Breaking
بدھ. جولائی 8th, 2026

نوجوانوں، خصوصاً کم عمر لڑکوں میں بڑھتی ہوئی نشے کی لت: ایک سنگین معاشرتی مسئلہ

نوجوانوں، خصوصاً کم عمر لڑکوں میں بڑھتی ہوئی نشے کی لت: ایک سنگین معاشرتی مسئلہ

نوجوانوں، خصوصاً کم عمر لڑکوں میں بڑھتی ہوئی نشے کی لت: ایک سنگین معاشرتی مسئلہ

ازقلم:حفیظ الدین
سکریٹری ،گنجریا اتحادویلفیئر سو سائٹی
7866912957

آج کے دور میں نوجوان نسل جن مسائل کا سامنا کر رہی ہے، ان میں سب سے خطرناک اور تباہ کن مسئلہ نشے کی بڑھتی ہوئی لت ہے۔ خاص طور پر کم عمر نوجوان، جو ابھی اپنی زندگی کی ابتدائی منزلوں میں ہوتے ہیں، اس لعنت کا تیزی سے شکار ہو رہے ہیں۔ سگریٹ، شراب اور دیگر منشیات جیسی چیزیں اب نہ صرف آسانی سے دستیاب ہیں بلکہ بعض حلقوں میں انہیں ایک عام یا “فیشن” کے طور پر بھی پیش کیا جا رہا ہے، جو نوجوانوں کو اس طرف راغب کر رہا ہے۔

نشہ ایک ایسی عادت ہے جو وقتی سکون یا خوشی کا احساس تو دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ انسان کی جسمانی، ذہنی اور اخلاقی تباہی کا باعث بنتی ہے۔ ابتدا اکثر سگریٹ سے ہوتی ہے، جو بظاہر معمولی لگتا ہے، لیکن آہستہ آہستہ یہ شراب اور دیگر خطرناک منشیات تک پہنچا دیتا ہے۔ ہمارے آس پاس بھی ایسے کئی لڑکے موجود ہیں جو اس بری لت کا شکار ہو چکے ہیں۔ ابتدا میں وہ محض دوستوں کے کہنے پر یا تجسس میں یہ قدم اٹھاتے ہیں، مگر بعد میں یہی عادت ان کی زندگی کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔

نوجوانوں میں نشے کے پھیلاؤ کی کئی وجوہات ہیں۔ غلط صحبت اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ جب ایک نوجوان ایسے دوستوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے جو پہلے ہی نشے کے عادی ہوں، تو وہ بھی اس راستے پر چل پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ گھریلو مسائل، والدین کی عدم توجہ، تعلیمی دباؤ، بے روزگاری اور ذہنی تناؤ بھی نوجوانوں کو اس طرف مائل کرتے ہیں۔ بعض اوقات فلموں، ڈراموں اور سوشل میڈیا پر نشے کو ایک اسٹائل کے طور پر دکھایا جاتا ہے، جو کم عمر ذہنوں کو متاثر کرتا ہے۔

نشے کے اثرات نہایت خطرناک ہیں۔ یہ نہ صرف جسم کو کھوکھلا کر دیتا ہے بلکہ انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ نشے کے عادی نوجوان تعلیم سے دور ہو جاتے ہیں، ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور وہ اپنے مستقبل کو خود برباد کر لیتے ہیں۔ بعض صورتوں میں وہ جرائم کی طرف بھی مائل ہو جاتے ہیں تاکہ اپنی نشے کی ضرورت کو پورا کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہروں کے ساتھ ساتھ اب دیہات میں بھی چوری، ڈکیتی اور دیگر جرائم کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، کیونکہ نشے کے عادی افراد اپنی لت پوری کرنے کے لیے غیر قانونی راستے اختیار کرنے لگتے ہیں۔

اب نشے کا مسئلہ صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کی جڑیں دیہات تک بھی پھیلتی جا رہی ہیں۔ پہلے دیہی معاشرہ سادگی، مضبوط خاندانی نظام اور سماجی نگرانی کی وجہ سے اس لعنت سے کافی حد تک محفوظ سمجھا جاتا تھا، لیکن اب حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ شہروں سے آسان رسائی، موبائل اور انٹرنیٹ کے ذریعے منفی رجحانات کا پھیلاؤ، اور بے روزگاری جیسے عوامل نے دیہات کے نوجوانوں کو بھی نشے کی طرف مائل کرنا شروع کر دیا ہے۔ خاص طور پر کم عمر لڑکے سگریٹ، شراب اور دیگر مضر اشیاء کی طرف راغب ہو رہے ہیں، جو نہ صرف ان کی صحت بلکہ ان کے مستقبل کے لیے بھی خطرہ ہے۔ دیہات میں آگاہی کی کمی اور مناسب نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ خاموشی سے بڑھ رہا ہے، جس پر فوری توجہ دینا بے حد ضروری ہے۔

یہ مسئلہ صرف فرد یا خاندان تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھیں، ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں صحیح راستے کی رہنمائی فراہم کریں۔ اساتذہ کو بھی چاہیے کہ وہ طلبہ میں شعور بیدار کریں اور انہیں نشے کے نقصانات سے آگاہ کریں۔

اس کے ساتھ ساتھ انتظامیہ اور پولیس کی بھی بڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ منشیات کی فروخت پر سختی سے قابو پائیں۔ تعلیمی اداروں کے آس پاس منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جو نوجوان نسل کو اس تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے سنجیدگی سے اس مسئلے کو لیں، تو اس لعنت پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ اگر یہی نوجوان نشے کی لت میں مبتلا ہو جائیں تو قوم کی ترقی کا خواب ادھورا رہ جاتا ہے۔ ہمیں بحیثیت معاشرہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور مل کر اس کے خلاف جدوجہد کرنی ہوگی، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک صحت مند، باوقار اور روشن مستقبل کی حامل بن سکیں۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے