ریاست اور گم شدہ شہریت

ریاست اور گم شدہ شہریت

ریاست اور گم شدہ شہریت

ازقلم:شرف الدین سید
9342522346

"کہتے ہیں، گم وہی چیز ہوتی ہے جو کبھی موجود رہی ہو۔ مگر بعض اوقات چیزیں گم نہیں ہوتیں، ان پر سے یقین گم ہو جاتا ہے۔ اور جب یقین گم ہو جائے تو صرف کاغذ بے معنی نہیں ہوتے، ریاست اور شہری کے درمیان قائم اعتماد بھی دھندلا جاتا ہے۔”
ریاست کی سب سے بڑی ذمہ داری اپنے شہری کو صرف شناخت دینا نہیں، بلکہ یہ یقین دلانا بھی ہے کہ وہ اس ملک کا معتبر اور مساوی شہری ہے۔ یہی یقین ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا وہ رشتہ قائم کرتا ہے جس پر جمہوریت کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔
لیکن جب ایک دن خود ریاست کے اداروں سے یہ تاثر ابھرنے لگے کہ پاسپورٹ، ووٹر شناختی کارڈ یا آدھار جیسے سرکاری دستاویزات شہریت کا قطعی ثبوت نہیں، تو سوال صرف ایک قانونی تشریح کا نہیں رہتا۔ یہ ریاست کی اپنی سوچ، اس کے اداروں کی ساکھ اور شہری کے اعتماد کا سوال بن جاتا ہے۔
آخر ایک عام ہندوستانی اپنی شہریت ثابت کیسے کرے؟ اگر پاسپورٹ صرف سفر کی دستاویز ہے، ووٹر شناختی کارڈ صرف ووٹ ڈالنے کا ذریعہ ہے اور آدھار صرف شناختی نمبر، تو پھر وہ کون سا ثبوت ہے جو شہری اور ریاست کے درمیان آخری گواہی بن سکے؟
یہ سوال صرف ایک مزدور، کسان، طالب علم یا سرکاری ملازم کا نہیں۔ اگر قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے تو یہی سوال ملک کے وزیر اعظم سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ وہ بھی انہی سرکاری دستاویزات کے حامل ہیں جو ایک عام شہری کے پاس ہوتی ہیں۔ اگر یہ دستاویزات عام آدمی کی شہریت ثابت نہیں کرتیں تو پھر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کی شہریت کس بنیاد پر مسلم ہے؟ قانون کی اصل عظمت یہی ہے کہ وہ کسی منصب اور شخصیت کے درمیان امتیاز نہ کرے۔
یہاں طنز خود بخود جنم لیتا ہے۔جس پاسپورٹ کو دنیا کے ممالک ہندوستان کی خودمختار شناخت سمجھ کر قبول کرتے ہیں، اسی پاسپورٹ کے بارے میں اپنے ہی ملک میں یہ تاثر پیدا ہو کہ وہ شہریت کا ثبوت نہیں۔ گویا پوری دنیا اس دستاویز پر اعتماد کرتی ہے، مگر خود اس کا اجرا کرنے والی ریاست اس کی حیثیت محدود کر دیتی ہے۔ اس سے بڑا تضاد شاید ہی کوئی اور ہو۔اصل مسئلہ کاغذات کا نہیں، اعتماد کا ہے۔ ریاست کی طاقت صرف قوانین سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ ان قوانین پر عوام کے یقین سے پیدا ہوتی ہے۔ جب ریاست اپنے ہی جاری کردہ دستاویزات کی وقعت پر سوالات کی گنجائش پیدا کرے تو شہری کے دل میں بھی بے یقینی جنم لیتی ہے۔ پھر فائلیں محفوظ رہتی ہیں، مگر اعتماد کھو جاتا ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ مضبوط ریاستیں اپنے شہریوں سے بار بار وفاداری یا شناخت کے ثبوت نہیں مانگتیں، بلکہ ایسا نظام قائم کرتی ہیں جس میں شہری خود کو محفوظ، معتبر اور باوقار محسوس کرے۔ کیونکہ شہری جب ریاست پر اعتماد کرتا ہے تو ریاست بھی مضبوط ہوتی ہے، اور جب ریاست اپنے شہری پر اعتماد کھونے لگے تو اس کی طاقت کے ظاہری مظاہر بھی اندرونی کمزوری کو نہیں چھپا سکتے۔
یہ بحث ہمیں ایک اور حقیقت کی طرف بھی لے جاتی ہے۔ ٹیکس ادا کرتے وقت ہماری شہریت مشکوک نہیں ہوتی۔ ووٹ مانگتے وقت ہم اس ملک کے بااختیار شہری ہوتے ہیں۔ فوج میں بھرتی ہوتے وقت ہم اسی مٹی کے سپوت کہلاتے ہیں۔ لیکن جب شہریت ثابت کرنے کی بحث چھڑتی ہے تو اچانک ہمارے تمام کاغذات ناکافی محسوس ہونے لگتے ہیں۔ یہ تضاد محض قانونی نہیں، اخلاقی بھی ہے۔شاید اسی لیے آج ایک عام شہری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ آخر ریاست اپنے ہی جاری کردہ ثبوتوں پر کس حد تک یقین رکھتی ہے؟ اگر ریاست اپنے کاغذات پر مطمئن نہیں تو شہری اپنے وجود پر کیسے مطمئن رہے؟اور اگر اصول سب کے لیے یکساں ہے تو شاید ایک نئی قطار لگنی چاہیے۔ اس قطار میں سب سے آگے وہ لوگ کھڑے ہوں جو قانون بناتے ہیں، ان کے پیچھے وہ جو قانون نافذ کرتے ہیں، اور آخر میں وہ عوام جنہیں ہر چند برس بعد نئی ہدایات کے ساتھ ایک نئی قطار میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ سب کے ہاتھوں میں وہی کاغذات ہوں، اور سب ایک ہی سوال کا جواب تلاش کر رہے ہوں:
"آخر اس ملک کا شہری ہونے کا ناقابلِ تردید ثبوت کیا ہے؟”
یہ سوال کسی ایک حکومت، کسی ایک جماعت یا کسی ایک شخصیت سے بڑا ہے۔ یہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کے اس رشتے کا سوال ہے جس کے بغیر جمہوریت محض ایک انتظامی ڈھانچہ بن کر رہ جاتی ہے۔ریاستیں صرف سرحدوں، پارلیمانوں اور سرکاری عمارتوں سے قائم نہیں رہتیں۔ ریاستیں اپنے شہریوں کے اعتماد سے زندہ رہتی ہیں۔ جب اعتماد متزلزل ہونے لگے تو گم شدہ صرف شہریت نہیں ہوتی، ریاست کی اخلاقی قوت بھی دھندلانے لگتی ہے۔
اسی لیے آج کا سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ "شہریت کا ثبوت کہاں ہے؟” بلکہ یہ ہے کہ "ریاست اپنے ہی شہری پر غیر متزلزل اعتماد کب کرے گی؟”
کیونکہ جس دن اس سوال کا جواب مل جائے گا، شاید اسی دن "ریاست اور گم شدہ شہریت” کی یہ داستان بھی اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے گی۔”شہریت کا سرٹیفکیٹ شاید کسی دفتر میں مل جائے، مگر ریاست اور شہری کے درمیان کھویا ہوا اعتماد کسی دفتر سے جاری نہیں ہوتا۔ اسے صرف انصاف، مساوات اور دیانت دار حکمرانی ہی واپس لا سکتی ہے۔”

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے