علحیدگی کے بعد جذباتی بحالی Healings after Separation

علحیدگی کے بعد جذباتی بحالی Healings after Separation

علحیدگی کے بعد جذباتی بحالی Healings after Separation

ازقلم:عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
(فیملی کاؤنسلر)
••••••••••••••

ایک یا دو طلاق, ، خلع ، علیحدگی یا کسی بھی قریبی تعلق
کا خاتمہ صرف ایک قانونی یا سماجی واقعہ نہیں بلکہ ایک جذباتی زلزلہ ہوتا ہے ۔ انسان غم، انکار، غصہ، احساسِ جرم، تنہائی، خوف اور مایوسی کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔
* جدائی کو محض ناکامی نہ سمجھا جائے بلکہ ایک تجربہ سمجھا جائے۔
* اپنے جذبات کو دبانے کے بجائے قبول کیا جائے۔
* ماضی کے تعلق کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔
* خود اعتمادی کو دوبارہ تعمیر کیا جائے۔
* معاف کرنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیت پیدا کی جائے۔
* نئی زندگی کے مقاصد متعین کیے جائیں۔
* بچوں، خاندان اور معاشرے کے ساتھ متوازن تعلق برقرار رکھا جائے۔
* "تعلق ختم ہوسکتا ہے مگر زندگی ختم نہیں ہوتی۔”

طلاق، خلع یا علیحدگی سے پہلے، بعد اور مصالحت کے دروازے پر
زندگی کے بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جب انسان خود کو دو راستوں کے درمیان کھڑا پاتا ہے۔ ایک راستہ ساتھ چلنے کا اور دوسرا جدا ہوجانے کا ۔ ازدواجی زندگی میں جب اختلافات شدت اختیار کر لیتے ہیں تو اکثر دلوں کے درمیان فاصلے لفظوں سے زیادہ خاموشیوں میں بڑھتے ہیں ۔
* علیحدگی سے پہلے کا مرحلہ عجیب کشمکش سے بھرا ہوتا ہے ۔ شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے سے شکوہ بھی رکھتے ہیں اور دل کے کسی کونے میں محبت کی چنگاری بھی باقی ہوتی ہے ۔ زبان پر ناراضی ہوتی ہے مگر دل میں یہ خواہش بھی چھپی ہوتی ہے کہ شاید کوئی معجزہ ہو جائے، شاید کوئی سمجھ لے ، شاید کوئی ہاتھ بڑھا دے۔
* فیملی کاؤنسلنگ کے دوران اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ مسئلہ نفرت کا نہیں بلکہ زخمی جذبات کا ہوتا ہے ۔ دونوں فریق ایک دوسرے سے دور ضرور ہو جاتے ہیں مگر مکمل طور پر بے تعلق نہیں ہوتے۔ شکایتوں کے انبار کے نیچے محبت کی چند سانسیں ابھی باقی ہوتی ہیں۔
جب طلاق , علحیدگی یا خلع واقع ہو جاتی ہے تو بظاہر ایک رشتہ ختم ہو جاتا ہے مگر حقیقت میں دل فوراً فیصلہ قبول نہیں کرتا۔ گھر وہی ہوتا ہے مگر رونق بدل جاتی ہے۔ بچوں کی آوازیں پہلے جیسی لگتی ہیں مگر ان کے معنی بدل جاتے ہیں۔ الماری میں رکھی ہوئی چیزیں، دیواروں پر لگی تصویریں اور روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی یادیں انسان کو بار بار ماضی کی طرف لے جاتی ہیں۔
* بعض اوقات انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وہ جس شخص سے ناراض تھا، دراصل اسی کے ساتھ زندگی کے سب سےخوبصورت لمحے وابستہ تھے۔ تب دل سوال کرتا ہے: کیا واقعی سب کچھ ختم ہو گیا ہے؟
* یہی وہ مقام ہے جہاں مصالحت کا دروازہ کھلتا ہے۔
* فیملی کاؤنسلر کا کردار صرف قانونی یا شرعی پہلو بیان کرنا نہیں بلکہ دلوں کی آواز سننا بھی ہے۔ وہ دونوں فریقوں کو الزام تراشی سے نکال کر خود احتسابی کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ انہیں یاد دلاتا ہے کہ ہر اختلاف کا حل علیحدگی نہیں اور ہر علیحدگی کے بعد واپسی کے اصول ہیں۔
* کبھی ایک معذرت، کبھی ایک آنسو، کبھی ایک سچی بات اور کبھی بچوں کی خاموش خواہش وہ کام کر جاتی ہے جو برسوں کی بحث نہ کر سکی۔
* مصالحت کا دروازہ صرف گھر کی بقا کا نام نہیں بلکہ ٹوٹے ہوئے اعتماد کی تعمیر کا نام ہے۔ یہ انا کی شکست اور محبت کی فتح کا نام ہے۔ یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ انسان کامل نہیں مگر تعلقات کو بچانے کی کوشش ضرور کر سکتا ہے۔
* اگر واپسی ممکن ہو تو اسے رحمت سمجھنا چاہیے اور اگر واپسی ممکن نہ ہو تو جدائی کو بھی وقار، احترام اور خیر خواہی کے ساتھ قبول کرنا چاہیے ۔
* کیونکہ بعض رشتے ساتھ رہ کر کامیاب ہوتے ہیں اور بعض رشتے جدا ہو کر انسان کو حکمت ، بصیرت اور پختگی سکھا جاتے ہیں۔
* فیملی کاؤنسلنگ کا اصل مقصد یہی ہے کہ کوئی فیصلہ غصے میں نہ ہو، کوئی رشتہ غلط فہمی میں نہ ٹوٹے، اور اگر ٹوٹ بھی جائے تو دلوں میں نفرت کے بجائے خیر خواہی باقی رہے۔
آخرکار زندگی کا حسن صرف ملنے میں نہیں، بلکہ احترام کے ساتھ نبھانے اور ضرورت پڑنے پر وقار کے ساتھ تعلقات کی جدائی میں ہے ۔ ایک یا دو طلاق ، خلع، علیحدگی اور ناکام رشتوں کے بعد جذباتی بحالی ، مشاہدات، نفسیاتی تحقیق اور مشاورتی تجربات کی بنیاد پر بتاتا ہے کہ تعلق کا خاتمہ زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئے سفر کا آغاز ہو سکتا ہے ۔
جب کوئی ازدواجی یا جذباتی تعلق ختم ہوتا ہے تو انسان صرف اپنے شریکِ حیات سے جدا نہیں ہوتا بلکہ اپنی بہت سی امیدوں، خوابوں ، عادتوں اور شناخت کے ایک حصے سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ اس لیے جدائی کے بعد پیدا ہونے والا غم ایک فطری عمل ہے جسے سمجھنا اور قبول کرنا ضروری ہے۔
1۔ غم کے مراحل کو سمجھنا
علیحدگی کے بعد انسان مختلف کیفیات سے گزرتا ہے:
انکار (Denial)
غصہ (Anger)
احساسِ جرم (Guilt)
خوف (Fear)
تنہائی (Loneliness)
اداسی (Depression)
قبولیت (Acceptance)
یہ تمام مراحل فطری ہیں اور ان سے گزرنا شفا یابی کا حصہ ہے۔
2۔ خود شناسی کی طرف واپسی
بعض اوقات رشتے میں انسان اپنی اصل شخصیت کھو دیتا ہے۔ جدائی کے بعد اپنے آپ کو دوبارہ دریافت کرنا ضروری ہے:
* میں کون ہوں؟
* میری اصل ترجیحات کیا ہیں؟
* میری قوتیں اور کمزوریاں کیا ہیں؟
3۔ الزام تراشی سے آگے بڑھنا۔۔
صرف سابق شریکِ حیات کو قصوروار ٹھہرانے سے زخم نہیں بھرتے۔ تعلق کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا دیانت دارانہ جائزہ لینا ضروری ہے۔
4۔ معافی کی طاقت
معافی کا مطلب غلطی کو درست قرار دینا نہیں بلکہ اپنے دل کو نفرت اور تلخی کے بوجھ سے آزاد کرنا ہے۔
5۔ نئی زندگی کی تعمیر
* نئی مہارتیں سیکھنا
* نئے دوست بنانا
* صحت کا خیال رکھنا
* زندگی کے نئے مقاصد طے کرنا
* امید کے ساتھ مستقبل کی طرف بڑھنا
6۔ بچوں کی ضروریات
اگر بچے موجود ہوں تو والدین کو اپنی ذاتی تلخیوں سے بالاتر ہو کر بچوں کی جذباتی حفاظت کو ترجیح دینی چاہیے۔
یہ خلاصہ اور بحث فیملی کاؤنسلرز کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ طلاق یا خلع صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک جذباتی، نفسیاتی اور سماجی بحران بھی ہے۔ کاؤنسلنگ کا مقصد صرف رشتہ بچانا نہیں بلکہ افراد کو جذباتی طور پر صحت مند بنانا بھی ہیے ۔ یہ بتانا بھی ہے ہے کہ ٹوٹا ہوا رشتہ انسان کی پوری زندگی کی شکست نہیں۔ اگر انسان اپنے دکھ کو سمجھ لے ، اپنی غلطیوں سے سیکھ لے ، معاف کرنا سیکھ لے اور امید کا دامن نہ چھوڑے تو وہ پہلے سے زیادہ پختہ ، باشعور اور متوازن زندگی تعمیر کر سکتا ہے ۔”یہ اصول خاص طور پر طلاق، خلع، علیحدگی، ازدواجی بحران اور فیملی کاؤنسلنگ کے میدان میں کام کرنے والوں کے لیے نہایت مفید رہنما ہے ۔

آدمی ہوں سو طرح سے تعمیر جہاں رکھتا ہوں میں

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے