وزیر اعظم نریندر مودی نے کچھ شرائط کے ساتھ سہی جب پنڈت نہرو کا ریکارڈ توڑدیا اور آر ایس ایس نے سو سال پورے کرلیے مگر اس جشن پر رام مندر کی چندہ چوری اور پرینک کھرگے اعتراضات نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔ ویسے مودی کو توقع تھی کہ انہیں سب سے پہلے مادرِ تنظیم آر ایس ایس سے مبارکباد کا پیغام آئے گا مگر سرسنگھ موہن بھاگوت نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھاکہ ’’ ہم ایک مدت سے کہہ رہے ہیں کہ بھارت وشو گرو بنے گا اور اب بھارت کے وشو گرو بننے کا وقت آچکا ہے ،لیکن اس کیلئے ہماری تیاری میں کمی ہے۔اگر ہماری تیاری پوری ہوجائے گی تو ہم وشو گرو بن جائیں گے‘‘۔ وقت آنے کے بعد تیاری کےعدم تکمیل کی اولین ذمہ داری ظاہر ہے طویل ترین عرصے تک وزیر اعظم کی کرسی پر براجمان نریندر مودی پر آتی ہے۔ وہ اگر اس مقصد میں کام ہوگئے جسے اپنی صدسالہ تقریب میں موہن بھاگوت نے سنگھ کی غرض و غایت کے طو ر پر پیش کیا تھا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مودی جی ہی ہندوستان کے وشو گرو بننے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ۔ ایسے میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو سامنے لایا گیا اور ان سے ایک نہایت مضحکہ خیزبیان لکھواکر شائع کیا گیا ۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرلکھاکہ ’’آج وزیر اعظم اور لوک سبھا میں قائدِ ایوان نریندر مودی نے آزاد ہندوستان کی تاریخ میں منتخب وزیر اعظم کے طور پر طویل ترین مدت تک مسلسل خدمات کا تاریخی ریکارڈ قائم کیا۔ وزیر اعظم کے طور پر4399؍ دنوں کی مسلسل خدمت کا یہ تاریخی سنگِ میل ہندوستانی جمہوریت کی مضبوطی اور عوامی اعتماد کی علامت ہے۔‘‘
اوم برلا کے بیان جمہوریت کی مضبوطی تو اسی روز مغربی بنگال میں جلنے والی چار ہزار ای وی ایم مشینوں کی چتا میں جل کر راکھ ہوگئی۔ عوام تو دور اگر مودی جی کو ایوان کا اعتماد بھی حاصل ہوتا تو برلا جی حملے کا خطرہ جتا کر انہیں لوک سبھا میں آنے سے منع نہیں کرتے۔ اوم برلا نے اپنے بیان میں کذب گوئی کے سارے ریکارڈتوڑتے ہوئے لکھا کہ ’’اس مدت کے دوران آئینی اقدار، پارلیمانی جمہوریت اور جمہوری اداروں کو صحت مند پارلیمانی طریقہ کار اور روایات کے ذریعے مزید استحکام حاصل ہوا ہے۔‘‘ پچھلے بارہ سالوں میں کون سے ایسے آئینی اقدارہیں جو پامال نہیں ہوئے ۔ الیکشن کمشنر کے تقرر سے چیف جسٹس کو نکال باہر کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کردی گئی۔ اوم برلا کو بتانا چاہیےکہ کیا ڈیڑھ سو سے زیادہ ارکانِ پارلیمان کو معطل کرکے اہم قوانین کو منظور کروا لینا پارلیمانی جمہوریت ہے۔ نائب صدر مملکت جگدیپ دھنکڑ سے زبردستی استعفیٰ لے کر انہیں قید کرکے زیر زمین بھیج دینا صحت کی علامت ہے یا بیماری کی؟ مودی سرکار نے جس بے حیائی کے ساتھ جمہوری اداروں کو اپنا آلۂ کار بنایا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ ای ڈی، سی بی آئی، الیکشن کمیشن، گورنر یہاں تک کہ عدلیہ کو بھی نہیں بخشا گیا۔ اس کے باوجود اگر ایوان کے اسپیکر وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی طریقہ کار اور روایات کومستحکم کرنے کا اعزاز بخشتے ہیں تو اس پر رویا جائے یا ہنسا جائے؟ سمجھ میں نہیں آتا۔
ملک کا حزب اختلاف مودی جی کے طور طریقوں سے واقف ہوچکا ہے اس لیے اس نے بھی خوب تیاری سے مودی سرکار پر کالک پوتنے کا کام کیا ۔ کانگریس پارٹی نے مسلسل اقتدار کے12؍ سال مکمل کرنے پرمودی سرکار کی کارکردگی پر ’تشہیر بمقابلہ احتساب ‘کے عنوان سے75؍ صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی۔ اس میں اعدادو شمار کی مدد سے ثابت کیا گیا کہ روزگار، اقتصادی ترقی، جمہوریت، بنیادی ڈھانچے اور تعلیم کے حوالے سے مودی حکومت کے دعوے عوام کیلئے عملی فوائد میں تبدیل نہیں ہو سکے۔راہل گاندھی نےایکس پر ایک پوسٹ میں الزام لگایا کہ گزشتہ12؍ سال کی ’’غریب مخالف معاشی پالیسیوں اور کمزور خارجہ پالیسی‘‘ نے ملک کو ایسی صورتحال میں پہنچا دیا ہے جہاں لاکھوں غریب خاندان اور خواتین دوبارہ لکڑی کے چولہوں کے زہریلے دھوئیں پر انحصار کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اجولا یوجنا کے تحت سبسڈی والے گیس سلنڈروں کی تعداد9؍ سے کم کرکے4؍کر دی گئی ہے۔ گزشتہ تین ماہ میں گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں89؍ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کے بقول، ’’ارب پتی دوستوں کے لاکھوں کروڑ روپے کے قرضے معاف کرنا اور اپنی ناکامیوں کا بوجھ غریبوں پر ڈالنا ہی مودی کا لوٹ ماڈل ہے۔‘‘ مودی سرکار خود اسیّ کروڈ لوگوں کو مفت اناج تقسیم کرنے کا دعویٰ کرکے اس الزام کی تصدیق کرتی ہے۔
سی پی آئی کےمطابق وزیر اعظم نریندر مودی کے دورِ اقتدار میں عوام مہنگائی، بے روزگاری اور مالی بحران سے پریشان ہیں۔ بدعنوانی اور تفریق پسندانہ سیاست کو فروغ دیا گیا جس کے سبب دلتوں، آدیواسیوں، خواتین، اقلیتوں اور کمزور طبقات پر مظالم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ سی پی آئی نے بھی الزام لگایا کہ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کا فائدہ صرف چند بڑے صنعت کاروں کو ملا ، جبکہ غریب لوگ غریب تر ہوتے چلے گئے۔ اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ مودی حکومت کے دور میں روپیہ دنیا کی کمزور ترین کارکردگی دکھانے والی کرنسیوں میں شامل رہانیز ہر10؍ میں سے4؍گریجویٹ بے روزگارکی تاریکی میں ڈھکیل دیا گیا ۔ گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس میں ہندوستان کی درجہ بندی108؍ سے گر کر131؍ہو گئی ہے۔ پریس کی آزادیکے لیے کی جانے والی درجہ بندی کے اندر کل 180 ممالک میں بھارت 157 ویں نمبر پر ہے۔ سال 2025 کے مقابلے میں بھارت 6 درجے نیچے گرا ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ 151 ویں مقام پر تھا۔ بیچارے مودی ناروے میں خاتون صحافیہ سے ڈر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
شیو سینا کے رہنما سنجے راؤت نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے 12 سال مکمل ہونے پر سخت تنقید کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ اس طویل مدت میں عوام کے لیے کیا کام کیا گیا؟ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ’بے شرم پارٹی‘ قرار دیتے ہوئے حکومت کی کارکردگی اور پالیسیوں پر کئی سوالات اٹھائے۔وہ بولےحکمراں جماعت اپنی حکومت کے 12 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہی ہے لیکن عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان برسوں میں ان کی زندگیوں میں کیا بہتری آئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی کامیابیوں کا دعویٰ کرتی ہے، مگر وزیر اعظم نریندر مودی نے آج تک ایک بھی باضابطہ پریس کانفرنس کر کے عوام اور صحافیوں کے سوالات کا سامنا نہیں کیا۔سنجے راؤت نے مودی حکومت کا موازنہ پنڈت جواہر لال نہرو کے دور سے کیے جانے پر بھی اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے ملک کی تعمیر، اداروں کے استحکام اور جمہوری نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ پنڈت نہرو کے دور میں آئینی اداروں کو مضبوط بنایا گیا، جبکہ موجودہ حکومت پر ان اداروں کو کمزور کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔
سنجے راؤت نے کہا کہ ملک پنڈت جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی جیسے رہنماؤں کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق اندرا گاندھی نے ملک کی سلامتی اور یکجہتی کے لیے قربانی دی اور ان کی خدمات تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔انہوں نے یاددلایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ماضی میں 75 برس کی عمر کے بعد عہدہ چھوڑنے کی بات کہی تھی، لیکن اب اس اصول پر عمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ہر چیز کی عمر بڑھتی ہے اور سیاسی قیادت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔سانہوں نے راجیش مہتا سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ لاکھوں کروڑ روپے کے ایک بڑے گھوٹالے پر پر اسرارخاموشی چھائی ہوئی ہے۔ اس موقع پر شیوسینا یوبی ٹی کے ایکس ہینڈل سے جاری شدہ پوسٹرمیں کہا گیا کہ’اچھے دن‘ آئیں گے، مہنگائی کم ہوگی، روزگار بڑھے گا، کسانوں کی آمدنی دگنی ہوگی، عام لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر ہوگا، ایسے کئی وعدے کرکےمودی اقتدار میں آئے۔لیکن ان دس بارہ برسوں میں عام آدمی کی زندگی میں آخر کیا بدلا؟ پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتیں، مہنگائی کا طوفان، بے روزگاری کی فکر، کسانوں کے مسائل، بڑھتا قرض اور متوسط طبقے پر بڑھتا ہوا معاشی دباؤ کیا یہی وہ “اچھے دن” ہیں؟
مودی جی سب کا ساتھ لے کر سب کا وکاس کرنا چاہتے تھے مگر ان دونوں محاذوں پر وہ ناکام رہے۔ یہ حکومت اپنے تمام امتحانات میں پوری طرح ناکام ہوگئی اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ پچھلے 10 سالوں میں 89مرتبہ پیپر لیک ہوئے۔ جو لوگ بچوں کے امتحانات تک نہیں لے سکتے وہ کس منہ سے گڈ گورننس کی بات کرتے ہیں؟ ہندوستان کی آزادی کے بعد پنڈت نہرو نے جوخود مختار ادارے بنائے انہیں مودی جی نے اپنا آلۂ کار بنایا اور جو صنعتیں بنائیں ان کو اونے پونے داموں پراپنے دوستوں کو فروخت کردیا ۔ پنڈت نہرو نےدھیرو بھائی امبانی کی طرح صفر سے اپنا سامراج کھڑا کیا ۔ ان کے بعد والوں نے مکیش امبانی کی مانند اس وراثت کو فروغ دیا مگر مودی نےانل امبانی کی طرح سب کچھ برباد کرکے دیوالیہ کردیا۔ آج ورلڈ بنک کے قرضداروں کی فہرست میں 24.4 بلین ڈالر کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ایسے میں اپنے نمبر ون وزیر اعظم کے لیے خود بی جے پی والے ہی من ہی من میں ہیرو نمبر ون کا نغمہ اس طرح گنگناتے ہوں گے؎
سپنوں کی اس کملا کو ایسے تو بدنام نہ کر
ہیرو تو میرا ہیرو ہے وِلن جیسا کام نہ کر
تو میرا تومیرا تومیرا تومیراپی ایم نمبر ون