ارشادِ ربانی ہے:’’ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے بشارت دینے والا اورخبردارکرنے والا بنا کر اور کوئی امت ایسی نہیں گزری ہے جس میں کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا ہو‘‘۔میلاد النبیﷺ کے موقع اہل ایمان رسول پاک ﷺ سےعقیدت و محبت کا اظہار اور غیر مسلمین کے سامنے بھی سیرت النبی ﷺ بیان کرتے ہیں مگروہ بیچارے ا نبیاءؑ کو بھی اوتار سمجھ لیتے ہیں ۔ اس لیے سیرتﷺ کے ساتھ رسالت کے عقیدے کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ مذکورہ بالا آیت میں یہ بتایا گیا گیا کہ ہر امت میں حق و ہدایت کے ساتھ انبیا کو مامور کیا گیاتاکہ وہ اپنی قوم کو جنت الفردوس کی خوشخبر ی سنائیں اور جہنم کے عذاب سےخبردار کردیں ۔ دعوتِ دین کی وضاحت یوں کی گئی کہ:’’ یقینا ہم نے ہر امّت میں ایک رسول بھیجاتا کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو پھر ان میں بعض کو خدا نے ہدایت دے دی اور بعض پر گمراہی ثابت ہوگئی تو اب تم لوگ روئے زمین میں سیر کرو اور دیکھو کہ تکذیب کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے اگرچہ آپ کو خواہش ہے کہ یہ ہدایت پاجائیں تو اللہ جس کو گمراہی میں چھوڑ چکا ہے اب اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور نہ ان کا مدد کرنے والا ہوگا‘‘ یعنی انبیاء کی ذمہ داری اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت و اطاعت کی طرف دعوت دینے اور طاغوت کی پیروی سے بچنے کی تلقین تک ہے۔ ہدایت و ضلالت کا دارومدار بالکلیہ انسان کی طلب اورتوفیق الٰہی پر ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت کواگر قرآنی آیت کی روشنی میں پیش کیا جائے تو اسلام کا نورِ حق بھی چار دانگِ عالم میں پھیل جائے گا جیسا کہ افتخار عارف نے اپنے نعتیہ کلام میں پیش کیا؎
میں نے قرآن کی تفسیر میں سیرت کو پڑھا
نور کو دائرہ نور کے اندر رکھا
منکرین حق کی جلد بازی سے متعلق ارشادِ قرآنی ہے:’’یہ لوگ بھلائی سے پہلے برائی کے لیے جلدی مچا رہے ہیں حالانکہ ان سے پہلے (جو لوگ اس روش پر چلے ہیں ان پر خدا کے عذاب کی) عبرت ناک مثالیں گزر چکی ہیں حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود ان کے ساتھ چشم پوشی سے کام لیتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ تیرا رب سخت سزا دینے والا ہے ‘‘۔ یہاں اس بات کا اشارہ کیا گیا ہے کہ عذابِ الٰہی پر اصرار کرنے کے بجائے انہیں اپنی باغیانہ روش کو ترک کرکے توبہ و استغفار کرنا چاہیے کیونکہ اللہ کی صفتِ رحمت ودرگذر کا ذکر پہلے ہے۔ اس طرز عمل کی مثال سامری کے دامِ فریب میں پھنس کر بچھڑے کی عبادت کرنے والی بنی اسرائیل کی غلطی اور اس کے عذاب سے نجات ہے۔فرمانِ ربانی ہے: ’’موسیٰؑ نے کہا "اے رب، مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما، تو سب سے بڑھ کر رحیم ہے” (جواب میں ارشاد ہوا کہ) "جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا وہ ضرور اپنے رب کے غضب میں گرفتار ہو کر رہیں گے اور دنیا کی زندگی میں ذلیل ہوں گے جھوٹ گھڑنے والوں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں مگر جو لوگ برے عمل کریں پھر توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں تو یقیناً اِس توبہ و ایمان کے بعد تیرا رب درگزر اور رحم فرمانے والا ہے” ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے رحم وکرم کی بشارت کے بعد :’’ جب موسیٰؑ کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو انہوں نے وہ تختیاں اٹھا لیں جن کی تحریر میں اُن لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت تھی جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اُس نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو منتخب کیا تاکہ وہ (اُس کے ساتھ) ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر حاضر ہوں‘‘۔ اس کے بعد ’’ جب اِن لوگوں کو ایک سخت زلزلے نے آ پکڑا تو موسیٰؑ نے عرض کیا "اے میرے سرکار، آپ چاہتے تو پہلے ہی اِن کو اور مجھے ہلاک کرسکتے تھے کیا آپ اُس قصور میں جو ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا ہم سب کو ہلاک کر دیں گے؟ یہ تو آپ کی ڈالی ہوئی ایک آزمائش تھی جس کے ذریعہ آپ جسے چاہتے ہیں گمراہی میں مبتلا کر دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں ہدایت بخش دیتے ہیں آپ ہی ہمارے سر پرست ہیں پس ہمیں معاف کر دیجیے اور ہم پر رحم فرمائیے، آپ سب سے بڑھ کر معاف فرمانے والے ہیں اور ہمارے لیے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجیے اور آخرت کی بھی، ہم نے آپ کی طرف رجوع کر لیا” ۔ نبی اکرمﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:’’جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنا چاہا، اپنے نوشتہ میں لکھا، جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے: میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی۔“
حضرت موسیٰ ؑ کی مذکورہ بالا دعا مستجاب ہوئی اور جواب میں ارشاد ہوا: "سزا تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں، مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے، اور اُسے میں اُن لوگوں کے حق میں لکھوں گا جو نافرمانی سے پرہیز کریں گے، زکوٰۃ دیں گے اور میری آیات پر ایمان لائیں گے” ۔ اس بشارت کا دائرۂ کار تاقیامت وسیع فرماتے ہوئے آگے فرمانِ حقانی ہے:’’ (پس آج یہ رحمت اُن لوگوں کا حصہ ہے) جو اِس پیغمبر، نبی امی کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر اُنہیں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال او ر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے‘‘۔نبیٔ اکرم ﷺ کی ان صفاتِ عالیہ کا ذکر فرمانے کے بعد یہ منادی کی گئی کہ:’’ لہٰذا جو لوگ ان پر ایمان لائیں اور ان کی حمایت اور نصرت کریں اور اُس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو ان کے ساتھ نازل کی گئی ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں‘‘۔ یہاں پر عقیدت رسولﷺ کے تین تقاضے بیان کیے گئے ہیں ۔ پہلا ایمان لانا اور اس کار رسالت کی کما حقہُ حمایت و نصرت کرناجو نبیٔ آخرالزماں کے بعد امت کا فرضِ منصبی ہے یعنی فلاحِ آخرت کی خاطر قرآن و سنت کی روشنی میں اقامت دین کی جدوجہد کرنا ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اس ذمہ داری کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کوششوں کو شرف قبولیت سے نوازے۔