امریکی یومِ آزادی کا 250؍ واں جشن

امریکی یومِ آزادی کا 250؍ واں جشن

امریکی یومِ آزادی کا 250؍ واں جشن

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

ریاستہائے متحدہ امریکہ میں شدید خانہ جنگی کے بعد 4 جولائی 1776 کو آزادی کا اعلان ہوا۔ اس لیے ہرسال یومِ آزادی کے دستاویز کی منظوری کو حریت و مساوات کی علمبرداری کے طور پر منایاجاتا ہے۔ اس سال امریکہ نے آزادی کے 250 سال مکمل کرلیے اس لیے ملک بھر میں زبردست جشن منانے کا اہتمام کیا گیا ۔ مغربی ممالک میں جشن کا مطلب آتش بازی اور پریڈز کا انعقاد ہوتا ہے۔ امریکہ دارالخلافہ واشنگٹن میں جشن آزادی کی تقریبات کا سلسلہ تقریباً دو ہفتوں تک جاری ر ہا۔ ان تقریبات کا افتتاح کرتے ہوئے 24 جون کو ٹرمپ نے کہا تھا، "میں یہ اعلان کرتے ہوئے بہت خوش ہوں کہ امریکہ واپس آ گیا ہے”۔ اس اعلان سے ایسا لگتا ہے کہ وہ کہیں بھٹک یا کھو گیا تھا اور اقتدار پرفائز ہونے کے بعد ٹرمپ نے اس کی بازیافت کی اس کو پھر سے پٹری پر لے آئے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی یہی خوش گمانی ہے کہ ان کے آنے سے قبل لوگ اپنے ہندوستانی ہونے پر شرماتے تھے مگر اب فخر محسوس کرتے ہیں جبکہ حقیقت اس سے متضاد ہے۔ ہندوستانی پاسپورٹ فی الحال دنیا میں 125؍ ویں مقام پر ہے ۔ یہ فخر کی نہیں شرم کی بات ہے۔
امریکہ میں یومِ آزادی کی 250؍ ویں سالگرہ کا افتتاح کرتے ہوئےٹرمپ نے ’کل آج اور کل‘ کو جوڑتے ہوئے کہا تھا کہ ، "یہ اپنے ماضی پر فخر کرنے کا وقت ہے، لیکن یہ اپنی نگاہیں بلند کرنے، اپنے عزائم کو وسعت دینے اور اپنی توقعات بڑھانے کا وقت بھی ہے”۔ اس طرح کی چکنی چپڑی باتیں کرکے نام نہاد وشو گرو مودی اور ان کے مہاگرو ٹرمپ اپنی سیاسی روٹیاں سینکتے ہیں ۔ ان تقریبات کےاختتامی مرحلے میں واشنگٹن کے نیشنل مال کے اندر روایتی آتش بازی کا مظاہرہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ بڑے پیمانے پر کیا گیا،یہاں امریکہ کے بانی رہنماؤں کی یادگاریں واقع ہیں۔ تاہم اس سال یومِ آزادی کی تقریبات پر قدرتی آفات نے قہر ڈھایا۔ جمعہ کو گرمی اپنی شدت پر پہنچ گئی اور درجۂ حرارت 46؍ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کی پیش گوئی کی گئی ۔اس گرمی نے مختلف شہروں اور قصبوں میں تقریبات اور عوامی سرگرمیوں کے انتظامات متاثر کیا۔ اس حوالے سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سنیچر کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اگرچہ موسم کی گرمی پیش گوئی کے مطابق شدید نہیں رہی تاہم واشنگٹن ڈی سی میں عوام کی بڑی تعداد موجود ہے۔
امریکہ کے 250؍ویں یومِ آزادی کی تقریبات پر قدرتی آفات کے علاوہ انسانی بھول چوک نے بھی اثر ڈالا۔نیویارک کے بروکلین برج کے قریب آتش بازی کے دوران آگ بھڑک اٹھی جس سے تقریب دیکھنے والے افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق آتش بازی کے دوران دھواں اٹھتا اور شعلے بھڑکتے ہوئے دکھائی دیئے تاہم بعد ازاں حکام نے واضح کیا کہ آگ پل پر نہیں بلکہ آتش بازی کیلئے نصب پلیٹ فارمز پر لگی تھی۔ رپورٹس کے مطابق تقریباً ایک منٹ میں آگ بجھا دی گئی جبکہ واقعے میں کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ امریکہ کے یومِ آزادی کی تعطیل کی رات نیویارک سٹی کے علاقے کونی آئی لینڈ میں فائرنگ کے ایک واقعہ پیش آیا۔ اس میں چار بچوں سمیت کم از کم آٹھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ نے ‘اے بی سی نیوز’ ک بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے بروکلین کے علاقے ویسٹ 31ویں اسٹریٹ پر ہفتہ کی رات تقریباً 10 بج کر 37 منٹ پر فائرنگ کی اطلاع ملنے کے بعد موقع واردات پر پہنچ کر کارروائی کی۔رپورٹ کے مطابق زخمی ہونے والوں میں دو مرد، دو عورتیں اور چار بچے شامل ہیں۔این وائی پی ڈی کے مطابق زخمیوں میں سے ایک 21 سالہ عورت کی حالت نازک اور باقی سات کی تسلی بخش ہے ۔ پولیس نے موقع واردات سے ایک آتشیں اسلحہ برآمد کیا تاہم کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔
امریکہ کے 250ویں یوم آزادی کے موقع پرمنعقد ہونے والی تقریبات کی سب چونکانے والی بات یہ تھی کہ اس دوران امریکی شہریوں کے ذریعہ اسرائیلی جھنڈے جلانے والی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔امریکہ میں کئی شہریوں سے یوم آزادی کے موقع پر روایتی انداز میں آتش بازی کر کے جشن منانے اور حب الوطنی کا اظہار کرنے کے بجائے اسرائیلی جھنڈوں کو جلایا اور پیروں تلے روندا جانا تشویشناک ہے۔ان وائرل ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر امریکہ کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر ایک نئی بحث چھیڑ دی۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں امریکی شہری اسرائیل کے امریکہ پر اثر انداز ہونے اور فلسطینیوں کی نسل کشی کرنے پر شدید تنقید کرتے نظر آئے۔ اس موقع ٹرمپ کی بیان بازی پر امریکی کانگریس(ایوانِ پارلیمان ) کے ایک رکن کا کہہ دیا کہ وہ اس جشن کو اپنا سیاسی ایجنڈا فروغ دینے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ ایسا کرنا دنیا بھر کے تمام جمہوری رہنماوں کا شعار ہے اور وہ تو ان کے سرخیل ہونے کے سبب سب سے دوہاتھ آگےہیں ۔
یہ تقریبات اس ایران امریکہ جنگ کے بعد ہوئیں جس کی ابتداء رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامہ ای کی شہادت سے ہوئی تھی اوراس کاحقیقی اختتام ان کے جنازے کی تقریب نے کیا۔ ایران کے غیور عوام نے اپنے امام کی تدفین کو جنگ کےجشن فتح میں بدل کر ساری دنیا کو شہادت و شجاعت کا منفرد پیغام دیا ۔ ان تاریخوں کا انتخاب ایک حکمت کے تحت امریکی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کے ساتھ کیا گیا ۔ اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے اپنی تقریر میں ایران کا بھی ذکر کیا۔ویسے بھی اس جشن کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کا کام تیز گرمی اور طوفانی ہواوں نے کردیا تھا مگر ان قدرتی آفات نے جو کمی چھوڑی تھی اس کو صدر ٹرمپ کے اوٹ پٹانگ تبصروں نے پورا کردیا ۔ کئی گھنٹے کی تاخیر کا شکار تقریب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ انسانی تہذیب کی ’سب سے عظیم کامیابی‘ ہے اور اب ان کی قیادت میں اپنی شان و شوکت کے عروج پر ہے۔ پِیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے رواں سال کیے گئے ایک سروے میں، 29 فیصد جواب دہندگان ملک میں حالات جس طرح سے چل رہے ہیں، اُس سے مطمئن تھے۔ لیکن 69 فیصد نے کہا کہ وہ مطمئن نہیں ہیں کہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں، اسی سروے میں مطمئن اور غیرمطمئن لوگوں کا تناسب تقریباً برابر تھا۔
مادر پدر آزاد امریکہ سے اعلیٰ اخلاق کی توقع کرنا تو زیادتی ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام کا علمبردار ہونے کے سبب اسے کم از کم خوشحال تو ہونا ہی چاہیے تھا۔ معاشی میدان میں اس وقت امریکہ دنیاکا سب سے زیادہ مقروض ملک ہے اس کا قومی قرض37 کھرب ڈالر کی ریکارڈ سطح سے تجاوز کر چکا ہے جو مجموعی ملکی جی ڈی پی کا تقریباً 120 فیصد بنتا ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق ہر امریکی شہری پر اوسطاً 76 ہزار ڈالر کا قرض واجب الادا ہے۔یہ اگر شان و شوکت کا عروج ہے تو زوال کیا ہوگا؟ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ’امریکی فوج اتنی طاقتور کبھی نہیں رہی جتنی آج ہے۔‘ اس ڈینگ کی تردید پہلے افغانستان اور اب ایران نے کردی ہے۔ امریکی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے بیرونِ ملک امریکی کارروائیوں کا حوالہ دیا، جس میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو پکڑنے کی شیخی بگھاری گئی۔ کسی خود مختار ملک حکمراں کو یرغمال بناکر اس کے قدرتی وسائل کو اپنے تسلط میں کرلینا بہادری نہیں ڈکیتی ہے۔ اس پر اگر کسی ناز ہوتو اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ ایران کے خلاف کھلی شکست کے بعد یہ کہنا کہ ’امریکہ کی فوج جتنی طاقت ور آج ہے، پہلے کبھی نہ تھی‘ اور اس نے ’ایران کی فوج کو مٹا کر رکھ دیا۔‘ ایک دیوانے کی بڑ سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر اپنے منہ میاں مٹھو بنتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ’ایسا کوئی چیلنج نہیں جو امریکی پورا نہ کر سکیں، ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں ہم جا نہ سکیں، ایسا کوئی ہدف نہیں جو ہم حاصل نہ کر سکیں۔‘ کاش کے تقریب ۴؍ ماہ قبل ہوجاتی اور موصوف یہ سارے دعوے کرتے تو ممکن ہے کہ دنیا کے بہت سارے بھولے بھالے لوگ اس پر یقین بھی کرلیتے لیکن لوگ ٹرمپ کی اس گیدڑ بھپکی کو نہیں بھولے کہ جب انہوں نے کہا تھا کل پانچ ہزار سال قدیم ایک عظیم تہذیب فنا ہوجائے گی ۔ وہ انہیں پتھر کے دور میں بھیج دیں گے مگر دوسرے دن انہوں نے جنگ بندی میں توسیع کردیْ اور اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہے اس طرح سارا معاملہ ٹائیں ٹائیں فش ہوگیا۔ وہ دھمکاتے رہے کہ بہت جلد امریکی فوجی ایران میں گھس جائیں گے لیکن وہ وقت نہیں آیا۔ اس لیے یہ کہنا دنیا میں ہر جگہ وہ جاسکتے ہیں دیوانے کا ایک خواب ہے۔ وہ دعویٰ تو کرتے ہیں کہ اُنھوں نے ایران کی عسکری قوت کو تباہ کر دیا ہے لیکن اگر ایسا ہوا ہوتا تو ناک رگڑ کر امن معاہدہ نہیں کرتے ۔ وینزویلا اور ایران کی مثالیں فتح و شکست کا فرق واضح کرنے کے لیے کافی ہیں ۔ایران امریکہ جنگ میں ٹرمپ نے اس قدر قلابازیاں کھائی ہیں کہ لنگور بھی سوچ رہے ہیں یہ ہمارا باپ کہاں سے آگیا؟
(۰۰۰۰جاری)

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے