طوفان الاقصیٰ کے بعد سے جاری ساری اسرائیلی جارحیت کو ایک ہزار دن پورے ہوگئے۔ اتفاق سے اسی ہفتہ (23؍ جون 2026) کو فلسطین میں انسانی حقوق کی صورتحال جاننے کے لیے قائم کردہ اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ مذکورہ بالا کمیشن کے سربراہ(سابق) جسٹس سری نواسن مرلی دھر ہیں۔یہ وہی صاحب ہیں جنھوں نے دہلی فسادات کے دوران کپل مشرا کی دھمکی آمیز ویڈیو کو دیکھ کر دہلی پولیس سے پوچھا تھا کہ اس شخص کے خلاف ایف آئی آر کب داخل کی جائے گی ؟ اگلی صبح انہیں چنڈی گڑھ ہائی کورٹ منتقل کردیا گیا اور پھر ان کو دہلی لوٹ کر آنا نصیب نہیں ہوا یہاں تک کہ وہ اڑیسہ میں سبکدوش ہوگئے۔ اس کے برعکس جس کپل مشرا کو سزا سے بچانے کے لیے موصوف کے ساتھ یہ ناانصافی کی گئی اس کو بی جے پی کی دہلی سرکار نے وزیر قانون بنانے کا ناعاقبت اندیشہ فیصلہ کرکے بتا دیا کہ زعفرانی ٹولے کے نزدیک قانون اور انصاف کا مطلب کیا ہے؟
حکومت ہند نے جس انصاف پسند جج کی ناقدری بلکہ تعذیب کی اس کو اقوام متحدہ نے ایک اہم رپورٹ مرتب کرنے کی سربراہی کا اعزاز بخشا اور ان کے تحت کام کرنے والے کمیشن نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیلی عسکری کارروائیوں کی شدت اور منظم نوعیت بدستور جاری ہے جس کے نتیجے میں فلسطینی بچوں کے ہلاک و زخمی ہونے اور ذہنی صدمات کی سطح تاریخ کی بلند ترین حدود کو چھو رہی ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا کہ حالیہ جنگ میں بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنائے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز غزہ میں فلسطینی آبادی کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔کمیشن کے چیئرمین نے یہ دردناک انکشاف بھی کیا کہ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد بھی بچے مسلسل ہلاک اور زخمی ہو رہے ہیں نیز اسرائیل جنگ بندی اور بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی بچوں کے تحفظ سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو مسلسل نظر انداز کر رہا ہے۔ انہوں نے شواہد کی بنیاد پر برملا کہا کہ فلسطینی بچوں کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے دانستہ طور پر نشانہ بنایا اور قتل کیا۔ان کو شدید جسمانی اور ذہنی زخم، اجتماعی نفسیاتی صدمات، یتیمی، خاندانوں سے جدائی، معذوری، بار بار نقل مکانی اور بھوک کا شکار ہونا پڑا۔
اسرائیل کے چہرے پر پڑی تہذیب و ثقافت کی نقاب کو نوچ کر پھینکنے والی اس رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ان ظالموں نے نومولود بچوں کو بھی نہیں بخشا ۔ انہوں نے غزہ میں زچگی اور نومولود بچوں کی نگہداشت کے مراکز کو نشانہ بنا کرنوزائیدہ بچوں کی بقا اور فلسطینی آبادی کے تولیدی مستقبل کو براہ راست نقصان پہنچایا۔ اسرائیلی مظالم کے نتیجے میں نہ صرف اسقاط حمل کے واقعات میں اضافہ ہوا بلکہ نومولود بچوں میں پیدائشی نقائص اور طویل مدتی طبی مسائل پیدا ہوگئے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث مسلط کی جانے والی بھوک نے متعدد فلسطینی بچوں کی جان لے لی اور جوبچ گئے ان میں سے لاکھوں خوراک کی کمی، حفاظتی ٹیکوں کی محدود دستیابی، بیماریوں کے بڑھتے خطرات اورنظامِ صحت کی تباہی سے دوچار ہوگئے ۔بچوں پر مظالم محض غزہ تک محدود نہیں تھے بلکہ مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے میں یتیم خانوں اور تعلیمی اداروں کو تباہ کرکے بچوں کی ذہنی، سماجی اور جذباتی نشوونما میں رکاوٹ پیدا کی گئی تاکہ فلسطینی معاشرے کی بنیادوں کو کمزور کیا جائے۔ صہیونی مقتدرہ کی سفاکی نےتو ہلاکو اور ہٹلر کو بھی شرمندہ کردیا۔
جسٹس سری دھرن کےکمیشن نے ان اسرائیلی فوجی یونٹوں کی نشاندہی کرکے کہ جو فلسطینی بچوں کی ہلاکتوں اور تعذیب میں ملوث تھے اسرائیل اور اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک سے مبینہ جرائم کے ذمہ داروں کا محاسبہ کرنے کاپرزور مطالبہ کیا ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے میں بمباری اور گولہ باری کے بند ہو جانے پر بھی فلسطینی بچوں کی زندگی فوراً معمول پرنہیں آ سکے گی کیونکہ ان کی صحت، تعلیم اور نشوونما کا نقصان ناقابل تلافی ہےلیکن اگر جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کی سرزنش ہوجائے تو ان میں تحفظ، امید اور مستقبل کا اعتماد پیدا ہوگا۔ اسرائیلی سفاکی چونکہ بچوں کوکھیلنے، خواب دیکھنے، امید رکھنے اور اپنی شناخت تشکیل دینے کی آزادی کو متاثر کررہی ہے اس لیے کمیشن نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی بچوں کے حقوق کی تمام پامالیوں اور ان کے خلاف جرائم کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے۔
اس رپورٹ میں اسرائیل سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ عالمی عدالت انصاف کی مشاورتی رائے کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم میں اپنی موجودگی ختم کرے۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کو ٹرمپ انتظامیہ اگرسنجیدگی سے لے کر اسرائیل کی نکیل کسے تبھی اس کی عقل ٹھکانے آسکتی ہے۔ گجرات سے لے کر منی پور تک نسل کشی میں ملوث مودی سرکار پر تو اس رپورٹ کا کوئی اثر ہونا ممکن ہی نہیں تھا لیکن اس نے کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیااور انہوں نے انڈین ایکسپریس میں ایک طویل مضمون لکھ کر فلسطینی مظلومین کے تئیں اپنی تائید و حمایت کا اعلان کیا ۔ ان کے مطابق ہندوستانی قومیت کی اصل روح اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے حق میں آواز اٹھائیں، جن کے بچوں کو اسرائیل نے بے رحمی سے نشانہ بنایا ہے۔ یہ عجب اتفاق ہے وزیر اعظم مودی اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے ساتھ تو خوب ہنسی مذاق کرتے ہیں مگر اسی ملک سے آنے والی ہندوستانی بہو کی باتوں پر توجہ نہیں فرماتے۔
محترمہ سونیا گاندھی نے یاد دلایا کہ ستمبر 2025 میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی حکام ایسے اقدامات کر رہے ہیں جو نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس وقت بھی مودی حکومت کی آنکھوں پر پٹیّ باندھ رکھی تھی اور زبان پر قفل لگا ہوا تھا مگر پرینکا گاندھی نے اس کی پرزور مذمت کرکے تما م ہندوستانیوں کی جانب سے فرض کفایہ ادا کیا تھا ۔کانگریس رہنما اور رکن پارلیمان پرینکا گاندھی نے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ اسرائیل فلسطین میں نسل کشی کر رہا ہے۔انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھاتھا کہ اسرائیل نے ’60 ہزار سے زائد افراد کو قتل کیا ہے جن میں 18 ہزار چار سو 30 بچے شامل ہیں۔‘ پرینکا کے مطابق اسرائیل نے بچوں سمیت سینکڑوں افراد کوبھوکا مار دیا ہے اور لاکھوں کو بھوک سے مارنے کی دھمکی دے رہا ہے۔
پرینکا گاندھی نے اس موقع پر خاموشی اور بے عملی کے ذریعے ان جرائم کی بلواسطہ پشت پناہی کو مودی سرکار کا ایک جرم قرار دیا تھا۔ پرینکا کے الفاظ میں ’یہ شرمناک ہے کہ حکومت ِ ہند ایک ایسے وقت خاموش کھڑی ہے جب اسرائیل فلسطین کے عوام کو تباہ کر رہا ہے۔‘ مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لینے والے پرینکا گاندھی کے اس چشم کشا بیان سے بھی حکومتِ ہند نےتو آنکھیں موند لیں مگرنئی دہلی میں اسرائیل کے سفیر روون آزار اسےبرداشت نہیں کرسکے اور پرینکا کے بیان کو ’شرمناک‘ قرار دےدیا ۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کی مصداق آزار نے ایکس پر لکھا کہ ’اسرائیل نے حماس کے 25 ہزار جنگجوؤں کو مارا ہے۔ انسانی جانوں کا یہ خوفناک نقصان حماس کی گھناؤنی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے، جس میں وہ عام شہریوں کے پیچھے چھپتے ہیں، ان لوگوں پر فائرنگ کرتے ہیں جو انخلا یا امداد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور راکٹ داغتے ہیں۔‘ اسرائیلی سفیر نے جھوٹ کے تمام حدود کو پھلانگتے ہوئے لکھا تھا کہ ان کے ملک نے غزہ میں 20 لاکھ ٹن خوراک پہنچائی ’یہاں کوئی نسل کشی نہیں ہو رہی۔ حماس کے اعداد و شمار پر یقین نہ کریں۔
اسرائیلی سفیر بھول گیا کہ یہ حماس کے نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی رپورٹ ہے۔ اسرائیل کو اگر اقوام متحدہ سے اس قدر پریشانی ہے تو اس سے نکل جائے لیکن ایسا بھی نہیں کرسکتا اس لیے بادلِ نخواستہ ا س سے چپکا ہواہے۔ اسرائیلی سفیر کے جواب میں اس وقت کانگریس کے ترجمان ادتیہ گرگ نے ایکس پرلکھا تھا کہ ’تم کون ہوتے ہو غزہ میں خوراک پہنچانے والے؟ بس فلسطین اور غزہ سے دور رہو۔ دنیا بھر کے لوگ ان کا خیال رکھیں گے، تمہاری مدد کی ضرورت نہیں ہے۔‘ ایکس کی معروف صارف پنکھڑی پھاٹک نے اسرائیلی سفیر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھ دیاتھا کہ ’اب کوئی بھی آپ کے جھوٹ پر یقین نہیں کرتا۔ اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے۔ آپ بچوں کو قتل کرتے ہیں۔ آپ بے سہارا لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔ آپ انہیں اس لیے قتل کرتے ہیں کیونکہ آپ ان کی زمین چاہتے ہیں۔آپ کا نام تاریخ میں ہٹلر کے ساتھ لکھا جائے گا اور ایک دن، اس زندگی میں یا اگلی زندگی میں، آپ کو اپنے جرائم کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘ اس جواب کو دیکھ کر صہیونی سفیر کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ حکومتِ ہند کی مانند ہندوستانی عوام کا ضمیر ابھی مرا نہیں بلکہ زندہ ہے۔