اپنی حیثیت کو جاننے کےلیے ان حقائق کو پیش نظر رکھ لینا چاہیے تاکہ کوئی خوش فہمی نہ ہو ورنہ یہاں تو اس نغمہ کی کیفیت تھی ؎
آج ان سے پھر ایک ملاقات ہوگی
پھر آمنے سامنے بات ہوگی
پھر ہوگا کیا ، کیا پتہ کیا خبر ؟
لیکن وزیر اعظم پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا کیونکہ ان کا معاملہ تو برکھا فلم کے لافانی نغمہ جیسا ہے ؎
تڑپاؤ گے تڑپا لو، ہم تڑپ تڑپ کر بھی تمہارے گیت گائیں گے
• ٹھکراؤ گے ٹھکرا لو، ہم ٹھوکر کھا کر بھی تمہارے در پہ آئیں گے
وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا میں امن اور استحکام کی بحالی کی کوششوں میں پیش رفت پر صدر ٹرمپ کی تعریف کی کیونکہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا عالمی معیشت کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مغربی ایشیا کا امن غارت کس نے کیا؟ وہ امریکہ ہی تھا جس نے ایران پر حملہ کرکے رہبر معظم کو ان کے اہل خانہ سمیت شہید کردیا ۔ ایران کے اندر اسرائیل کے ساتھ مل پچیس ہزار مقامات پر بمباری کی گئی۔ بے شمار ایرانی رہنماوں اور فوجی جرنیلوں کو شہید کرکے اس کا جشن منایا گیا ۔ یہ امن و امان ہے یا جنگ و جدال ؟ مودی جس معاہدے کو امن کی بحالی کہہ رہے ہیں وہ تو امریکہ کی مجبوری ہے۔ ٹرمپ کو جب ایران کی جانب سے منہ توڑ جواب ملا ۔ وہ ایک ایک کرکے اپنے سارےاہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے اور امریکی عوام کے ساتھ کانگریس تک نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تو مجبوراً گھٹنے ٹیک کر ساری ایرانی شرائط تسلیم کرلیں ۔ اس میں قابلِ تعریف کیا ہے۔ وزیر اعظم مودی میں اگر حق بات کہنے کی جرأت نہیں تھی تو خاموش رہتے مگر اس طرح کا شرمناک بیان تو نہیں دیتے ۔ جہاں تک آبنائے ہر مز کو کھولنے کا سوال ہے وہ تو پہلے بھی کھلی ہی تھی۔ ایران کو اسے بند کرنے کے لیے کس نے مجبور کیا؟ اس پر ناکہ بندی کا امریکہ کے پاس کیا جواز تھا ؟ اور اس کی خلاف ورزی کا بہانہ بناکر ہندوستانی ملاحوں کو ہلاک کرنے کا حق امریکہ کو کیسے مل گیا؟ مودی اگر یہ نہیں پوچھ سکتے تو مونی بابا بنے رہنے میں بھلائی ہے۔
مودی ٹرمپ ملاقات کا دلچسپ پہلو یہ تھا کہ وزیر اعظم تو اپنے من کی بات کہتے رہے ۔حسب روایت کسی صحافی کا سوال نہیں لیا کیونکہ عقل و فہم اور حاضر جوابی کا فقدان ہے مگر ٹرمپ نے ملاقات کے وقت وہاں موجود اخبار نویسوں کو سوالات پوچھنے کا موقع دیا۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی نے امریکہ اورہندوستان کے دفاعی تعلقات سے متعلق سوال کردیا تو صدر ٹرمپ کا جواب حیرت انگیز تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ’ اس حوالے سے ہمارا معاہدہ ہے، اگر ان پر حملہ ہوتا ہے تو ہم ان کی مدد کے لیے آئیں گے۔‘ یہ معاہدہ کہاں ہے اور کب سے ہے ؟ یہ کوئی نہیں جانتا ۔ اس پر عمل کیوں نہیں ہورہا ہے ؟ یہ بھی ایک راز ہے کیونکہ جب چین نے گلوان یا ڈوکلام میں حملہ کیا تو ٹرمپ برسرِ اقتدار تھے ۔ انہوں جو مدد کی یہ کسی کو نہیں معلوم ۔ آپریشن سیندور میں تو خیر ہندوستان حملہ آور تھا مگر جواب میں جب پاکستان کی جانب سے کارروائی شروع ہوئی تو ٹرمپ دوسری جانب کھڑے دکھائی دئیے۔ ان کے متنازع بیانات سے ہندوستان کے بجائے پاکستان کے دعووں کی تصدیق ہوتی رہی ۔ اس طرح مذکورہ بالا خفیہ معاہدہ کسی کام کیوں نہیں آیا؟
امریکی صدر کےاس بیان کا ایک حیران کن مطلب ان وضاحت کے دوران سامنے آیا ۔ ٹرمپ اپنے جواب کے بعد وزیرِ اعظم مودی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا کہ ’یہ اچھا بیان ہے ناں۔‘ اس کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی کا حوالہ دیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ’اگر کوئی اس شخص پر حملہ کرتا ہے تو ہم وہاں موجود ہوں گے‘‘۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ معاہدہ ممالک کے درمیان نہیں بلکہ افراد کے بیچ ہے۔ یہ گمان اس لیے بھی درست معلوم ہوتا ہے کیونکہ ٹرمپ نے وضاحت کی ’۰۰ البتہ اگر کوئی نیا رہنما آ گیا تو میں اس بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتا۔‘ سوال یہ ہے کہ اگر خدا نخواستہ مودی جی پر حملہ ہو جائے جس کا اندیشہ ایوان پارلیمان کے اجلاس میں ظاہر کیا گیا تھا اور خود اسپیکر اوم برلا اس کا حوالہ دے کر ایوان میں حاضری سے منع کردیا تو اس صورت میں کیا امریکی تحفظ کی ضرورت پڑے گی؟ ہندوستانی فوج اور حفاظتی دستے کیا اس کام کی صلاحیت نہیں رکھتے؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھے ٹرمپ اس بابت کیسے مدد کرسکتے ہیں ؟ ویسے مودی جی 2047 تک ملک کی قیادت کا اردہ رکھتے ہیں جبکہ دو سال بعد ٹرمپ کو اقتدار سے دستبردار ہونا پڑے گا تو اس کے بعد کیا ہوگا؟ صدر ٹرمپ نہیں جانتے کہ مودی جی نان بائیو لوجیکل مخلوق ہیں ان پر بھلا کون اور کیسے حملہ کرسکتا ہے؟اپنے آوٹ ریچ خطاب میں مودی جی نے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس(ترقی )، سب کا وشواس(اعتماد)، سب کا پریاس(کوشش) کے اصولوں پر مبنی ہندوستان کی ہمہ جہت اور شمولیت پر مبنی ترقی کی کہانی سنائی ۔ یہ’ سب‘ کون سی مخلوق ہے؟ اسے ہندوستان میں کوئی نہیں جانتا ۔ دنیا بھر کے لوگ تو ممکن ہے اس فسانے کو سچ مان لیں مگر ہندوستان کے اندر کوئی اس پر یقین نہیں کرے گاکیونکہ مودی جی کے ان کے وعدوں پر داغ کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا