اختلاف؛ مگر… احترام کی سرحدوں کے اندر
(شریعت اسلامی کی روشنی میں اختلاف کے اصول وآداب)
ازقلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
جامعہ عربیہ توپران ضلع میدک
رابط۔ 7386519795
انسانی معاشرہ افکار و اذہان کے تنوع سے تشکیل پاتا ہے، اور یہی تنوع جب اخلاق، دیانت اور علمی دیانت داری کے سانچے میں ڈھل جائے تو تہذیبوں کی تعمیر کا ذریعہ بنتا ہے، لیکن جب یہی تنوع خواہشِ نفس، تعصب، انا پرستی اور غلبۂ جذبات کی نذر ہو جائے تو امتوں کی شیرازہ بندی منتشر اور ملتوں کی وحدت پارہ پارہ ہو جاتی ہے۔ اسی حقیقت کے پیشِ نظر اسلام نے اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اس کے لیے ایسے ضابطے اور حدود مقرر کیے جن کی پابندی اختلاف کو فساد، انتشار اور باہمی عداوت میں تبدیل ہونے سے محفوظ رکھتی ہے۔ یہی اعتدال شریعتِ اسلامیہ کی وہ نمایاں خصوصیت ہے جس نے ہر دور میں امت کو فکری وسعت بھی عطا کی اور عملی وحدت بھی۔
انسانی معاشرہ افکار و نظریات کے تنوع سے عبارت ہے۔ جب سے انسان نے شعور کی آنکھ کھولی ہے، تب سے اختلاف اس کی فکری زندگی کا ایک لازمی جزو رہا ہے۔ عقلوں کا تفاوت، فہم کا اختلاف، حالات و ظروف کا تنوع، دلائل کے استنباط میں فرق اور نصوص کے فہم میں اجتہادی اختلاف، یہ سب وہ حقائق ہیں جن سے کسی دور میں مفر ممکن نہیں رہا۔ چنانچہ اختلاف کوئی حادثۂ نو نہیں بلکہ سنتِ انسانی ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اختلاف کبھی علم و حکمت کا سرچشمہ بنتا ہے اور کبھی تعصب، عداوت اور افتراق کا پیش خیمہ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام نے ایک ایسا معتدل اور متوازن منہج عطا کیا جس کی مثال دنیا کے کسی مذہبی یا فکری نظام میں نہیں ملتی۔ اسلام نے اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی، کیونکہ یہ انسانی فطرت کے خلاف تھا؛ بلکہ اس نے اختلاف کو اخلاق، دیانت، انصاف اور تقویٰ کا پابند بنا دیا، تاکہ رائے کا اختلاف دلوں کے اختلاف میں تبدیل نہ ہو، علمی تنوع امت کے شیرازے کو منتشر نہ کرے، اور اختلاف حق کی تلاش کا ذریعہ بنے نہ کہ نفوس کی تسکین اور گروہی برتری کا عنوان۔
قرآنِ مجید نے اختلاف کے وجود کو ایک طبعی حقیقت کے طور پر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ "لوگ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے، سوائے ان لوگوں کے جن پر تمہارے رب نے رحم فرمایا۔” (سورۃ ہود: 118-119) مفسرینِ کرام نے اس آیت کی تفسیر میں وضاحت فرمائی ہے کہ یہاں اختلاف کے وقوع کا بیان ہے، اس کی تحسین مقصود نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اختلاف کا پیدا ہونا انسانی فطرت کا لازمی تقاضا ہے، لیکن ہر اختلاف باعثِ رحمت نہیں ہوتا۔ رحمتِ الٰہی انہی لوگوں کے شاملِ حال ہوتی ہے جو اختلاف کو حق کی تلاش، اصلاحِ احوال اور خیر خواہی کا ذریعہ بناتے ہیں، نہ کہ اپنی انا، تعصب اور خواہشِ نفس کی تکمیل کا ذریعہ۔ چنانچہ جس اختلاف کی بنیاد اخلاص، تقویٰ اور تلاشِ حق ہو، وہ علمی ترقی اور فکری وسعت کا باعث بنتا ہے، اور جس اختلاف کی بنیاد ضد، تکبر اور عصبیت ہو، وہ امت کی کمزوری اور زوال کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔
اسی حقیقت کو قرآنِ حکیم ایک اور مقام پر مزید وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے: وَمَا اخْتَلَفُوا إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًاۢ بَيْنَهُمْ "انہوں نے اختلاف اس وقت کیا جب ان کے پاس علم آ چکا تھا، اور وہ اختلاف محض باہمی سرکشی اور ضد کی بنا پر تھا۔” (سورۃ الشوریٰ: 14) یہ آیت اختلاف کی تمام خرابیوں کی اصل جڑ کو بے نقاب کرتی ہے۔ اختلاف بذاتِ خود مذموم نہیں، بلکہ وہ اختلاف مذموم ہے جس کی بنیاد بغی ہو؛ یعنی تکبر، حسد، ضد، عصبیت، گروہی تعصب اور خواہشِ نفس۔ یہی وہ عوامل ہیں جو علمی اختلاف کو اخلاقی زوال میں بدل دیتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی علم سے زیادہ شخصیتوں کو معیار بنایا گیا، دلیل سے زیادہ جذبات کو اہمیت دی گئی اور انصاف کی جگہ تعصب نے لے لی، تو اختلاف اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن گیا۔ اسی لیے قرآنِ کریم نے علم کے ساتھ تقویٰ، اور اختلاف کے ساتھ عدل و انصاف کو لازم قرار دیا ہے۔
قرآنِ کریم نے اختلاف کے وقت مسلمانوں کو ایک اور عظیم اصول عطا فرمایا: فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ”پھر اگر کسی معاملے میں تمہارا اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو۔” (سورۃ النساء: 59) اس مختصر مگر جامع آیت میں اختلاف کا وہ ابدی علاج بیان کر دیا گیا ہے جو ہر دور اور ہر زمانے کے لیے کافی ہے۔ اسلام یہ نہیں کہتا کہ اختلاف کبھی ہوگا ہی نہیں، بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ جب اختلاف ہو تو اس کا فیصلہ خواہشات، جذبات، شخصیات، جماعتی وابستگیوں یا اکثریت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ کی روشنی میں کیا جائے۔ یہی وہ معیار ہے جو اختلاف کو افتراق بننے سے روکتا اور امت کی وحدت کو محفوظ رکھتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی حقیقت کو سمجھ لینا ضروری ہے کہ اختلاف اور افتراق ایک چیز نہیں ہیں۔ اختلاف، علمی آراء، فقہی اجتہادات اور فہم و استنباط کے تنوع کا نام ہے، جبکہ افتراق، دلوں کی دوری، نفرت، دشمنی، گروہ بندی اور امت کے شیرازے کے بکھر جانے کا نام ہے۔ اسلام نے پہلے کو ایک فطری حقیقت تسلیم کیا ہے، جبکہ دوسرے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان بے شمار اجتہادی اختلافات ہوئے، مگر ان اختلافات نے نہ ان کے دلوں میں کینہ پیدا کیا، نہ ایک دوسرے کے مقام و مرتبہ کو گھٹایا، نہ ان کی زبانیں احترام کے دائرے سے باہر نکلیں اور نہ ہی ان کی صفوں میں افتراق پیدا ہوا۔ ان کے نزدیک اختلاف کا مقصد حق تک پہنچنا تھا، نہ کہ اپنی رائے کو ہر قیمت پر غالب کرنا۔ اسی لیے ان کا اختلاف امت کے لیے رحمت، فقہ کے فروغ اور علمی وسعت کا سبب بنا، نہ کہ انتشار اور دشمنی کا۔
رسول اللہ ﷺ نے اختلاف کے آداب بیان کرنے سے پہلے دلوں کی اصلاح فرمائی، کیونکہ جب دل حسد، تکبر، بغض اور نفرت سے پاک ہوں تو اختلاف بھی خیر، رحمت اور اصلاح کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا» "آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو، بلکہ اللہ کے بندے ہو کر بھائی بھائی بن جاؤ۔” (صحیح بخاری، حدیث: 6065؛ صحیح مسلم، حدیث: 2559) غور کیجیے! رسول اللہ ﷺ نے ، حسد اور قطع تعلقی سے منع فرمایا، کیونکہ جب دل نفرت سے بھر جائیں تو دلیل کی روشنی بھی انسان کو حق تک نہیں پہنچا سکتی۔ اختلاف کا سب سے بڑا حسن یہ ہے کہ انسان اپنی رائے پر قائم رہتے ہوئے بھی اپنے بھائی کے احترام، خیرخواہی اور محبت کو باقی رکھے۔
اسی مضمون کو مزید واضح کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ، وَلَا يَخْذُلُهُ، وَلَا يَحْقِرُهُ» "مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے؛ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔” (صحیح مسلم، حدیث: 2564) درحقیقت یہی حدیث آدابِ اختلاف کی اساس اور اسلامی معاشرت کی روح ہے۔ کسی عالم، کسی مسلک، کسی جماعت یا کسی رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن کسی مسلمان کی عزت، اس کے اخلاص، اس کی نیت اور اس کی دینی خدمات کو مجروح کرنا اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔ ہمارے اسلاف کا طرزِ عمل یہی تھا کہ وہ رائے پر تنقید کرتے تھے، شخصیت پر نہیں؛ دلیل کا جواب دلیل سے دیتے تھے، جذبات سے نہیں؛ اور اختلاف کے باوجود اپنے مخالف کے علم، تقویٰ، اخلاص اور خدمات کا برملا اعتراف کرتے تھے۔ یہی علمی دیانت اور اخلاقی عظمت اسلامی تہذیب کا امتیاز ہے۔
افسوس کہ ہمارے عہد میں اختلاف کا مفہوم بڑی حد تک بدل چکا ہے۔ اب اختلاف اکثر دلیل سے پہلے الزام، تحقیق سے پہلے تعصب، خیرخواہی سے پہلے کردار کشی اور اصلاح سے پہلے گروہی عصبیت کا عنوان بن جاتا ہے۔ معمولی فقہی یا اجتہادی مسائل بھی بعض اوقات ایسی تلخیوں کو جنم دیتے ہیں جن سے دل جدا ہو جاتے ہیں، زبانیں آلودہ ہو جاتی ہیں اور امت کی اجتماعی قوت کمزور پڑ جاتی ہے۔ حالانکہ اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ اختلاف اگر ناگزیر ہو تو عدل کے ساتھ ہو، حسنِ ظن کے ساتھ ہو، علمی دیانت کے ساتھ ہو اور اس نیت سے ہو کہ حق واضح ہو جائے، نہ کہ مخالف کو مغلوب یا رسوا کر دیا جائے۔ جو اختلاف انسان کو انصاف سے دور اور تعصب کے قریب لے جائے، وہ اسلامی اختلاف نہیں بلکہ نفس کی پیروی ہے۔
اسلام کا یہی اعتدال اس کی ابدی عظمت ہے۔ اس نے نہ عقل پر پابندی لگائی، نہ اجتہاد کا دروازہ بند کیا، نہ اہلِ علم کے فکری تنوع کو جرم قرار دیا اور نہ ہر اختلاف کو گمراہی کا نام دیا؛ بلکہ اختلاف کو اخلاق، تقویٰ، عدل، دیانت اور حسنِ معاشرت کا پابند بنا کر اسے علم کی ترقی، فقہ کی وسعت، امت کی وحدت اور حق کی تلاش کا ذریعہ بنا دیا۔ یہی وہ منہج ہے جسے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے عمل سے زندہ کیا، ائمۂ مجتہدین نے اپنی علمی زندگی میں اپنایا اور بعد کے اکابرِ امت نے پوری امانت کے ساتھ محفوظ رکھا۔ انہی روشن نمونوں کا تذکرہ آئندہ قسط میں پیش کیا جائے گا، جہاں عہدِ نبوت ﷺ اور صحابۂ کرامؓ کے واقعات کی روشنی میں آدابِ اختلاف کی عملی تصویر سامنے آئے گی۔
عہدِ نبوت ﷺ؛ آدابِ اختلاف کی پہلی درسگاہ
یہ حقیقت واضح ہو چکی کہ اسلام اختلاف کو ختم کرنا نہیں چاہتا بلکہ اسے اخلاق، دیانت اور تقویٰ کا پابند بنانا چاہتا ہے۔ لیکن اس حقیقت کی اصل اہمیت اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب یہ دیکھا جائے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس تعلیم کو محض نظری اصول کے طور پر پیش نہیں فرمایا، بلکہ اپنے قول و عمل سے اسے ایک زندہ اور دائمی نمونہ بنا دیا۔ اسی لیے آدابِ اختلاف کی پہلی درسگاہ خود بارگاہِ نبوت ہے، جہاں اختلاف بھی ہوا، اجتہاد بھی ہوا، فہم کا تفاوت بھی سامنے آیا، لیکن اس اختلاف نے نہ دلوں میں کدورت پیدا کی، نہ اخوت کو متاثر کیا اور نہ ہی کسی کی نیت و دیانت کو ہدفِ تنقید بنایا۔ یہی وہ امتیاز ہے جس نے اسلامی تہذیب میں اختلاف کو افتراق کے بجائے علمی بالیدگی کا وسیلہ بنا دیا۔
اس حقیقت کی سب سے روشن مثال غزوۂ احزاب کے بعد بنو قریظہ کی طرف روانگی کا وہ مشہور واقعہ ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ کے ایک ارشاد کے فہم میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان دو اجتہادی آراء سامنے آئیں۔ ایک جماعت نے الفاظِ نبوی کے ظاہر کو ملحوظ رکھا اور دوسری نے مقصودِ نبوی کو پیشِ نظر رکھا، چنانچہ دونوں نے اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق عمل کیا۔ جب معاملہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ ﷺ نے کسی فریق کی نیت پر اعتراض فرمایا اور نہ دوسرے کی دیانت کو محلِ نظر قرار دیا۔ (صحیح بخاری، حدیث: 4119)
یہ واقعہ محض ایک تاریخی روایت نہیں بلکہ علمِ اصولِ فقہ کا ایک بنیادی ماخذ ہے۔ ائمۂ اصول نے اس سے یہ قاعدہ مستنبط کیا کہ جہاں نصوص کے فہم میں اجتہاد کی گنجائش ہو وہاں اختلافِ رائے کو معصیت یا گمراہی پر محمول نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اختلاف کا مدار اگر اخلاص، علم اور اتباعِ دلیل پر ہو تو وہ اختلاف نہیں بلکہ اجتہادی تنوع ہے۔ ایسے مواقع پر اصل مطلوب اپنی رائے کا اثبات نہیں بلکہ حق کی جستجو ہوتی ہے، اور یہی وہ معیار ہے جو اختلاف کو نزاع بننے سے محفوظ رکھتا ہے۔
اسی طرح خلافتِ صدیقی کے آغاز میں مانعینِ زکوٰۃ کے بارے میں حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کے درمیان جو اختلافِ رائے پیدا ہوا، وہ بھی اسلامی آدابِ اختلاف کا ایک درخشاں نمونہ ہے۔ دونوں حضرات نے اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق گفتگو کی، دلائل پیش کیے اور خیر خواہی کے جذبے سے اپنا موقف واضح کیا، لیکن اس اختلاف نے نہ باہمی اعتماد کو متاثر کیا، نہ احترام میں کوئی کمی آنے دی اور نہ ایک دوسرے کے مقام و مرتبہ پر کوئی حرف آیا۔ جب حضرت عمرؓ پر حضرت ابوبکرؓ کے استدلال کی قوت واضح ہوئی تو انہوں نے بلا تردد اپنی سابقہ رائے سے رجوع کر لیا۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1400؛ صحیح مسلم، حدیث: 20)
یہاں اسلامی منہج کا ایک نہایت اہم اصول سامنے آتا ہے کہ اہلِ علم کی عظمت اپنی رائے پر اصرار میں نہیں بلکہ حق واضح ہو جانے کے بعد اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دینے میں ہے۔ اسی لیے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے اختلافات نے امت کو فقہ دی، اصول دیے اور علمی ذخیرہ عطا کیا، مگر امت کی وحدت کو کبھی نقصان نہیں پہنچایا۔ ان کے نزدیک اختلاف کا مقصد غلبۂ رائے نہیں بلکہ اصابتِ حق تھا، اور یہی اخلاص ان کے اختلاف کو رحمت بنا دیتا تھا۔
عہدِ نبوت اور عہدِ صحابہ کا مطالعہ اس حقیقت کو بھی آشکار کرتا ہے کہ اسلام نے اختلاف سے پہلے اخلاق کی بنیاد مضبوط کی۔ جب دلوں میں اخلاص، زبانوں میں شائستگی اور نگاہوں میں حسنِ ظن باقی رہے تو اختلاف کبھی فساد کا سبب نہیں بنتا۔ اسی لیے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے کے اجتہاد سے اختلاف کرتے تھے، مگر ایک دوسرے کے علم، تقویٰ، عدالت اور اخلاص کے معترف بھی رہتے تھے۔ ان کے ہاں تنقید دلیل پر ہوتی تھی، شخصیت پر نہیں؛ گفتگو مسئلہ پر ہوتی تھی، نیت پر نہیں؛ اور اختلاف کے باوجود اخوت، محبت اور احترام اپنی جگہ برقرار رہتے تھے۔
یہی وہ منہج ہے جس نے اسلامی علمی روایت کو وسعت بخشی اور امت کو فکری جمود سے محفوظ رکھا۔ افسوس کہ بعد کے ادوار میں جہاں کہیں اختلاف، اخلاق سے جدا ہوا وہاں وہ افتراق، تعصب اور باہمی نزاع کا سبب بن گیا، حالانکہ اسوۂ نبوی ﷺ یہ تعلیم دیتا ہے کہ اختلاف اگر حدودِ شریعت، آدابِ اخوت اور تقاضائے انصاف کے اندر رہے تو وہ امت کے لیے رحمت اور علمی ارتقاء کا ذریعہ بنتا ہے، نہ کہ کمزوری اور انتشار کا۔ اسی روشن روایت کو بعد کے ائمہ اور اکابرِ امت، خصوصاً اکابرِ دیوبند نے بھی پوری امانت کے ساتھ زندہ رکھا، جس کا تذکرہ آئندہ قسط میں آئے گا۔
اکابرِ امت اوراختلاف کے باوجود احترام کی روایت
عہدِ نبوت ﷺ اور عہدِ صحابہؓ نے اختلاف کے جو آداب امت کو عطا کیے، بعد کے ائمہ و فقہاء اور اکابرِ امت نے انہیں نہ صرف محفوظ رکھا بلکہ اپنے طرزِ عمل سے انہیں زندہ بھی رکھا۔ اسلامی علمی تاریخ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ جہاں علم زندہ رہا وہاں اختلاف بھی رہا، لیکن اس اختلاف نے نہ باہمی احترام کو مجروح کیا، نہ اخوت کو متاثر کیا اور نہ علمی امانت کو نقصان پہنچایا۔ اسلاف کے نزدیک اختلاف کا مقصد کسی شخصیت کو زیر کرنا نہیں بلکہ حق تک رسائی حاصل کرنا تھا، اسی لیے وہ اختلاف کو عبادت کی طرح ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ برتتے تھے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی میں اس کی ایک حسین مثال حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت زید بن ثابتؓ کے تعلقات میں نظر آتی ہے۔ میراث سمیت متعدد فقہی مسائل میں دونوں حضرات کی آراء مختلف تھیں، لیکن اس اختلاف نے ان کے باہمی احترام میں کبھی رخنہ نہیں ڈالا۔ ایک موقع پر حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ کی سواری کی رکاب تھامی تو حضرت زیدؓ نے تعجب کا اظہار کیا۔ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا: "ہمیں اپنے علماء کے ساتھ یہی ادب اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔” اس پر حضرت زیدؓ سواری سے اتر آئے، حضرت ابن عباسؓ کا ہاتھ چوم کر فرمایا: "اور ہمیں اہلِ بیتِ نبوی کے ساتھ یہی احترام کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔” اس واقعہ میں امت کے لیے یہ عظیم سبق پوشیدہ ہے کہ علمی اختلاف اگر احترام کو ختم کر دے تو وہ اسلامی اختلاف نہیں رہتا۔
بعد کے ادوار میں یہی منہج ائمۂ امت کے ذریعہ منتقل ہوتا ہوا برصغیر کے اکابرِ ہند تک پہنچا۔ جنکی علمی روایت کا امتیاز یہ ہے کہ وہاں اختلاف کو کبھی دشمنی کا عنوان نہیں بنایا گیا۔ فقہی، اصولی، دعوتی اور سیاسی مسائل میں متعدد اجتہادی آراء سامنے آئیں، لیکن اکابر نے ہمیشہ دلیل، دیانت اور حسنِ ظن کا دامن تھامے رکھا۔
برصغیر کی سیاسی جدوجہد کے زمانے میں اکابر علماء ہند کے درمیان بعض سیاسی اور اجتماعی مسائل میں معروف اختلافِ رائے موجود تھا۔ آزادیِ ہند کی تحریک، سیاسی حکمتِ عملی اور بعض اجتماعی معاملات میں دونوں بزرگوں نے اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق موقف اختیار کیا، لیکن یہ اختلاف کبھی ذاتی نزاع میں تبدیل نہیں ہوا۔ دونوں ایک دوسرے کے علم، تقویٰ، اخلاص اور دینی خدمات کے معترف تھے۔ اختلاف دلیل کا تھا، دلوں کا نہیں؛ اجتہاد کا تھا، عداوت کا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے متبعین کے لیے بھی اصل پیغام یہی تھا کہ علمی اختلاف کو اخلاقی حدود سے باہر نہ لے جایا جائے۔
اسی طرح آزادیِ ہند کے دور میں اکابرِ ہند حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی اور حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہما ورحمۃ واسعۃ کے مابین سیاسی اعتبار سے رائے کا تنوع ایک تاریخی حقیقت ہے، مگر اس سے بڑھ کر تاریخی حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے باہمی احترام، خیر خواہی اور دینی اخوت کو کبھی مجروح نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے امت کو یہ سبق دیا کہ اجتماعی مسائل میں اختلافِ اجتہاد ناگزیر ہو سکتا ہے، لیکن زبان کی شائستگی، نیت کی پاکیزگی اور ایک دوسرے کے مقام کا اعتراف ہر حال میں باقی رہنا چاہیے۔ یہی وہ اخلاقی سرمایہ تھا جس نے علمی روایت کو استحکام بخشا اور اختلاف کو انتشار بننے سے محفوظ رکھا۔
افسوس! صد افسوس! آج امتِ مسلمہ کا بڑا المیہ یہ نہیں کہ اختلافات بڑھ گئے ہیں، بلکہ اصل سانحہ یہ ہے کہ اختلاف کے آداب رخصت ہو گئے ہیں۔ اختلاف تو پہلے بھی تھے، مگر دل ایک تھے؛ آج نعرے ایک ہیں مگر دل بکھر گئے ہیں۔ پہلے حق کی تلاش مقصد ہوتی تھی، آج اپنی جماعت کی فتح مقصد بن گئی ہے۔ پہلے دلیل کو سنا جاتا تھا، آج شخصیت کو دیکھا جاتا ہے۔ پہلے مسئلہ زیرِ بحث آتا تھا، آج جماعت تنظیم اور شخصیت عدالت میں کھڑی کر دی جاتی ہے۔ پہلے زبان پر "الحق أحق أن يتبع” ہوتا تھا، آج دل میں "میری جماعت ہی حق ہے” کا غیر محسوس احساس بیٹھ چکا ہے۔
کتنا دردناک منظر ہے کہ ہر تنظیم کا اپنی مخالف تنظیم کو گویا اپنا جانی دشمن سمجھنے لگا ہے، اور امت کی پستی، انتشار، بے برکتی اور زوال کا سارا ملبہ اپنے سوا تمام دینی جماعتوں، اداروں اور تحریکوں پر ڈال دینا اپنا دینی فریضہ سمجھ بیٹھا ہے۔ ہر طرف ایک خاموش زبان یہ اعلان کرتی محسوس ہوتی ہے کہ: میں ہی حق پر ہوں، میری ہی جماعت صحیح ہے، میری ہی محنت مقبول ہے، میرا ہی ادارہ دین کی حقیقی خدمت کر رہا ہے، باقی سب یا تو غلط راستے پر ہیں یا ان کی خدمات کی کوئی وقعت نہیں۔ افسوس! جب انسان اپنی جماعت کو دین سمجھنے لگے تو پھر دین کہیں پیچھے رہ جاتا ہے اور جماعت آگے آ جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اخلاص دم توڑ دیتا ہے اور نفس دینداری کا لباس پہن لیتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ دل چیر دینے والی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی جماعت کی کمزوریوں پر دبیز پردے ڈالنے کے لیے تاویلات کے انبار کھڑے کر دیتا ہے، اپنی سستی کو حکمت، اپنی غفلت کو مصلحت اور اپنی لغزش کو اجتہاد کا نام دے دیتا ہے، مگر دوسرے کی مجبوری بھی اسے جرم دکھائی دیتی ہے۔ دوسروں کی دہائیوں پر محیط دعوتی، اصلاحی، علمی اور دینی خدمات کو ایک لمحے میں فراموش کر دیا جاتا ہے، اور اگر کہیں کوئی ایک لغزش، ایک کوتاہی یا ایک خطا مل جائے تو اسی کو اس طرح اچھالا جاتا ہے کہ گویا اس شخص یا ادارے کی پوری زندگی میں خیر کا کوئی پہلو تھا ہی نہیں۔ انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ خوبیوں کو نمایاں کیا جاتا اور کمزوریوں پر پردہ ڈال کر اصلاح کی فکر کی جاتی، مگر آج معاملہ اس کے برعکس ہو گیا ہے؛ برائیاں تلاش کی جاتی ہیں، خوبیاں چھپائی جاتی ہیں، اور اگر خوبی اتنی واضح ہو کہ چھپ نہ سکے تو اس کی نیت پر شبہ کر دیا جاتا ہے۔
ذرا سوچئے! اگر ہم اپنی راتوں کی عبادتوں، اپنی آنکھوں کے آنسوؤں، اپنی تبلیغ، اپنی تدریس، اپنی تصنیف اور اپنی دینی خدمات کے ساتھ ساتھ کسی مسلمان کی عزت بھی تار تار کرتے رہے، اس کی غیبت بھی کرتے رہے، اس کی تحقیر بھی کرتے رہے اور اس کے خلاف دلوں میں آگ بھی بھڑکاتے رہے، تو قیامت کے دن ہمارے پاس کیا بچے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے مفلس کی جو تصویر کھینچی ہے، کیا ہمیں اس میں اپنا عکس نظر نہیں آتا؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم نیکیوں کے انبار لے کر اللہ کے حضور حاضر ہوں، مگر ایک ایک کر کے وہ تمام نیکیاں انہی لوگوں کے نامۂ اعمال میں منتقل ہوتی جائیں جن کی عزت ہم نے مجروح کی، جن کے خلاف ہم نے زبان چلائی، جنہیں ہم نے بدنام کیا اور جن کے دل ہم نے توڑے۔ اس سے بڑی محرومی اور کون سی ہوگی کہ انسان اپنے ہاتھوں اپنی دنیا بھی اجاڑ لی اور اپنی آخرت بھی برباد کر دی
ہمارے اکابر کا منہج اس کے بالکل برعکس تھا۔ اختلاف ختم نہ بھی ہوتا تو دل جدا نہیں ہوتے تھے، مجلسیں باقی رہتی تھیں، سلام باقی رہتا تھا، دعا باقی رہتی تھی، محبت باقی رہتی تھی، اور خیر خواہی کبھی ختم نہیں ہوتی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ حق کسی ایک شخصیت، ایک جماعت یا ایک ادارے کی جاگیر نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ اس لیے جب دلیل واضح ہو جاتی تو رجوع کرنے میں اپنی توہین نہیں بلکہ اپنی عزت محسوس کرتے تھے، اپنی شکست نہیں بلکہ اپنے نفس کی شکست اور حق کی فتح سمجھتے تھے، اور اسی کو اپنی نجاتِ آخرت کا سرمایہ قرار دیتے تھے۔
لیکن آج بعض جگہوں پر اختلاف کا انجام غیبت کی مجلسوں، تہمت کے بازاروں، کردار کشی کی مہمات، رسوا کرنے کی منصوبہ بندی، ذاتی زندگی میں مداخلت، خاندانوں میں دراڑیں ڈالنے، دوستوں کو دشمن بنانے اور نفرتوں کی فصل اگانے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ایک معمولی اختلاف بعض اوقات نسلوں کی دشمنی میں بدل جاتا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ جس دین نے ٹوٹے ہوئے دل جوڑے، ہم اسی دین کے نام پر دل توڑنے لگے؛ جس نبی ﷺ نے دشمنوں کو گلے لگایا، ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں؛ جس شریعت نے اخوت کو ایمان کی علامت قرار دیا، ہم اسی اخوت کو اپنی زبانوں اور رویّوں سے زخمی کر رہے ہیں۔
خدارا! اختلاف کو دشمنی نہ بنائیے، تنقید کو انتقام نہ بنائیے، اور جماعتی وابستگی کو حق و باطل کا معیار نہ بنائیے۔ یاد رکھیے، جس دن ہم نے کسی مسلمان کا دل توڑا، اس دن شاید ہم نے ایک ایسی عبادت کھو دی جس کا بدل عمر بھر کی نفلی عبادتیں بھی نہ بن سکیں۔ امت کو آج نئے محاذ نہیں، نئے دل چاہییں؛ نئے جھگڑے نہیں، نئی اخوت چاہیے؛ نئی تقسیم نہیں، وہی پرانی نبوی محبت چاہیے جس نے بکھرے ہوئے انسانوں کو ایک امت بنا دیا تھا۔
بہرحال
حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے اختلاف کی اجازت دی ہے، تکبر کی نہیں؛ اجتہاد کی اجازت دی ہے، تحقیر کی نہیں؛ تنقید کی اجازت دی ہے، تذلیل کی نہیں۔ صحابۂ کرامؓ سے لے کر اکابرِ علمائے ہند تک یہی روشن روایت چلی آ رہی ہے کہ اختلاف اگر ادب، دیانت اور اخلاص کے دائرے میں رہے تو وہ امت کے لیے رحمت، علمی وسعت اور فکری پختگی کا باعث بنتا ہے، اور اگر اس سے یہ اوصاف رخصت ہو جائیں تو پھر وہ اختلاف نہیں، امت کے لیے آزمائش بن جاتا ہے۔
خلاصۂ کلام
اختلاف انسانی فطرت کا ایک ناگزیر تقاضا ہے، لیکن اختلاف کو اخلاق، عدل اور اخوت کا پابند بنانا شریعتِ اسلامیہ کا امتیاز ہے۔ قرآنِ کریم نے اس کی حدود متعین کیں، رسول اللہ ﷺ نے اپنے اسوۂ مبارک سے اس کا عملی نمونہ پیش فرمایا، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے اپنے کردار سے زندہ رکھا، اور ائمۂ امت و اکابر نے اپنی علمی و عملی زندگی سے یہ ثابت کر دیا کہ اختلاف اگر اخلاص، انصاف اور طلبِ حق کے ساتھ ہو تو وہ امت کی علمی وسعت اور فکری پختگی کا سبب بنتا ہے، نہ کہ انتشار اور عداوت کا۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ اختلاف ختم کر دیا جائے، بلکہ اس بات کی ہے کہ اختلاف کو دوبارہ اس کے شرعی آداب کے تابع کر دیا جائے۔ اگر ہم اپنی جماعت سے پہلے امت کو، اپنی رائے سے پہلے حق کو، اور اپنی انا سے پہلے اخوت کو اہمیت دینا سیکھ لیں، دوسروں کی خدمات کا اعتراف کریں، اپنی کمزوریوں کا محاسبہ کریں اور اختلاف کو دشمنی کا عنوان بنانے کے بجائے اصلاح اور خیر خواہی کا ذریعہ بنائیں، تو بہت سے فتنوں کے دروازے خود بخود بند ہو جائیں گے۔
امت کی عزت اس میں نہیں کہ سب کی آراء ایک ہو جائیں، بلکہ اس میں ہے کہ اختلاف کے باوجود دل ایک رہیں، زبانیں پاک رہیں، تعلقات محفوظ رہیں اور احترام باقی رہے۔ یہی قرآن و سنت کا پیغام، یہی اسلافِ امت کا منہج اور یہی اکابر کی روشن میراث ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اختلاف میں انصاف، تنقید میں اعتدال، تعلقات میں محبت اور ہر حال میں حق کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔