روزنامہ سیاست کے سینئر صحافی نعیم وجاہت کی 30 سالہ بے داغ صحافتی خدمات
منکسر المزاجی اور ملنساری کو ممتاز صحافیوں اور سربرآوردہ اصحاب کا خراج تحسین.
حیدرآباد7 جولائی – روزنامہ سیاست کے سینئر صحافی، حیدرآباد جرنلسٹس ورکنگ ایسوسی ایشن کے وائس پریسیڈنٹ اور اسمبلی ایڈوائزری میڈیا کمیٹی کے رکن جناب محمد نعیم وجاہت نے صحافت کے میدان میں اپنی بے داغ، باوقار اور شاندار خدمات کے 30 سال مکمل کر لیے ہیں۔ تین دہائیوں پر محیط ان کا صحافتی سفر حق گوئی،ملنساری غیرجانبداری، عوامی مسائل کی ترجمانی اور پیشہ ورانہ دیانت داری کی ایک روشن مثال سمجھا جاتا ہے۔20 جون 1973 کو جوگی پیٹ (موجودہ ضلع سنگاریڈی) میں پیدا ہونے والے جناب محمد نعیم وجاہت کو صحافت کا ذوق اپنے والد، معروف صحافی مرحوم جناب محمد سردار جمیل سے ورثے میں ملا۔ انہوں نے تقریباً تین دہائیاں قبل روزنامہ سیاست سے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز کیا اور اس دوران عوامی، سماجی، سیاسی اور اقلیتی مسائل کو موثر انداز میں اجاگر کرتے ہوئے انہیں حکومتی ایوانوں تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ان کے صحافتی کیریئر کا ایک تاریخی باب سال 2009 میں رقم ہوا، جب انہوں نے سابق وزیراعظم ہند ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ہمراہ لندن میں منعقدہ جی-20 سربراہی اجلاس کی بطور آفیشل میڈیا نمائندہ کوریج کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے سابق وزیر جناب محمد علی شبیر کے ساتھ ایران کا سفارتی دورہ اور بھارتی ارکان پارلیمنٹ کے وفد کے ساتھ بحرین کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنی صحافتی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔محمد نعیم وجاہت نے روزنامہ سیاست میں مختلف قومی، سماجی اور سیاسی موضوعات پر سیکڑوں معلوماتی مضامین اور سنڈے آرٹیکلز تحریر کیے، جو قارئین میں بے حد مقبول ہوئے۔ انہوں نے سابق چیف منسٹرس چندرابابو نائیڈو، ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی ؛ چندرشیکھر راو اور سالار ملت سلطان صلاح الدین اویسی سابق پارلیمنٹرین سمیت متعدد اہم سیاسی شخصیات کے خصوصی انٹرویوز بھی کیے، جو ان کے صحافتی کیریئر کا اہم سرمایہ ہیں۔صحافیوں کے حقوق، فلاح و بہبود اور عوامی مسائل کی مؤثر نمائندگی کے اعتراف میں انہیں سابق چیف منسٹر کے۔ روشیا کے ہاتھوں ریاستی مولانا ابوالکلام آزاد ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ انہیں متعدد دیگر باوقار صحافتی اعزازات بھی حاصل ہو چکے ہیں۔
تین دہائیوں پر محیط یہ درخشاں سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ محمد نعیم وجاہت نے صحافت کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ عوامی خدمت کا ذریعہ سمجھتے ہوئے ہمیشہ سچائی، دیانت داری اور ذمہ دارانہ صحافت کی اعلیٰ روایات کو برقرار رکھا۔ آج بھی وہ پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے اسی جذبے کے ساتھ قوم و ملت کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔محمد نعیم وجاہت کی کامیابیوں کے پسِ پردہ ان کے بڑے بھائی، نظامیہ طبی کالج چارمینار کے ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر سلیم کی مسلسل حوصلہ افزائی، رہنمائی اور سرپرستی کا بھی اہم کردار رہا ہے۔ڈاکٹر سلیم محکمۂ طب یونانی میں گورنمنٹ میڈیکل یونانی آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ گورنمنٹ یونانی میڈیکل آفیسرس اسوسی ایشن کے سابق صدر بھی رہے، اور تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے سکریٹری ہیں نے ہر مرحلے پر اپنے بھائی کی نہ صرف اخلاقی حمایت کی بلکہ اپنی قیمتی رہنمائی سے انہیں صحافتی میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی دیا، جس کے باعث محمد نعیم وجاہت نے پیشہ ورانہ زندگی میں کئی اہم سنگ میل کامیابی سے طے کیے۔جناب نعیم وجاہت کے طویل صحافتی 30 سالہ خدمات کو صحافتی برادری نے بھی پراثر خراج تحسین پیش کیا ہے جن میں جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست ،جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روز نامہ سیاست، جناب ایم اے ماجد سابق رکن پریس کونسل آف انڈیا ،جناب مبشر خرم ،جناب محمد ریاض الدین ،جناب خلیل قادری ،جناب عزیز احمد جوائنٹ ایڈیٹر روزنامہ اعتماد، جناب شجیع اللہ فراست نیوز ایڈیٹر روزنامہ اعتماد و ڈائریکٹر 4ٹی وی ،کے علاوہ پروفیسر مصطفی علی سروری پروفیسر ایس اے شکور ڈائریکٹر دائرۃ المعارف، ڈاکٹر فاضل حسین پرویز چیف ایڈیٹر ہفت روزہ گواہ, جناب محمد امتیاز اسحاق سابق چیئرمین اقلیتی مالیتی کارپوریشن،،جناب اطہر معین اسوسی ایٹ ایڈیٹر روزنامہ منصف، جناب محمد بشیر الدین سینیئر رپورٹر رونامہ منصف، جناب یحیی قادری روزنامہ منصف، کانگرس قائد ایس اے واجد حسین،ممتاز ماہر تعلیم جناب محمد حسام الدین ریاض،جناب عابد عبدالواسع مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، جناب ایف ایم سلیم،جناب حسان عرفان، جناب خواجہ یونس روزنامہ
آداب تلنگانہ ،جناب افتخار علی واجد اردو لیکس ،جناب عزیز احمد تسلیم اردو لیکس ،جناب نوید بلال روزنامہ اعتماد کے علاوہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے وابستہ کئی صحافیوں، ادیبوں ،شعر برادری، ایڈوکیٹس اور دیگر سربر آوردہ شخصیات نے ان کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے