تلنگانہ میں جاری ایس آئی آر. مسودہ فہرستِ رائے دہندگان کی کہانی، اعداد کی زبانی

تلنگانہ میں جاری ایس آئی آر. مسودہ فہرستِ رائے دہندگان کی کہانی، اعداد کی زبانی

تلنگانہ میں جاری ایس آئی آر.
مسودہ فہرستِ رائے دہندگان کی کہانی، اعداد کی زبانی

تحریر: محمد اعجاز الدین احمد عاجزؔ
رابطہ:9700389755

تلنگانہ میں خصوصی جامع نظرِ ثانی کے تحت فہرستِ رائے دہندگان کی جانچ پڑتال اور نظرِ ثانی کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے والے اعداد و شمار نے انتخابی منظرنامے میں ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے۔ نظرِ ثانی سے قبل ریاست کی فہرستِ رائے دہندگان میں شامل ناموں میں سے ۲۱ء۷ فی صد نام حذف کیے گئے ہیں، جو اب تک خصوصی جامع نظرِ ثانی سے گزرنے والی ریاستوں میں سب سے بلند شرح ہے۔اگرچہ مسودۂ فہرستِ رائے دہندگان میں تصحیح اور اعتراضات کے مرحلے کے بعد نئے نام شامل کیے جائیں گے اور ابتدائی مرحلے میں حذف ہونے والے بعض نام دوبارہ درج بھی ہو سکتے ہیں، تاہم اس ممکنہ ردوبدل کے باوجود موجودہ اخراج کی شرح غیر معمولی طور پر بلند ہے۔ تقابلی طور پر اتر پردیش میں یہ شرح ۱۸ء۷ فی صد، تمل ناڈو میں ۱۵ء۲ فی صد اور گجرات میں ۱۴ء۵ فی صد رہی۔ یوں تلنگانہ کی صورتِ حال محض فہرست رائے دہندگان میں معمول کی اصلاح و تطہیر کا معاملہ نہیں رہتی، بلکہ یہ جانچنے کی ضرورت پیدا کرتی ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج کے پسِ پشت کون سے عوامل کارفرما رہے اور اس کا اہلِ رائے دہی پر ممکنہ اثر کیا ہو سکتا ہے۔
آج کا جائزہ بالخصوص اسی پہلو پر مرکوز ہے کہ تلنگانہ میں اخراج کی شرح کہاں اور کیوں غیر معمولی طور پر بلند رہی۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا سب سے نمایاں مرکز حیدرآباد اور اس سے متصل شہری حلقے ہیں، جہاں آبادی کی مسلسل نقل مکانی اور رہائشی تبدیلیاں فہرستِ رائے دہندگان کی درستگی اور تسلسل کے لیے ایک پیچیدہ انتظامی چیلنج بن چکی ہیں۔
تلنگانہ کے 119 اسمبلی حلقوں میں 21 حلقے ایسے ہیں جہاں ناموں کے اخراج کی شرح 35 فیصد یا اس سے زیادہ رہی، اور ان میں سے 19 حلقے انتہائی شہری علاقوں میں واقع ہیں۔ حیدرآباد کے متعدد حلقوں میں یہ شرح 40 فیصد کی حد بھی عبور کر گئی۔ مشیرآباد میں 45.2 فیصد، صنعت نگر میں 44.9 فیصد، ملک پیٹ میں 44.8 فیصد، لال بہادر نگر میں 44.4 فیصد، جوبلی ہلز میں 44.1 فیصد، سکندرآباد کنٹونمنٹ میں 42.8 فیصد اور شیری لنگم پلی میں 42.7 فیصد نام حذف کیے گئے۔یہ تفاوت شہری اور دیہی آبادیوں کے درمیان بھی نمایاں ہے۔ انتہائی شہری حلقوں میں اخراج کی شرح 40.38 فیصد رہی، جبکہ نسبتاً شہری حلقوں میں یہ 29.83 فیصد، نسبتاً دیہی حلقوں میں 12.37 فیصد اور انتہائی دیہی حلقوں میں صرف 11.92 فیصد تھی۔ اس فرق سے اندازہ ہوتا ہے کہ خصوصی جامع نظرِ ثانی کا سب سے گہرا اثر شہری فہرستِ رائے دہندگان پر پڑا ہے۔
نقل مکانی: اخراج کی بڑی وجہ
اخراج کی وجوہ کا جائزہ اس صورتِ حال کی ایک اہم کڑی فراہم کرتا ہے۔ پورے تلنگانہ میں حذف کیے گئے ناموں میں 61.58 فیصد ایسے رائے دہندگان کے ہیں جنہیں منتقل شدہ قرار دیا گیا، 16.73 فیصد غیر حاضر، 12.57 فیصد متوفی اور 9.13 فیصد دوہرے اندراج سے متعلق ہیں۔تاہم، یہ شرح اضلاع کے بڑے شہروں کے مقابلے میں حیدرآباد سے متصل نیم شہری علاقوں میں رائے دہندگان کے نام حذف کیے جانے کے باعث زیادہ رہی۔ رنگا ریڈی ضلع کے مہیشورم 41 فیصد اور راجندر نگر 38.9 فیصد، سنگاریڈی ضلع کے پٹھان چیرو 31.9 فیصد اور میڈچل-ملکاجگیری ضلع کے میڑچل 31.5 فیصد میں رائے دہندگان کے نام حذف کیے جانے کی شرح انتہائی شہری حلقوں کی سطح کے برابر یا اس سے بھی زیادہ رہی۔ اسی زمرے کے دیگر شہری حلقوں میں یہ شرح نسبتاً کم رہی، جن میں ونگل ویسٹ 28.9 فیصد، نظام آباد اربن 27 فیصد، کھمم 24.6 فیصد اور ورنگل ایسٹ 19.5 فیصد شامل ہیں۔اس کے برعکس، نسبتاً دیہی اور انتہائی دیہی حلقوں میں رائے دہندگان کے نام حذف کیے جانے کی شرح نمایاں طور پر کم رہی ۔تاہم، نسبتاً دیہی حلقوں میں بھی نام حذف کیے جانے کی بعض بلند شرحیں حیدرآباد سے متصل یا اس کے قرب و جوار کے علاقوں میں سامنے آئیں۔ انتہائی دیہی حلقوں میں اچم پیٹ 16 فیصد، مکتھل 15.7 فیصد، مدھول 14.9 فیصد اور یلندو 14.6 فیصد میں رائے دہندگان کے نام حذف کیے جانے کی شرح سب سے زیادہ رہی۔
حیدرآباد جیسے بڑے اور تیزی سے پھیلتے ہوئے شہر میں روزگار، کاروبار، تعلیم اور رہائش کی غرض سے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل ہونا معمول کا حصہ ہے۔ کرائے کے مکانات اور عارضی رہائش کے بڑھتے ہوئے رجحان نے بھی شہری آبادی کو نسبتاً متحرک رکھا ہے۔ ایسی صورت میں یہ امکان فطری طور پر بڑھ جاتا ہے کہ کسی رائے دہندہ کا نام سابقہ پتے پر برقرار رہے، جبکہ نئے پتے پر اس کا اندراج بروقت نہ ہو سکے۔یہیں سے اس پورے عمل کا سب سے اہم سوال سامنے آتا ہے: کیا فہرست سے حذف کیے گئے تمام نام واقعی ایسے رائے دہندگان کے ہیں جو اپنے سابقہ حلقے سے مستقل طور پر منتقل ہو چکے ہیں؟اگر کوئی رائے دہندہ حیدرآباد کے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل ہو جائے، لیکن نئے پتے پر اس کا نام ابھی درج نہ ہوا ہو، تو سابقہ حلقے سے نام حذف ہونے کے بعد وہ ایک عبوری مدت کے لیے فہرستِ رائے دہندگان سے باہر ہو سکتا ہے۔ اس لیے محض حذف کیے گئے ناموں کی تعداد کو خصوصی جامع نظرِ ثانی کی کامیابی یا ناکامی کا پیمانہ قرار دینا کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان ناموں میں سے کتنے واقعی غیر اہل تھے اور کتنے ایسے اہل رائے دہندگان تھے جنہیں محض رہائشی تبدیلی کے باعث ایک فہرست سے دوسری فہرست تک منتقلی کے مرحلے سے گزرنا پڑا۔
دعووں اور اعتراضات کا مرحلہ فیصلہ کن ہوگا
اسی تناظر میں دعووں اور اعتراضات کا مرحلہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ یہی مرحلہ واضح کرے گا کہ ابتدائی طور پر حذف کیے گئے کتنے نام حتمی طور پر خارج رہتے ہیں اور کتنے حقیقی رائے دہندگان دوبارہ فہرستِ رائے دہندگان کا حصہ بنتے ہیں۔ چنانچہ موجودہ اعداد و شمار کو حتمی صورتِ حال سمجھنے کے بجائے انہیں ایک عبوری تصویر کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔خواتین اور مرد رائے دہندگان کے تناسب میں، تاہم، معمولی بہتری دکھائی دیتی ہے۔ خصوصی جامع نظرِ ثانی سے قبل ہر ایک ہزار مرد رائے دہندگان کے مقابلے میں خواتین رائے دہندگان کی تعداد ۱۰۱۸تھی، جو مسودۂ فہرست میں بڑھ کر ۱۰۲۸ہو گئی۔ بظاہر یہ ایک مثبت تبدیلی ہے، تاہم حتمی فہرست کے اجرا کے بعد ہی یہ طے ہو سکے گا کہ یہ تناسب برقرار رہتا ہے یا اس میں کوئی تبدیلی آتی ہے۔
اصل امتحان۔ تطہیر کے ساتھ حقِ رائے دہی کا تحفظ
انتخابی فہرستوں سے غیر اہل، متوفی اور دوہرے اندراجات کا خاتمہ ایک ضروری انتظامی عمل ہے۔ درست اور قابلِ اعتماد فہرستِ رائے دہندگان شفاف اور منصفانہ انتخابات کی بنیادی ضرورت ہے۔ لیکن اسی قدر اہم یہ امر بھی ہے کہ اصلاح اور تطہیر کے عمل میں کوئی حقیقی اور اہل رائے دہندہ محض انتظامی دشواری، رہائشی نقل مکانی یا اندراج کی منتقلی میں تاخیر کے باعث اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ ہو۔خصوصاً حیدرآباد جیسے مسلسل پھیلتے اور تیز رفتار آبادیاتی تبدیلیوں سے دوچار شہر میں رہائشی نقل مکانی اور انتخابی اندراج کے نظام کے درمیان مؤثر ربط اب محض انتظامی سہولت نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ رائے دہندگان کے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل ہونے کی صورت میں سابقہ اور نئے انتخابی اندراج کے درمیان مربوط نظام قائم ہو تو فہرست کی درستگی بھی برقرار رہ سکتی ہے اور حقیقی رائے دہندگان کے نام کے غیر ضروری اخراج کا خدشہ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
اس لیے خصوصی جامع نظرِ ثانی کی کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنے نام حذف کیے گئے؛ بلکہ اصل معیار یہ ہے کہ حذف کیے گئے ناموں میں سے کتنے واقعی غیر اہل تھے، کتنے اہل رائے دہندگان دوبارہ فہرستِ رائے دہندگان میں شامل ہوئے، اور حتمی فہرست میں اہل شہریوں کی نمائندگی کس حد تک برقرار رہی۔حیدرآباد کے موجودہ اعداد و شمار اسی لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ دعووں اور اعتراضات کے مرحلے کے بعد سامنے آنے والی حتمی فہرستِ رائے دہندگان نہ صرف موجودہ اعداد و شمار کی اصل تصویر واضح کرے گی بلکہ یہ بھی طے کرے گی کہ شہری حلقوں میں ہونے والی یہ بڑی تبدیلی انتخابی نقشے کو کس حد تک متاثر کرتی ہے۔ کیونکہ اس عمل کے اختتام پر صرف فہرست کے اعداد و شمار نہیں بدلیں گے، بلکہ ان کے ساتھ بعض حلقوں کا انتخابی وزن، رائے دہندگان کی سیاسی قوت اور بالآخر ریاست کا سیاسی توازن بھی بدل سکتا ہے۔
ابتدائی اور حتمی خصوصی نظرثانی شدہ انتخابی فہرستوں میں حذف کیے گئے رائے دہندگان کا تجزیہ
زیادہ تر بڑی ریاستوں میں ابتدائی اور حتمی خصوصی نظرثانی شدہ فہرست رائے دہندگان کے درمیان حذف کیے گئے رائے دہندگان کی تعداد میں کوئی نمایاں فرق نہیں آیا۔
حذف کی شرح کا تقابل ایس آر سے پہلے کے اعداد و شمار کے ساتھ ریاست
حتمی فہرست کی شرح کا فی صد مسودہ فہرست کی شرح کا فی صد
ابھی جاری نہیں ہوئی 21.7 تلنگانہ
13.2 18.7 اتر پردیش
11.6 15.2 تمل ناڈو
13.4 14.5 گجرات
11.8 12.9 چھتیس گڑھ
3.2 8.7 کیرالا
6.4 8.2 بہار
5.7 7.7 راجستھان
8.1 7.6 مغربی بنگال
6 7.5 مدھیہ پردیش
شہری علاقوں میں رائے دہندگان کے ناموں کا حذف زیادہ مرتکز رہا
21 انتہائی شہری اسمبلی حلقوں میں تقریباً ہر 10 میں سے 4 رائے دہندگان کے نام فہرست سے حذف کیے گئے۔
تمام تلنگانہ انتہائی شہری درمیانہ شہری درمیانہ دیہی انتہائی دیہی پیمانہ
119 21 12 65 21 اسمبلی حلقہ جات
24.89 13.84 47.24 14.02 ایس آئی آر سے پہلے رائے دہندگان کا فی صد
18.95 12.40 52.87 15.78 ایس آئی آر کے بعد رائے دہندگان کا فی صد
1,018 954 996 1,052 1,044 ایس آئی آر سے پہلے فی ہزار مرد کے مقابل خواتین کا تناسب
1,028 1,004 1,027 1,038 1,025 ایس آئی آر کے بعد فی ہزار مرد کے مقابل خواتین کا تناسب
73,39,235 34,00,000 13,96,366 19,77,351 5,65,518 حذف کیے گئے رائے دہندگان
21.7 40.38 29.83 12.37 11.92 حذف کا فی صد
61.58 69.38 61.96 50.54 52.28 منتقل شدہ رائے دہندگان کا فی صد
16.73 19.50 20.23 12.10 7.58 غیر حاضر رائے دہندگان کا فی صد
12.57 7.11 8.46 21.18 25.42 متوفی زمرہ کا فی صد
9.13 4.02 9.34 16.18 14.72 دہرے اندراجات کا فی صد
اہم نکات
تفصیل نکتہ
73,39,235 کل حذف کیے گئے رائے دہندے
فی صد21.7 تلنگانہ میں مجموعی حذف
فی صد40.38 انتہائی شہری حلقوں میں حذف
21 انتہائی شہری حلقے
فی صد29.83 درمیانے شہری حلقوں میں حذف
فی صد11.92 انتہائی دیہی حلقوں میں حذف
فی صد12.37 درمیانے دیہی حلقوں میں حذف
انتہائی شہری علاقوں میں ۔ 40.38فی صد سب سے زیادہ حذف
نوٹ:جدول میں پیش کیے گئے اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ ووٹر فہرستوں سے ناموں کے اخراج کا عمل دیہی علاقوں کے مقابلے میں شہری علاقوں میں کہیں زیادہ وسیع رہا۔ بالخصوص 21 انتہائی شہری اسمبلی حلقوں میں تقریباً 40.4 فیصد رائے دہندگانکے نام حذف کیے گئے، یعنی ہر دس میں سے تقریباً چار ووٹر اس عمل سے متاثر ہوئے۔ اس کے مقابلے میں پورے تلنگانہ میں حذف کیے گئے ناموں کی مجموعی شرح 21.7 فیصد رہی۔ یہ اعداد و شمار اس امر کی نمایاں نشاندہی کرتے ہیں کہ ناموں کے اخراج کا سب سے زیادہ اثر ریاست کے گنجان شہری علاقوں میں دیکھا گیا۔
حلقہ وار حذف ہونے والے ناموں کی مجموعی تقسیم
حلقوں کی تعداد مسودہ فہرست میں ناموں کے حذف ہونے کا فی صد
26 10 فی صد سے کم
44 فی صد10–15
20 فی صد15–25
8 فی صد25–35
21 یا اس سے زیادہ فی صد35
119 کل
سب سے زیادہ اور کم حذف ہونے کی شرح
حذف ہونے کی شرح (فی صد میں) اسمبلی حلقہ
45.2 مشیرآباد سب سے زیادہ
44.9 صنعت نگر
44.8 ملک پیٹ
44.1 جوبلی ہلز
42.8 سکندرآباکنٹونمنٹ
4.3 سب سے کم آلیر
حیدرآباد ضلع کے اسمبلی حلقہ جات سے متعلق اعداد و شمار
تعداد / شرح حیدرآباد ضلع سے متعلق اعداد و شمار
15 کل اسمبلی حلقے
9 چالیس فی صد یا اس سے زیادہ حذف والے حلقے
5 ۳۷ تا ۳۹ فی صد حذف والے حلقے
1 باقی حلقہ
فی صد45.2 مشیرآباد
فی صد44.9 صنعت نگر
فی صد 44.8 ملک پیٹ
فی صد 44.1 جوبلی ہلز
فی صد 42.8 سکندر آباد کنٹونمنٹ

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے