مغربی بنگال میں کیا ہورہا ہے؟
یہ سیاست ہے یا ذلالت ؟
ازقلم:عبدالعزیز
سیاست کے بارے میں عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ایک گندہ کھیل (Dirty Game) ہے۔ اس میں غلط، گندے اور بدعنوان لوگ ہی زیادہ تر حصہ لے رہے ہیں۔ روز بروز ایسے لوگوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ سیاست ایک قسم کی تجارت بھی ہوگئی ہے۔ بہت سے لوگ کمانے کی غرض سے اس میں شریک ہوتے ہیں۔ دیکھتے دیکھتے لکھ پتی، کروڑ پتی، ارب پتی تک بن جاتے ہیں۔
2014ء سے پہلے بھی سیاست میں گندے لوگ حصہ لیتے تھے مگر اچھے لوگوں کی کمی نہیں تھی۔ 2014ء کے بعد جب سے نریندر مودی اقتدار میں آئے ہیں ہر قسم کی گندگی ہندستان میں بڑھتی چلی جارہی ہے۔ اچھے لوگ ایسی حالت میں سیاست میں حصہ لینے کے لئے سو بار سوچتے ہیں۔ مودی اور شاہ جو کچھ کر رہے ہیں 2014ء سے پہلے اس کا تصور بھی لوگ مشکل سے کرسکتے تھے۔ پارٹیوں کو توڑنا لالچ اور ڈر دکھاکر اپنی پارٹی میں دوسری پارٹیوں کے لوگوں کو شامل کرلینا اب بی جے پی کے لوگوں کا محبوب مشغلہ بن گیا ہے۔ کل تک جسے وہ چور، ڈکیت اور بدعنوان کہتے تھے آج اپنی پارٹی میں شامل کرکے اور اپنی واشنگ مشین میں صاف ستھرا کرکے اس کی پاکیزگی اور دیانت داری کی گواہی دیتے ہیں۔ ایسی ایک دو مثال نہیں ہے بلکہ سیکڑوں مثالیں ہیں۔ بی جے پی جرائم پیشہ افراد، بدکار اور شرپسندوں کی آماجگاہ بن چکی ہے۔ ان کے چھوٹے بڑے لیڈر دستور، جمہوریت ، اخلاق مندی، بھائی چارہ جیسی چیزوں پر یقین نہیں رکھتے۔ ہر وہ کام کرتے ہیں جس سے ان کی پستی، ذلالت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ بدکاروں کو سزا دلانے کے بجائے ان کی رہائی پر خوش ہوتے ہیں اور انھیں پھول کی مالائیں پہناتے ہیں۔ ان کو اپنی ذلت، رذالت اور رسوائی سے کوئی ڈر اور خوف نہیں ہوتا۔ سچ کہا گیا ہے کہ ’’بے حیا باش ہر چہ خواہی کن‘‘ (بے حیا ہوجاؤ اور جی میں جو آؤ کرو)۔ رام مندر میں چندے اور چڑھاوے کی جو ڈکیتی ہوئی وہ سنگھ پریوار کی پہچان کے لئے کافی ہے۔
جس جس ریاست میں بی جے پی کی حکومت ہے وہاں وہاں سیاست کی پستی کا نظارہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ مغربی بنگال میں ریاستی الیکشن سے پہلے الیکشن کے دوران جو کچھ ہوا اس پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے اور لکھا جاتا رہے گا مگر اس وقت بی جے پی کے کارکن یا لیڈر جس طرح اپنے حریف اور مخالف پر حملے کر رہے ہیں وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔
مسلمانوں کے خلاف بی جے پی لیڈروں کی بیان بازی تو ان کا پیشہ بن چکا ہے۔ اس کے بغیر تو وہ زندہ بھی نہیں رہ سکتے، سیاست بھی نہیں کرسکتے اور اپنی دنیاوی ترقی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس وقت اپنے سیاسی حریف ترنمول کانگریس کے لیڈروں پر جس طرح کے حملے کر رہے ہیں وہ رذالت اور ذلالت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس میں ان کی بزدلی بھی دکھائی دیتی ہے اور پستی کا حد سے گزرنا بھی نظر آرہی ہے۔
الیکشن میں جیسے تیسے جیتنے کے بعد ترنمول کانگریس کے سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کارکنوں کی گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ یہ بھی سراسر بزدلی کی نشانی ہے۔ ترنمول کانگریس کے دوسرے نمبر کے لیڈر ابھیشیک بنرجی ایم پی پر جان لیوا حملہ ہوا۔ کچھ دنوں کے بعد مشہور وکیل اور ایم پی کلیان بنرجی پر بھی حملہ ہوا۔ گزشتہ روز مہوا موئترا جب اپنے حلقۂ انتخاب کے ایک مقام پر اپنے کارکنوں کے ساتھ میٹنگ کر رہی تھیں تو بی جے پی کے کارکنوں نے ان پر انڈے اور پتھر پھینک کر ایک طرح سے محصور کرلیا تھا۔ وہ اس وقت ایک عمارت کی تیسری منزل پر تھیں ، کھڑکی سے بی جے پی کے کارکنوں کی شرپسندی کو اپنے کیمرے میں قید کرکے سارے ہندستان کو دکھا رہی تھیں۔ دنیا بھر کی میڈیا اور ٹی وی چینل اس کی منظر کشی کر رہے تھے۔ مہوا موئترا کو بی جے پی نے لوک سبھا کے اندر بھی ستانے میں کوئی کمی نہیں کی، یہاں تک کہ لوک سبھا کے گزشتہ میقات میں ان کو غلط سلط الزام لگاکر رکنیت سے محروم کر دیا تھا۔ اس کے باوجود مہوا موئترا کی ہمت اور استقلال ایسا تھا کہ وہ بی جے پی سے خوف زدہ نہیں ہوئیں۔
حالیہ جنرل الیکشن میں بی جے پی کے امیدوار کو مات دے کر لوک سبھا کی رکنیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ ترنمول کانگریس میں جو لوگ بدعنوان تھے یا جن کی کور(Core)کسی وجہ سے دبتی تھی وہ سب کے سب بی جے پی میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے لیکن مہوا موئترا نے ایک خاتون ہونے کے باوجود اعلان اور اظہار کیا کہ وہ ترنمول کانگریس میں ہی رہیں گی اور آخری دم تک سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا ساتھ دیتے ہوئے بی جے پی سے لڑنے مرنے کے لئے تیار رہیں گی۔ گزشتہ روز جب انھیں ہر طرح سے مقید اور خوف زدہ کرنے کی کوشش کی گئی تو انھوں نے اپنی بہادری کا مظاہرہ کیا اور ساری دنیا کو دکھایا کہ ایک خاتون ہونے کے باوجود کس طرح آمریت اور ظلم کے خلاف لڑسکتی ہیں۔
افسوس ناک بات یہ ہے کہ گزشتہ روز ہی کلکتہ ہائی کورٹ نے سوبھندو ادھیکاری کی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ جو لوگ ترنمول کانگریس کے لیڈروں اور ورکروں پر آئے دن حملے کر رہے ہیں ان کے خلاف کتنے ایف آئی آر کئے گئے ہیں؟ کتنے لوگوں کو پابند سلاسل کیا گیا ہے؟ اس کی ایک فہرست عدالت کو پیش کی جائے۔ کورٹ نے پہلے ہی ہدایت دی تھی کہ ریاست میں نظم و ضبط کے لئے حکومت ہر طرح سے کوشش کرے۔ ان سب کے باوجود گزشتہ روز جب مہوا موئترا پر انڈوں اور پتھروں سے حملے ہورہے تھے اس کے نتیجے میں وہ زخمی بھی ہوئیں۔ پیٹ کے جس حصے میں چوٹ آئی تھی اسے بھی دنیا کو دکھا رہی تھیں۔پولس تماشائی بنی ہوئی تھی۔ دنیا کے مشہور ترین چینلوں میں ایک چینل ’الجزیرہ‘ نے تصاویر کے ساتھ اپنے پروگرام میں اسے شامل کیا۔ ’یو ٹیوبرس‘ بھی بڑی تعداد میں اسے دکھاتے رہے۔ کیا اس سے بی جے پی بدنام ہوئی یا نیکی نامی حاصل کی؟ بی جے پی کی بدنامی کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں اس کی جگ ہنسائی اور رسوائی ہوئی۔ مہوا موئترا کی دلیری اور بی جے پی کارکنوں کی بزدلی کا منظر سب نے کھلی آنکھوں سے دیکھا۔
لڑائی ، دشمنی یا جنگ جب چھپ کر کی جائے اور ہجومی تشدد کے ذریعے کسی پر حملے کئے جائیں، مار پیٹ کی جائے یا اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے تو اس سے بڑھ کر اور کیا بزدلی ہوسکتی ہے؟ 2014ء سے لے کر اب تک سیکڑوں مسلمانوں کو ہجومی تشدد کا شکار بنایا گیا۔ کبھی راستے میں، کبھی ٹرین میں اور کبھی گھر میں گھس کر غلط سلط الزام لگاکر سیکڑوں کی جانیں لے لی گئیں۔ اور یہ صرف اس لئے ہوا کہ وہ لوگ مسلمان تھے۔ آج مسلمانوں کی مسجدوں، درگاہوں اور اداروں پر حملے کئے جارہے ہیں اور ایک طرح سے مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ وہ مسلمانوں کو کچھ زیادہ نقصان پہنچا سکیں۔ ان کے اداروں اور مسجدوں کو تہ و بالا کرسکیں۔
اب یہی کام وہ اپنے سیاسی حریفوں کے ساتھ کر رہے ہیں۔ ہم کو سوچنا چاہئے کہ اگر ان کے ساتھ ایسے اقدام کئے گئے ہوتے تو ملک میں یا کسی ریاست میں آج ان کی حکمرانی نہیں ہوتی۔ ہر سچا اور دانشمند آدمی بی جے پی اور ان کے لیڈروں کو یہی مشورہ دے گا کہ امن پسندی اور صلح جوئی کا راستہ اپنائیں۔ اگر ان میں یہ طاقت نہیں ہے تو یہی کہا جائے گا ؎
ذلت سے تو بہتر ہے اِک جنگ لڑو تم … یوں ہار بھی جاؤ گے تو بزدل نہ رہو گے