عدالتیں کسی بھی مہذب، آئینی اور جمہوری معاشرے کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں۔ انصاف کی فراہمی کا پورا نظام اس اصول پر قائم ہوتا ہے کہ ہر مقدمہ جذبات، سیاسی دباؤ، عوامی خواہشات یا مذہبی وابستگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانون، آئین اور پیش کیے گئے ثبوت و شواہد کی روشنی میں طے کیا جائے۔ اسی لیے ہر جج اپنے منصب کا حلف لیتا ہے کہ وہ کسی خوف، لالچ، دباؤ یا تعصب کے بغیر قانون کے مطابق فیصلہ کرے گا۔ اگر کسی مقدمہ میں کسی فریق کو یہ محسوس ہو کہ اس کے ساتھ انصاف نہیں ہوا یا عدالت نے حقائق کا درست انداز میں جائزہ نہیں لیا تو آئین اور قانون اسے یہ حق دیتے ہیں کہ وہ اعلیٰ عدالت سے رجوع کرے، اپیل دائر کرے، نظرِ ثانی کی درخواست پیش کرے یا دیگر قانونی راستے اختیار کرے۔ یہی وہ اصول ہے جو قانون کی حکمرانی کو مضبوط بناتا ہے اور یہی کسی بھی جمہوری معاشرے کی پہچان ہے۔ کسی عدالتی فیصلے سے اختلاف کرنا ایک قانونی حق ہے لیکن اس اختلاف کو نفرت، دھمکی، تشدد، مذہبی منافرت یا ہجومی دباؤ میں تبدیل کر دینا نہ صرف قانون کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ عدالتی نظام پر براہِ راست حملہ بھی ہے۔ کوئی فرد، تنظیم، جماعت یا گروہ اس بات کا مجاز نہیں کہ وہ کسی جج کو صرف اس لیے نشانہ بنائے کہ اس نے قانون کے مطابق ایسا فیصلہ دیا جو کسی مخصوص طبقے یا گروہ کی خواہشات کے مطابق نہیں تھا۔ اگر آج ججوں کو فیصلوں کی بنیاد پر دھمکیاں دی جائیں گی، ان کے مذہب کو نشانہ بنایا جائے گا، ان کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی جائے گی اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جائیں گی تو کل انصاف کا پورا نظام خوف کے سائے میں آ جائے گا اور جب انصاف خوف زدہ ہو جائے تو پھر معاشرے میں قانون کی بالادستی برقرار نہیں رہ سکتی۔
ملک کا موجودہ فرقہ وارانہ ماحول اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں ہر معاملے کو مذہبی عینک سے دیکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کسی سرکاری افسر، پولیس اہلکار، استاد، صحافی یا جج کے ہر اقدام کو اس کے مذہب سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف خطرناک ہے بلکہ آئینی اصولوں کے بھی سراسر خلاف ہے۔ کسی جج کا مذہب اس کے فیصلے کا معیار نہیں ہوتا بلکہ اس کے سامنے موجود ثبوت، گواہ، فرانزک رپورٹ، قانونی دفعات اور مقدمے کا ریکارڈ اس کے فیصلے کی بنیاد بنتا ہے۔ اگر ہر فیصلہ دینے والے کی نیت اور کردار کو اس کے مذہب کی بنیاد پر پرکھا جانے لگے تو پھر انصاف کا تصور ہی ختم ہو جائے گا۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے ماتحت خدمات انجام دینے والی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محترمہ تبسم خان کے ساتھ پیش آنے والا حالیہ واقعہ اسی تشویشناک ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے ایک ایسے مقدمے میں فیصلہ سنایا جو مابلنچنگ سے متعلق تھا۔ مقدمے کے مطابق دو اگست 2022ء کو ٹرک ڈرائیور شیخ لالہ نذیر احمد کو ممنوعہ مویشیوں کی نقل و حمل کے شبہ میں ایک ہجوم نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہو گئی۔ پولیس نے اس واقعہ میں سات ملزمان کو گرفتار کیا اور مکمل تفتیش کے بعد عدالت میں چالان پیش کیا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران طبی رپورٹس، فرانزک شواہد، گواہوں کے بیانات اور دیگر قانونی ثبوت عدالت کے سامنے رکھے گئے۔ انہی شواہد کی بنیاد پر بارہ جون کو محترمہ تبسم خان نے ساتوں ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی۔ عدالتی فیصلے کے بعد جو ردعمل سامنے آیا وہ نہایت افسوسناک اور تشویشناک تھا۔ بعض انتہا پسند عناصر نے فیصلے پر قانونی اعتراض کرنے یا اپیل کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے جج کو ہی نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں، ان کے مذہب پر حملے کیے گئے، سوشل میڈیا پر ان کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی گئی اور ان کے پتلے نذرِ آتش کیے گئے۔ یہ تمام اقدامات اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ کچھ عناصر قانون کی حکمرانی کو قبول کرنے کے بجائے ہجوم کی طاقت کو انصاف پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آج کسی جج کو صرف اس لیے ڈرایا جائے کہ اس نے قانون کے مطابق فیصلہ دیا ہے تو کل ہر جج اس خوف میں مبتلا ہوگا کہ کہیں اس کا فیصلہ کسی گروہ کو ناگوار نہ گزر جائے۔
عدالت کا کام کسی خاص طبقے کو خوش کرنا یا کسی مخصوص نظریے کی ترجمانی کرنا نہیں ہوتا۔ عدالت صرف قانون کی پابند ہوتی ہے۔ ایک جج اپنے فیصلے میں وہی لکھتا ہے جو مقدمے کے ریکارڈ، شواہد اور قانونی اصول اس سے تقاضا کرتے ہیں۔ اگر کسی کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ فیصلہ غلط ہے تو اس کے لیے اپیل کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ ہندوستان کا عدالتی نظام اسی مقصد کے لیے مختلف درجات پر مشتمل ہے تاکہ اگر کسی عدالت سے غلطی ہو جائے تو اعلیٰ عدالت اس کی اصلاح کر سکے۔ لیکن اپیل کے بجائے دھمکی، احتجاج کے بجائے تشدد اور قانونی چارہ جوئی کے بجائے نفرت کا راستہ اختیار کرنا کسی بھی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اس معاملے کا از خود نوٹس لے کر جس سنجیدگی کا مظاہرہ کیا وہ عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے نہایت اہم قدم ہے۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ کسی جج کو اس کے فیصلے کی بنیاد پر دھمکیاں دینا عدالتی آزادی پر حملہ ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا، پولیس کو مناسب تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت دی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا عندیہ بھی دیا۔ یہ اقدام اس لیے بھی ضروری تھا کہ اگر ایسے معاملات میں خاموشی اختیار کی جاتی تو یہ ایک خطرناک روایت بن جاتی اور مستقبل میں ہر حساس مقدمے کے بعد ججوں کو اسی طرح کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا۔ عدلیہ کی آزادی صرف ججوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کے ہر شہری کا مسئلہ ہے۔ اگر جج آزاد نہیں ہوگا تو عام شہری کو انصاف کیسے ملے گا؟ اگر جج یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ کسی فیصلے کے بعد اس کی جان، خاندان یا عزت خطرے میں پڑ سکتی ہے تو پھر وہ پوری آزادی کے ساتھ قانون کے مطابق فیصلہ کیسے دے سکے گا؟ اسی لیے دنیا کے تمام مہذب ممالک میں عدلیہ کی آزادی کو جمہوریت کا بنیادی ستون قرار دیا جاتا ہے۔
ہندوستان کی عدالتوں نے ماضی میں بے شمار حساس اور پیچیدہ مقدمات کے فیصلے کیے ہیں۔ کئی ایسے فیصلے آئے جن سے مختلف طبقات نے اختلاف کیا، بعض اوقات شدید مایوسی بھی ہوئی لیکن اس کے باوجود قانونی راستہ اختیار کیا گیا۔ عدالتوں پر تنقید بھی ہوئی مگر ججوں کو دھمکیاں دینا، مذہبی بنیاد پر انہیں نشانہ بنانا اور نفرت انگیز مہم چلانا کبھی معمول نہیں بنا۔ یہی وجہ ہے کہ عدلیہ اپنی آزادی برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔ اس سلسلے میں بابری مسجد مقدمہ ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ملک کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو شدید دکھ اور مایوسی ہوئی۔ بہت سے لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ تاریخی حقائق اور قانونی دلائل کے باوجود انہیں مطلوبہ انصاف نہیں ملا لیکن اس کے باوجود مسلمانوں نے اجتماعی طور پر قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا۔ انہوں نے ججوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں نہیں دیں، ان کے مذہب کو نشانہ نہیں بنایا، نہ ان کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی اور نہ ہی ان کے پتلے جلائے۔ اختلاف کے باوجود آئینی وقار کا احترام کیا گیا اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا گیا۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جو ایک ذمہ دار اور آئین پسند معاشرے کی علامت ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی گروہ اپنے پسندیدہ فیصلے آنے تک عدلیہ کی تعریف کرے اور جب فیصلہ اس کے خلاف آئے تو جج کی کردار کشی شروع کر دے، تو یہ دوہرا معیار نہ صرف جمہوریت بلکہ قانون کی حکمرانی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ عدالت کا احترام ہر حال میں کیا جائے خواہ فیصلہ موافق ہو یا مخالف۔ اختلاف کا حق اپنی جگہ محفوظ ہے لیکن اس اختلاف کا اظہار آئینی اور قانونی حدود کے اندر ہونا چاہیے۔ آج سوشل میڈیا نے جہاں اظہارِ رائے کو آسان بنایا ہے وہیں نفرت اور اشتعال انگیزی کے پھیلاؤ کو بھی تیز کر دیا ہے۔ کسی جج کے خلاف منظم مہم چلانا، اس کی ذاتی معلومات پھیلانا، مذہبی شناخت کو بنیاد بنا کر نفرت انگیز تبصرے کرنا یا اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دینا محض آزادیِ اظہار نہیں بلکہ ایک قابلِ تعزیر جرم ہے۔ ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی ضروری ہے تاکہ یہ پیغام جائے کہ اظہارِ رائے کی آزادی کا مطلب قانون شکنی یا دھمکی دینے کی آزادی ہرگز نہیں۔ حکومت، پولیس، تحقیقاتی اداروں اور متعلقہ ایجنسیوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے معاملات میں غیر جانبدارانہ اور فوری کارروائی کریں۔ اگر کسی عام شہری کو دھمکی دینا جرم ہے تو کسی جج کو دھمکی دینا اس سے کہیں زیادہ سنگین جرم ہونا چاہیے کیونکہ اس کا تعلق صرف ایک فرد سے نہیں بلکہ پورے عدالتی نظام سے ہوتا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی لازم ہے کہ وہ ایسی نفرت انگیز مہمات، دھمکی آمیز پیغامات اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کو روکنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ کیوں کہ یہ معاملہ ہر اس جج کے لیے ایک آزمائش ہے جو مستقبل میں کسی حساس مقدمے کا فیصلہ کرے گا۔ اگر ایسے واقعات پر سخت کارروائی نہ ہوئی تو یہ پیغام جائے گا کہ ججوں کو ڈرا کر فیصلوں پر اثر انداز ہوا جا سکتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف عدلیہ بلکہ پورے آئینی نظام کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگی۔ یاد رکھیں کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ اداروں کے احترام کا بھی نام ہے۔ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ تینوں اپنے اپنے دائرہ اختیار میں آزاد اور بااختیار ہوں تو ہی آئینی نظام مضبوط رہتا ہے۔ اگر ان میں سے کسی ایک ستون کو کمزور کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کا اثر پورے نظام پر پڑتا ہے۔ اسی لیے عدلیہ کا تحفظ دراصل جمہوریت کا تحفظ ہے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے تمام انصاف پسند شہری، وکلاء، دانشور، صحافی، سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی اس مسئلے کو کسی مذہب یا جماعت کی عینک سے دیکھنے کے بجائے آئینی اصولوں کی روشنی میں دیکھیں۔ آج اگر کسی ایک جج کو دھمکی دی جا رہی ہے تو کل یہی روش کسی دوسرے جج کے ساتھ بھی اختیار کی جا سکتی ہے۔ اس لیے خاموشی کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایسے رجحانات کی حوصلہ افزائی ہے۔ عوام میں قانونی شعور کو فروغ دیا جائے تاکہ لوگ یہ سمجھ سکیں کہ عدالت کے فیصلے سے اختلاف کا مہذب اور آئینی طریقہ اپیل ہے دھمکی نہیں۔ قانونی چارہ جوئی ہے تشدد نہیں۔ دلیل ہے، نفرت نہیں۔ جب تک معاشرے میں قانون کے احترام کی ثقافت پیدا نہیں ہوگی ایسے واقعات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہیں گے۔ لہذا! مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا بروقت نوٹس اور جج تبسم خان کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت ایک مثبت قدم ضرور ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ دھمکیاں دینے والوں، نفرت پھیلانے والوں اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کرنے والوں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی شخص عدلیہ کو خوفزدہ کرنے کی جرات نہ کر سکے۔ قانون کی بالادستی اسی وقت قائم ہوگی جب ہر شہری یہ محسوس کرے کہ عدالتیں آزاد ہیں، جج محفوظ ہیں اور انصاف کسی دباؤ کے بغیر فراہم کیا جا رہا ہے۔ عدلیہ کی آزادی جمہوری ہندوستان کی شہ رگ ہے۔ اگر اس آزادی پر حملہ ہوگا تو انصاف کمزور ہوگا، آئین کمزور ہوگا اور جمہوریت بھی کمزور پڑ جائے گی۔ اس لیے ہر انصاف پسند شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالتی وقار، آئینی اداروں کی حرمت اور قانون کی بالادستی کے دفاع میں اپنی آواز بلند کرے۔ اختلاف رائے ہر شخص کا حق ہے مگر اختلاف کو دھمکی، نفرت اور تشدد میں تبدیل کرنا کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ جج تبسم خان کے خلاف ہونے والی دھمکیاں صرف ایک فرد کے خلاف نہیں بلکہ انصاف کے پورے نظام کے خلاف ایک خطرناک پیغام ہیں اور ایسے ہر پیغام کا جواب قانون، آئین اور عدالتی وقار کے مضبوط دفاع کی صورت میں ہی دیا جانا چاہیے۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com