گھر، قلم اور حقوقِ اہلِ خانہ ایک محرر کی گھریلو آزمائشوں کی مزاحیہ (داستان)

گھر، قلم اور حقوقِ اہلِ خانہ ایک محرر کی گھریلو آزمائشوں کی مزاحیہ (داستان)

گھر، قلم اور حقوقِ اہلِ خانہ
ایک محرر کی گھریلو آزمائشوں کی مزاحیہ (داستان)

✍️۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

تحریر و تصنیف بظاہر ایک نہایت شریف، مہذب اور علمی مشغلہ ہے۔ آدمی قلم اٹھاتا ہے، کاغذ سامنے رکھتا ہے، کتابیں کھولتا ہے، حوالہ جات ڈھونڈتا ہے اور دنیا کو یہ باور کرانے بیٹھ جاتا ہے کہ وہ قوم و ملت کی فکری خدمت میں مصروف ہے۔ مگر یہ سارا منظر اس وقت تک بڑا پُروقار رہتا ہے جب تک محرر صاحب گھر کے اندر نہیں ہوتے۔ گھر کی چار دیواری میں داخل ہوتے ہی علم و ادب کی یہ پوری سلطنت ایک نئے آئینی بحران سے دوچار ہو جاتی ہے۔ محرر صاحب کے سامنے ایک طرف مضمون ہوتا ہے اور دوسری طرف اہلِ خانہ۔ ایک طرف جملہ مکمل ہونے کے قریب ہوتا ہے اور دوسری طرف آواز آتی ہے، "ذرا یہ کام کر دیجیے!”۔ اب قلم رک گیا، خیال بھاگ گیا، اور جو جملہ ابھی ابھی ذہن میں آیا تھا، وہ بھی غالباً ناراض ہو کر ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک محرر کو پہلی مرتبہ احساس ہوتا ہے کہ حقوق العباد صرف کتابوں میں پڑھنے کی چیز نہیں، گھر میں عملی طور پر ادا کرنے کی بھی چیز ہے۔

گھر میں بیٹھ کر لکھنا بظاہر آسان کام ہے۔ آدمی سمجھتا ہے کہ کمرے کا دروازہ بند کر لیا، میز پر کاغذ رکھ لیا، موبائل ایک طرف رکھ دیا، کتابیں سامنے رکھ لیں، اب کون سا پہاڑ سر کرنا باقی ہے؟ لیکن گھر والے بھی اسی گھر میں رہتے ہیں! وہ یہ نہیں سمجھتے کہ آج محرر صاحب "عصرِ حاضر کے تہذیبی بحران” پر لکھ رہے ہیں، اس لیے عصرِ حاضر کی طرح ان سے بھی کوئی سوال نہ کیا جائے۔ ان کے نزدیک آپ گھر کے ایک فرد ہیں، اور گھر کے فرد ہونے کے تقاضے بھی ہیں۔ آپ نے قلم پکڑا تو کسی کو یاد آیا کہ بازار سے کچھ لانا ہے۔ آپ نے حوالہ تلاش کرنا شروع کیا تو کسی کو پانی چاہیے۔ آپ نے ایک نہایت فکر انگیز جملہ لکھا تو دروازے کی گھنٹی بج گئی۔ آپ نے ایک اہم اقتباس نوٹ کیا تو کسی بچّے نے پوچھ لیا: "ابو! یہ کیا لکھ رہے ہیں؟”۔ آپ نے کہا: "بیٹا، ابھی مصروف ہوں”۔ جواب آیا، "اچھا، لیکن ایک بات پوچھنی تھی۔۔۔”۔ اور وہ "ایک بات” کبھی کبھی اتنی طویل ہوتی ہے کہ مضمون کا پورا باب مکمل ہو جاتا ہے۔

تحریر کے لیے یکسوئی ضروری ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ خشوع و خضوع سے عبادت ہوتی ہے اور یکسوئی سے تحریر۔ لیکن اگر کسی محرر کو یکسوئی حاصل کرنے کے لیے گھر میں ایسا ماحول پیدا کرنا پڑے جیسے کسی حساس سرحدی علاقے میں کرفیو نافذ ہو، تو پھر معاملہ کچھ مشکوک سا معلوم ہونے لگتا ہے۔ "کوئی آواز نہ کرے!”، "دروازہ آہستہ بند کرنا!”، "فون مت کرنا!”، "بچّوں کو باہر رکھنا!”، "آج کوئی مہمان نہ آئے!”، "ٹی وی بند!”، "پنکھے کی آواز بھی کچھ زیادہ محسوس ہو رہی ہے!”۔ آخرکار گھر والوں کو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید آج گھر میں کوئی مضمون نہیں لکھا جا رہا بلکہ قومی سلامتی کا کوئی انتہائی خفیہ اجلاس ہو رہا ہے۔ حالاں کہ حقیقت صرف اتنی ہے کہ محرر صاحب کو ایک پیراگراف مکمل کرنا ہے۔ اور یہ پیراگراف بھی ایسا نہیں کہ ملک کی قسمت کا فیصلہ اسی لمحے ہونا ضروری ہو۔ لیکن قلم والے کی دنیا میں اس وقت یہی سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ گھر والے ہم سے وقت مانگتے ہیں، اور ہم کبھی کبھی اس وقت میں بھی خیانت کر بیٹھتے ہیں۔ ہم جسمانی طور پر گھر میں موجود ہوتے ہیں، مگر ذہنی طور پر کسی مضمون کے دوسرے پیراگراف میں سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ بیگم صاحبہ بات کر رہی ہوتی ہیں اور ہم سوچ رہے ہوتے ہیں: "یہاں اگر ‘فکری بحران’ کی جگہ ‘فکری انتشار’ لکھا جائے تو کیسا رہے گا؟”۔ بچّہ اسکول کی بات بتا رہا ہوتا ہے اور ہم ذہن میں سوچ رہے ہوتے ہیں: "قرآن کی اس آیت کا حوالہ یہاں زیادہ موزوں ہوگا”۔ گھر کا کوئی فرد اپنی خوشی، پریشانی یا روزمرّہ کا واقعہ سناتا ہے، اور ہم "ہممم” کہہ کر ایسے ظاہر کرتے ہیں جیسے پوری توجہ سے سن رہے ہیں، حالاں کہ اندر ہی اندر ہم ایک ایسے جملے کی تلاش میں ہوتے ہیں جو گزشتہ نصف گھنٹے سے ذہن میں نہیں آ رہا۔ یہ بھی ایک عجیب قسم کی علمی خیانت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم قوم کا وقت بچا رہے ہیں، مگر کبھی کبھی اپنے ہی گھر والوں کا وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔ اور اہلِ خانہ بھی آخر انسان ہیں۔ انہیں بھی محسوس ہوتا ہے کہ صاحبِ قلم صاحب اگرچہ گھر میں تشریف فرما ہیں، مگر ان کا ذہن کہیں اور مقیم ہے۔

پھر آتی ہے شور شرابے کی داستان۔ محرر صاحب کو خاموشی چاہیے۔ گھر والوں کو زندگی گزارنی ہے۔ بچّے اگر بچّے ہیں تو کھیلیں گے۔ برتن اگر برتن ہیں تو کھنکیں گے۔ دروازہ اگر دروازہ ہے تو بجے گا۔ موبائل اگر موبائل ہے تو کسی نہ کسی کا فون آئے گا۔ اور اگر گھر میں ایک سے زیادہ افراد ہوں تو کسی نہ کسی کی گفتگو ضرور ہوگی۔ لیکن محرر صاحب چاہتے ہیں کہ گھر میں ایسی خاموشی ہو جیسے کسی صوفی بزرگ کا حجرہ ہو۔ چنانچہ خاموشی پیدا کرنے کے لیے مختلف تدبیریں اختیار کی جاتی ہیں۔ بچّوں کو ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں منتقل کیا جاتا ہے۔ ٹی وی کی آواز کم کی جاتی ہے۔ دروازے احتیاط سے بند کیے جاتے ہیں۔ گھر کے افراد اشاروں سے گفتگو کرنے لگتے ہیں۔ اور کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محرر صاحب نہیں لکھ رہے، بلکہ پورا خاندان ان کی تحریر کا "پروجیکٹ مینجمنٹ” کر رہا ہے۔ اس ساری جدوجہد کے بعد اگر صاحب قلم ایک گھنٹے میں صرف تین سو الفاظ لکھ پائیں تو اہلِ خانہ کو غالباً یہی اطمینان ہوتا ہے کہ آج بھی مشن کامیاب رہا۔

اور اگر یہ تحریر کسی دنیاوی معاوضے کے لیے نہیں بلکہ فی سبیل اللّٰہ لکھی جا رہی ہو تو معاملہ مزید دلچسپ ہو جاتا ہے۔ محرر صاحب اپنے آپ کو تسلی دیتے ہیں، "یہ خدمتِ دین ہے”۔ مگر گھر والوں کے ذہن میں شاید ایک معصوم سا سوال گردش کر رہا ہوتا ہے، "خدمتِ دین اپنی جگہ، لیکن گھر کی خدمت کا کیا ہوگا؟”۔ یہ سوال بظاہر معمولی ہے، مگر اس کے اندر پورا فلسفۂ زندگی پوشیدہ ہے۔ کیونکہ گھر والے یہ نہیں کہتے کہ آپ کچھ نہ لکھیں۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ لکھنے والا انسان بھی رہے۔ مضمون میں انسانیت، رحمت، محبت، ایثار اور حقوق العباد پر دس صفحات لکھنے والا شخص گھر میں آ کر اگر یہ اعلان کر دے کہ "اب کوئی مجھے تیس منٹ تک نہ بلائے”، تو اہلِ خانہ کے لیے یہ ایک دلچسپ فکری تضاد ضرور بن جاتا ہے۔ اور کبھی کبھی اسی تضاد پر طعنہ بھی سننے کو مل جاتا ہے، "آپ تو دوسروں کو وقت دینے اور محبت کرنے پر مضامین لکھتے ہیں!”۔ یہ جملہ بظاہر مختصر ہوتا ہے، مگر ایک محرر کے لیے اس میں کم از کم تین سو صفحات کا مواد موجود ہوتا ہے۔

گھر والوں کے بعض جملے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر طعنہ معلوم ہوتے ہیں، مگر صاحبِ قلم کے لیے وہ مستقبل کے مضمون کا عنوان بن جاتے ہیں۔ مثلاً: "آپ کو تو ہر وقت لکھنے کی پڑی رہتی ہے!”۔ محرر فوراً سوچتا ہے: "کتنا عمدہ عنوان ہے: وقت، ترجیحات اور خاندانی زندگی!”۔ یا: "ہم سے بات کرنے کا بھی وقت نہیں!”۔ ذہن کہتا ہے: "یہ تو حقوق العباد کے موضوع پر بہترین تمہید ہے!”۔ پھر گھر والے اگر یہ دیکھ لیں کہ ان کے شکوے بھی صاحبِ قلم کے لیے علمی مواد بن رہے ہیں تو شاید وہ آئندہ شکایت کرنا بھی بند کر دیں۔ لیکن اس کے بعد مضمون کہاں سے آئے گا؟ یہ بھی ایک مسئلہ ہے۔

اس تمام مزاحیہ داستان کے باوجود ایک حقیقت ایسی ہے جس کا اعتراف نہ کیا جائے تو واقعی خیانت ہوگی۔ الحمدللّٰہ! گھر والے ہمیشہ شکایت کرنے والے نہیں ہوتے۔ بہت سے گھرانے ایسے ہیں جہاں اہلِ خانہ اپنے کسی فرد کی علمی، دینی یا قلمی مصروفیت کو نہ صرف برداشت کرتے ہیں بلکہ خاموشی سے اس کے لیے قربانیاں بھی دیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ تحریر محض کاغذ پر الفاظ سجانے کا نام نہیں۔ اس کے پیچھے کئی گھنٹوں کی تنہائی، مطالعہ، غور و فکر، ذہنی کشمکش اور بار بار کی اصلاح ہوتی ہے۔ کبھی وہ اپنے حصّے کا سکون چھوڑ دیتے ہیں، کبھی اپنی خواہش مؤخر کر دیتے ہیں، کبھی بچّوں کو سمجھا دیتے ہیں، کبھی غیر ضروری مصروفیت سے بچتے ہیں اور کبھی صرف اس لیے خاموش رہتے ہیں کہ گھر کا ایک فرد اپنے قلم کے ذریعے کسی بڑے مقصد کے لیے کچھ لکھ رہا ہے۔ یہ خاموش تعاون بسا اوقات خود ایک غیر مرئی تحریر ہوتا ہے، جس کا کوئی عنوان نہیں ہوتا، مگر جس کے بغیر بہت سی تحریریں وجود میں نہیں آتیں۔

الحمدللّٰہ! سمجھدار اور عفو و درگزر سے کام لینے والے گھر والے کسی بھی محرر کے لیے اللّٰہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ صاحبِ قلم کبھی کبھی واقعی "قلم میں گم” ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ کبھی ذہن میں ایک خیال آتا ہے تو اسے فوراً لکھنا ضروری ہوتا ہے، ورنہ وہ خیال بھی مہمان کی طرح آتا ہے، سلام کرتا ہے اور پھر بغیر اطلاع کے واپس چلا جاتا ہے۔ ایسے میں اگر گھر والے ہر بار حساب کتاب شروع کر دیں: "کل کتنے منٹ لکھا؟”۔ "آج کتنے منٹ ہمارے لیے نکالے؟”۔ "گزشتہ ہفتے کتنی بار آپ نے کہا کہ ابھی مصروف ہوں؟”۔ تو شاید کوئی بھی محرر تین دن سے زیادہ زندہ نہ رہ سکے! لیکن گھر والے اگر درگزر کریں، تعاون کریں اور کبھی کبھی محرر کی غیر حاضری کو بھی اس کی مجبوری سمجھیں تو یہ دراصل اس کے قلم کے پیچھے ایک عظیم خاندانی سرمایہ کاری ہے۔

تاہم شاید اصل کامیابی یہ نہیں کہ محرر نے گھر میں مکمل خاموشی حاصل کر لی۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ خاموشی اور حقوقِ اہلِ خانہ کے درمیان توازن پیدا کر لے۔ تحریر اہم ہے، مگر گھر والے بھی اہم ہیں۔ قلم ایک امانت ہے تو رشتے بھی امانت ہیں۔ قوم و ملّت کے لیے لکھنا باعثِ سعادت ہے، مگر اپنے گھر والوں کے حقوق ادا کرنا بھی دین ہی کا حصّہ ہے۔ اگر ایک مضمون لکھنے کے لیے ہم گھر والوں کے سکون، محبت اور وقت کو مسلسل قربان کرتے رہیں تو شاید ہماری تحریر میں "حقوق العباد” کا مضمون تو موجود ہو، مگر اس کی روح ہمارے گھر کی دہلیز پر کہیں زخمی پڑی ہو۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ گھر میں لکھنے والا شخص کبھی قلم کو روک کر گھر والوں کی طرف بھی دیکھ لیا کرے۔ کبھی بچّے کی بات پوری سن لے۔ کبھی شریکِ حیات کے ساتھ چند لمحے بیٹھ جائے۔ کبھی اہلِ خانہ کے ساتھ چائے پی لے۔ اور کبھی اپنے مضمون کے لیے مواد تلاش کرنے کے بجائے گھر والوں کے چہروں پر خوشی تلاش کرے۔ کیونکہ ممکن ہے کہ آنے والی نسلوں کے لیے لکھی گئی ہماری سب سے خوبصورت تحریر وہ نہ ہو جو کاغذ پر محفوظ ہوئی، بلکہ وہ محبت ہو جو ہمارے گھر والوں کے دل میں محفوظ رہ گئی۔

پس اے صاحبانِ قلم! گھر میں لکھتے وقت کمرے کا دروازہ بند کر لیجیے، مگر دل کا دروازہ بند نہ کیجیے۔ خاموشی ضرور مانگیے، مگر گھر والوں کی آواز کو "شور” نہ سمجھیے۔ اپنی یکسوئی ضرور بچائیے، مگر اہلِ خانہ کے حصّے کے وقت میں خیانت نہ کیجیے۔ اور اگر کبھی کوئی بچّہ آپ کے لکھتے ہوئے آ کر کہہ دے: "ابو! میری بات سنیں۔۔۔” تو قلم کچھ دیر کے لیے رکھ دیجیے۔ ہو سکتا ہے آپ کے سامنے اس وقت دنیا کا سب سے اہم مضمون نہیں، بلکہ آپ کی زندگی کا سب سے اہم قاری بیٹھا ہو۔ اور ہاں، اگر گھر والے کبھی یہ طعنہ دے دیں کہ "آپ دوسروں کے لیے تو بہت کچھ لکھتے ہیں، ہمارے لیے کب وقت نکالیں گے؟” تو اسے تنقید نہ سمجھیے۔ ممکن ہے یہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے لیے ایک مختصر مگر نہایت بامعنی حاشیہ ہو: "جن کے درمیان رہ کر تم نے یہ تحریر لکھی ہے، ان کے حقوق بھی ادا کرتے رہو!”۔ تب شاید قلم بھی مسکرائے، گھر والے بھی مسکرائیں، اور محرر صاحب بھی اطمینان سے کہہ سکیں: الحمدللّٰہ! آج ایک مضمون بھی مکمل ہوا اور ایک حق بھی ادا ہوا۔
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے