✍️۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
اللّٰہ تعالیٰ نے اس وسیع و عریض کائنات کو اپنی بے شمار مخلوقات سے مزین فرمایا ہے۔ انسان، جانور، پرندے، چرند، درند، آبی مخلوقات اور حشرات الارض سب اسی قادرِ مطلق کی تخلیق ہیں اور ہر ایک کو اس نے ایک خاص مقصد، حکمت اور ذمّہ داری کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ یہ تمام مخلوقات باہمی ربط کے ساتھ ایک ایسے متوازن نظام کا حصّہ ہیں جس کے ذریعے زمین پر زندگی کا سلسلہ قائم و دائم ہے۔ اگرچہ اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور سے نواز کر اشرف المخلوقات کا مقام عطا فرمایا اور اسے زمین میں اپنا خلیفہ بنایا، لیکن اس فضیلت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ دوسری مخلوقات پر ظلم کرے، ان کے حقوق پامال کرے یا انہیں محض اپنی خواہشات اور مفادات کی تکمیل کا ذریعہ سمجھے۔ بلکہ اسلام نے انسان کو ذمّہ داری، امانت اور جواب دہی کا احساس دلایا ہے اور اسے اللّٰہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات کے ساتھ عدل، رحم، شفقت اور حسنِ سلوک کا پابند بنایا ہے۔
اسلام ایک جامع اور عالمگیر دین ہے، جس کی تعلیمات صرف انسانوں کے باہمی حقوق تک محدود نہیں بلکہ جانوروں، پرندوں اور دیگر جانداروں کے حقوق کو بھی غیر معمولی اہمیت دیتی ہیں۔ چودہ سو سال قبل، جب دنیا میں جانوروں کے حقوق کا کوئی منظم تصور موجود نہ تھا، اسلام نے ان کے ساتھ حسنِ سلوک، مناسب خوراک و پانی کی فراہمی، ان پر بے جا بوجھ نہ ڈالنے، انہیں بلا وجہ تکلیف نہ دینے اور ضرورت کے بغیر قتل یا شکار سے اجتناب کرنے کی واضح ہدایات دے کر انسانی معاشرے کو اعلیٰ اخلاقی اصول عطا کیے۔
قرآنِ مجید بار بار اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر مخلوق اللّٰہ تعالیٰ کی نشانی ہے اور سب اپنے رب کی تسبیح و حمد میں مشغول ہیں۔ اسی طرح احادیثِ نبویﷺ میں جانوروں اور پرندوں پر رحم کرنے کو باعثِ اجر اور ان پر ظلم کرنے کو موجبِ عذاب قرار دیا گیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام کے نزدیک جانوروں اور پرندوں کے حقوق کا احترام صرف ایک اخلاقی تقاضا نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ اور اللّٰہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں قرآن و سنّت کی روشنی میں جانوروں اور پرندوں کے حقوق، ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی اہمیت، ماحولیاتی توازن میں ان کے کردار اور موجودہ دور میں ان تعلیمات کی افادیت کا جائزہ پیش کیا جائے گا، تاکہ اسلامی تعلیمات کے اس روشن اور انسانیت نواز پہلو کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
اسلام اور حقوقِ حیوانات
اسلام ایک ایسا جامع دین ہے جو صرف انسانوں کے حقوق ہی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات کے حقوق کا بھی تحفّظ کرتا ہے۔ جانوروں اور پرندوں کے ساتھ حسنِ سلوک، رحم و شفقت اور عدل و انصاف اسلام کی بنیادی اخلاقی تعلیمات کا حصّہ ہیں۔ قرآنِ کریم اور سنّتِ نبویﷺ میں متعدد مقامات پر اس بات کی تلقین کی گئی ہے کہ انسان اللّٰہ تعالیٰ کی دیگر مخلوقات کے ساتھ ذمّہ داری، اعتدال اور رحم کا رویہ اختیار کرے۔ قرآنِ کریم میں اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "زمین میں چلنے والا کوئی جاندار اور اپنے پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں مگر وہ بھی تمہاری طرح ایک جماعت ہے” (سورۂ الأنعام: 38)۔
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ جانور اور پرندے بھی اللّٰہ تعالیٰ کی منظم مخلوق ہیں۔ ان کی اپنی زندگی، ضروریات، فطری نظام اور بقا کے حقوق ہیں۔ جس طرح انسان اپنی زندگی اور ضروریات رکھتا ہے، اسی طرح دیگر جاندار بھی اللّٰہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نظام کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔ لہٰذا انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ان پر بلاوجہ ظلم کرے، ان کے قدرتی مساکن کو تباہ کرے یا انہیں محض اپنی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنائے۔ نبی اکرمﷺ کو اللّٰہ تعالیٰ نے صرف انسانوں ہی کے لیے نہیں بلکہ تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپﷺ کی تعلیمات میں جانوروں اور پرندوں کے ساتھ رحم، نرمی اور حسنِ سلوک کو نمایاں مقام حاصل ہے۔
آپﷺ نے جانوروں پر ظلم کرنے، انہیں بھوکا یا پیاسا رکھنے، ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنے، انہیں مارنے پیٹنے، ان کے ساتھ بے رحمی کا برتاؤ کرنے اور محض تفریح یا دل بہلانے کے لیے شکار کرنے سے سختی سے منع فرمایا۔ اسی طرح آپﷺ نے جانوروں کو آرام، مناسب خوراک اور پانی فراہم کرنے اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کی تلقین فرمائی۔ اسلام کی یہ تعلیمات اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ جانوروں اور پرندوں پر رحم کرنا صرف ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ اور اللّٰہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اسی لیے اسلام انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ زمین پر اللّٰہ تعالیٰ کا خلیفہ اور امانت دار ہے، اس لیے اس پر لازم ہے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات کے حقوق کا احترام کرے اور ان کے ساتھ عدل، رحم اور حسنِ سلوک کا معاملہ اختیار کرے۔
جانوروں اور پرندوں کا قرآنِ کریم میں ذکر
قرآنِ مجید میں جانوروں اور پرندوں کا ذکر نہایت حکیمانہ اور بامقصد انداز میں کیا گیا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے مختلف مقامات پر ان مخلوقات کو اپنی قدرت، حکمت، ربوبیت اور تخلیقی عظمت کی روشن نشانیوں کے طور پر پیش فرمایا ہے۔ ان کے طرزِ زندگی، عادات، باہمی نظم و ضبط اور انسان کے لیے ان کی افادیت پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے، تاکہ انسان اپنے خالق کی معرفت حاصل کرے اور اس کی بے شمار نعمتوں کا اعتراف کرے۔ قرآنِ کریم کی متعدد سورتوں کے نام بھی جانوروں اور پرندوں کے نام پر رکھے گئے ہیں، جیسے سورۂ البقرہ، سورۂ النحل، سورۂ النمل، سورۂ العنکبوت، سورۂ الفیل اور سورۂ العادیات۔ یہ حقیقت اس امر کی غماز ہے کہ اسلام ان مخلوقات کو معمولی یا بے مقصد نہیں سمجھتا، بلکہ انہیں اللّٰہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں شمار کرتا ہے، جن کے ذریعے انسان ایمان، تدبر اور اخلاقی ذمّہ داری کا درس حاصل کرتا ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: "اور تمہارے لیے جانوروں کی پیدائش میں اور ان جانداروں میں، جنہیں وہ زمین میں پھیلاتا ہے، یقین رکھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں” (سورۂ الجاثیہ: 4)۔ اسی طرح ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "زمین میں چلنے والا کوئی جاندار اور اپنے پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں مگر وہ بھی تمہاری طرح ایک جماعت ہے” (سورۂ الانعام: 38)۔ ان آیاتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ جانور اور پرندے بھی اللّٰہ تعالیٰ کی ایک منظم اور باقاعدہ مخلوق ہیں۔ ان کی اپنی زندگی، ضروریات، فطری نظام اور معاشرتی نظم ہے۔ لہٰذا انسان پر لازم ہے کہ وہ ان کے حقوق کا احترام کرے، ان پر ظلم و زیادتی سے اجتناب کرے اور ان کے ساتھ رحم، شفقت اور حسنِ سلوک کا معاملہ اختیار کرے، کیونکہ یہی اسلامی تعلیمات کا تقاضا اور انسانی شرافت کا تقاضا ہے۔
سیرتِ نبویﷺ میں جانوروں سے حسنِ سلوک
رسولِ اکرمﷺ کی سیرتِ طیبہ سراپا رحمت، شفقت اور محبت کا پیکر ہے۔ آپﷺ کی رحمت صرف انسانوں تک محدود نہ تھی بلکہ جانوروں، پرندوں اور تمام مخلوقاتِ عالم کو بھی محیط تھی۔ اسی لیے اللّٰہ تعالیٰ نے آپﷺ کو "رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ” (تمام جہانوں کے لیے رحمت) بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپﷺ نے اپنے قول و عمل سے یہ تعلیم دی کہ جانور بھی احساس رکھنے والی مخلوق ہیں، اس لیے ان کے ساتھ نرمی، رحم اور حسنِ سلوک کا برتاؤ کیا جائے۔ آپﷺ نے جانوروں کو بلاوجہ ایذا پہنچانے، انہیں بھوکا یا پیاسا رکھنے، ان پر طاقت سے زیادہ بوجھ لادنے، انہیں نشانہ بنا کر کھیلنے، ان کے چہروں پر داغ لگانے اور محض تفریح کی خاطر شکار کرنے سے سختی سے منع فرمایا۔ اسی طرح آپﷺ نے پرندوں کے گھونسلے اجاڑنے، ان کے انڈے یا بچّے اٹھانے اور ماں اور بچّے کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کو بھی ناپسند فرمایا، کیونکہ یہ اعمال ان بے زبان مخلوقات کے لیے اذیت اور تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔
حضرت عبداللّٰہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک سفر کے دوران بعض صحابۂ کرامؓ نے ایک پرندے کے بچّے اٹھا لیے۔ جب مادہ پرندہ بے قراری اور اضطراب کے عالم میں اپنے بچّوں کے گرد منڈلانے لگی تو رسول اللّٰہﷺ نے اس کی کیفیت دیکھی اور فرمایا: "اس کے بچّے واپس رکھ دو اور اس کی ماں کو تکلیف نہ دو”۔ اسی طرح ایک موقع پر آپﷺ نے چیونٹیوں کے ایک بل کو جلایا ہوا دیکھا تو فرمایا کہ آگ کے ذریعے سزا دینا صرف اللّٰہ تعالیٰ کا حق ہے۔ ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ہر اس عمل سے روکتا ہے جس سے کسی بے زبان مخلوق کو بلاوجہ اذیت پہنچے۔ یہ روشن مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اسلام میں جانوروں اور پرندوں کے ساتھ حسنِ سلوک محض اخلاقی فضیلت نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ اور سنّتِ نبویﷺ ہے۔ جو شخص اللّٰہ تعالیٰ کی مخلوق پر رحم کرتا ہے، وہ درحقیقت اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق بنتا ہے، اور یہی اسلامی معاشرے کی حقیقی پہچان ہے۔
جانوروں اور پرندوں کے بنیادی حقوق
1۔ خوراک اور پانی کا حق
ہر جانور اور پرندے کو مناسب خوراک اور صاف پانی فراہم کرنا اس کا بنیادی حق ہے۔ رسول اللّٰہﷺ نے ایک عورت کے متعلق فرمایا کہ وہ صرف اس وجہ سے عذاب کی مستحق ہوئی کہ اس نے ایک بلی کو باندھ رکھا، نہ اسے کھانا دیا اور نہ آزاد کیا کہ وہ خود اپنی غذا تلاش کر سکے۔
اس کے برعکس ایک گناہ گار شخص کو صرف اس لیے بخش دیا گیا کہ اس نے پیاس سے تڑپتے ہوئے ایک کتے کو پانی پلایا۔ یہ واقعہ اسلام کی بے مثال تعلیمِ رحمت کا روشن نمونہ ہے۔
2۔ ظلم سے حفاظت
اسلام ہر قسم کے ظلم کو ناجائز قرار دیتا ہے۔ جانوروں کو مارنا، زخمی کرنا، ان کے جسم پر داغ لگانا، انہیں بھوکا پیاسا رکھنا یا ان پر طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنا حرام اور قابلِ مذمت عمل ہے۔
رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: "جو کسی جاندار پر رحم کرتا ہے، اللّٰہ تعالیٰ اس پر رحم فرماتا ہے”۔
3۔ آرام اور مناسب برتاؤ کا حق
جانور بھی تھکن، بیماری اور تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ اسلام نے حکم دیا ہے کہ سواری کے جانوروں کو آرام دیا جائے، ان پر ضرورت سے زیادہ وزن نہ ڈالا جائے اور ان کی طاقت سے بڑھ کر کام نہ لیا جائے۔
4۔ بلاوجہ قتل نہ کرنا
اسلام صرف جائز ضرورت، مثلاً خوراک یا کسی حقیقی ضرر سے بچاؤ کی صورت میں جانور کو ذبح کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ محض کھیل، شوق یا تفریح کے لیے کسی جانور یا پرندے کو قتل کرنا ناجائز ہے۔
5۔ ذبح میں رحم اور آسانی
اگر کسی جانور کو ذبح کرنا ضروری ہو تو اسلام نے بھی اس میں شفقت اور حسنِ سلوک کی تعلیم دی ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، اپنی چھری کو تیز کر لو اور جانور کو آرام پہنچاؤ”۔
یہ تعلیم اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام موت کے وقت بھی جانور کو کم سے کم تکلیف پہنچانے کا حکم دیتا ہے۔
جانوروں کے حقوق اور فقہِ اسلامی
اسلامی فقہ نے جانوروں اور پرندوں کے حقوق کو نہایت جامع اور متوازن انداز میں بیان کیا ہے۔ فقہائے کرام نے قرآنِ کریم، سنّتِ نبویﷺ اور آثارِ صحابہؓ کی روشنی میں ایسے اصول و ضوابط مرتب کیے ہیں جو نہ صرف جانوروں کی جسمانی ضروریات کا تحفّظ کرتے ہیں بلکہ ان کی عزّت، راحت اور فطری حقوق کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ ان احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں جانور انسان کی ملکیت ضرور ہو سکتے ہیں، لیکن ان پر بے جا تصرف یا ظلم کی اجازت نہیں، بلکہ ان کے بارے میں بھی انسان اللّٰہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہے۔
فقہی تعلیمات کے مطابق جانوروں کے چند بنیادی حقوق یہ ہیں:
* انہیں مناسب اور بروقت خوراک اور صاف پانی فراہم کیا جائے اور بھوک و پیاس کی حالت میں نہ رکھا جائے۔
* بیمار یا زخمی ہونے کی صورت میں حتیٰ الامکان ان کا علاج اور نگہداشت کی جائے۔
* سواری، باربرداری یا کھیتی باڑی کے جانوروں پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے اور انہیں مناسب آرام کا موقع دیا جائے۔
* کسی جانور کو محض کھیل، تفریح یا مشقِ تیراندازی کے لیے نشانہ نہ بنایا جائے۔
* ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے ذبح نہ کیا جائے تاکہ اسے ذہنی اذیت نہ پہنچے۔
* ذبح سے پہلے چھری کو اچھی طرح تیز کر لیا جائے اور جانور کو کم سے کم تکلیف پہنچانے کا اہتمام کیا جائے۔
* جانوروں کو بلا ضرورت قید، تشدّد یا کسی ایسی مشقت میں مبتلا نہ کیا جائے جو ان کی طاقت سے باہر ہو۔
* پرندوں کے گھونسلے اجاڑنے، ان کے انڈے یا بچّے بلا ضرورت اٹھانے اور جانوروں کو ان کی فطری زندگی سے محروم کرنے سے اجتناب کیا جائے۔
فقہائے اسلام نے اس بات کی بھی صراحت کی ہے کہ اگر کوئی شخص جانوروں کے ساتھ ظلم و زیادتی کرتا ہے، انہیں بھوکا رکھتا ہے یا ان کے حقوق پامال کرتا ہے، تو وہ شرعاً گناہ گار ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کے حضور اس سے باز پرس ہوگی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی شریعت نے جانوروں کے حقوق کو محض اخلاقی نصیحت نہیں بنایا بلکہ انہیں شرعی ذمّہ داری اور دینی امانت قرار دیا ہے۔ یہ تمام فقہی احکام اسلام کے اس آفاقی تصورِ رحمت کی عکاسی کرتے ہیں، جس کے تحت ہر جاندار مخلوق احترام، شفقت اور حسنِ سلوک کی مستحق ہے۔ یہی جامع اور متوازن تعلیمات اسلام کو جانوروں کے حقوق کے حوالے سے ایک منفرد اور ہمہ گیر ضابطۂ حیات بناتی ہیں۔
ماحولیاتی توازن میں جانوروں اور پرندوں کا کردار
قدرتی ماحول میں ہر جانور، پرندہ اور حشرہ ایک مخصوص اور اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے کائنات کے نظام کو اس انداز سے قائم کیا ہے کہ ہر مخلوق کسی نہ کسی صورت میں ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ اگر اس زنجیر کی کوئی ایک کڑی بھی کمزور ہو جائے تو اس کے اثرات پورے ماحولیاتی نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔ پرندے بیجوں کو مختلف علاقوں تک پہنچا کر جنگلات اور نباتات کی افزائش میں مدد دیتے ہیں، جب کہ بہت سے پرندے اور دیگر جاندار نقصان دہ کیڑے مکوڑوں کی تعداد کو قابو میں رکھتے ہیں، جس سے فصلوں کا تحفّظ ہوتا ہے۔ شہد کی مکھیاں پھولوں میں گردہ افشانی (Pollination) کا عمل انجام دیتی ہیں، جو زرعی پیداوار اور پھلوں و سبزیوں کی افزائش کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اسی طرح گدھ مردہ جانوروں کو کھا کر ماحول کو آلودگی اور بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں، جب کہ دیگر جانور غذائی زنجیر (Food Chain) کو متوازن رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
اگر انسان ان مخلوقات کا بے دریغ شکار کرے، ان کے قدرتی مساکن کو تباہ کرے یا ماحول کو آلودہ کرے تو ماحولیاتی توازن بگڑ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بعض انواع ناپید ہونے لگتی ہیں، حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) میں کمی واقع ہوتی ہے، زرعی نظام متاثر ہوتا ہے، موسمی تبدیلیوں کی شدّت میں اضافہ ہوتا ہے اور قدرتی آفات کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے جانوروں اور پرندوں کا تحفّظ صرف ان پر رحم کرنے کا تقاضا نہیں بلکہ انسانی بقاء، صحت مند ماحول اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ ماحول کے تحفّظ اور حیاتیاتی تنوع کی بقاء کے لیے ضروری ہے کہ ہر جاندار کے قدرتی حقِ حیات کا احترام کیا جائے اور اس کے مسکن اور نسل کے تحفّظ کو یقینی بنایا جائے۔
جانوروں کے حقوق اور جدید سائنس
جدید حیاتیاتی اور ماحولیاتی تحقیقات سے یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ ہر جانور اور پرندہ قدرتی نظام (Ecosystem) کا ایک اہم اور ناگزیر جزو ہے۔ ہر نوع اپنے مخصوص دائرۂ کار میں ماحول کے توازن کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اگر کسی ایک نوع کی تعداد غیر معمولی طور پر کم ہو جائے یا وہ معدوم ہو جائے تو اس کے اثرات پورے ماحولیاتی نظام پر مرتب ہوتے ہیں اور قدرتی توازن بگڑ جاتا ہے۔
مثال کے طور پر شہد کی مکھیاں پھولوں میں گردہ افشانی (Pollination) کے ذریعے فصلوں اور پھل دار پودوں کی افزائش میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، گدھ مردہ جانوروں کو کھا کر ماحول کو آلودگی اور بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں، جب کہ مختلف پرندے نقصان دہ کیڑوں کی تعداد کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہر جاندار کسی نہ کسی صورت میں انسانی زندگی اور قدرتی ماحول کے استحکام سے وابستہ ہے۔
یہ حقیقت جدید سائنس نے تحقیق کے ذریعے آج نمایاں کی ہے، جب کہ اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی جانوروں کے ساتھ رحمت، حسنِ سلوک، اعتدال اور تحفّظِ ماحول کی تعلیمات دے کر اس حقیقت کی طرف رہنمائی کر دی تھی۔ اسلامی تعلیمات انسان کو یہ شعور دیتی ہیں کہ وہ زمین پر اللّٰہ تعالیٰ کا امین ہے، اس لیے اسے تمام مخلوقات کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے قدرتی توازن کے تحفّظ کی ذمّہ داری بھی ادا کرنی چاہیے۔
موجودہ دور میں ہماری ذمّہ داریاں
آج کے دور میں جنگلات کی کٹائی، آلودگی، غیر قانونی شکار اور صنعتی ترقی کے باعث بے شمار جانور اور پرندے معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ایسے حالات میں ہر فرد کی ذمّہ داری ہے کہ:
جانوروں اور پرندوں پر رحم کرے۔
انہیں خوراک اور پانی فراہم کرنے کی کوشش کرے۔
غیر قانونی شکار کی حوصلہ شکنی کرے۔
درخت لگائے تاکہ پرندوں کو محفوظ ماحول مل سکے۔
بچّوں میں جانوروں سے محبت اور ان کے حقوق کا شعور پیدا کرے۔
قدرتی وسائل اور ماحول کے تحفّظ میں اپنا کردار ادا کرے۔
جانوروں کے حقوق اور موجودہ عالمی قوانین
موجودہ دور میں دنیا کے بیشتر ممالک نے جانوروں کے تحفّظ اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف قوانین نافذ کیے ہیں، جب کہ متعدد بین الاقوامی ادارے بھی ان کے حقوق کے تحفّظ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ان قوانین اور اداروں کا بنیادی مقصد جانوروں پر ظلم و تشدّد کی روک تھام، ان کی مناسب خوراک، علاج، افزائش، محفوظ نگہداشت اور قدرتی مساکن کے تحفّظ کو یقینی بنانا ہے تاکہ ماحولیاتی توازن بھی برقرار رہے۔
اگرچہ یہ قوانین جدید دور کی اہم پیش رفت ہیں، لیکن اسلام نے آج سے چودہ سو سال قبل ہی جانوروں کے حقوق کے ایسے جامع اور متوازن اصول عطا کر دیے تھے، جن میں نہ صرف ان پر رحم و شفقت اور حسنِ سلوک کی تعلیم دی گئی، بلکہ ان کے ساتھ ظلم، ایذا رسانی اور بلا ضرورت تکلیف پہنچانے سے بھی سختی کے ساتھ منع کیا گیا۔ اس طرح اسلام نے جانوروں کے حقوق کو محض قانونی ذمّہ داری نہیں، بلکہ ایک اخلاقی، انسانی اور دینی فریضہ قرار دیا ہے۔
اسلام اور عالمی انسانی اقدار
موجودہ دور میں جانوروں اور پرندوں کے حقوق کے تحفّظ کو عالمی سطح پر ایک اہم اخلاقی اور قانونی مسئلہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک نے جانوروں پر ظلم و تشدّد کی روک تھام، ان کی فلاح و بہبود اور قدرتی مساکن کے تحفّظ کے لیے قوانین نافذ کیے ہیں، جب کہ متعدد بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ ان کوششوں کا بنیادی مقصد انسان اور دیگر جاندار مخلوقات کے درمیان ایک متوازن، پُرامن اور ذمّہ دارانہ تعلق قائم کرنا ہے۔ تاہم یہ حقیقت قابلِ غور ہے کہ اسلام نے آج سے چودہ سو برس قبل ہی ان بنیادی اصولوں کی تعلیم دے دی تھی۔ قرآنِ کریم اور سنتِ نبویﷺ نے جانوروں اور پرندوں کے ساتھ رحم، عدل، حسنِ سلوک اور ان کے حقوق کی پاسداری کو دینی فریضہ قرار دیا۔ اسلام نے واضح کیا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی ہر مخلوق احترام کی مستحق ہے اور کسی بھی جاندار پر بلاوجہ ظلم و زیادتی کرنا گناہ اور موجبِ مواخذہ ہے۔
اسلامی تعلیمات کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ محض قانونی ضوابط یا سماجی ذمّہ داریوں تک محدود نہیں رہتیں، بلکہ انسان کے دل میں اللّٰہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی، احساسِ امانت، رحم، محبت اور اخلاقی ذمّہ داری کا شعور پیدا کرتی ہیں۔ یہی باطنی تربیت انسان کو اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ صرف قانون کے خوف سے نہیں بلکہ اپنے ربّ کی رضا کے لیے ہر مخلوق کے ساتھ عدل، شفقت اور حسنِ سلوک کا رویہ اختیار کرے۔ اس اعتبار سے اسلام کا تصورِ حقوقِ حیوانات محض ایک سماجی یا قانونی نظریہ نہیں بلکہ ایک جامع اخلاقی، روحانی اور انسانی نظام ہے، جو انسان کو تمام مخلوقات کے ساتھ ذمّہ دارانہ، متوازن اور رحمت پر مبنی طرزِ عمل اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ یہی آفاقی تعلیمات اسلام کو ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے ایک مکمل اور ہمہ گیر ضابطۂ حیات بناتی ہیں۔
اسلام کا تصورِ رحمت
اسلام سراسر رحمت، محبت، عدل اور احسان کا دین ہے۔ اس کی تعلیمات انسان کو صرف اپنے ہم نوع افراد ہی کے ساتھ نہیں بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کی ہر مخلوق کے ساتھ رحم، شفقت اور حسنِ سلوک کا درس دیتی ہیں۔ اسلام کا تصورِ رحمت اس قدر وسیع اور ہمہ گیر ہے کہ اس میں انسان، جانور، پرندے، نباتات اور پوری کائنات شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسولِ اکرمﷺ کو اللّٰہ تعالیٰ نے "رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ” یعنی تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔ رسول اللّٰہﷺ نے ارشاد فرمایا: "رحم کرنے والوں پر رحمان رحم فرماتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا”۔
یہ حدیثِ مبارکہ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق بننے کا راستہ اس کی مخلوق پر رحم کرنے سے ہو کر گزرتا ہے۔ اس میں کسی قسم کی تخصیص نہیں، بلکہ ہر وہ مخلوق شامل ہے جو اللّٰہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہے۔ اسی لیے اسلام جانوروں اور پرندوں پر ظلم، انہیں بھوکا پیاسا رکھنے، بلاوجہ اذیت دینے یا ان کی فطری زندگی میں بے جا مداخلت کرنے کو ناپسند کرتا ہے، جب کہ ان کے ساتھ نرمی، مہربانی اور حسنِ سلوک کو عبادت اور باعثِ اجر قرار دیتا ہے۔
درحقیقت اسلام کا تصورِ رحمت محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر طرزِ زندگی ہے، جو انسان کے دل میں احساسِ ذمّہ داری، شفقت اور جواب دہی پیدا کرتا ہے۔ جب معاشرہ اس تعلیم کو اپنا شعار بنا لیتا ہے تو نہ صرف انسانوں کے درمیان محبت اور اخوت فروغ پاتی ہے بلکہ جانوروں، پرندوں اور ماحول کے تحفّظ کا شعور بھی پروان چڑھتا ہے۔ یہی وہ آفاقی پیغام ہے جس نے اسلام کو ہر زمانے میں رحمت، اعتدال اور انسانیت کا دین ثابت کیا ہے۔
جانوروں اور پرندوں کے حقوق کا احترام ایک مہذب، باشعور، رحم دل اور ذمّہ دار معاشرے کی نمایاں علامت ہے۔ اسلام نے انسان کو صرف اپنے ہم نوع افراد ہی کے ساتھ نہیں بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات کے ساتھ حسنِ سلوک، رحم و شفقت اور عدل و انصاف کا حکم دیا ہے۔ اسلامی تعلیمات اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ ہر جاندار اللّٰہ تعالیٰ کی مخلوق ہے، اس لیے اس کی جان، اس کی ضرورت اور اس کے فطری حقوق کا احترام کرنا ایک دینی، اخلاقی اور انسانی ذمّہ داری ہے۔ جانوروں اور پرندوں پر رحم کرنا اللّٰہ تعالیٰ کی رضا، رحمت اور اجرِ عظیم کے حصول کا ذریعہ ہے، جبکہ ان پر ظلم، بے جا تکلیف، بھوکا پیاسا رکھنا یا بلا ضرورت انہیں نقصان پہنچانا دنیا و آخرت دونوں میں مواخذے اور خسارے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ان کے ساتھ حسنِ سلوک کو عبادت کا درجہ دیا اور ان پر ظلم کو گناہ قرار دیا ہے۔
آج کے دور میں، جب ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی کٹائی، غیر قانونی شکار اور حیاتیاتی تنوع میں مسلسل کمی پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث بن چکی ہے، اسلامی تعلیمات کی اہمیت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ اگر ہم قرآن و سنّت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے جانوروں اور پرندوں کے حقوق کا احترام کریں، ان کے قدرتی مساکن کی حفاظت کریں اور ان کے ساتھ محبت، شفقت اور ذمّہ داری کا برتاؤ اختیار کریں تو نہ صرف ایک متوازن اور صحت مند ماحول قائم ہو سکتا ہے بلکہ ایک پُرامن، مہذب اور بااخلاق معاشرہ بھی تشکیل پا سکتا ہے۔ لہٰذا ہم سب کی ذمّہ داری ہے کہ جانوروں اور پرندوں کو اللّٰہ تعالیٰ کی امانت سمجھیں، ان کے حقوق کی حفاظت کریں، ان پر ہر قسم کے ظلم سے اجتناب کریں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، سرسبز اور متوازن ماحول چھوڑنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہی اسلام کی حقیقی تعلیم، انسانی اخلاق کا اعلیٰ معیار اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔
🗓️ (03.07.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○