وطن عزیز میں فی الحال ایودھیا سے لے کرمتھرا تک مندروں میں چندہ چوری کا غلغلہ ہے۔ دیوریا میں تو شیو مندر کے پجاری چندے کے لیے آپس میں لڑ پڑے ، خوب لاٹھیاں چلیں اور معاملہ پولیس تھانے میں پہنچ گیا لیکن ان سب سے آنکھ موند کر راجستھان کی سرکار سرحدی علاقوں پر واقع مساجد کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ راجستھا ن میں عبادت گاہوں پر بلڈوزر کی کارروائی پرایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نےاپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں مقامی انتظامیہ پر جانبداری کے الزامات لگائے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق باڑمیر کے تحصیلدار نےمتعدد مساجد، مدارس اور مذہبی مقامات پر چارہ کی زمین، سرکاری زمین یا پر تجاوزات پر تعمیر کا الزام لگا کرنوٹس لگا دیا ۔اس کے علاوہ جودھ پور، باڑمیر اور جیسلمیر کےلوگوں نے بتایا کہ متعلقہ افسران نے نہ ان سے ملاقات کی اور نہ تحریری جوابات قبول کیے۔ باڑمیر میں کم از کم۶؍ مساجد کو انسداد تجاوزات اوران سرحدی حفاظتی ضابطوں کے تحت شہید کردیا گیاجو سرحد سے 50؍ کلومیٹر کے اندر کی تعمیرات پر لاگو ہوتا ہے۔ ان میں سے کئی عبادتگاہیں سرحد بننے سے قبل تعمیر شدہ ہیں ۔ یہ ہندو عوام کی توجہ چندہ چوری کی جانب سے ہٹانے کی ایک نہایت مذموم سازش ہے۔
وطن عزیز میں بی جے پی کے حامیوں اور مخالفین کی غالب اکثریت اس خوش فہمی کا شکار ہے کہ اگر یہ زعفرانی ٹولہ مسلمانوں کی چوڑی ٹائٹ کرتارہے تو ہندو سماج ان کے سارے جرائم اور کوتاہیوں کو نظر انداز کرکے انہیں ووٹ دیتا رہے گا۔ رام مندر کی چندہ چوری نے اس غلط فہمی کو دور کردیا ۔ رام مندر میں چڑھاوے کی چوری کے تنازعے کے بعد وہاں آنے والے عقیدت مندوں کی تعداد میں کوئی خاص کمی نہیں ہوئی کیونکہ ان کا پروگرام بناہوا تھا اور ریزرویشن وغیرہ کیا جاچکا تھا لیکن چندہ پیٹیوں سے جو روزانہ 8 سے 12 لاکھ روپے تک چڑھاوا نکلتا تھاوہ اب گھٹ کر ایک لاکھ روپے سے بھی کم رہ گیا ہے۔ یہ محض چندے کی کمی نہیں بلکہ مندر انتظامیہ کے تئیں اعتماد کا فقدان ہے ۔ یہ انتظامیہ سرکاری سرپرستی میں کام کرتا ہے اور اس میں چن چن کر سنگھ کے لوگوں کو بھرا گیا ہےاس لیے رام مندر میں چندہ چوری نے آر ایس ایس کی صد سالہ محنت پر پانی پھیر دیا۔ بابری مسجد کو جھوٹ کی بنیاد پر شہید کرنے والوں نے اقتدار کی خاطر جو مندر بنایا وہ چندہ چور اور بدعنوان نکلے ۔ یہ راز کھلا تو انہیں چندہ ملنا کم ہوگیا مگر کیا آگے چل کر ووٹ ملنا بھی بند ہوجائے گا اور جس دغا بازی کے راستے سے یہ اقتدار میں آئے تھے اسی سے ذلیل و رسوا ہوکر لوٹ جائیں گے۔
سنگھ پریوار کے مسلمانوں خلاف نفرت کی آڑ میں اپنے عیوب چھپانے کی کوشش کو اس وقت شدید جھٹکا لگا جب باڑمیر کے مالویہ نگر واقع نورانی مسجد انہدام کو روکنے کی خاطر ہندو طبقہ کے لوگ بھی سڑکوں پر اتر آئے۔ سوشل میڈیا پر شرپسندوں کے ذریعہ انہدامی کارروائی کے جشن سے علی الرغم باڑ میر کی ہندوآباد ی کا کہنا ہے کہ صرف مسلمانوں کی ہی مساجد کو نشانہ بنانا ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم صدیوں سے یہاں ایک ساتھ رہتے آئے ہیں اور کبھی مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہوئی،سبھی ایک دوسرے کے سکھ دکھ میں ساتھ رہے اور آج مسلمانوں پر برا وقت ہے تو ہم اس مشکل کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے ریاستی صدر نظام الدین نے بتایا کہ ہندو برادری کےساتھ آنے سے بلڈوزر کی رفتار کم ہوئی ہے لیکن سرحدی علاقے میں قریب ساڑھے تین سومساجد کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں ۔ ان کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا مندر یا گرودوارے سے ہٹ کرصرف مساجد سے خطرہ کیوں ہے؟ آزادی کے بعد سے اب تک سرحدی علاقوں میں مساجد اور مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں تھا اور اب اچانک کیسے پیدا ہوگیا؟ آپریشن کلین کے تحت صرف مساجد کا انہدام مسلمانوں کی حوصلہ شکنی کیلئے کیا جارہا ہے لیکن کیا اس مذموم حرکت وہ ہندو بہل جائیں گے جن کا چندہ چوری ہورہاہے ۔ ان چوروں کی بارات کو دیکھ کر 1996 کی فلم ’راجہ کی آئے گی بارات ‘ کامشہور نغمہ یاد آتا ہے؎
چندہ کی چوری کرکے چکوری اپنے گھر لے آئی سارے گگن میں ہلاّ ہوا ہے کیسی مصیبت آئی
گیت کے بول میں چکوری کو یوگی سے بدل کر گگن کی جگہ دنیا رکھ دیں توساری بات سمجھ میں آجا ئےگی۔ وہاں آنے والے عقیدت مند چندے کی چوری سے اس قدر غمگین ہیں کہ اب پیٹی میں ڈالنے کے بجائے آن لائن ادائیگی پر غور کررہے ہیں تاکہ رقم سیدھے بنک کے کھاتے میں جمع ہوجائے اور درمیان میں کسی بھگوادھاری کو ہیراپھیری کا موقع نہ ملے۔ چڑھاوے کی چوری کا لوگوں پرجواثر ہوا، وہ جاننے کے لیے بھاسکر کے صحافی نے رام مندر میں درشن کے لیے آنے والے شیلندر اوستھی سے بات کی تو وہ بولے کہ رام مندر کے حوالے سے عقیدت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ جن لوگوں کی عقیدت ہے، وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے یہاں درشن کے لیے آئیں گے لیکن چڑھاوے کی چوری سے سب کو دکھ ہوا ہے۔ اب وہ لوگ آن لائن چندہ دینے پر غورکررہے ہیں ۔ اس دوران دہلی سے آنے والے ایک خاندان کی بھاسکر کے ترجمان سے بات چیت عام ہندو ذہن کی عکاسی کرتی ہے۔ ایودھیا کے اندر ترون گپتا نے کہا کہ جو کچھ ہوا، اس سے غلط پیغام گیا۔عقیدت مند چندہ دینا بند کرنے کے بجائے آن لائن چندہ دیں تو بہتر ہے۔ان کے مطابق مندر کے باہر جو غریب بیٹھے ہیں، انہیں دیں یا پانی کا انتظام کروا دیجیےتو یہ بہتر رہے گا۔اس مشورے میں یہ پیغام ہے کہ ایودھیا مندر کے جعل ساز انتظامیہ سے زیادہ مستحق مندر کے دروازے پر بیٹھ بھیک مانگنے والا مسکین ہے۔
ایودھیا کے سادھو سنتوں میں بھی عام لوگوں کی مانند زبردست بے چینی ہے کیونکہ اگر عقیدتمندوں نے وہاں آنا ہی چھوڑ دیا تو ان کا کیا ہوگا؟یہی وجہ ہے کہ ہنومان گڑھی کے مہنت مہیش یوگی کہتے ہیں جو کچھ ہوا(یعنی چندہ چوری ہوئی) ، اس نے رام بھکتوں کو صدمہ پہنچایا ہے۔ ان کے دل میں شک پیدا ہوا ہے کہ جو چندہ یا قیمتی چیزیں وہ دے رہے ہیں، کیا وہ واقعی مندر کی خدمت میں استعمال ہو رہی ہیں؟ وہ چاہتے ہیں کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں۔ قصورواروں کو سزا دی جائے۔ جو چندہ آ رہا ہے اس کا صحیح استعمال ہو لیکن یوگی سرکار تفتیش کے نام پر تماشا کررہی ہے۔ عام طور پر جب کوئی جرم سرزد ہوجائے تو پہلے شکایت درج کی جاتی ہے اور پھر ایف آئی آر ہوتی ۔ اتر پردیش کے اندر اس کے بعد بلڈوزر حرکت میں آتا ہے اور تفتیش کی تکمیل سے قبل ملزم کا گھر گرادیا جاتا ہے اور انکاونٹرتک ہو جاتا ہے۔ یہ سب تو خیر بے قصورلوگوں کے ساتھ ہوتا ہے مگر جب قصوروار کو بچانا ہوتو ٹال مٹول کے ذریعہ معاملہ رفع دفع کرنے کی خاطر ایس آئی ٹی بنائی جاتی ہے۔ ایودھیا چندہ چوری کے معاملے میں بھی ایس آئی ٹی تو بن گئی مگر نہ انکاونٹر، نہ بلڈوزر بلکہ ایف آئی آر تک نہیں ہوئی ۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہ مشق مجرم سزا دینے کے لیے نہیں انہیں بچانے کے لیے کی جارہی ہے۔ اس لیے یہ چوری کا کاروبار اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ یہ لوگ ریاست اور مرکز میں برسرِ اقتدار رہیں گے۔
2024میں پارلیمانی انتخاب سے قبل رائے دہندگان کو جھانسا دینے کی خاطر آدھے ادھورے مندر کا افتتاح کردیا گیا ۔بیشترسناتنی رہنماوں نے اس کی مخالفت کی کیوں کہ وہ اس پران پرتشٹھا کو مذہبی تعلیمات کے خلاف بتایا لیکن اس کی پروا کسی کو نہیں تھی ۔ بی جے پی تو مندر دِکھا کر انتخاب جیتنا چاہتی تھی اس لیے سارے سناتنی فتووں کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔رام مندر تحریک کے بھیشم پتامہ ایل کے اڈوانی تک کو وہاں بلانے کی زحمت گوارہ نہیں کی گئی۔ اوما بھارتی جیسے لوگوں نے سرجو کے کنارے بیٹھ کر اپنا غم غلط کیا۔ اس طرح بابری مسجد کے مجرمین کو مشیت نے اس دنیا میں ذلیل رسوا کردیا ۔ رام مندر کے افتتاح کے موقع پرموہن بھاگوت ، نریندر مودی اور یوگی ادیتیہ ناتھ کے جلوے تھے جن کا 6 دسمبر 1992کے منحوس دن ایودھیا میں اتا پتا نہیں تھا۔ پران پرتشٹھا نامی افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا تھا کہ ’آج ایک ہزار سال کی غلامی سے نجات مل گئی‘۔ لوگ سوچنے لگے انگریزوں کی غلامی 200 سال تھی اور وزیر اعظم نے آزادی کے بعد والے 70 ؍سالوں کو بھی دورِغلامی سے کیوں منسوب کردیا ؟ چندہ چوری نے یہ راز فاش کردیا کہ موصوف یہ کہنا چاہتے تھے کہ اب ان لوگوں کو لوٹ مار کی مکمل آزادی مل گئی ہے جو ایک ہزار سال قبل چھن گئی تھی ۔ ایسا نہ ہوتا تو ببانگِ دہل یہ چوری نہ ہوتی ۔ اب دیکھنا ہے کہ یہ چندہ چوری اگلے یوپی انتخاب میں ووٹ چوری کو ہر اپاتی ہے یانہیں ؟ ویسے بی جے پی والوں کو چندہ چوری سے زیادہ رنج ایودھیا کے پارلیمانی انتخاب میں ناکامی کا ہے مگر بعید نہیں کہ اب وہ ریاستی الیکشن کی شکست میں بدلا جائے۔