اخلاق عربی لفظ خُلق کی جمع ہے جس کے معنیٰ عادت،فطرت،طبیعت اور باطنی حالت کے ہیں ،اصطلا ح میں اخلاق سے مراد انسان کی وہ اندرونی کیفیات ہیں جن کے مطابق وہ اپنے قول وفعل اور روئے کا اظہار کرتا ہے، انسان کے اخلاق ، عملی کردار اور عمدہ برتاؤ کی وجہ سے انسان بلند ترین مقام ومرتبہ حاصل کر لیتا ہے اور آگے چل کر حسن اخلاق اور بلند کردار کی وجہ سے عوج ثریا اس کا مقدر بن جاتی ہے،دنیا میں بے شمار لوگ ملیں گے جن کی زبانیں شیریں ہوں گی ،ان کی گفتگو کانوں میں رس گھولتی ہوں گی ،ان کے پند ونصائح سے آنکھیں اشک بار ہوجاتی ہوں گی اور ان کے مشوروں سے ایک خلقت کو خوب نفع حاصل ہوتا ہوگا لیکن ان سب کے باوجود اگر غور سے اور باریک بینی سے ان کی زندگیوں کی ورق گردانی کی جائے تو کہیں نہ کہیں نقص ضرور نظر آئے گا اور کسی نہ کسی موقع پر ان کے ہاتھ سے اخلاقی عَلم چھوٹتا ہوا نظر آئے گا ، دنیا میں مختلف مذاہب کے بڑے سے بڑے پیشوا اور رہبر ورہنما پر نظر ڈالیں تو ان کی حکایات وملفوظات اور میٹھی میٹھی باتیں تو بہت ملیں گی لیکن ان کی سیرت کا باب اخلاق سے کسی نہ کسی درجہ خالی نظر آئے گا،وہ بہت کچھ کہتے تو نظر آئیں گے مگر کچھ اور کرتے دکھائی دیں گے، ان کے قول وفعل میں کچھ نہ کچھ تضاد ضرور دکھائی دے گا ،بعض گفتار کے غازی معلوم ہوں گے مگر کردار سے خالی نظر آئیں گے ،بعض دیکھنے میں نہایت حَسین نظر آئیں گے مگر کردار میں کہیں نہ کہیں داغ دکھائی دیں گے ، بعض کی جلوت تو روشن نظر آئے گی مگر خلوت تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہوگی ، بعض دوستوں کے ساتھ تو بڑے ہمدرد دکھائی دیں گے مگر ماتحتوں کے ساتھ نہایت سختی مظاہرہ کرتے نظر آئیں گے، مگر چودہ صدی قبل ایک ایسی عظیم اور سراپا مجسم اخلاق ہستی دنیا میں تشریف لائی جس نے اپنے اقول وافعال اور اخلاق وکردار کی وہ تصویر پیش کی کہ ان سے پہلے نہ کسی نے پیش کی اور نہ بعد میں کوئی اور پیش کر سکے گا،وہ ہستی اللہ کے آخری پیغمبر ،محسن انسانیت ،رحمت عالم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ؐ ہیں ، اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسانوں کی رشد وہدایت اور ان کی رہبری ورہنمائی کے لئے جتنے نبی اور رسول بھیجے ہیں ان سب کی انفرادی اخلاقی خوبیوں کے تنہا آپ ؐ جامع ہیں ،یہی وجہ ہے کہ آسمانی کسی کتابوں وصحیفوں میں کسی کے لئے وہ بات نہیں لکھی گئی ہے مگر لکھی گئی ہے تو وہ صرف اور صرف آپ ؐ کے لئے لکھی گئی ہے ،ارشاد ہے وَإِنَّکَ لَعَلی خُلُقٍ عَظِیْمٍ (القلم:۴)’’اور بیشک آپ اخلاق کے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں‘‘اس آیت میں آپ ؐ کے کمال اخلاق کی گواہی دی گئی ہے اور آپ کی حیات طیبہ کو تمام انسانوں کے لئے معیار اخلاق بتلایا گیا ہے ۔
ایک طرف قرآن مجید قیامت تک پوری انسانیت کے لئے دستور وقانون کی حیثیت رکھتا ہے تو دوسری جانب رسول اللہ ؐ کی سیرت طیبہ پوری انسانیت کے لئے بہترین نمونہ عمل کی حیثیت رکھتی ہے ،رسول اللہ ؐ کی سیرت طیبہ قرآن مجید کی عملی تصویر اور اس کا پر تو ہے ،جو کچھ قرآن مجید میںہے اس کا عکس آپ ؐ کی سیرت میں نظر آتا ہے،اسی وجہ سے اہل علم فرماتے ہیں کہ قرآن مجید دو ہیں ،ایک وہ جو حضرت جبرئیل ؑ کے ذریعہ آسمان سے اُتارا گیا ہے اور دوسرا رسول اللہؐ کی صورت میں زمین پر اتارا گیا ہے، یقینا آپؐ کی سیرت طیبہ قرآن مجید کی عملی تفسیر ہے، اس کی تصدیق ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے اس قول سے ہوتی ہے کہ ایک مرتبہ ان کی خدمت میں چند صحابہؓ حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ’’اے ام امؤمنین ؓ !ہم کو رسول اللہ ؐ کے معمولات واخلاق بتائیں ؟ ام المؤمنین ؓ نے جواب میں فرمایا کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا ہے؟ اس کے بعد ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’فان خلق رسول اللہ ﷺ کان القرآن‘‘ (ابوداؤد:۱۳۴۲) رسول اللہ ؐ کا اخلاق ہمہ تن قرآن تھا‘‘،کسی بھی شخص کے شب وروز کے معمولات اور اخلاق وعادات اس کی رفیق حیات سے زیادہ کون جان سکتا ہے، ایک بیوی ہی ہے جو اپنے شوہر کی تمام تر خوبیوں و خامیوں اور معمولات شب وروز سے باخبر رہتی ہے،نبوت ورسالت سے سرفرازی اور اس کی اہم ترین ذمہ داری سپرد کئے جانے کے بعد جب آپ ؐغار حرا ء سے اپنے گھر تشریف لائے اور اس کا ذکر اپنی شریک حیات سیدہ خدیجہ ؓ سے فرمایا تو انہوں نے جن الفاظ کے ذریعہ تسلی دی وہ در اصل آپ ؐ کی پچھلی چالیس سالہ زندگی کا تعارف اور آپؐ کی عملی سیرت کا جامع ترین بیان تھا،سیدہ خدیجۃ الکبریٰ ؓنے اپنے شوہر نامدار(رسول اللہؐ) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا :اللہ آپ کو ہر گز تنہا نہیں چھوڑے گا کیونکہ آپ قرابت والوں کا حق پورا کرتے ہیں ،مقروضوں کا قرض ادا کرتے ہیں ،غریبوں کی مدد کرتے ہیں ،مہمانوں کی خاطر تواضع کرتے ہیں ،حق کی طرف داری کرتے ہیں ،مصیبت میں لوگوں کے کام آتے ہیں(مسلم: ۴۰۳)، رسول اللہ ؐ کے نکاح میں بیک وقت نو(۹) ازواج مطہرات رہیں ،ان سبھوں کے ساتھ آپ ؐ کا برتاو ٔ انتہائی عادلانہ ، مشفقانہ اور ہمدردانہ تھا،انسانی طبیعتوں کی فرق کی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان کبھی خلاف مزاج باتیں بھی ہوجایا کرتی ہیں،اس وقت اکثر مرد حضرات اپنی بیویوں کے ساتھ کچھ نہ کچھ زیادتی کر بیٹھتے ہیں، نبوی گھرانے میں کبھی اس طرح کی بات پیش آجاتی تو آپ ؐ انتہائی حلم کا مظاہرہ فرماتے بلکہ ایک موقع پر اپنی عملی زندگی کی طرف اشارہ کر تے ہوئے لوگوں کو ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ خیرکم خیرکم لاہلہ وانا خیرکم لاہلی (ترمذی:۳۸۹۴) ’’ تم میں بہترین خاوند وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہو اور میں سبھوں میں سب سے زیادہ اپنی بیوی سے اچھا سلوک کرتا ہوں‘‘ ، رسول اللہؐ اپنی ازواج کے آرام وراحت کا مکمل خیال فرماتے تھے اور جن چیزوں سے انہیں تکلیف پہنچنے کا امکان ہوتا تو اس سے بھی مکمل احتیاط فرماتے تھے ،خود ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپؐ رات کو (نماز تہجد وغیرہ کے لئے) اٹھتے تو آہستہ سے جوتے پہنتے اور آہستہ سے دروازہ کھولتے(تاکہ زوجہ محترمہ کے آرام میں خلل نہ ہو اور اس سے انہیں زحمت نہ ہو)( نسای :۴؍۹۲)،سیدناانس ؓ جو آپ ؐ کے خادم خاص ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال آپ ؐ کی خدمت کی اس پوری مدت میں جو کام میں نے کئے آپ ؐ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ ایسا کیوں کیا اور جو کام نہیں کیا اس پر کبھی یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام کیوں نہیں کیا(حالانکہ دس سال کی طویل مدت میں خادم کے بہت سے کام خلاف طبیعت بھی ہوئے ہوں گے)(بخاری:۳۵۶۱)،سیدنا انس ؓ آپ ؐ کے سیرت طیبہ اور آپ کی عملی زندگی کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مدینہ کی کوئی باندی بھی آپ ؐکا ہاتھ پکڑ کر لیجانا چاہے تو لے جاسکتی تھی(بخاری:۶۰۷۲)یعنی آپ ؐ کا اخلاق اس قدر بلند اور کردار اس درجہ اعلیٰ تھا کہ معمولی حیثیت کے لوگ جنہیں معاشرہ میں انتہائی کمتر جانا جاتا ہے آپ ؐ ان کے بھی کام آتے تھے اور ان کی خدمت کرنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتے تھے،ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ؐ نے کبھی اپنے ہاتھ سے کسی کو مارا نہیں بجز جہاد فی سبیل اللہ کے ،اور آپ ؐ نے نہ کسی خادم کو نہ ہی کسی عورت کو مارا ،اُن میں سے کسی سے خطاء وغلطی بھی ہوئی تب بھی انتقام نہیں لیا،بجز اس کے کہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی ہو تو اس پر شرعی سزا جاری فرمائی (مسلم:۶۰۴۵)، سیدنا علی ؓ بن ابی طالب آپ ؐ کے چچا زاد بھائی اور داماد ہیں،بچپن ہی سے آپؐ کی پرورش میں رہے ،آپ ؐ کے دن رات اور صبح شام کے حالات کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے ،وہ گواہی دیتے ہیں کہ آپ ؐ ہنس مکھ ،نرم طبیعت اور نیک اخلاق کے حامل تھے،طبیعت میں مہربانی تھی ،مزاج سخت نہ تھا، زبان سے کوئی بُرا کلمہ نہ نکالتے تھے،کسی کے عیب وکمزوریوں کو تلاش نہیں کرتے تھے،کسی کی کوئی فرمائش اگر مزاج کے خلاف ہوتی تو خاموش ہوجاتے تھے ،نہ صاف جواب دے کر مایوس کرتے اور نہ اپنی منظوری ظاہر فرماتے تھے،واقف کار اس انداز خاص سے سمجھ جاتے کہ آپ کا منشا کیا ہے،یہ اس لئے تھا کہ آپ ؐ کسی کا دل توڑنا نہیں چاہتے تھے ،دل شکنی نہیں کرتے تھے،بلکہ دلوں پر مرہم رکھتے تھے کہ آپ ؐ رؤف رحیم تھے۔سیدنا ہندؓآپ ؐ کے سوتیلے بیٹے تھے جو سیدہ خدیجہ ؓ کے پہلے شوہر سے تھے وہ فرماتے ہیں کہ آپ ؐ کی طبیعت میں نرمی تھی،کسی کا دل نہیں دکھاتے تھے،کسی کی عزت کے خلاف کوئی بات نہیں کہتے تھے،چھوٹی باتوں پر لوگوں کا شکریہ اداکرتے تھے،کسی چیز کو بُرا نہیں کہتے تھے،کھانا جیسے سامنے آتا کھالیتے تھے،اس میں نقص نہ نکالتے تھے،آپ ؐ کو اپنے ذاتی معاملات میں کبھی غصہ نہیں آتا تھا،نہ کسی سے بدلہ اور انتقام لیتے تھے،اور نہ کسی کی دل شکنی گوارا کرتے تھے،لیکن اگر کوئی حق بات کی مخالفت کرتا تو حق کی طرف داری میں آپ ؐ کو غصہ آجاتا تھا اور اس حق کی پوری حمایت فرماتے تھے(شمائل ترمذی: ۳۳۴)، معاف کرنا ،انتقام نہ لینا ،عفو و درگزر سے کام لینا اور دشمن کے ساتھ اپنوں جیسا برتاؤ کرنا آپ ؐ خوب جانتے تھے اور موقع بموقع آپ ؐ کے اخلاق وکردار سے اس کا ظہور بھی ہوتا تھا ،غزوہ ٔ نجد سے واپسی میں آپ ؐا یک درخت کے نیچے آرام فرمارہے تھے،صحابہ ؓ ادھر اُدھر گئے ہوئے تھے ،ایک بدوتلوار کھینچ کر سامنے آیا ،آپ ؐ بیدار ہوئے ،بدو پوچھنے لگا ،بتاؤ! اے محمدؐاب تم کو مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟آپ ؐ نے اطمینان بھرے لہجے میں فرمایا کہ اللہ !اس پُر اثر جواب کا دشمن پر یہ اثر ہوا کہ تلوار ہاتھ سے چھوٹ گئی ،اب آپ ؐ اٹھے اور اس سے فرمایا کہ اب تجھ کو مجھ سے کون بچائے گا، اس نے معافی چاہی اور آپ ؐ نے اسے معاف فرمادیا(احمد: ۱۴۳۳۵)، غزوہ حنین کے قیدیوں میں رسول اللہؐ کی رضاعی بہن شیماء بنت حارث بھی قیدیوں میں شامل تھیں ،بے خبری میں دیگر قیدیوں کے ہمراہ ان پر بھی قیدیوں کیسا سلوک کیا جانے لگا تو وہ کہنے لگی کہ تمہیں معلوم ہے کہ میں تمہارے ساتھی( یعنی رسول اللہؐ ) رضاعی بہن ہوں ؟ صحابہؓ نے ان کی اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور انہیں رسول اللہؐ کی خدمت میں پیش کیا،آپؐ نے ان سے فرمایا: ماعلامۃ ذلک؟ (کوئی نشانی ہے ؟) شیماء نے عرض کیا : میری پشت پر دانت کے نشان ہیں اور یہ اس وقت کے ہیں جس وقت میں نے آپ کو اپنی پشت پر سوار کیا تھا،رسول اللہؐ نے علامت پہچان لی اور ان کے لئے اپنی چادر بچھادی اور فرط محبت کا اظہار فرمایا اور ان سے ارشاد فرمایا: اگر تم پسند کرو تو میرے پاس رہو تمہیں بڑی سزت دی جائے گی اور اگر تم جانا چاہتی ہو تو تمہیں سازوسامان دے دوں ،شیماء کہنے لگی کہ مجھے سازویجئے اور اپنی قوم میں واپس بھیج دی جئے ،آپؐ نے انہیں بہترین سامان سے نوازا اور انہیں نہایت احترام کے ساتھ رخصت کیا ،شیماء رسول اللہ ؐ کے اخلاق وکردار سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرلیا( السیرۃ النبویہ لابن ہشام : ۴/۱۰۱) ۔
فتح مکہ کے وقت بھی رسول اللہؐ نے عام معافی کا اعلان فرمادیا ،آپؐ کی طرف سے عام معافی،عفو ودرگزر اور محبت ورحم دلی کا معجزانہ برتاؤ دیکھ کر دشمن پکار اٹھتے ہیں کہ آپ اللہ کے سچے نبی ہیں ،آپ کی رفاقت باعث سعادت اور آپ کی غلامی ذریعہ نجات ہے اورکلمہ پڑھ کر حلقہ ٔ بگوش اسلام ہو گئے ، رسول اللہؐ نے اپنے اخلاق وکردار کے ساتھ اپنی عبادات ،ذکر واذکار اور انفاق کے ذریعہ بھی عملی مثال چھوڑی ہے،آپ ؐکا دل ہر وقت اللہ کی یاد میں کھویا ہوا رہتا تھا اور زبان اقدس ذکر الٰہی سے تر رہتی تھی ، مختلف حالات واوقات میںآپ ؐکی زبان مقدس سے جو دعائیں نکلی ہیں حدیث کی کتابوں میں اس کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے،ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ؐ ہر وقت اور ہر لمحہ اللہ کی یاد میں مصروف رہتے تھے(ابن ماجہ: ۳۰۲)،آپ ؐ نے لوگوں کو نماز کا حکم دیا مگر خود پنجوقتہ نمازوں سے ہٹ کر اشراق ،چاشت ،اوابین اور تہجد کی نمازیں پڑھتے تھے،ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ؐ نے تمام عمر ہر شب نماز ادافرمایا بسااوقات رات رات بھر نماز پڑھنے کی وجہ سے پاؤں میں ورم آجاتا ،میں عرض کرتی کہ اس قدر کیوں تکلیف اُٹھاتے ہیں ! فرماتے :اے عائشہ! کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں(بخاری:۱۱۳۰)۔
رسول اللہؐ ؐ کی سیرت طیبہ کا سب سے روشن پہلو یہی ہے کہ آپ ؐ نے بحیثیت پیغمبر اپنے ماننے والوں کو اور اپنی امت کو جو کچھ بتایا پہلے اس پر خود کرکے دکھایا ،آپ ؐ کی پوری حیات طیبہ کا مطالعہ کیجئے اس میں کہیں ایسا نہیں ملے گا کہ کسی معاملہ میں آپ ؐ نے حکم تو دیا ہو مگر خود اس پر عمل نہ کیا ہو،آپ ؐ سے محبت کرنے والوں کو سیرت طیبہ کا عملی پیغام یہی ہے کہ وہ سیرت نبوی ؐ کو اپنی زندگی کا جزو بنائیں کیونکہ آپ ؐ سے سچی محبت عملی وابستگی میں ہی مضمر ہے ، درحقیقت سچی محبت اور عقیدت آپؐ کی تعلیمات ہی میں وابستہ ہے، ورنہ الفاظ کے ذریعہ محبت کا اظہار کر دینا تو بہت آسان ہے لیکن ان کے نقش قدم پر چلنا یقینا آسان نہیں ہے ،سیرت طیبہ ہر اس شخص سے مطالبہ کرتی ہے جو اپنے کو آپ ؐ کا عاشق اور غلام نبی گردانتا ہے اور ان کی محبت پر جان نچھاور کرنے کاباربار وعدہ کرتا رہتا ہے، اگر وہ اپنے قول وقرار میں سچا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ آپ ؐ کے ہر اسوہ کو اپنی آنکھ کا سرمہ بنائے اور عملی محبت کا ثبوت دے ۔