شمع فروزاں
ازقلم:مولانا خالد سیف الله رحمانی
2026.07.03
آپ ﷺ نے عمومی طور پر اہل بیت کی جو فضیلت بیان فرمائی ہے ، اس کے بعد کسی صاحب ایمان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اہل بیت کی ناقدری کرے ، یا ان کی شان میں بدگوئی کرے ، حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے مکہ ومدینہ کے درمیان مقام خُم میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! میں تمہارے درمیان دو بہت ہی وزنی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ، ایک : کتاب اللہ ، جس میں ہدایت اور روشنی ہے ؛ لہٰذا تم کتاب اللہ کو پکڑو اور اسے مضبوطی سے تھامے رہو ، دوسرے : میرے اہل بیت ، پھر آپ نے تین بار فرمایا : میں تم کو اہل بیت کے سلسلے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں ، (مسلم عن زید بن ارقم: ۲۴۰۸) حج کے کثیر مجمع میں یوم عرفہ کو بھی آپ ﷺ نے اپنی اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! میں تم لوگوں کے درمیان دو ایسی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوںکہ اگر ان کو پکڑے رہے تو گمراہ نہ ہوگے ، ایک : کتاب اللہ ، دوسرے : میرا خاندان یا میرے اہل بیت ۔ (ترمذی عن جابر بن عبداللہ: ۳۷۶۶)
علماء اہل سنت والجماعۃ نے ہمیشہ اہل بیت کو اپنی آنکھوں کا نور بنایا، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو خلیفۂ راشد کہا ، اور حضرت امیر معاویہ ؓ کے بارے میں یہ نقطۂ نظر رکھا کہ حضرت علیؓ کے مقابلہ وہ خطا پر تھے ؛ البتہ یہ اجتہادی خطاء تھی ، اور اجتہادی خطاء قابل گرفت نہیں ہوتی ، اوراس کی بناء پر طعن نہیں کیا جا سکتا ، اسی طرح حضرت معاویہؓ کی طرف سے یزید کی جانشینی بھی ان کی ایک اجتہادی خطاء تھی ، جہاں تک یزید کی بات ہے تو اُمت کے کسی معتبر عالم نے اس کی بادشاہت کو برحق قرار دینے کی کوشش نہیں کی ؛ بلکہ سلف صالحین کی ایک جماعت یزید پر لعنت کو جائز قرار دیتی ہے ، امام احمد ؒؒ کا بھی ایک قول یہی ہے ، اور بعض نے سکوت اختیار کیا ہے ، پورے اُموی اور عباسی دور میں جب بھی شاہان مملکت کا اہل بیت سے ٹکراؤ ہوا تو اس زمانے کے علماء ربانیین کی تائید اہل بیت کے ساتھ رہی ، جس کی ایک مثال خود امام ابو حنیفہؒ ہیں ۔
اگرچہ واقعۂ کربلا کے بعد اہل بیت نے مادی اقتدار سے اپنا رشتہ توڑ لیاتھا ؛ لیکن روحانی اقتدار ہمیشہ ان ہی کا قائم رہا اور انھوں نے لوگوں کے دلوں پر حکومت کی ، اس سلسلہ میں ایک دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ ہشام ابن عبدالملک نے اپنے والد کے زمانۂ اقتدار میں بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور حجر اسود تک پہنچنے کی بہت کوشش کی ؛ لیکن اژدہام کی وجہ سے پہنچ نہیں پایا ؛ چنانچہ اس کے لئے کرسی رکھ دی گئی ، وہ اس پر بیٹھ گیا اور لوگوں کو دیکھنے لگا ، اس کے ساتھ شام کی کچھ اہم شخصیتیں بھی تھیں ، اتنے میں حضرت حسینؓ کے صاحبزادے امام زین العابدینؒ تشریف لائے ، انھوں نے بیت اللہ کا طواف کیا ، جب وہ حجر اسود تک پہنچے تو پورا مجمع چھٹ گیا ، انھوں نے بآسانی حجر اسود کا بوسہ لیا ، ان کی یہ شان دیکھ کر اہل شام نے ہشام سے پوچھا : یہ کون شخص ہے ، جس کا لوگوں پر اس قدر رعب ہے ؟ ہشام کو اندیشہ تھا کہ اگر سچ کہا جائے تو کہیں اہل شام امام زین العابدینؒ کی طرف راغب نہ ہو جائیں ، تو اس نے جھوٹ کہا : میں اِن کو نہیں پہچانتا ، مشہور شاعر فرزدق وہاں موجود تھے ، اُن سے رہا نہیں گیا اور انھوں نے اس موقع پر امام زین العابدینؒ کی تعریف میں ایک مبسوط قصیدہ کہا ، جس میں انھوں نے کہا: ’’یہ وہ شخص ہے ، جس کو مکہ کا ذرہ ذرہ جانتا ہے، جس کو بیت اللہ ، حِل اور حرم پہنچانتا ہے ، یہ اللہ کے تمام بندوں میں سب سے بہتر شخص کی اولاد ہے ، یہ صاحب تقویٰ ، پاک باز اور سردارِ قوم ہے ، یہ حضرت فاطمہؓ کی اولاد ہے ، اور اگر تم ناواقف ہو تو جان لو کہ اسی کے نانا پر سلسلۂ نبوت تمام ہوا ، اور اس کے کیا کہنے ! کہ اس کو تو عرب وعجم جانتا ہے ‘‘ ہشام کو یہ اظہار حقیقت پسند نہیں آیا ، اور اس نے فرزدق کی گرفتاری کا حکم جاری کردیا ، (دیوان فرزدق: ۵۱۱-۵۱۲، حرف میم) یہ ایک مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بیت کی کیسی محبت مسلمانوں میں ڈال دی ہے ، شاید اسی کا اثر ہے کہ آج تک سلوک و احسان اور اصلاح و تربیت کے سلاسل زیادہ تر مشائخ سادات کے ساتھ مربوط رہے ہیں ۔
اہل سنت والجماعت کے بارے میں کچھ اس طرح کا پروپیگنڈہ کیا گیا ہے کہ گویا وہ صحابہؓ کو تو مانتے ہیں ، اہل بیت کو نہیں مانتے ، یہ بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے ، خلفاء راشدین کے بعد علماء اہل سنت کی کتابوں میں سب سے زیادہ ذکرِ خیر اہل بیت ہی کا ہوتا ہے ؛ کیوں کہ عام صحابہؓ کے مقابلہ ان کو آپ ﷺ سے قرابت کی ایک خصوصی نسبت حاصل ہے ، صحیح نقطۂ نظر یہ ہے کہ تمام صحابہ لائق احترام اور لائق تعظیم ہیں ، نہ یہ درست ہے کہ کسی صحابیؓ کی شان میں گستاخی اور بدگوئی کی جائے ، اور نہ یہ درست ہے کہ اہل بیت کے ساتھ ناانصافی ہو ، یہاں تک کہ حضرت حسینؓ کے مقابلہ یزید کو برحق ثابت کیا جائے، اور بنو اُمیہ کے مظالم اور جور وجفا کی تاویلیں کی جائیں ، یہ فکر ناصبیوںکی ہے ، اور مختلف ادوار میں بعض مصنفین اس گمراہ کن فکر کے مبلغ رہے ہیں ، موجودہ دُور میں بھی بعض حضرات یزید کا’’ رضی اللہ عنہ‘‘ اور’’ رحمتہ اللہ علیہ‘‘ سے ذکر کرتے ہیں ، یہ بلا شبہ اہل بیت سے بغض کا مظہر ہے ، حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ جو خود بنو اُمیہ میں سے ہیں اور جن کو خلیفہ راشد کہا جاتا ہے ، ان کی مجلس میں ایک شخص نے یزید کو امیر المؤمنین کہا تو وہ اس درجہ ناراض ہوئے کہ اس کو بیس کوڑے لگوائے : قال أمیر المؤمنین یزید فأمر بہ فضرب عشرین سوطا (سیر اعلام النبلاء:۴؍۴۱) یزید کی سفاکیوں کا اندازہ اورتو اور خود اس کے بیٹے کو بھی تھا کہ جب اسے یزید کا جانشیں بننے کو کہا گیا تو اس نے اپنے والد کی حرکتوں کی وجہ سے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ، (الصواعق المحرقہ:۱۳۴) حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فتنہ وفساد کے اندیشے سے حضرت عبدا للہ بن زبیرؓ کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی تھی اور اس میں سکوت اختیار کیا تھا ، اس سے یزید کو غلط فہمی ہوئی کہ وہ اس سے محبت رکھتے ہیں ، اس پس منظر میں اُس نے حضرت عبدا للہ بن عباسؓکو خط لکھا ، اس کے جواب میں حضرت عبدا للہ بن عباسؓ نے تفصیلی خط لکھا ، اس میں اس کی برائیاں گنوائیں ، اور کہا کہ’’ تو حضرت حسین اور عبدالمطلب کے ان نوجوانوں کا قاتل ہے ، جو ہدایت کے چراغ تھے ، تم سے کیسے مجھے کوئی ہمدردی ہو سکتی ہے ؟‘‘ (الکامل لابن ا ثیر :۳؍۴۶۶)
مشہور شافعی فقیہ عماد الدین کیا ہراسی نے یزید کے بارے میں لکھا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ اور امام احمدؒ سے دونوں طرح کا قول منقول ہے ، ایک یہ کہ یزید پر لعنت کی جا سکتی ہے ، اور دوسرے یہ کہ سکوت اختیار کیا جائے ؛ لیکن میرا ایک ہی قول ہے اور وہ یہ کہ اس پر لعنت کی جا سکتی ہے ، (وفیات الاعیان :۳؍۲۸۸) علامہ ابن جوزیؒ جیسے محدث وفقیہ نے اس موضوع پر مستقل کتاب ’’الرد علی المتعصب العنید المانع من ذم یزید‘‘ لکھی ہے ، جس میں انھوں نے یزید کی مذمت اور اس پر لعنت کو جائز قرار دیا ہے ، اس کا جرم صرف قتل حسینؓ ہی نہیں ہے؛ بلکہ حرمین شریفین کی بے حرمتی بھی ہے، جس نے تین دنوں کے لئے مدینہ میں قتل عام اور عصمت ریزی کی کھلی اجازت دے دی ، (فتاویٰ ابن تیمیہ: ۳؍۴۵۲) علامہ ذہبی جیسے محدث اور ناقد رجال نے خوب لکھا ہے کہ اس شخص نے اپنی حکومت کا آغاز حضرت حسینؓ کی شہادت سے کیا اور جب یہ مرا تو اس وقت اس کی فوج مکہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھی ، وہ شراب بھی پیتا تھا ، اور بُرے کام بھی کیا کرتا تھا :
یتناول المسکر ویفعل المنکر افتتح دولتہ بمقتل الشھید الحسین واختتمھا بواقعۃ الحرّۃ ۔ (سیر اعلام النبلاء: ۴؍۳۸)
مشہور مؤرخ ابن عماد حنبلی نے لکھا ہے کہ اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ حضرت علیؓ اپنے مخالفین سے لڑنے میں حق پر تھے اور اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ حضرت حسین ؓکا یزید کے خلاف نکلنا اور حضرت عبداللہ بن زبیرؓ اور اہل حرمین کا بنو اُمیہ کے خلاف علم بغاوت اُٹھانا بہتر اور درست تھا ، (شذرات الذہب ۱؍۲۷۶) مشہور مفسر علامہ آلوسی نے یزید کے بارے میں یہاں تک لکھا ہے کہ ’’میرا گمان ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایمان نہیں رکھتا تھا ، اورجو حرکتیں اس نے آپ ﷺ کی اولاد اطہار اور حرم الٰہی اور حرم نبوی کے رہنے والوں کے ساتھ کی ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا قرآن پر بھی ایمان نہیں تھا ، اور اگر اس خبیث کو مسلمان تسلیم بھی کر لیا جائے تو اس نے اتنے کبائر اپنے اندر جمع کر لئے تھے کہ اسے بیان نہیں کیا جا سکتا، اور میری رائے تو یہی ہے کہ ایسے شخص پر بالتعیین لعنت کی جا سکتی ہے : وأنا أذھب الیٰ جواز لعن مثلہ علی التعیین (تفسیر روح المعانی : ۲۶؍۷۳) حضرت مجدد الف ثانیؒ یزید کے بارے میں فرماتے ہیں : ’’یزید بدبخت ، صحابی نہیں ہے ، اور اس کے بدبخت ہونے میں کوئی کلام نہیں ، اس بدبخت نے ایسے کام کئے ، جو فرنگی کافروں نے بھی نہیں کئے ‘‘ ۔(مکتوبات ربانی، دفتر اول، ص: ۱۳۳، مطبوعہ ترکی)
مشہور مفسر قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتیؒ نے یزید کو دین محمد ی کا منکر قرار دیا ہے ، (تفسیر مظہری اردو: ۳۶۰۳۸) مولانا عبدالحئی صاحب فرنگی محلیؒ یزید کے بارے مین فرماتے ہیں : ’’یزید کے متعلق اسلم ترین مسلک یہ ہے کہ اس بدبخت کو مغفرت اور رحمتہ اللہ علیہ کے کلمات سے ہرگز یاد نہ کرے اور نہ ہی لعنت سے اپنی زبان کو آلودہ کرے ‘‘(فتاویٰ عبدالحئی:۳؍۸-۹)یہاں تک کہ مشہور مؤرخ مسعودی نے یزید کے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فرعون سے بھی بدتر تھا : ’’ بل کان فرعون أعدل منہ فی رعیتہ وأنصف منہ لخاصتہ وعامتہ ‘‘۔ (مروج الذہب : ۳؍۸۲)
جو سلف صالحین یزید اور اس کے گروہ پر لعنت کے قائل تھے ، ان کے پیش نظر یہ حدیث تھی کہ آپ ﷺ نے فرمایا : جو ظلم کرتے ہوئے اہل مدینہ کو ڈرائے اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، نہ اس سے کوئی نفل قول کیا جائے گا اور نہ فرض ، (مصنف ابن ابی شیبہ ، عن جابر بن عبداللہ: ۳۲۴۲۷) اوریزید کی ہدایت کے مطابق اس کے گورنر مسلم بن عقبہ نے اہل مدینہ پر جو ظلم کیا ، تاریخ میں مدینہ کی بے حرمتی اور پامالی کا پھر کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا ، علامہ زرقانیؒ نے مؤطا امام مالک کی شرح میں لکھا ہے کہ: ’’ اس نے تین دن مدینہ میں قتل وغارت گری اور عصمت ریزی کی کھلی اجازت دے دی تھی، یہاں تک کہ دس ہزار عورتیں اوربچے قتل کر دیے گئے ، ایک ہزار سے زیادہ کنواری لڑکیاں حاملہ ہو گئیں ، اور سات سو قراء شہید کر دیئے گئے ، پھر جبراً ان سے یہ کہہ کر بیعت لی کہ تم سب کے سب یزید کے غلام ہو، اگر وہ چاہے تو آزاد کر دے ، چاہے تو قتل کر دے‘‘ (شرح زرقانی علی مؤطامام مالک: ۳؍۱۱۸) اس ظلم وجور کا ذکر اکثر مؤرخین اسلام جیسے علامہ ابن کثیرؒ ، علامہ سیوطیؒ، حافظ ابن حجرؒ، حافظ ذہبیؒ اور علامہ ابن تیمیہؒ وغیرہ نے کیا ہے، ظاہر ہے کہ اہل مدینہ کو ڈرانے اور خوف زدہ کرنے کا اس سے بڑھ کر کیا واقعہ ہو سکتا ہے، جس کے مرتکب پر حضور ﷺ نے لعنت فرمائی ہے؟
ایک موقعہ پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قریش کے نو عمر لڑکوں کے ہاتھوں میری اُمت کی ہلاکت ہوگی : ھلاک أمتی علی یدي غلمۃ من قریش (بخاری ، حدیث نمبر: ۳۶۰۵) حضرت ابو ہریرہؓ یزید کو اس کا مصداق سمجھتے تھے ، وہ کہتے تھے : ’’ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اٹھویں سال کے آغاز اوربچوں کے امیر بننے سے : ’’أعوذ باللّٰه من رأس الستین وامارۃ الصبیان‘‘اس سے ان کا اشارہ یزید کی حکمرانی کی طرف تھا ، (فتح الباری : ۱؍۱۲۶، نیز دیکھئے : عمدۃ القاری:۲؍۱۸۵) حضرت ابو ہریرہؓ اس ہلاکت کی تشریح اس طرح کرتے تھے کہ اگر ان ظالموں کی اطاعت قبول کی جائے تو لوگ دین کے اعتبار سے ہلاک ہو جائیں گے ، اور اطاعت نہ کی جائے تو دنیا کے اعتبار سے حکمراں انھیں ہلاک کر دیں گے ۔ (ارشاد الساری: ۱۰؍۱۷۰)
غرض کہ نہ یہ درست ہے کہ کسی صحابی یا خلفاء ثلاثہ اور اُمہات المؤمنین پر سب وشتم کیا جائے یا حضرت معاویہؓ اور حضرت عمروبن عاص ؓ کی تنقیـص کی جائے ، اور نہ یہ درست ہے کہ اہل بیت کی عظمت دل سے نکل جائے ، حضرت حسینؓ اور ان کے رفقاء کو باغی قرار دیا جائے اوریزید اور اس کے ساتھیوں کی طرف سے دفاع کیا جائے ، یہاں تک کہ اہل بیت اور صحابہ کے اس قاتل اور حرمین شریفین کے اس غارت گر کو ’’ رضی اللہ عنہ اور رحمتہ اللہ علیہ ‘‘ کے القاب سے یاد کیا جائے ، ایسے لوگ اہل سنت نہیں ہیں ؛ بلکہ ناصبی ہیں ، اور اُمت کو توہین صحابہ اورتوہین اہل بیت دونوں ہی فتنوں سے چوکنا رہنا چاہئے کہ یہی عدل اور اعتدال کا راستہ ہے ۔