فرانس کا تاریخی محل ورسائے ایک بار پھر عالمی خبروں میں ہے۔ ایک صدی سے زیادہ پہلے، یہی محل 1919 کے معاہدہ ورسائے کا مقام تھا، جہاں جرمنی کو پہلی جنگ عظیم میں اتحادی افواج کے ہاتھوں شکست کے بعد سخت زلت آميز شرائط اور بھاری جنگی تلافی قبول کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ آج اسی مقام پر ایران اور امریکہ کے درمیان چودہ نکاتی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط ہوئے، اس کے باوجود کہ نیتن یاہو نے اس کی شدید مخالفت کی، جو چاہتے ہیں کہ یہ جنگ ہمیشہ جاری رہے تاکہ وہ تمام ہمسایہ ممالک کے خلاف بمباری کی مہم جاری رکھ سکیں اور امریکہ اپنے ٹیکس دہندگان کی رقم سے اسرائیل کو اسلحہ، گولہ بارود اور فنڈز فراہم کرتا رہا ہے۔
یہ کشیدگی کم کرنے اور وسیع تر معاہدے کی طرف بات چیت بڑھانے کی کوششوں میں ایک نیا باب ہے۔ امریکہ نے اس بار نہ ہی ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا، نہ حکومت کی تبدیلی کا، اور نہ ہی 400 کلوگرام یورینیم کا، جس کے نام پر اسرائیل اور امریکہ نے یہ غیر قانونی جنگ شروع کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق، اس معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دستخط کر دیئے ہیں پیرس میں واقع ورسائے محل کو اس تقریب کے لیے منتخب کرنا بڑی توجہ کا باعث بنا ہے، کیونکہ اس مقام کی تاریخی علامتی حیثیت بیسویں صدی کے ایک اہم ترین امن معاہدے سے جڑی ہوئی ہے۔
اس مفاہمتی یادداشت کی ایک اہم بات ایران کے لیے کم از کم تین سو ارب ڈالر کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے منصوبوں کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ ایران اپنا تیل عالمی منڈیوں میں بیچ سکے گا مگر تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس رقم کا براہ راست موازنہ پہلی جنگ عظیم کے بعد جرمنی پر عائد تلافی سے نہ کیا جائے۔ معاہدہ ورسائے کے تحت جرمنی پر تقریباً 132 ارب گولڈ مارک کی جنگی تاوان عائد کی گئی تھی۔ اس کے برعکس، ایران کے لیے مذکورہ فنڈز کو جنگی تاوان نہیں بلکہ تعمیر نو اور ترقیاتی پیکج کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جس میں امریکہ، علاقائی شراکت دار، خلیجی ممالک، اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری شامل ہونے کی توقع ہے۔ سب سے بڑا فائدہ بالآخر ایران کو ہی ہوگا۔ یعنی سب مل بانٹ کر ایران کی مدد پر راضی ہو گئے ہیں ۔
اس تاریخی تقریب کا ایک قابل ذکر پہلو ایران کا فارسی زبان کا استعمال ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی حکام نے معاہدے کے فارسی نسخے پر دستخط کیے، جبکہ امریکی فریق نے انگریزی نسخے پر دستخط کیے۔ بہت سے مشاہدین کے نزدیک ایران کا فارسی زبان منتخب کرنا اس کی قومی شناخت، خودمختاری، اور ثقافتی فخر پر زور دیتا ہے، اور اس بات کی قبولیت کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ انگریزی کے علاوہ کوئی اور زبان بھی استعمال کی جا سکتی ہے، اور دیگر زبانیں استعمال کرنے والے بھی فوجی اور سویلین ٹیکنالوجی و تحقیق میں پیش رو بن سکتے ہیں۔ فارسی زبان کے استعمال سے ایرانیوں نے جنگ میں استعمال ہونے والے ضروری ہتھیار خود تیار کیے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ ترکی بھی ایک ایسا ملک ہے جو اپنی ترکی زبان میں نئی ٹیکنالوجیز تیار کرنے میں پیش رو ہے، اور سویلین و فوجی ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے کسی غیر ملکی زبان پر انحصار نہیں کرتا۔
یہ تاریخی واقعہ کسی سے پوشیدہ نہیں رہا۔ 1919 میں ورسائے جرمنی کے خلاف ایسی شرطیں لگانے پر مجبور کرنے والا واقعہ تھا جس نے دوسری جنگ عظیم کی بنیاد رکھ دی تھی ۔
مگر جون 2026 میں اسی محل نے ایسے معاہدے کی میزبانی کی جو غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے برعکس بات چیت، پابندیوں میں نرمی، اقتصادی تعمیر نو، اور علاقائی استحکام کے گرد مرکوز ہے، اور اس کڑوے سچ کی قبولیت پر مبنی ہے کہ صرف فوجی طاقت پالیسیوں کا تعین نہیں کر سکتی، اور چھوٹی قوموں کو امریکہ اور اسرائیل کی کالونی یا زیر اثر ریاست بنا کر حکم نہیں دیا جا سکتا، اگر ان کی آبادی اپنی حکومت کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہو اور دشمن کی جانب سے دیے گئے دکھ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
اس حیرت انگیز اُلٹ پھیر نے بہت سے تجزیہ کاروں کو اسے تاریخ کے ستم ظریفیوں میں سے ایک قرار دینے پر مجبور کیا ہے۔ ایک صدی پہلے ورسائے جنگ، شکست، اور مفتوح جرمنوں پر ڈالی گئی ذلت کے نتائج کی علامت تھا۔ جرمنوں نے کبھی اس ذلت کو قبول نہیں کیا، اور جرمن قوم جرمن برتری، انتقام، اور نفرت پر مبنی فاشزم کی طرف مائل ہو گئی، اور انہوں نے ہٹلر کو اقتدار میں لا کھڑا کیا، جس نے یہودیوں سے نفرت کے ساتھ ساتھ صنعتی بنیادوں پر جنگ کی تیاری شروع کر دی۔ اس کے نتیجے میں دوسری جنگ عظیم کی تباہی ہوئی، جس میں تقریباً 65 ملین افراد ہلاک ہوئے، بہت سی یورپی طاقتوں کا زوال اور شکست ہوئی، اور امریکہ ایک سپر پاور کے طور پر ابھرا۔
حالات نازک ہیں یہ ابھی دیکھنا باقی ہے کہ آیا ایران امریکہ مفاہمت بالآخر دیرپا امن اور استحکام کی طرف لے جاتی ہے یا نہیں۔ امریکہ دو بار اس قسم کے معاہدوں کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔ اسرائیل کسی قسم کے معاہدے کے خلاف ہے ہمیشہ جنگ چاہتا ہے امن نہیں چاہتا تاہم اس لمحے کی علامتی اہمیت مسلّم ہے۔ محل ورسائے، جو ایک زمانے میں جرمنی کی جنگ کے بعد کی ذلت کے مقام کے طور پر یاد کیا جاتا تھا، ایک بار پھر تاریخ کے اوراق میں شامل ہو گیا ہے، اس بار ممکنہ تعمیر نو، بات چیت، اور ایک نئی شروعات کے لیے ایک معاہدے کے مقام کے طور پر، اور شاید یک قطبی نظام کے بجائے ایک نئے سہ قطبی عالمی نظام کے طور پر۔اُمید ہے اس سے حالات میں مثبت تبدیلیاں رونما ہونگی ان شاء اللہ