قدرت جب اپنے غیظ و غضب کا مظاہرہ کرتی ہے تو انسان کے تعمیر کردہ تمام مادی حصار، مضبوط ڈیم، بلند و بالا پل، حفاظتی دیواریں اور فولادی بندوبست چشم زدن میں تنکوں کی مانند بہہ جاتے ہیں۔ انسان اپنی عقل، علم اور سائنسی ترقی پر کتنا ہی ناز کیوں نہ کرے لیکن قدرت کے سامنے اس کی تمام تدبیریں اس وقت بے بس دکھائی دیتی ہیں جب پہاڑ حرکت میں آتے، گلیشیئر ٹوٹتے اور پانی اپنے راستے کی ہر رکاوٹ کو روندتا ہوا وادیوں کی طرف اترتا ہے۔ 26 اگست 2026 کی صبح نیپال کے اضلاع رسووا اور نوواکوت سمیت تبت کے سرحدی خطے میں جو منظر نمودار ہوا وہ اسی حقیقت کی ایک ہولناک تصویر تھا۔ ایک زوردار دھماکے اور زمین کو ہلا دینے والے ارتعاش کے ساتھ پانی، کیچڑ، برف اور دیو قامت چٹانوں کا ایسا مہیب ریلا لکھیندے کھولا اور بھوٹے کوئی ندیوں کے راستے نیچے اترا کہ چند ہی منٹوں میں ہنستے بستے گاؤں، شاہراہیں، پل اور پن بجلی کے بڑے منصوبے ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہوگئے۔ اس آبی قیامت کی شدت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ سینکڑوں انسانوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں جب کہ تیرہ سو سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے نے اس سانحے کو مزید خوفناک بنا دیا ہے۔ ان لاپتہ افراد میں مقامی باشندوں کے علاوہ کیلاش مانسرور اور ہمالیائی علاقوں کی سیاحت و کوہ پیمائی کے لیے آنے والے ہندوستانی، برطانوی اور امریکی سیاح بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ ایسے میں یہ حادثہ محض ایک قدرتی آفت نہیں رہتا بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ، سرحدی انتظام، ماحولیاتی توازن اور مستقبل کی منصوبہ بندی سے متعلق کئی سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ حکومتوں کے لیے سب سے پہلی ترجیح یقیناً ملبے تلے دبے افراد کو تلاش کرنا، زخمیوں کو طبی امداد پہنچانا اور متاثرین کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنا ہے لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی پوری شدت سے سامنے آتا ہے کہ آخر ایسی تباہی کو بروقت محسوس کیوں نہ کیا جاسکا اور کیا مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کو روکنے یا ان کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے کوئی مؤثر نظام تشکیل دیا جاسکتا ہے؟
ابتدائی اطلاعات میں یہ قیاس کیا گیا کہ تبت اور نیپال کی سرحد کے قریب تقریباً ڈھائی شدت کا زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں یہ تباہ کن سیلاب وجود میں آیا۔ تاہم بعد ازاں امریکی سائنسی اداروں کے تجزیوں اور مصنوعی سیاروں سے حاصل ہونے والی تصاویر نے اس سانحے کی ایک زیادہ پیچیدہ اور تشویش ناک تصویر سامنے رکھی۔ اطلاعات کے مطابق تبت کی سرحد کے قریب تقریباً دو ہزار فٹ چوڑے گلیشیئر کا ایک بہت بڑا حصہ اچانک ٹوٹ کر وادی میں جاگرا۔ برف، چٹانوں اور ملبے کے اس عظیم الشان تودے کے گرنے سے جو توانائی پیدا ہوئی اسے سائنسی آلات نے زلزلے کے جھٹکوں سے مشابہ ارتعاش کے طور پر محسوس کیا۔ یوں ایک قدرتی جغرافیائی تبدیلی نے ایسا سلسلہ شروع کیا جس نے چند ہی لمحوں میں وسیع خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ گلیشیئر کے ٹوٹنے سے گرنے والے برفانی اور سنگلاخی ملبے نے عارضی طور پر لھیندے ندی کے بہاؤ کو روک دیا۔ پہاڑی علاقوں میں جب کسی ندی یا دریا کا قدرتی راستہ اچانک بند ہو جائے تو پانی کی سطح تیزی سے بلند ہونے لگتی ہے اور اس کے نتیجے میں دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے یہی کچھ یہاں بھی ہوا۔ پانی کا دباؤ جب عارضی بند کی برداشت سے تجاوز کرگیا تو وہ بند اچانک پھٹ گیا اور پانی، مٹی، برف اور پتھروں کا ایک بے قابو ریلا نیچے کی جانب دوڑ پڑا۔ اس طرح چند لمحوں میں ایک معمولی دکھائی دینے والا جغرافیائی تغیر وسیع پیمانے کی تباہی میں تبدیل ہوگیا۔ اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر ثابت کردیا کہ ہمالیائی خطہ بظاہر مضبوط پہاڑوں کا مجموعہ ہونے کے باوجود اندرونی طور پر کس قدر حساس، متحرک اور نازک ہے۔ ہمالیہ محض برف پوش پہاڑوں کا سلسلہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی، زراعت، آب رسانی، دریائی نظام اور معیشت سے وابستہ ایک عظیم قدرتی نظام ہے۔ اس خطے کے گلیشیئر برف کے بڑے ذخیرے کی حیثیت رکھتے ہیں اور انہی سے نکلنے والے دریا جنوبی ایشیا کے وسیع علاقوں کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ لیکن عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ اس قدرتی نظام کے توازن کو متزلزل کررہا ہے۔ گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، برفانی جھیلوں کا حجم بڑھ رہا ہے اور پہاڑی ڈھلوانوں کی ساخت کمزور ہورہی ہے۔ اس صورت حال میں گلیشیائی جھیلوں کے اچانک پھٹنے کا خطرہ بھی بڑھتا جارہا ہے۔ جب کسی برفانی جھیل کا قدرتی بند کمزور ہوتا ہے تو اس کا اچانک ٹوٹنا نیچے آباد بستیوں کے لیے آبی عذاب بن سکتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ اب کسی ایک ملک یا براعظم تک محدود نہیں رہا۔ درجہ حرارت میں معمولی اضافہ بھی پہاڑی علاقوں میں ایسے اثرات مرتب کرسکتا ہے جن کے نتائج ہزاروں کلومیٹر دور تک محسوس ہوتے ہیں۔ ہمالیہ میں برف کا پگھلاؤ صرف سطح آب میں اضافہ نہیں کرتا بلکہ پہاڑوں کے اندرونی استحکام کو بھی متاثر کرتا ہے۔ منجمد زمین کے پگھلنے سے چٹانوں کے درمیان موجود قدرتی گرفت کمزور ہوتی ہے جس سے لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودوں کے گرنے اور ندیوں کے راستے میں اچانک رکاوٹ پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے موسمیاتی تبدیلی کو محض درجہ حرارت کی تبدیلی سمجھنا سنگین کوتاہی ہوگی؛ یہ دراصل انسانی آبادی، معیشت، بنیادی ڈھانچے اور مستقبل کی سلامتی کا مسئلہ بن چکی ہے۔ قدرتی عوامل کے ساتھ انسانی مداخلت نے بھی ہمالیائی خطے کی نزاکت میں اضافہ کیا ہے۔ پہاڑوں کو کاٹ کر سڑکیں بنانے، سرنگیں تعمیر کرنے، پن بجلی کے منصوبے قائم کرنے اور بڑے پیمانے پر تعمیراتی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے دھماکہ خیز مواد کا استعمال پہاڑی چٹانوں کی قدرتی ساخت کو متاثر کرتا ہے۔ بعض مقامات پر بغیر مناسب ماحولیاتی مطالعے کے تعمیرات شروع کردی جاتی ہیں اور قدرتی نکاسی آب کے راستوں کو مسدود کردیا جاتا ہے۔ نتیجتاً بارش، برف پگھلنے یا معمولی سی زمینی حرکت کے بعد پانی اپنا راستہ بدل لیتا ہے اور کمزور ڈھلوانیں اچانک سرکنے لگتی ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کی مخالفت مقصود نہیں، لیکن ترقی اگر قدرتی ماحول کی قیمت پر کی جائے تو وہ بالآخر تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ ہمالیائی علاقوں میں بڑھتی ہوئی سیاحت بھی ایک اہم معاملہ ہے۔ سیاحت مقامی معیشت کے لیے بے حد اہم ہے اور لاکھوں افراد کا روزگار اس سے وابستہ ہے، لیکن حساس پہاڑی علاقوں میں بے ہنگم سیاحتی سرگرمیاں ماحول پر غیر معمولی دباؤ ڈالتی ہیں۔ سڑکوں پر بڑھتا ہوا ٹریفک، ہوٹلوں کی بے تحاشا تعمیر، کچرے کے ڈھیر، قدرتی چشموں اور ندیوں کے قریب غیر منصوبہ بند آبادیاں اور دشوار گزار علاقوں میں انسانی نقل و حرکت پہاڑی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاحت کو ختم نہیں بلکہ منظم کیا جائے۔ ایسے علاقوں میں تعمیرات، سیاحوں کی تعداد، راستوں کے انتخاب اور موسمی حالات کے مطابق نقل و حرکت کے لیے واضح ضابطے وضع کیے جائیں۔
نیپال جغرافیائی اعتبار سے انتہائی فعال ٹیکٹونک خطے میں واقع ہے۔ ہندوستانی اور یوریشیائی زمینی پلیٹوں کے باہمی دباؤ نے ہمالیہ کو جنم دیا اور یہی مسلسل ارضیاتی حرکت اس پورے خطے کو زلزلوں، زمینی تودوں اور دیگر قدرتی خطرات کے حوالے سے حساس بناتی ہے۔ چنانچہ نیپال، تبت، ہندوستان اور اس سے ملحقہ خطوں میں قدرتی آفات کو الگ الگ واقعات سمجھنے کے بجائے ایک مشترکہ جغرافیائی حقیقت کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ کسی ایک ملک میں رونما ہونے والی برفانی یا آبی تبدیلی چند منٹوں میں دوسرے ملک کے علاقوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس لیے سرحدی لکیر قدرتی آفات کے سامنے بے معنی ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین، نیپال اور ہندوستان کو ہمالیائی خطے کے لیے ایک جامع سرحد پار پیشگی انتباہی نظام تشکیل دینا چاہیے۔ گلیشیئرز، برفانی جھیلوں، ندیوں، پہاڑی ڈھلوانوں اور موسمی تبدیلیوں کی مسلسل نگرانی کے لیے مشترکہ سائنسی مرکز قائم کیا جاسکتا ہے۔ جدید ریڈار، زمینی حساسی آلات، مصنوعی سیاروں اور خودکار موسمی مراکز سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو ایک مشترکہ نظام میں جمع کیا جائے۔ اگر کسی گلیشیئر میں خطرناک دراڑ پیدا ہو، کسی جھیل کی سطح غیر معمولی طور پر بلند ہو جائے یا کسی ندی کے بہاؤ میں اچانک تبدیلی محسوس ہو تو متعلقہ علاقوں کو فوری طور پر خبردار کیا جائے۔ ایسے نظام میں چند منٹ بھی سیکڑوں اور ہزاروں جانیں بچانے کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہمالیہ میں موجود خطرناک برفانی جھیلوں کی باقاعدہ درجہ بندی بھی ناگزیر ہے۔ جن جھیلوں کے پھٹنے کا امکان زیادہ ہو، ان کی مسلسل نگرانی کی جائے اور ضرورت پڑنے پر سائنسی طریقوں سے پانی کی سطح کو محفوظ حد میں رکھا جائے۔ قدرتی بندوں کو مضبوط بنانے، پانی کے کنٹرولڈ اخراج کے راستے بنانے اور خطرناک مقامات پر مستقل نگرانی کے لیے جدید انجینئرنگ اختیار کی جانی چاہیے۔ اس ضمن میں مقامی آبادی کو بھی تربیت دینا ضروری ہے تاکہ خطرے کی صورت میں لوگ حکومتی ہدایات کے منتظر رہنے کے بجائے فوری طور پر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوسکیں۔ اسی طرح پہاڑی ندیوں کے کناروں، سیلابی گزرگاہوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے علاقوں میں ہوٹلوں، بازاروں، رہائشی بستیوں اور بڑے پن بجلی منصوبوں کی تعمیر پر سخت پابندی ہونی چاہیے۔ قدرتی ندی کے راستے کو محدود کرکے انسان اپنے لیے خطرہ پیدا کرتا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری سے پہلے وسیع ماحولیاتی اور ارضیاتی جائزہ ضروری قرار دیا جائے۔ پہاڑ کاٹنے کے روایتی اور تباہ کن طریقوں کے بجائے ایسی جدید تکنیکیں اختیار کی جائیں جن سے چٹانوں اور مٹی کی قدرتی ساخت کم سے کم متاثر ہو۔ مصنوعی سیاروں کی مدد سے گلیشیئرز کی مسلسل نگرانی اس پورے معاملے میں انقلاب برپا کرسکتی ہے۔ ہندوستانی خلائی تحقیقاتی ادارے، چینی اور دیگر عالمی خلائی ادارے جدید مصنوعی سیاروی تصاویر کے ذریعے گلیشیئرز کی حرکات، برفانی جھیلوں کے پھیلاؤ، پہاڑی دراڑوں اور زمینی تبدیلیوں کا مسلسل جائزہ لے سکتے ہیں۔ ہفتہ وار یا ضرورت کے مطابق اس سے بھی زیادہ کثرت سے نقشہ سازی کی جائے تو خطرناک تبدیلیوں کی پیشگی شناخت ممکن ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ مصنوعی ذہانت اور جدید اعداد و شمار کے تجزیے سے ایسے نمونے بھی تلاش کیے جاسکتے ہیں جو انسانی نگاہ سے پوشیدہ رہ جاتے ہیں۔ آبی قیامت کا یہ واقعہ ایک اور تلخ حقیقت بھی سامنے لاتا ہے کہ قدرتی آفات کے مقابلے میں محض بڑے بڑے منصوبے کافی نہیں۔ ڈیم، پل، شاہراہیں اور حفاظتی دیواریں اپنی جگہ اہم ہیں، مگر اگر منصوبہ بندی میں قدرتی جغرافیہ، موسمیاتی تبدیلی اور مستقبل کے خطرات کو نظر انداز کردیا جائے تو یہی تعمیرات کبھی کبھی خطرے کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ ہمیں ترقی اور ماحول کے درمیان ایسا توازن قائم کرنا ہوگا جس میں انسانی ضرورتیں بھی پوری ہوں اور قدرتی نظام کی حدود بھی پامال نہ ہوں۔ اس سانحے کے بعد امدادی کارروائیاں سب سے اہم مرحلہ ہیں۔ ملبے میں زندہ انسانوں کی تلاش، زخمیوں کی طبی امداد، لاپتہ افراد کی شناخت، متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور تباہ شدہ مواصلاتی راستوں کی بحالی کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جانے چاہئیں۔ لیکن امداد کے بعد بھول جانا اس المیے کے ساتھ دوسری ناانصافی ہوگی۔ ہر بڑے سانحے کے بعد تحقیقاتی جائزہ، سائنسی تجزیہ اور انتظامی احتساب ہونا چاہیے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ کہاں کوتاہی ہوئی اور آئندہ کیا اقدامات ضروری ہیں۔ ہمالیہ کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں بلکہ ایک ایسا قدرتی حصار ہے جس کا ماحولیاتی نظام پورے جنوبی اور وسطی ایشیا کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ یہاں برف پگھلے گی تو دریا متاثر ہوں گے، دریا متاثر ہوں گے تو زراعت اور آب رسانی متاثر ہوگی، اور اگر پہاڑی نظام غیر مستحکم ہوا تو کروڑوں انسانوں کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اس لیے چین، ہندوستان، نیپال، بھوٹان اور دیگر متعلقہ ممالک کو باہمی اختلافات سے بلند ہوکر ہمالیائی ماحولیاتی تحفظ کے لیے مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی۔ 26 اگست کی یہ آبی قیامت دراصل مستقبل کی ایک بھیانک دستک ہے۔ آج اگر پہاڑوں سے آنے والے پانی نے چند وادیوں کو اجاڑا ہے تو کل اس نوعیت کے واقعات کا دائرہ کہیں زیادہ وسیع ہوسکتا ہے۔ قدرت کو للکارنے، ماحولیات کو پامال کرنے اور ترقی کے نام پر پہاڑوں کی رگوں کو کاٹنے کا سلسلہ اگر اسی طرح جاری رہا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہمالیہ کو صرف معدنی وسائل، سیاحت اور پن بجلی کا ذخیرہ سمجھنے کے بجائے ایک زندہ قدرتی نظام کے طور پر دیکھا جائے۔ انسان کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ قدرت کے ساتھ جنگ میں فتح ممکن نہیں؛ بقا صرف اسی وقت ممکن ہے جب انسان قدرت کے قوانین کا احترام کرے۔ نیپال کی یہ تباہی پوری انسانیت کے لیے ایک سنگین انتباہ ہے کہ اگر ہم نے موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی بگاڑ اور بے ہنگم تعمیرات کے خلاف ابھی سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آنے والے دنوں میں پہاڑ پانی، مٹی اور پتھروں کا کفن بن کر نہ جانے کتنی بستیوں کو اپنی آغوش میں لے لیں گے۔
(نوٹ) مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں
iftikharahmadquadri@gmail.com