئی ہے کہ ہم اس کے ذریعے آنے والی زندگی کو بہتر بناسکیں اور اپنے اعمال کو اچھا بناسکیں۔
اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر کرنا عقلمندی، شکر گزاری اور بندگی کا تقاضہ ہے جبکہ ان کی ناقدری کرنا غفلت اور بیوقوفی کی علامت ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اللہ کی دی ہوئی اس قیمتی نعمت زندگی کو غفلت، گناہوں اور بے مقصد کاموں میں ضائع کر دیں پھر قیامت کے دن حسرت و ندامت ساتھ پکاریں "رب ارجعون لعلي اعمل صالحا فيما تركت”اے میرے رب مجھے واپس بھیج دے؛ تاکہ میں ان کاموں میں نیک عمل کرلوں جنہیں میں چھوڑ آیا ہوں؛ مگر اس دن واپسی کا کوئی موقع نہ ہوگا اور حسرت کی یہ صدائیں انسان کو جہنم کے عذاب سے نہیں بچا سکیں گی ۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی زندگی امتحان گاہ ہے؛ جبکہ آخرت ہمیشہ رہنے والی زندگی ہے۔ عقل مند وہی ہے جو چند روزہ دنیا کو اپنی ابدی کامیابی کا ذریعہ بنائے اور اپنے ہر لمحے کو نیک اعمال، عبادت، توبہ اور خدمتِ خلق سے آراستہ کرے۔ اگر ہم نے اس فانی زندگی کو غفلت، خواہشات اور بے مقصد مشاغل میں گزار دیا اور اپنی آخرت کے لیے کچھ نہ کمایا، تو قیامت کے دن حسرت و ندامت کے سوا ہمارے پاس کچھ نہ ہوگا، اور ہمیں پکارنا پڑے گا:
﴿يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي﴾ "ہائے کاش! میں نے اپنی (ہمیشہ کی) زندگی کے لیے کچھ آگے بھیج دیا ہوتا۔”
کس شاعر نے کیا خوب کہا
ہے وہ عاقل جو کہ اغاز میں سوچے انجام
ورنہ ناداں بھی سمجھ جاتا ہے کھوتے کھوتے
اب سوال یہ ہے کہ نئے سال کے موقع پر مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے جو قران و حدیث کی روشنی میں صحیح ہوں نئے سال سے متعلق کسی عمل کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو قرون اولی کا کوئی عمل تو مل نہ سکا؛ البتہ بعض کتب حدیث میں روایت آئی ہے کہ جب نیا سال ہوتا تو اصحاب رسول ﷺ ایک دوسرے کے دعا سکھاتے اور بتلاتے تھے ”اللّٰھُمَّ أدْخِلْہُ عَلَیْنَا بِالأمْنِ وَ الإیْمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالإسْلَامِ، وَرِضْوَانٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ وَجِوَازٍمِّنَ الشَّیْطَانِ“ (المعجم الاوسط للطبرانی ۶/۲۲۱ حدیث: ۶۲۴۱ دارالحرمین قاہرہ) ترجمہ: اے اللہ اس نئے سال کو ہمارے اوپر امن وایمان، سلامتی و اسلام اور اپنی رضامندی؛ نیز شیطان سے پناہ کے ساتھ داخل فرما۔
اس دعا کو پڑھنا چاہیے ؛ نیز اس وقت مسلمانوں کو دو کام خصوصا کرنے چاہئیں یا دوسرے الفاظ میں کہ لیجیے کہہ نیا سال ہمیں خاص طور پر دو باتوں کی طرف متوجہ کرتا ہے : (۱) ماضی کا احتساب (۲) آگے کا لائحہ عمل۔
ماضی کا احتساب:
نیا سال ہمیں دینی اور دنیوی دونوں میدانوں میں اپنا محاسبہ کرنے کی طرف متوجہ کرتاہے۔ کہ ہماری زندگی کا جو ایک سال کم ہوگیا ہے اس میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟
ہمیں عبادات، معاملات، اعمال، حلال و حرام، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے میدان میں اپنی زندگی کا محاسبہ کرکے دیکھنا چاہیے کہ ہم سے کہاں کہاں غلطیاں ہوئیں؛ اس لیے کہ انسان دوسروں کی نظروں سے تو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو چھپا سکتا ہے؛ لیکن خود کی نظروں سے نہیں بچ سکتا؛ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ”حَاسِبُوْا أنْفُسَکُمْ قَبْلَ أنْ تُحَاسَبُوْا“۔ (ترمذی ۴/ ۲۴۷ ابواب الزہد، بیروت) ترجمہ: تم خود اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا حساب کیا جائے۔
اس لیے ہم سب کو ایمان داری سے اپنا اپنا موٴاخذہ اور محاسبہ کرنا چاہیے اور ملی ہوئی مہلت کا فائدہ اٹھانا چاہیے؛ اس سے پہلے کہ یہ مہلت ختم ہوجائے ۔ اسی کو اللہ جل شانہ نے اپنے پاک کلام میں ایک خاص انداز سے ارشاد فرمایا ہے: ”وَأنْفِقُوْا مِنْ مَا رَزَقْنَاکُمْ مِنْ قَبْلِ أنْ یَأتِيَ أحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْلاَ أخَّرْتَنِيْ إلیٰ أجَلٍ قَرِیْبٍ فَأصَّدَّقَ وَأکُنْ مِّنَ الصَّالِحِیْنَ، وَلَنْ یُّوٴَخِّرَ اللہُ نَفْسًا إذَا جَاءَ أجَلُھَا وَاللہُ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ“۔(سورہٴ منا فقون، آیت/ ۱۰،۱۱) ترجمہ: اور جو کچھ ہم نے تمھیں دے رکھا ہے، اس میں سے (ہماری راہ میں) اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو وہ کہنے لگے اے میرے پروردگار مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہوجاوٴں ۔ اور جب کسی کا وقت مقرر آجاتا ہے پھر اسے اللہ تعالی ہرگز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ تعالی اچھی طرح باخبر ہے۔
:آگے کا لائحہ عمل
اپنی خود احتسابی اور جائزے کے بعد اس کے تجربات کی روشنی میں بہترین مستقبل کی تعمیر اور تشکیل کے منصوبے میں منہمک ہونا ہوگا کہ کیا ہماری کمزوریاں رہی ہیں اور ان کو کس طرح دور کیا جاسکتا ہے؟ دور نہ سہی تو کیسے کم کیا جاسکتا ہے؟
انسان غلطی کا پتلا ہے اس سے غلطیاں تو ہوں گی ہی ، کسی غلطی کا ارتکاب تو برا ہے ہی اس سے بھی زیادہ برا یہ ہے کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جائے اور اسی کا ارتکاب کیا جاتا رہے۔
یہ منصوبہ بندی دینی اور دنیوی دونوں معاملات میں ہو جیساکہ حدیث سے معلوم ہوتاہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”اِغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ شَبَابَکَ قَبْلَ ھَرَمِکَ ، وَصِحَّتَکَ قَبْلَ سَقَمِکَ، وَغِنَاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ، وَفَرَاغَکَ قَبْلَ شُغْلِکَ ، وَحَیَاتَکَ قَبْلَ مَوْتِکَ“۔ (مشکاة المصابیح ۲/۴۴۱ کتاب الرقاق)
ترجمہ: پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت جان لو (۱) اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے (۲) اپنی صحت و تندرستی کو بیماری سے پہلے (۳) اپنی مالداری کو فقروفاقے سے پہلے (۴) اپنے خالی اوقات کو مشغولیت سے پہلے (۵) اپنی زندگی کو موت سے پہلے۔
آخرت کی زندگی کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار اسی دنیا کے اعمال پر منحصر ہے۔ جیساکہ ارشاد ربانی ہے:” وَأنْ لَیْسَ لِلإنْسَانِ إلاَّ مَاسَعٰی، وَأنَّ سَعْیَہ سَوْفَ یُرٰی، ثُمَّ یُجْزَاہُ الْجَزَاءَ الأوْفیٰ“۔ (سورہٴ نجم، آیت/ ۳۹،۴۰،۴۱)
ترجمہ: اور ہر انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی، اور بیشک اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی، پھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہر نیا سال خوشی کے بجائے ایک حقیقی انسان کو بے چین کردیتا ہے؛ اس لیے کہ اس کو اس بات کا احساس ہوتا ہے میری عمر رفتہ رفتہ کم ہورہی ہے اور برف کی طرح پگھل رہی ہے ۔ وہ کس بات پر خوشی منائے؟ بل کہ اس سے پہلے کہ زندگی کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہوجائے کچھ کر لینے کی تمنا اس کو بے قرار کردیتی ہے اس کے پاس وقت کم اور کام ز یادہ ہوتاہے۔
ہمارے لیے نیا سال وقتی لذت یا خوشی کا وقت نہیں؛بل کہ گزرتے ہوئے وقت کی قدر کرتے ہوئے آنے والے لمحا تِ زندگی کا صحیح استعمال کرنے کے عزم و ارادے کا موقع ہے اور از سر نو عزائم کو بلند کرنے اور حوصلوں کو پروان چڑھانے کا وقت ہے۔
ساتھ ساتھ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو ایک اہم امر کی طرف بھی متوجہ کردیا جائے کہ مسلمانوں کا نیا سال جنوری سے نہیں؛ بل کہ محرم الحرام سے شروع ہوتا ہے جو ہو چکا ہے اور ہم میں سے اکثروں کو اس کا علم بھی نہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قمری اور ہجری سال کی حفاظت کریں اور اپنے امور اسی تاریخ سے انجام دیں۔