یکم جولائی سے اتراکھنڈ میں مدارس کے حوالے سے جو صورتِ حال سامنے آئی اس نے پورے ملک میں دینی تعلیم کے مستقبل پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ معاملہ صرف ایک ریاست تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے اس مسئلے کو جذبات یا افواہوں کے بجائے سنجیدگی، فہم اور مستقبل بینی کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ کارروائی صرف سرکاری مدارس تک محدود رہے گی اور نجی مدارس محفوظ رہیں گے ان کے لیے موجودہ صورتحال ایک واضح پیغام ہے کہ اگر تعلیمی ادارے اپنے وجود، نظم اور قانونی حیثیت کے حوالے سے مستحکم نہ ہوں تو وقت کے ساتھ دائرہ کار وسیع بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اصل مسائل پر کم اور ضمنی اختلافات پر زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کھولیے تو گھنٹوں یہ بحث چلتی رہتی ہے کہ فلاں مدرسہ بہتر ہے یا فلاں، کسی کا نصاب کمزور ہے یا کسی کی انتظامیہ ناکام ہے لیکن جب مدارس کے وجود اور بقا کا مسئلہ سامنے آتا ہے تو وہی لوگ خاموش دکھائی دیتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہمیں اس وقت تک کسی خطرے کا احساس نہیں ہوتا جب تک وہ ہمارے دروازے تک نہ پہنچ جائے۔
حکومتیں ہمیشہ اپنی پالیسیوں کو کسی نہ کسی دلیل کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ کہیں "معیاری تعلیم” کا نعرہ دیا جاتا ہے کہیں "جدید تعلیم” کا کہیں "یکساں نظامِ تعلیم” کا اور کہیں "شفافیت” کا۔ سوال یہ نہیں کہ ان نعروں میں کتنی حقیقت ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ دینی اداروں نے خود کو ان اعتراضات کے جواب کے لیے کس حد تک تیار کیا ہے؟ اگر ہم اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کے بجائے صرف رد عمل پر اکتفا کریں گے تو آنے والے دن مزید مشکلات لے کر آ سکتے ہیں۔ چند سال پہلے آسام میں بھی مدارس کے حوالے سے فیصلے کیے گئے تھے۔ اس وقت بھی بہت سے لوگوں نے یہ کہہ کر خود کو مطمئن کر لیا تھا کہ کارروائی صرف سرکاری مدارس تک محدود ہے اس لیے قومی اور نجی مدارس کو فکر کی ضرورت نہیں۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ کسی ایک ریاست میں ہونے والی تبدیلی کو معمولی سمجھنا درست نہیں تھا۔ آج اتراکھنڈ کی صورتحال اس حقیقت کی یاد دہانی کروا رہی ہے کہ بدلتے ہوئے تعلیمی اور قانونی ماحول کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اختلافی موضوعات میں تو بہت سرگرم نظر آتی ہے مگر جب اجتماعی مسائل پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہی جوش دکھائی نہیں دیتا۔ کسی عالم کی ایک عبارت پر سینکڑوں تبصرے ہو جاتے ہیں، کسی مسلکی مسئلے پر کئی کئی دن بحث چلتی رہتی ہے لیکن اگر مدارس کے مستقبل پر علمی اور تعمیری گفتگو کی ضرورت ہو تو بہت کم لوگ آگے بڑھتے ہیں۔ یہ رویہ بدلنا ہوگا کیونکہ ادارے محفوظ ہوں گے تو علمی اختلافات بھی باقی رہیں گے اور اگر ادارے ہی کمزور ہو گئے تو پھر ان بحثوں کی بھی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی۔ ہمیں یہ تسلیم کرنی چاہیے کہ ہر ادارہ اپنی اصلاح کا محتاج ہوتا ہے۔ مدارس نے اس ملک کی دینی، اخلاقی اور تعلیمی خدمت میں بے مثال کردار ادا کیا ہے۔ لاکھوں حفاظ، علماء، آئمہ اور خطباء انہی مدارس کی دین ہیں۔ آزادی کی تحریک سے لے کر معاشرتی اصلاح تک مدارس کی خدمات تاریخ کا حصہ ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ انتظامی شفافیت، قانونی تقاضوں کی تکمیل، تعلیمی معیار میں بہتری اور عصری ضروریات سے ہم آہنگی پر بھی مسلسل کام کیا جائے تاکہ کسی کو اعتراض کا موقع نہ ملے۔ آج مدارس کو صرف جذباتی نعروں کے ذریعے نہیں بلکہ مضبوط منصوبہ بندی کے ذریعے محفوظ بنایا جائے۔ اگر کسی مدرسے کی رجسٹریشن میں کمی ہے تو اسے مکمل کیا جائے، اگر حسابات میں شفافیت کی ضرورت ہے تو اس پر توجہ دی جائے، اگر طلبہ کے لیے جدید سہولیات پیدا کی جا سکتی ہیں تو انہیں بھی نظر انداز نہ کیا جائے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ دینی تشخص یا نصاب پر سمجھوتہ کیا جائے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ ادارے ہر اعتبار سے مضبوط ہوں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جب بھی مدارس کا مسئلہ سامنے آتا ہے تو بعض لوگ خود مدارس ہی کو نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ تنقید اگر اصلاح کی نیت سے ہو تو یقیناً مفید ہے لیکن اگر اس کا مقصد صرف تحقیر اور بداعتمادی پھیلانا ہو تو اس سے نقصان ہی ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں مدارس کے ذمہ داران، علماء، دانشوروں، وکلاء اور سماجی کارکنوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر سنجیدہ غور و فکر کرنا چاہیے تاکہ ایسا لائحہ عمل سامنے آئے جو آئینی، قانونی اور تعلیمی ہر اعتبار سے مضبوط ہو۔
اتراکھنڈ میں نصاب کے حوالے سے جو تبدیلیاں زیرِ بحث ہیں انہوں نے ایک نئے سوال کو جنم دیا ہے کہ دینی تعلیم کی خود مختاری کس حد تک برقرار رہ سکے گی۔ اگر نصاب کی تشکیل میں دینی ماہرین کی مؤثر نمائندگی نہ ہو تو یقیناً تشویش پیدا ہوتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ایسے معاملات پر جذباتی نعروں کے بجائے علمی اور قانونی سطح پر مضبوط موقف اختیار کیا جائے۔ ہمارے معاشرے میں ایک عام جملہ سننے کو ملتا ہے کہ "ہم کیا کر سکتے ہیں؟” حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص اپنے دائرے میں بہت کچھ کر سکتا ہے۔ لکھنے والا قلم کے ذریعے، استاد تعلیم کے ذریعے، وکیل قانون کے ذریعے، صحافی تحقیق کے ذریعے اور عام شہری شعور بیدار کرکے اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر ہر شخص اپنی ذمہ داری پوری کرے تو اجتماعی قوت پیدا ہوتی ہے، اور یہی قوت کسی بھی معاشرے کو مشکلات سے نکالتی ہے۔ مدارس کے خلاف جب بھی کوئی کارروائی ہوتی ہے تو ہمارا ردِعمل زیادہ تر وقتی اور جذباتی ہوتا ہے۔ چند دن سوشل میڈیا پر بحثیں ہوتی ہیں، بیانات جاری کیے جاتے ہیں، احتجاجی کلمات کہے جاتے ہیں، پھر معاملہ آہستہ آہستہ نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف پالیسی بنانے والے اپنے فیصلوں پر مسلسل کام کرتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ہر چند سال بعد کسی نہ کسی ریاست سے مدارس کے حوالے سے ایک نئی خبر سننے کو ملتی ہے۔ اگر ہم نے اس طرزِ عمل کو تبدیل نہ کیا تو اندیشہ ہے کہ مستقبل میں ایسی صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ مدارس کی حفاظت صرف علماء یا مدرسوں کی انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری ملت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جو شخص اپنے بچوں کو دینی تعلیم دلوانا چاہتا ہے، جو اپنی مسجد میں امام اور مؤذن چاہتا ہے، جو قرآن کی تعلیم کو زندہ دیکھنا چاہتا ہے اسے بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ مدارس کا وجود اس کی اپنی ضرورت ہے۔ اگر مدارس کمزور ہوں گے تو اس کے اثرات صرف چند اداروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے معاشرے پر مرتب ہوں گے۔ اس وقت مدارس اپنے انتظامی نظام کو مزید مضبوط کریں۔ قانونی تقاضوں کی مکمل پابندی کریں، حسابات میں شفافیت پیدا کریں، عوام کے اعتماد کو مزید مستحکم کریں اور جہاں ممکن ہو وہاں جدید انتظامی طریقوں سے فائدہ اٹھائیں۔ یہ اقدامات کسی دباؤ کے سامنے جھکنا نہیں بلکہ اپنے اداروں کو مضبوط بنانا ہے۔ ایک مضبوط اور منظم ادارے کے خلاف بے جا اعتراضات کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ ملت کے اہلِ قلم کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ آج اگر سوشل میڈیا پر غیر ضروری اختلافات کے بجائے مدارس کی خدمات، ان کی تعلیمی اہمیت اور ان کے سماجی کردار کو مدلل انداز میں پیش کیا جائے تو رائے عامہ پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔ افسوس کہ ہم اکثر اپنی توانائیاں ایک دوسرے کی غلطیاں تلاش کرنے میں صرف کر دیتے ہیں، جبکہ ہمارے مخالفین اپنی حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ مدارس نے اس ملک کو صرف علماء ہی نہیں دیے بلکہ اخلاق، کردار، خدمت اور سماجی ہم آہنگی کا درس بھی دیا ہے۔ لاکھوں ایسے افراد ہیں جنہوں نے مدارس سے تعلیم حاصل کرکے نہ صرف مذہبی خدمات انجام دیں بلکہ معاشرے میں امن، اخوت اور بھائی چارے کو فروغ دیا۔ ان خدمات کو نظر انداز کرنا انصاف نہیں ہوگا۔ اگر کہیں اصلاح کی ضرورت ہے تو اصلاح ضرور ہونی چاہیے، لیکن اصلاح اور خاتمے کے درمیان فرق کو ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اتراکھنڈ کا موجودہ منظرنامہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں بیدار ہونا ضروری ہے۔ قومیں صرف جذبات سے نہیں بلکہ منصوبہ بندی، اتحاد، علم اور تدبر سے اپنے اداروں کی حفاظت کرتی ہیں۔ اگر ہم آج بھی یہ سمجھتے رہے کہ یہ مسئلہ صرف کسی ایک ریاست یا کسی ایک ادارے کا ہے تو شاید کل یہ سوچ ہمارے لیے مزید مشکلات پیدا کر دے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مدارس کے ذمہ داران باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کریں۔ مسلکی اور فروعی اختلافات اپنی جگہ لیکن جب دینی تعلیم کے تحفظ کا سوال ہو تو اجتماعی سوچ ہی کامیابی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمان اپنے مشترکہ مفادات پر متحد ہوئے، الله تعالیٰ نے ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائیں اور جب وہ باہمی اختلافات میں الجھے رہے تو نقصان بھی اجتماعی طور پر اٹھانا پڑا۔ آج کے نوجوانوں سے بھی یہی گزارش ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں استعمال کریں۔ اگر وہ سوشل میڈیا پر گھنٹوں بحث کر سکتے ہیں تو مدارس کے حق میں علمی مضامین بھی لکھ سکتے ہیں، مستند معلومات بھی عام کر سکتے ہیں اور تعمیری رائے بھی پیش کر سکتے ہیں۔ آنے والا دور صرف جذبات کا نہیں بلکہ دلیل، تحقیق اور مؤثر ابلاغ کا دور ہے۔ جو قوم اس میدان میں مضبوط ہوگی، وہی اپنے موقف کو مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے رکھ سکے گی۔ مدارس صرف عمارتوں کا نام نہیں بلکہ ایک علمی روایت، ایک دینی ورثہ اور ایک فکری امانت ہیں۔ اگر ان اداروں کو مضبوط رکھنا ہے تو صرف دعاؤں پر اکتفا نہیں کیا جا سکتا بلکہ عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم خود احتسابی کریں، اپنی کمزوریوں کو دور کریں، اتحاد کو فروغ دیں اور ہر ایسے اقدام سے بچیں جو ہمارے اداروں کو مزید کمزور کرے۔ اتراکھنڈ کے حالات یقیناً باعثِ تشویش ہیں، لیکن انہیں صرف ماتم کا موضوع بنانے کے بجائے سبق کا ذریعہ بنانا زیادہ ضروری ہے۔ اگر ہم نے آج بھی اپنی ذمہ داری محسوس نہ کی، اگر ہم نے آج بھی اپنی ترجیحات درست نہ کیں اور اگر ہم نے آج بھی اجتماعی شعور بیدار نہ کیا تو خدشہ ہے کہ کل تاریخ ہمیں غفلت کی مثال کے طور پر یاد کرے گی۔ آئیے عہد کریں کہ مدارس پر تنقید برائے تنقید کے بجائے اصلاح اور استحکام کی بات کریں گے، اختلاف کے بجائے اتحاد کو فروغ دیں گے، جذباتی نعروں کے بجائے علمی اور قانونی تیاری کریں گے، اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے دینی تعلیم کے ان چراغوں کو ہر ممکن طریقے سے محفوظ رکھنے کی کوشش کریں گے۔ یہی وقت کا تقاضا ہے، یہی دانش مندی ہے اور یہی ہماری اجتماعی ذمہ داری بھی۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش
iftikharahmadquadri@gmail.com