اسرائیلی جارحیت: چہرا روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
طوفان الاقصیٰ کے جواب میں اسرائیلی جارحیت کے ایک ہزار دن مکمل ہونے پر غزہ کے انتظامیہ نے جو لرزہ خیز اعدادو شمار پیش کیے ان میں اسرائیل کے ذریعہ انجام دی جانے والی نسل کشی کے بھیانک چہرے کی تصویر صاف نظر آتی ہے۔ اس رپورٹ میں شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو وسیع پیمانے پر تباہی کےعلاوہ بھوک اور جبری نقل مکانی کی تفصیل درج ہے۔ان ہیبت ناک اعداد و شمار کے مطابق غزہ کی پٹی میں 24 لاکھ 40 ہزار سے زائد فلسطینی نسل کشی، بھوک اور نسلی تطہیر سے نبرد آزما ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کی بات کی جائے تو پٹی کا 90 فیصد سے زائد حصہ مکمل تباہ ہو چکا ہے۔اسرائیلی فوج نے چھاپوں، بمباری اور نقل مکانی پر مجبور کرکے 80 فیصد سے زیادہ اراضی پر عسکری قبضہ قائم کرلیا ہے۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر شہری آبادی پر 241 بار بمباری کے دوران 2 لاکھ 23 ہزار ٹن سے زائد بارود برسایا گیا ۔ یہ تباہ کاری کئی ایٹم بم سے زیادہ شدید ہے۔ اس کے نتیجے میں اسپتالوں کے اندر شہداء کی تعداد 73 ہزار 66 ہو گئی جبکہ 9 ہزار 500 افراد ملبے تلے دبنے یا دیگر وجوہات سے لاپتہ ہیں۔ اس تباہی کا بدترین پہلو یہ ہے کہ متاثرین میں 55 فیصد سے زائد بچے، خواتین اور بزرگ ہیں یعنی شہداء میں 21 ہزار 500 سے زائد بچے اور 12 ہزار 500 خواتین ہیں۔ ان شہداء کا تعلق 39 ہزار سے زائد خاندانوں سے تھا۔ان میں 2 ہزار 700 خاندان مکمل طور پر مٹا دیئے گئے۔ بھوک اور غذائی قلت کے سبب 460اور سردی سے 28لوگ فوت ہوگئے۔یہ سماجی بحران اس قدر شدید ہے کہ غزہ کے اندر فی الحال 58 ہزار 800 بچے یتیم اور 26 ہزار 370 خواتین بیوہ ہو چکی ہیں۔
جنگی تباہی کے دوران عوام کو راحت پہنچانے میں طبی ، بلدیاتی شعبے کے اہلکار اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن اسرائیل نے انہیں خاص طور پر نشانہ بنایا تاکہ زخمیوں کو مناسب سہولت سے محروم رکھا جاسکے ۔ صہیونی ظالموں نے صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر 788 حملے کیے ا ور 197 ایمبولینسوں کو نشانہ بنایا گیا۔ قابض دشمن نے شہری دفاع کے 16 مراکز اور 84 ریسکیو و فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو تباہ کرکےآگ بجھانے والے 145 شہری دفاع کے کارکنان کو شہید کردیا ۔اس بمباری کے نتیجے میں غزہ کے 38اسپتال اور 96 مراکز ِصحت قابلِ استعمال نہیں رہے ۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایک ہزار 700 طبی عملے کے ارکان کو شہید کیا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک لاکھ 73 ہزار 514 زخمیوں کا پرسانِ حال نہایت قلیل عملہ مہیاتھا۔ ان زخمی لوگوں میں 19 ہزار کو طویل مدتی بحالی کی ضرورت ہے۔ان کے علاوہ 5 ہزار 400 سے زائد افراد کے اعضاء کٹ چکے ہیں اور ایک ہزار 500 تو مستقل مفلوج ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ایک ہزار 200 لوگوں نے اپنی بینائی گنوادی ہے ۔ نقل مکانی کے باعث 21 لاکھ سے زائد افراد متعدی بیماریوں کا شکار ہوئے، جبکہ ہیپاٹائٹس کے 71 ہزار 338 کیسز ریکارڈ کیے گئے۔
موت اور بیماری کے علاوہ تیسرا سنگین بحران نقل مکانی کا ہے۔ ان حملوں نے 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو نقل مکانی پر مجبورکیا گیا کیونکہ 5 لاکھ 10 ہزار مکانات متاثر ہوئے۔ ان میں سے 3 لاکھ 35 ہزارتو مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ اس لیے 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد خاندانوں کو رہائش کی ضرورت ہے۔ انسانی زندگی کی دیگر ضروریات مثلاً سینکڑوں کنویں، پانی، بجلی اور سیوریج کے نیٹ ورک کو برباد کیا گیا۔ ہزاروں کلومیٹر سڑکیں، سرکاری عمارتیں، کھیلوں کے مراکز اور آثار قدیمہ کے مقامات تباہ کر دیئے گئے ۔گھروں کے علاوہ عبادتگاہوں کی بات کریں تو ایک ہزار 47 مساجد کو مکمل طور پر اور 210 کو جزوی طور پر تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تباہ کاری کا شکار گرجا گھر اور قبرستان بھی ہوئے ۔پانچویں صدی کاچرچ آف سینٹ پورفیریوس دنیا کا تیسرا قدیم ترین گرجا گھر منہدم ہوگیا۔ اسی زمانے کا ایک قدیم بازنطینی گرجا گھر جو شاندار اور نایاب فرش کے موزیک کے سبب دنیا بھر میں مشہور تھا نشانہ بنا۔1882میں تعمیر ہونے والا غزہ بیپٹسٹ چرچ کو بھی صہیونیوں نے نہیں چھوڑا اور غزہ شہر میں واقع واحد کیتھولک ہولی فیملی چرچ کو بھی نقصان پہنچا ۔ اس کے باوجود مغربی دنیا کے عیسائیوں کی اسرائیل کو حمایت قابلِ شرم تھی ۔غزہ کے60 میں سے 40 قبرستان تباہ کیے گئے بلکہ 2 ہزار 450 سے زائد لاشوں کی چوری کا بھی شرمناک انکشاف ہوا۔
غزہ نہایت زرخیز علاقہ ہے لیکن جنگ کے سبب زرعی پیداوار میں 87 فیصد کمی آئی ہے۔ ابتدائی براہِ راست نقصانات 80 ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو غزہ کی پٹی میں زندگی کے ہر پہلو کو پہنچنے والی معاشی تباہی کا عکاس ہے۔تعلیم کے اعتبار سے عرب دنیا میں فلسطینی سب ممتاز ہیں ۔ غزہ جیسے مختصر علاقہ میں بے شمار تعلیمی ادارے اور کئی یونیورسیٹیاں تھیں ۔ اسرائیلی جارحیت 81 فیصد اسکولوں کی متاثر کیا اور انہیں دوبارہ تعمیر یا بنیادی بحالی کی ضرورت ہے۔ 17 اعلیٰ تعلیمی ادارے تباہ کر دیئے گئے، 20 ہزار سے زائد طلبا اور 830؍ اساتذہ کی شہادت سے تعلیم کے شعبے کی تباہی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے 6 لاکھ 20 ہزار اسکولی طلبا اور 90 ہزار یونیورسٹی کے طالب علموں کو اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع کرنا پڑا ہے۔آزمائش کی اس گھڑی میں اقوام متحدہ سمیت دنیا بھر کے درد مند لوگ غزہ والوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں مگرسرحدوں کو650 دنوں سے بندکرکے رکھا گیا ہے۔اس دوران 3 لاکھ 90 ہزار امدادی ٹرکوں کوغزہ میں داخل ہونے سے روک کر خوراک کی تقسیم کے مراکز کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔ اس سفاکی کے سبب 6 لاکھ 50 ہزار غذائی قلت کا شکار بچوں میں 40 ہزار شیر خوار شامل ہیں۔ 22 ہزار سے زائد مریضوں کو علاج کے لیے باہر جانے سے روکا جا رہا ہے۔ صہیونی یہودیوں اور ان کے حامی سفید فام نسل پرستوں کو اپنے جمہوری نظام پر بہت ناز ہوا کرتا تھا مگر غزہ کی تباہی نے ان کے چہرے پر پڑی خوبصورت جمہوریت کی نقاب نوچ کر پھینک دی ہے۔ علامہ اقبال نے یہی تو کہا تھا؎
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام چہرا روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر
جنگ کے دوران جارح اقوام احساسِ جرم اور انانیت کے سبب اپنے نقصان کو کم کرکے بیان کرتی ہیں جبکہ مجروح لوگ برائے ہمدردی بڑھا چڑھا کر یا کم ازکم سچ سچ بیان کردیتے ہیں۔ اس کشمش کے ایک ہزار دن کی تکمیل پر اسرائیل کی وزارت جنگ نے بھی چند اعترافات کیے ان کی مدد سے اصل نقصان کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔اسرائیلی فوج کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، غزہ کی پٹی پر جنگ کے آغاز سے اب تک 964؍ افسر اور فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 6 ہزار 424 زخمی ہوئے ہیں۔اسرائیل نے سرکاری طور پر اپنی عسکری کارروائیوں کے دوران جو جانی اور مادی نقصانات کی معلومات جاری کی ہیں ان پر سخت فوجی سنسرشپ کے سبب اعتبار کرنا بہت مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں مبصرین نقصانات کے ان اعداد و شمار پر یقین نہیں کرتے ۔ اسرائیلی فوج نے دورانِ جنگ 262 صحافیوں کو شہید کردیا تاکہ حقائق کو چھپایا جاسکے ۔ ان کا تو یہ حال ہے کہ جب ایک رہائشی عمارت بمباری سے تباہ ہوگئی تو برج موہن سنگھ نامی ایک ہندوستانی رپورٹر جائے واردات پر پہنچ گیا۔ وہ جب تفتیش کے لیے اندر جانے لگا تو اسے اہلکاروں نے یہ کہہ کر بھگا دیا گیا کہ جاو لکھ دو کہ دو افراد ہلاک ہوئے ۔
اسرائیلی حکام نے جانی نقصان کی تعداد ر کو تو چھپایا گیا مگر زخمیوں اور نفسیاتی امراض کا شکار لوگوں کی بابت بہت سارے اعدادو شمار جاری کردئیے گئے۔ اسرائیل کی سرکار نے تسلیم کیا کہ غزہ کی پٹی پر جنگ کے آغاز سے اب تک فوج کے تقریباً 26 ہزار 200 اہلکاروں نے علاج کروایا۔ ان میں سے 65 فیصد افراد نفسیاتی عوارض کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں آگے کہا گیا کہ ان مریضوں تعداد تقریباً 17 ہزارہے جبکہ 7 ہزار 700 جسمانی زخموں کے شکار ہیں، جن میں 97؍ افراد کے اعضاء کٹ چکے ہیں۔یہاں گڑ بڑ یہ ہے جسمانی طور پر زخمی اگر 35فیصد ہے تو وہ تعداد 9170 ہونی چاہیے۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ جن فوجیوں کے سر پر ہوائی حملوں کی چھتری ہوتی تھی اور جو سر سے پیر تک ہتھیاروں سے اس طرح لیس ہوتے تھے کہ چہرا تک دیکھنا مشکل ہو ان کی اتنی بڑی تعداد کو حماس کے مجاہدین نے زخمی کیا ۔ سچائی تو یہ ہے کہ اصل تعداد کئی گنا زیادہ ہوگی ۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق 92 فیصد زخمی مرد ہیں، جن میں سے 48 فیصد کی عمریں 30 سال سے کم، 30 فیصد کی عمریں 30 سے 39 سال کے درمیان، جبکہ 22 فیصد کی عمریں 40 سال سے زیادہ ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے تربیت یافتہ معمر فوجیوں نے کم عمر نوجوانوں کو مرنے کے لیے آگے کردیا ۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل میں جذبۂ شہادت سے عاری زبردستی کے فوجی میدان جنگ سے بھاگتے ہیں۔ایسے بزدل حماس کے شیر دل مجاہدین کے سامنے کیا ٹکیں گے جن کی بابت علامہ اقبال نے فرمایا؎
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی