ماں کے بعد اولاد کا سب سے بڑاجذباتی اور انسانی واخلاقی سہارا والد ہواکرتاہے ۔جب کہ معاشی سہارے کے حوالے
سے والد کی اہمیت آج بھی نمبرون ہے۔ والدہی اپنے بچوں کاسب سے پہلا معاشی سہارا ہوتاہے۔ اسی والد کولے کردنیا بھرمیں مختلف تواریخ میں دن منانے کی روایت ہے۔ ہندوستان ، امریکہ ، کینیڈا اور برطانیہ میں ماہ جون کے تیسرے اتوار (21؍جون) کو ’’یوم ِ والد‘‘ منایاجاتاہے۔اٹلی ،اسپین اور پرتگال میں 19؍مارچ ، آسٹریلیا اورنیوزی لینڈ میں ستمبر کا پہلا اتوار، برازیل میں اگست کا دوسرا اتوار،جرمنی میں ایسٹر کے بعد 40ویں دن کو ’’یوم والد ‘‘ کے طورپر منایاجاتاہے۔
قرآن نے والد کی اہمیت اس قدر بڑھادی ہے کہ اللہ اور رسول کے بعد والد(اور ماں) ہی کامقام بتایاہے تاکہ انسان یہ بات اچھی طرح سمجھ لے۔ اورکوئی ان دونوں کے مقام پر آنہیںسکتا۔ اگر کچھ جگہ مل سکتی ہے تو وہ استاد کیلئے مختص ہے بلکہ استاد کوبھی علم کے حوالے سے معنوی والدکہاگیاہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس قدر اہمیت والد کی بتائی ہے کہ جب ایک صحابی نے فریاد کی کہ ، اے حبیب خدا ، میرابچہ مجھے بے حد ستاتاہے،اور اپنی کمائی میں حصہ نہیں دیتا تو لڑکے کو بلایااور کہا’’تم اور تمہاری دولت دونوں تمہارے والد کے ہیں ‘‘
آج 21؍جون ہے ۔ آج ’’یوگاڈے‘‘ بھی ہے اور آج ہی کے دن ملک بھر میں NEETکاامتحان 2؍بجے دن دوبارہ ہونے جارہاہے ۔ اس امتحان میں وہ طلبہ شامل نہیں ہوں گے جنھوں نے اپنی حددرجہ حساسیت اور مایوسی کی بناپر NEETکاپرچہ لیک ہونے پر خودکشی کرتے ہوئے دنیا کو اس کے حال پرچھوڑ دیاتھا۔ اسی طرح آج ہندوستان بھر میں ’’یوم ِ والد ‘‘ اپنے اپنے طورپر منایاجارہا
ہے۔ عموماً ’’ماں کادِن ‘‘ تو یاد رہتاہے لیکن زندگی کی بھیانک سچائیوں کی طرح ’’باپ کادِن‘‘ نظرانداز کردیاجاتاہے۔ آج ایسا نہ کریں ۔ والد اگرحیات ہیںتو ان کوآج ہی نہیں بلکہ ہمیشہ ہی خوش رکھنے کے جتن کریں اور اگر والد محترم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس بلالیاہے تو ان کیلئے ثواب جاریہ کافریضہ انجام دیں۔ صدقہ وخیرات کے ذریعہ ثواب ارسال کرنے کی مستحکم روایت پر عامل ہوں ۔
آئیے ہم اردو ادب کی طرف آتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اردو زبان نے کس طرح والد کی عزت اورقدرومنزلت کو بیان کیاہے ۔ رگ ِ جاں سے عزیز تر مجھے والد رکھتے ہیں کہہ کرطاہر شہیرنے والد اور فرزند کے تعلق کو اس خوبی سے بیان کیاہے کہ زبان ہی سے نہیں دل سے بھی واہ نکلتی ہے ۔ وہ کہتے ہیں ؎
عزیز تر مجھے رکھتا ہے وہ رگ جاں سے
یہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہیں ماں سے
ساجد جاوید کاایک شعر جو سوشیل میڈیا پر بہت مشہور ہوا جس میں ماں باپ دونوں کاذکر ہے ، وہ کچھ یوں ہے ؎
گھر کی اس بار مکمل میں تلاشی لوں گا
غم چھپا کر مرے ماں باپ کہاں رکھتے تھے
ماں کے حوالے سے شعر کہنا منور رانا کا برینڈ تھا۔ موصوف نے اس شعر میں والد کا بھی ذکر جس خوبی سے کیاہے ، اس سے ان کاجذبہ ء محبت عیاں ہوتاہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ منوررانا مرحوم اپنے والد کو بے حد چاہتے تھے ۔ منوررانانے ساری عمراپنے والد کی خدمت کی ،منوررانا کہتے ہیں ؎
یہ سوچ کے ماں باپ کی خدمت میں لگا ہوں
اس پیڑ کا سایا مرے بچوں کو ملے گا
اکیسویں صدی میں شریف والدکوجس طرح کے حالات کاسامناکرنا
پڑرہاہے ،اس تعلق سے میرؔبیدری کا طنز ملاحظہ فرمائیں ؎
دورِ حاضرنے بھی دیکھو ، کیسے منظر دیکھے ہیں
لڑکے اپنے باپ ہی کو باپ اپناکہتے ہیں
معراج فیض آبادی کامشہور زمانہ شعر تو یاد ہی ہوگا ؎
مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ
میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے
مگر ایک اور شعر میں موصوف نے رشتوں کی کتاب پر باپ کے چہرے ( Facebook of Father)کوترجیح دی ہے ، واقعیشعری نزاکتوں سے بھرپور اورلاجواب شعر ہے ۔ معراج فیض آبادی کایہ شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
ہمیں پڑھاؤ نہ رشتوں کی کوئی اور کتاب
پڑھی ہے باپ کے چہرے کی جھریاں ہم نے
باپ کاذکر ہواور بیٹیوں کی پسند سامنے نہ آئے ، ایسا نہیں ہوسکتا۔ وہی بیٹیاں جو باپ کو زیادہ چاہتی ہیں۔جو باپ کے خوابوں کی ہمراز ہوتی ہیں ۔ ان ہی بیٹیوں کے بارے میں افتخار عارف کہتے ہیں ؎
بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیں
اور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیں
مرحوم والدین سے ملاقات یاتو خوابوں میں ہوسکتی ہے ۔ یاپھر قبرستان جاکر ہی ہوسکتی ہے ۔ افضل خان اپنے تجربہ کو کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں ؎
دیر سے آنے پر وہ خفا تھا آخر مان گیا
آج میں اپنے باپ سے ملنے قبرستان گیا
صرف اتنا ہی نہیں ہواکہ اردو شعراء نے باپ کو ہیرو ہی کے طورپر پیش کیاہو، انھوں نے والد کی جفا پر بھی بات کی ہے ۔ محمد یوسف پاپا کا
شعر ہے ؎
جب بھی والد کی جفا یاد آئی
اپنے دادا کی خطا یاد آئی
رؤف خیرکاتعلق دکن سے ہے اور اُردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر قلی قطب شاہ کے قلعہ گولکنڈہ کے حصار میں رہتے ہوئے وہ عمدہ شعر کہتے ہیں ۔ ان سے والد کی صحت دیکھی نہیں جاتی مگر انھوں نے والد کی صحت کے حوالے سے بیٹوں کی معاشی بے نیازی یامعاشی صورتحال پر اس شعر میں بات کی ہے اورنئی نسل کو بتادیاہے کہ شعر کس طرح کہنا چاہیے ؎
ہڈیاں باپ کی گودے سے ہوئی ہیں خالی
کم سے کم اب تو یہ بیٹے بھی کمانے لگ جائیں
آج انسانی معاشرے کی صورتحال یہ ہے کہ کمانے والاوہی اکلوتا باپ جو سارے گھر بار کاسہارا تھا ، کونے میں لگادیاگیاہے ۔ اس صورتحال کی منظرکشی معین شادابؔ اس طرح کرتے ہیں ؎
وہ وقت اور تھے کہ بزرگوں کی قدر تھی
اب ایک بوڑھا باپ بھرے گھر پہ بار ہے
رئیس فروغؔ بھی والد کے حوالے سے اپنی سچویشن کو بیان کیاہے ،لیکن کہانہیں ہے کہ اچھاہوں یابراہوں ، چھپانا فن ہے اور یہ فن رئیس فروغ ؔ کوآتاہے ؎
میرا بھی ایک باپ تھا اچھا سا ایک باپ
وہ جس جگہ پہنچ کے مرا تھا وہیں ہوں میں
شکیل ؔجمالی نے اپنے اس شعر میں بچے کا ذکر کرتے ہوئے باپ کی جانبازی دکھائی ہے، واقعہ تو دہکتی ہوئی آگ کا ہے ، بچے کے کھلونے کا ہے مگر بیان والد کاہورہاہے ؎
میں نے ہاتھوں سے بجھائی ہے دہکتی ہوئی آگ
اپنے بچے کے کھلونے کو بچانے کے لیے
اسی جانبازی کو شاید میرؔبیدری کچھ یوں بیان کررہے ہیں ؎
ہم پہ چھایا کوئی نہیں ہوتا
باپ جیسا کوئی نہیں ہوتا
مزید اشعار درج ذیل ہیں ، انہیں پڑھئے اوروالد کے مرتبہ کو جانیں ۔ اور موجودہ حالات کو بھی سمجھنے کی سعی کریں ؎
باپ زینہ ہے جو لے جاتا ہے اونچائی تک
ماں دعا ہے جو سدا سایہ فگن رہتی ہے
سرفراز نواز
مدت کے بعد خواب میں آیا تھا میرا باپ
اور اس نے مجھ سے اتنا کہا خوش رہا کرو
عباس تابش
بچے میری انگلی تھامے دھیرے دھیرے چلتے تھے
پھر وہ آگے دوڑ گئے میں تنہا پیچھے چھوٹ گیا
خالد محمود
میں اپنے باپ کے سینے سے پھول چنتا ہوں
سو جب بھی سانس تھمی باغ میں ٹہل آیا
حماد نیازی
آپ کی وجہ سے میں بھی دنیا میں ہوں
آپ ہیں تو میں ہوں والد ِ محترم
میرؔبیدری
جن کی وجہ سے ہم نے یہ دنیاہے دیکھ لی
حق ان کی شفقتوں کاکا اداکیوں نا کریں ہم
دروازہ ء جنت جنہیں فرمایا نبی ﷺ نے
ان کی سلامتی کی دعا کیوں ناکریں ہم
ڈاکٹر یٰسین راہی ؔ
ادب کا ذوق رکھنے والے طلبہ اور نوجوانوں سے گذارش ہے کہ اکیسویں صدی میں باوقار طریقے سے جینے کے لئے ادب کا مطالعہ کرتے رہیں۔ آج 21؍جون2026ء کو خصوصیت کے ساتھ والد کے مرتبہ کی بابت اسلام ، دیگر مذاہب اور ادب میں والد کے مقام ومرتبہ اور موجودہ صورتحال کا ضرور مطالعہ کریں ۔ مطالعہ سے ہی رشتوں کی پہچان ہوتی ہے۔ رب ملتاہے۔ کوشش کریں کہ رب تک پہنچنے کے لئے والد کی ناراضی سے بچیں ۔ انہیں راضی رکھیں۔ اللہ تعالیٰ تمام والدین کوعمر دراز عطافرمائے اور بیٹے بیٹیوں ،پوتے پوتیوں ، نواسے نواسیوں کووالدین ، دادادادی اور نانانانی کافرماں بردار بنائے رکھے۔ آمین
(اسی میں انسانوں کی بقا ہے )