ایک استعفیٰ، کئی سوالات
ناگیندر کے معاملے میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کٹہرے میں
از: عبدالحلیم منصور
جمہوریت میں اسمبلی کا اجلاس محض چند دنوں کے لیے منتخب نمائندوں کا ایک جگہ جمع ہونا نہیں ہوتا۔ یہ وہ آئینی فورم ہے جہاں حکومت سے سوال کیا جاتا ہے، فیصلوں کا حساب مانگا جاتا ہے، عوامی رقم کے استعمال کی جانچ ہوتی ہے اور ریاست کے سلگتے ہوئے مسائل کو سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ لیکن کرناٹک کا حالیہ مانسون اجلاس ایک ایسے سیاسی تعطل کی نذر ہوگیا جس میں ایک وزیر کے استعفے کا مطالبہ اس قدر غالب آگیا کہ خود ایوان کی کارروائی پس منظر میں چلی گئی۔ اب جبکہ 28 اگست کو متنازع وزیر بی ناگیندر نے دوبارہ وزارت سے استعفیٰ دے دیا ہے، پورا واقعہ ایک نئے اور زیادہ بنیادی سوال کے سامنے کھڑا ہے: اگر استعفیٰ بالآخر دینا ہی تھا تو اسمبلی کا قیمتی وقت کیوں ضائع ہونے دیا گیا؟
ڈی کے شیوکمار کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد یہ پہلا اہم مانسون اجلاس تھا۔ سرکاری پروگرام کے مطابق اسمبلی کا دسواں اجلاس 13 اگست سے 27 اگست تک جاری رہنا تھا، لیکن 24 اگست کو ہی اسے غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔ اس تعطل کا مرکزی سبب بی ناگیندر کے استعفے کے مطالبے پر بی جے پی اور جے ڈی ایس کا مسلسل احتجاج تھا۔ اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ والمیکی درج فہرست قبائل ترقیاتی کارپوریشن کے مبینہ مالی بے ضابطگی کے معاملے میں الزامات کا سامنا کرنے والے ناگیندر کو دوبارہ کابینہ میں شامل کرنا ناقابل قبول ہے۔ حکومت کا جواب تھا کہ اپوزیشن احتجاج کے بجائے ایوان میں بحث کرے۔
اپوزیشن کا یہ مطالبہ سرے سے بے بنیاد قرار نہیں دیا جاسکتا۔ والمیکی کارپوریشن معاملہ 2024 سے حکومت کے لیے ایک سنگین سیاسی اور انتظامی مسئلہ بنا ہوا ہے۔ کارپوریشن کے اکاؤنٹس سپرنٹنڈنٹ پی چندرشیکھرن کی خودکشی اور ان کے چھوڑے گئے نوٹ کے بعد مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آیا۔ تحقیقات کے دوران تقریباً 89.63 کروڑ روپے کی مبینہ غیر مجاز منتقلی کا معاملہ سامنے آیا اور ناگیندر نے جون 2024 میں اُس وقت کی سدارامیا حکومت میں وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔ بعد ازاں تحقیقات مزید آگے بڑھیں اور جون 2026 میں سی بی آئی نے ناگیندر سمیت 30 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔ سی بی آئی کے مطابق تقریباً 89.63 کروڑ روپے جعلی چیکس اور آر ٹی جی ایس لین دین کے ذریعے منتقل کیے گئے اور رقم کو متعدد بینک کھاتوں کے ذریعے گھمایا گیا۔
لیکن یہاں ایک بنیادی قانونی اصول فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ چارج شیٹ جرم کا عدالتی فیصلہ نہیں ہوتی۔ ناگیندر نے اپنے خلاف الزامات سے انکار کیا ہے۔ لہٰذا ذمہ دار صحافت اور سنجیدہ پارلیمانی بحث میں تفتیشی اداروں کے الزامات، سیاسی دعووں اور عدالت سے ثابت شدہ جرم کے درمیان واضح فرق برقرار رہنا چاہیےاصل سیاسی سوال اس کے باوجود اپنی جگہ موجود ہے کہ جب ناگیندر اسی معاملے کے دوران 2024 میں وزارت چھوڑ چکے تھے، تحقیقات جاری تھیں اور معاملہ ختم نہیں ہوا تھا تو 3 اگست 2026 کو انہیں دوبارہ کابینہ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟
3 اگست کو کابینہ توسیع کے دوران بی ناگیندر کی دوبارہ وزارتی شمولیت نے ایک اہم سیاسی سوال ضرور کھڑا کیا۔ چونکہ وہ اسی معاملے میں پہلے وزارت چھوڑ چکے تھے، اس لیے حکومت کو ان کی واپسی کی بنیاد اور موجودہ قانونی صورتِ حال مختصراً واضح کرنی چاہیے تھی۔ اگر کوئی قانونی رکاوٹ نہیں تھی تو حکومت یہ مؤقف ایوان میں حقائق کے ساتھ رکھ سکتی تھی، تاکہ فیصلے پر اٹھنے والے سوالات کا جواب ریکارڈ پر موجود ہوتا۔ مگر ایسا ہونے کے بجائے حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو ایوان نہ چلنے کا ذمہ دار ٹھہراتے رہے۔
اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ ناگیندر استعفیٰ دیں، تب ہی وہ معمول کی کارروائی میں حصہ لے گی۔ بی جے پی اور جے ڈی ایس کے ارکان احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچے، نعرے لگائے اور کارروائی متاثر ہوئی۔ 24 اگست کو بھی یہی صورت حال برقرار رہی، یہاں تک کہ اسپیکر نے مقررہ مدت ختم ہونے سے تین دن پہلے ایوان کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا۔یہاں بی جے پی اور جے ڈی ایس سے ایک سیدھا سوال بنتا ہے کہ اگر ناگیندر کا معاملہ اتنا اہم تھا کہ حکومت کو جواب دہ بنانا ضروری تھا تو اسی معاملے کو ایوان میں بار بار بحث کا موضوع بنا کر حکومت کو ریکارڈ پر جواب دینے پر مجبور کیوں نہیں کیا گیا؟ ۔ سوالات کیے جاسکتے تھے، دستاویزات طلب کی جاسکتی تھیں، وزیر کے سابقہ استعفے اور دوبارہ تقرری کے درمیان تضاد کو سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنایا جاسکتا تھا، تحقیقاتی اداروں کی کارروائی پر وضاحت مانگی جاسکتی تھی اور بجٹ و ضمنی مطالبات پر حکومت کو گھیرتے ہوئے ناگیندر معاملے کو مسلسل سیاسی دباؤ کا مرکز بنایا جاسکتا تھا۔ اگر حکومت جواب دینے سے گریز کرتی تو اس کا گریز بھی اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ بنتا۔لیکن احتجاج نے بحث کی جگہ لے لی۔اور اس کا نقصان صرف حکومت یا اپوزیشن میں سے کسی ایک کو نہیں ہوا بلکہ نقصان اس عوامی نمائندگی کا ہوا جس کے لیے اسمبلی موجود تھی۔
خشک سالی پر جامع بحث نہیں ہوسکی، کاویری کے پانی کا مسئلہ وہ توجہ حاصل نہیں کرسکا جس کا وہ مستحق تھا، نائس اور بڈدی ٹاؤن شپ سے متعلق زمین اور کسانوں کے مسائل پس منظر میں چلے گئے، جبکہ شہری بنیادی سہولتوں، روزگار، بھرتیوں، پنشن اور ریاستی اخراجات جیسے متعدد سوالات بھی ناگیندر تنازع کے شور میں دب گئے۔ اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ میں مختلف ارکان کے شہری سہولتوں، پنشن، بھرتیوں اور دیگر عوامی مسائل سے متعلق سوالات موجود تھے، جو اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ ایوان کے سامنے صرف ایک سیاسی تنازع نہیں تھا۔ خشک سالی اس کی نمایاں مثال ہے۔ سرکاری اعداد کے مطابق یکم جون سے 24 اگست کے دوران ریاست میں معمول کی 654 ملی میٹر بارش کے مقابلے میں تقریباً 454 ملی میٹر بارش ہوئی، یعنی قریب 31 فیصد کمی۔ ایسے وقت میں اسمبلی میں یہ بحث ہونی چاہیے تھی کہ متاثرہ تعلقہ جات کون سے ہیں، کسانوں کو معاوضہ اور فصل بیمہ کا فائدہ کہاں تک پہنچا، پینے کے پانی اور چارے کا کیا انتظام ہے اور روزگار اسکیموں کا زمینی اثر کیا ہے۔
اسی طرح کاویری کا مسئلہ محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ریاست کے زرعی، شہری اور بین الریاستی حقوق سے متعلق سنجیدہ سوال ہے۔ کم بارش کے موسم میں آبی ذخائر، کسانوں کی ضرورت، پینے کے پانی اور بین الریاستی آبی ذمہ داریوں کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے؟ ریاست کی قانونی حکمت عملی کیا ہے؟ اور طویل مدت میں بارش پر انحصار کم کرنے کے لیے کیا کیا جارہا ہے؟ یہ وہ سوالات تھے جن پر اسمبلی میں تفصیلی بحث ہونی چاہیے تھی۔
دوسری طرف حکومت بھی یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہوسکتی کہ اپوزیشن نے کارروائی نہیں چلنے دی۔ حکومت کے پاس اکثریت تھی، ایوان چلانے کی سیاسی ذمہ داری بھی اسی پر تھی اور ناگیندر کے معاملے کو سیاسی طور پر ختم کرنے کا اختیار بھی بالآخر حکومت اور کانگریس قیادت کے پاس تھا۔ اگر حکومت کو اندازہ تھا کہ ایک وزیر کی موجودگی پورے اجلاس کو متاثر کررہی ہے تو پھر 3 اگست کو ناگیندر کو دوبارہ کابینہ میں شامل کرنے سے پہلے اس کے ممکنہ سیاسی نتائج کا اندازہ کیوں نہیں لگایا گیا؟
اور اس سے بھی اہم سوال کہ 24 اگست کو اجلاس ختم کرنے کے بجائے کیا حکومت اپوزیشن کے ساتھ ایسا سیاسی یا پارلیمانی راستہ نہیں نکال سکتی تھی جس سے باقی تین دن بچائے جاسکتے؟ ۔ یہ سوال اب اس لیے مزید اہم ہوگیا ہے کہ واقعات کی ترتیب خود ایک بڑا سوال بن چکی ہے۔3 اگست: ناگیندر دوبارہ وزیر بنے۔ 13 اگست: مانسون اجلاس شروع ہوا۔17 تا 21 اگست اور 24 اگست: ناگیندر کے استعفے کے مطالبے پر اپوزیشن کا احتجاج جاری رہا۔24 اگست: اجلاس مقررہ مدت سے تین دن پہلے غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔26 اگست: ناگیندر کے استعفے کی پیش کش کی خبریں سامنے آئیں۔28 اگست: ناگیندر نے آخرکار وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔
یعنی جس مسئلے نے اسمبلی کا اجلاس وقت سے پہلے ختم کرایا، وہ مسئلہ چند دن بعد خود ہی ناگیندر کی کابینہ سے رخصتی پر ختم ہوگیا۔تو سوال ناگزیر ہے کہ اگر 28 اگست کو استعفیٰ ممکن تھا تو 24 اگست کو کیوں نہیں؟اگر پارٹی کو یہ احساس تھا کہ ناگیندر کی موجودگی حکومت اور کانگریس کو مزید سیاسی نقصان پہنچا سکتی ہے تو یہ احساس اجلاس ختم ہونے سے پہلے کیوں پیدا نہیں ہوا؟ اور اگر اس وقت استعفیٰ لینا قانونی یا سیاسی طور پر ضروری نہیں سمجھا گیا تھا تو صرف چند دن بعد ایسا کیا بدل گیا کہ ناگیندر کو عہدہ چھوڑنا پڑا؟یہ سوال ناگیندر کی مجرمانہ ذمہ داری کا فیصلہ نہیں کرتے؛ یہ صرف حکومت کے سیاسی فیصلے کی مستقل مزاجی کو پرکھتے ہیں۔
28 اگست کو ناگیندر نے جذباتی انداز میں استعفیٰ پیش کیا اور کہا کہ وہ پارٹی کو شرمندگی سے بچانے کے لیے رضاکارانہ طور پر عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے خلاف الزامات مسترد کیے اور سیاسی سازش کا الزام بھی لگایا۔ یہ اسی معاملے کے سلسلے میں ان کا دوسری مرتبہ وزارت سے استعفیٰ ہے۔یہاں بھی ایک اہم فرق برقرار رہنا چاہیے: ناگیندر کا استعفیٰ جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں، اسی طرح اپوزیشن کی سیاسی مہم کی کامیابی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اس کے تمام الزامات عدالتی طور پر ثابت ہوگئے۔ استعفیٰ سیاسی اور انتظامی ذمہ داری کا معاملہ ہے؛ جرم کا تعین عدالت کرے گی۔لیکن حکومت سے سیاسی جواب طلبی کا حق اب بھی باقی ہے۔
کانگریس سے سوال ہے کہ اگر ناگیندر کی وزارت میں واپسی درست اور قابل دفاع فیصلہ تھا تو صرف 25 دن بعد اسی فیصلے کو واپس لینے کی نوبت کیوں آئی؟ تین اگست کو کابینہ میں واپسی اور 28 اگست کو استعفیٰ—یہ مختصر مدت حکومت کے فیصلے پر ایک سنجیدہ سیاسی سوال ضرور کھڑا کرتی ہے۔ اسی طرح اسمبلی میں جو کچھ ہوا، وہ بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اپوزیشن کے احتجاج کے دوران حکومت نے متعدد اہم بل منظور کرائے۔ رپورٹس کے مطابق 24 اگست کو کم از کم دس بل بغیر بحث کے منظور ہوئے، جبکہ پارکس اور باغات کی زمین کو بعض شرائط کے تحت عوامی بنیادی ڈھانچے کے لیے استعمال کرنے سے متعلق ترمیم بھی اسی ہنگامہ خیز ماحول میں منظور ہوئی۔ اسی روز 7,042.69 کروڑ روپے کے ضمنی بجٹ اور متعلقہ مالی معاملات کو بھی منظوری دی گئی۔یہاں کانگریس حکومت سے سوال ہے کہ کیا یہ بہترین پارلیمانی روایت ہے کہ جب اپوزیشن ایوان کے اندر مسلسل احتجاج کررہی ہو اور معمول کی بحث متاثر ہو رہی ہو تو ہزاروں کروڑ روپے کے سرکاری اخراجات اور اہم قوانین کو اسی ماحول میں آگے بڑھایا جائے؟ ۔کارروائی قواعد کے مطابق ہوئی ہو تو بھی یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ ہنگامے کے ماحول میں منظور کیے گئے قوانین پر ارکان کو مؤثر بحث، غور اور جانچ کا کتنا موقع مل سکا۔ اپوزیشن کے سامنے بھی یہ سوال ہے کہ اگر حکومت ہنگامے کے باوجود قانون سازی آگے بڑھا رہی تھی تو کیا ایوان میں موجود رہ کر ہر بل پر اپنا موقف اور اعتراض ریکارڈ کرانا زیادہ مؤثر ثابت نہ ہوتا؟ اس طرح احتجاج بھی جاری رہتا اور حکومت کے فیصلوں کو پارلیمانی ریکارڈ پر بھی چیلنج کیا جاسکتا تھا۔
یوں دونوں طرف ایک بنیادی کمزوری دکھائی دیتی ہے: حکومت نے اکثریت کو بحث کا متبادل بنانے کا خطرہ مول لیا اور اپوزیشن نے احتجاج کو پارلیمانی حکمت عملی کا متبادل بنا دیا۔یہی اس پورے واقعے کا اصل المیہ ہے۔
جمہوریت میں حکومت کی ذمہ داری صرف قانون منظور کرانا نہیں، بلکہ اس کے جواز اور اثرات کی وضاحت بھی کرنا ہے؛ اسی طرح اپوزیشن کا کردار محض مخالفت یا احتجاج تک محدود نہیں، بلکہ حکومت کو جواب دہ بنانا بھی ہے۔ جب حکومت مؤثر وضاحت نہ دے اور اپوزیشن بحث کے بجائے تعطل کا راستہ اختیار کرے تو ایوان موجود رہتے ہوئے بھی اپنا اصل مقصد، یعنی مؤثر پارلیمانی احتساب، پورا نہیں کر پاتا۔
اب ناگیندر کا استعفیٰ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ بی جے پی اسے اپنی سیاسی مہم کی کامیابی قرار دے رہی ہے اور اس نے واضح کیا ہے کہ معاملہ صرف استعفے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری جانب ناگیندر نے اپنے استعفے کو سیاسی دباؤ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اپنے خلاف الزامات مسترد کیے ہیں
استعفیٰ احتساب کا اختتام نہیں؛ بعض اوقات احتساب کا آغاز ہوتا ہے۔اور کرناٹک کے حالیہ مانسون اجلاس کا سب سے بڑا سبق بھی شاید یہی ہے۔ ایک وزیر کے استعفے کا مطالبہ اپنی جگہ اہم ہوسکتا ہے، مگر ریاست کے مسائل اس سے کہیں بڑے ہوتے ہیں۔ ایک وزیر کے عہدے سے زیادہ اہم خشک سالی ہے؛ ایک سیاسی تنازع سے زیادہ اہم کسان کا پانی ہے؛ ایک احتجاج سے زیادہ اہم عوامی خزانے کی نگرانی ہے؛ اور حکومت یا اپوزیشن کی سیاسی فتح سے زیادہ اہم قانون ساز ادارے کا وقار ہے۔
اگر ناگیندر کے استعفے کا معاملہ اتنا اہم تھا کہ اس نے اسمبلی کی کارروائی کو متاثر کیا اور چند ہی دن بعد استعفیٰ بھی سامنے آگیا، تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسی سیاسی مطالبے کو ایوان کی کارروائی جاری رکھتے ہوئے بھی آگے نہیں بڑھایا جاسکتا تھا؟ ،کانگریس سے سوال ہے کہ اگر حالات بالآخر ناگیندر کے استعفے تک پہنچنے والے تھے تو کیا اس فیصلے پر پہلے غور کرکے اسمبلی کے تعطل سے بچنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی؟بی جے پی اور جے ڈی ایس سے بھی یہ سوال ہے کہ اگر مقصد حکومت کو جواب دہ بنانا تھا تو کیا احتجاج کے ساتھ ایوان کے اندر موجود رہ کر دیگر عوامی مسائل پر حکومت سے جواب طلب کرنا زیادہ مؤثر راستہ نہ ہوتا؟ ،اور اسپیکر کے کردار پر بھی سوال اٹھنا فطری ہے کہ ایسے تعطل کے دوران کیا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مزید پارلیمانی مفاہمت کی کوشش کرکے ایوان کی کارروائی کو معمول پر لانے کی کوئی صورت نکالی جاسکتی تھی؟
ان سوالات کا جواب کسی ایک جماعت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے سے نہیں ملے گا۔ جواب تب ملے گا جب حکومت اپنی سیاسی غلطیوں کا جائزہ لینے، اپوزیشن اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے اور اسپیکر اپنی غیر جانب دارانہ ذمہ داری کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تیار ہوں۔ کیونکہ 24 اگست کو ایوان بند ہوا تھا، مگر 28 اگست کو ناگیندر کا استعفیٰ آگیا۔ اس مختصر وقفے نے پورے واقعے کو ایک نئے معنی دے دیے ہیں۔اب سوال صرف یہ نہیں کہ ناگیندر گئے یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ انہیں کابینہ میں واپس لانے والا فیصلہ کس نے، کیوں اور کس بنیاد پر کیا؟ اس فیصلے کی قیمت آخرکار اسمبلی کے وقت، عوامی مسائل اور پارلیمانی وقار نے کیوں ادا کی؟ ۔جمہوریت میں کسی حکومت کی طاقت اس کی اکثریت سے اور کسی اپوزیشن کی طاقت اس کے شور سے نہیں ناپی جانی چاہیے۔ اصل طاقت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب حکومت جواب دے، اپوزیشن سوال کرے، اختلاف بحث میں تبدیل ہو اور عوامی مسئلہ سیاسی کشمکش سے بڑا ثابت ہو۔
کرناٹک کے اس اجلاس میں شور بہت تھا، احتجاج بہت تھا، قانون سازی بھی ہوئی، اجلاس وقت سے پہلے ختم ہوا اور آخرکار استعفیٰ بھی آگیا—مگر عوام کے بہت سے سوال اب بھی ایوان کے دروازے پر کھڑے ہیں۔