بچوں کی تعلیم و تربیت میں والدین کا اہم اور بنیادی کردار
مسجد قبا ءمیں مولانا حافظ طاہر قاسمی کا خطاب
حیدرآباد،3جولائی( پریس نوٹ) مولانا حافظ طاہر قاسمی بانی و ناظم دارالعلوم سبیل الہدی و مدرسہ نسواں جامعۃ الہدی شاد نگر نے مسجد قبا ءمیں نماز جمعہ سے پہلے اپنے خطاب میں کہا بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت والدین کی اہم ترین ذمہ داری ہے، بچے اپنے بڑوں کو دیکھ کر سیکھتے ہیں بڑوں کے اعمال و اخلاق کے اثرات بچوں پر مرتب ہوتے ہیں ،قرآن مجید میں ایمان والوں کو حکم دیا گیا کہ وہ خود کو بھی اور اپنے اہل و عیال کو بھی دوزخ کی آگ سے بچائیں دوزخ کی آگ سے اسی وقت حفاظت ہو سکتی ہے جب ہم اپنے اہل و عیال کو ایسی تعلیم دیں اور ان کی ایسی فکری و اخلاقی تربیت کا سامان کرے جس سے وہ جہنم میں لے جانے والے عقائد و اعمال میں مبتلا نہ ہوں وہ توحید کے عقیدے اور اس کے تقاضوں پر مضبوطی سے جمے رہیں مشرکانہ افکار و افعال سے دور رہیں بڑوں کا ادب اور احترام ان کے دلوں میں ہو نبیﷺ نے فرمایا ماں باپ کا اپنی اولاد کے لیے سب سے بہترین تحفہ ان کی صحیح تعلیم و تربیت ہے ،حدیث میں یہ بھی فرمایا گیا جو بڑوں کی عزت نہ کرے اور چھوٹوں کے ساتھ نرمی اور محبت کے ساتھ پیش نہ آئے وہ ہم میں سے نہیں ہے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے سلسلہ میں نبیﷺ کی ذات گرامی ہمارے لیے بہترین نمونہ اور اسوہ ہے آں حضرت ﷺ نے اپنے پیارے اور لاڈلے نواسوں حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ کی ایسی تعلیم و تربیت فرمائی جو ہمارے لیے مشعل راہ ہے، اہل بیت کی ان عظیم ہستیوں نے اپنے پیارے نانا حضرت محمدﷺ کی اعلی تعلیم و تربیت کے نتیجے میں دین اسلام کی اشاعت اور اس کی حفاظت کے لیے اپنی زندگیوں کو قربان کر دیا ،بلند کردار اور اچھے اخلاق کی روشن مثالیں قائم کی، ایک مرتبہ ایک بڑی عمر کے شخص وضو بنا رہے تھے حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ نے دیکھا کہ انہوں نے وضو بنانے میں غلطی کی ہے اس پر ان کی بڑی عمر کا لحاظ کرتے ہوئے انھیں فورا ً ٹوکنے کی بجائے حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ نے ان سے کہا چچا جان ! ہم دونوں بھائی وضو کرتے ہیں دوران وضو میں کچھ غلطی ہو جائے تو ہمیں بتا دینا ان دونوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھنے کے بعد اس بڑی عمر والے صاحب کو وضو میں اپنی غلطی کا احساس ہوا ، اس طرح حضرت حسن ؓ اور حضرت حسینؓ نے ان کے ادب و احترام اور عزت نفس کو بھی ملحوظ رکھا اور پھر ان کی اصلاح بھی فرما دی مولانا نے کہا اس اسکول اور کالجز کا آغاز ہو چکا ہے ،ہم بچوں کو تعلیمی اداروں میں شریک کروا کر مطمئن نہ ہو جائیں بل کہ ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔