بسم اللہ الرحمن الرحیم
جلوس میلاد النبی ﷺ – امت مسلمہ کے لئے ایک لمحہ فکریہ
ازقلم: محمد عبد اللہ جاوید،رائچور
9845547336
۱۲ ربیع الاول کے مبارک موقع سے میلاد النبیﷺ کےجلوس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ پہلے ان جلوسوں میں سادگی، وقار، نظم اور ایک دینی اجتماع کی سنجیدگی نمایاں پہلو ہوتی تھی۔لیکن گزشتہ کچھ برسوں سے حالات بڑی تیزی سے بدلتے جارہے ہیں۔اب جس انداز میں جلوس نکالےجارہے ہیں وہ ہمیں سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم آخر میلاد النبی ﷺ کے ذریعہ کس چیز کا اظہار کرنا چاہتے ہیں؟نہ کوئی واضح قیادت، نہ نظم و ضبط، نہ اجتماع کی سنجیدگی، ڈی جے کے ذریعہ دل دہلا دینے والی موسیقی، آنکھوں کو خیرہ کردینے والی تیز روشنیاں، ناچ گانا، سڑکوں پر ٹریفک جام، عام لوگوں کے لئے آمد و رفت میں شدید دشواری…..یہ سارے مناظر بڑے تکلیف دہ رہے ۔
ذرا کوئی بتائے کیا ہمارا یہ طرزِ عمل رسول اللہ ﷺ کی سنت اور حضراتِ صحابۂ کرامؓ کے اسوہ سے ہم آہنگ ہے؟ کیا یہ واقعی اُس رحمت للعالمین ﷺ کی ولادت کی خوشی ہے، جنہوں نے انسان کو وقار، حیا، رحمت، شرافت اور حسن معاشرت سکھایا؟امت مسلمہ کے لئے یہ یقیناً ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ ضرورت ہے کہ اس پورے طرزِ عمل کا بے لاگ اور سنجیدہ جائزہ لیا جائے اور آئندہ کے لئے واضح، دوٹوک اور مؤثر لائحۂ عمل طے کیا جائے۔ اگر ہم نے آج بھی اپنی اجتماعی ذمہ داری کومحسوس نہ کیا، نظم و ضبط قائم نہ کیا اور نئی نسل کو محبت رسول ﷺ کے حقیقی تقاضوں سے واقف نہ کرایا تو اندیشہ ہے کہ محض جذباتی مظاہروں کی یہ روش آنے والی نسلوں کو دین کی روح سے مزید دور کرتی چلی جائے گی۔
یہ سوال کسی فرد یا افراد کا نہیں، بلکہ ہم سب کے اجتماعی شعور کا سوال ہے۔ شاید مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ہم میلاد کیسے مناتے ہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ ہماری دینی حس اور حمیت کس سطح پر زندہ ہے؟ہمیں ایک بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دینی جذبات اور دینی شعور دونوں الگ چیز ہیں۔ جذبات انسان کو متحرک کرتے ہیں لیکن شعور اسے درست سمت عطا کرتا ہے۔ جذباتی وابستگی میں انسان اپنے محبوب کا نام بلند کرتا ہے، اس کی نسبت پر جوش و خروش کا اظہار کرتا ہے لیکن شعوری وابستگی میں انسان اپنے محبوب کے طریقے، اقدار اور ترجیحات کو اپنی زندگی کا حصہ بناتا ہے۔محبت کا حقیقی اظہار صرف یہ نہیں کہ ہم رسول اکرم ﷺ کا نام کتنی شدت سے لیتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی پسند اور ناپسند ہماری پسند اور ناپسند کو کس حد تک بدل دیتی ہے۔ محبت اگر رویّے نہ بدلے، ترجیحات نہ بدلے، اخلاق نہ سنوارے اور دوسروں کے لئے ہمارے طرزِ عمل کو بہتر نہ بنائے تو پھر ہمیں اپنی محبت کے اظہار سے زیادہ اس کی کیفیت اور حقیقت پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
قرآن مجیدنے رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارک کو اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ قرار دیا۔ یعنی آپ ﷺ صرف ہمارے جذبات ہی کا مرکز نہیں بلکہ ہماری زندگی کے لئے قابل تقلید نمونہ ہیں۔ جب ہم اس حقیقت کو دل سے مانتے ہیں تو یہاں سے ہماری پوری بحث کا زاویہ بدل جاتا ہے۔ ہمیں یہ بات بڑی سنجیدگی سے سمجھنی چاہئے کہ اسلام میں کسی عمل کی دینداری صرف اس کے عنوان سے طے نہیں ہوتی۔ ایک کام کا عنوان کتنا ہی مقدس کیوں نہ ہو اگر اس کے طریقۂ کار سے دوسروں کے حقوق پامال ہورہے ہوں تو ہمیں اس پر غور کرنا ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ کی ولادت کی خوشی اپنی جگہ لیکن اگر اس خوشی کے اظہار میں کسی کا راستہ بند ہوجائے، کسی مریض کو دشواری ہو، کسی بزرگ کو اذیت ہو، کسی کو گھنٹوں ٹریفک میں پھنسنا پڑے اور شہر کے معمولات درہم برہم ہوں تو کیا ہم یہ کہہ کر مطمئن ہوسکتے ہیں کہ یہ تو محبتِ رسول ﷺ میں ہورہا ہے؟ اگر اسی خوشی کے اظہار میں شور و شرابا، موسیقی، گانوں کی دھنوں پر رقص اور بے ہنگم نعرے بازی شامل ہوجائے تو کیا ہم اپنے دل کو یہ کہہ کر مطمئن کرسکتے ہیں کہ محبتِ رسول ﷺ کا یہی تقاضا ہے؟
اسلام نے کبھی یہ اصول نہیں دیا کہ اچھامقصد انسان کو ہر طریقہ اختیار کرنے کا حق دے دیتا ہے۔مقصد کی پاکیزگی طریقۂ کار کی غلطی کو پاکیزہ نہیں بناتی۔یہ اصول ہمیں اپنی اجتماعی سرگرمیوں پر دوبارہ غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔نوجوانوں کا مسئلہ صرف نوجوانوں کا نہیں اور انہیں دیکھ کر صرف یہ کہنےسے بھی کام نہیں چلے گا کہ نوجوان بگڑ گئے ہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ انہیں بگاڑنے والے ماحول کی تشکیل کیسے ہوئی ؟نوجوان ہجوم میں تو پیدا نہیں ہوتے انکی شخصیت کی تعمیر توگھروں، مسجدوں ،مدرسوں، اسکولوںاور قیادت کے رویوں سے ہوتی ہے۔اگر نوجوان یہ دیکھتا ہے کہ دینی اجتماع کی کامیابی کا معیار شور، تعداد، نعرے، لائٹنگ اور طاقت کا مظاہرہ ہے تو وہ اسی کو دینی جوش سمجھنے لگے گا۔اگر اسے بتایا ہی نہ جائے کہ دوسروں کو تکلیف نہ دینا بھی عبادت کا حصہ ہے تو وہ سڑک پر اپنے طرز عمل کو مسئلہ کیوں سمجھے گا؟یہاں ہمیں نوجوانوں سے زیادہ اپنی تربیتی ترجیحات کا جائزہ لینا چاہئے۔
مخلوط سماج میں ہمارا ہر عمل ایک پیغام ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں مسلمان تنہا نہیں رہتے۔ ہمارے غیر مسلم بھائی اسلام کو صرف کتابوں سے نہیں، ہماری اجتماعی زندگی سے بھی دیکھتے ہیں۔ یہ حقیقت ہمیں بہت سنجیدہ بنادینی چاہیے۔ آج اگر ایک غیر مسلم بھائی سڑک پر گھنٹوں ٹریفک کا سامنا کیا، شور سہا، ہنگامہ دیکھا اور پھر اسے بتایا گیا کہ یہ سب رسول اللہ ﷺ کی ولادت کی خوشی میں ہے تو اس کے ذہن میں رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کا کون سا تصور پیدا ہوگا؟
یہ سوال ہمیں اپنے دفاع میں نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ پوچھنا چاہئے۔ ہمیں یہ حق ضرورحاصل ہے کہ ہم اپنے دینی جذبات کا اظہار کریں لیکن ساتھ ہی ہم پر یہ ذمہ داری بھی ہے کہ ہمارا کوئی بھی طریقہ اسلام کی خوبصورتی کو مسخ نہ کرے۔ اگر غیر مسلم بھائی ہمارے جلسہ و جلوس سے یہ جان جائیں کہ مسلمان اپنے نبی ﷺ سے محبت کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگیوں میں ڈھال لیتے ہیں۔ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں اور اپنے دینی جذبات میں بھی نظم و ضبط،تہذیب وشائستگی کا دامن نہیں چھوڑتے تو یہ نبیِ رحمت ﷺ کی دعوت کو ان تک پہنچانے کا ایک باوقار اظہار ہے۔ اگر وہ اس کے برعکس تاثر لیں تو ہمیں صرف یہ کہہ کر مطمئن نہیں ہونا چاہئے کہ وہ اسلام کو سمجھتےنہیں۔
شاید یہ وقت صرف یہ پوچھنے کا نہیں کہ کل کیا غلط ہوا، بلکہ اس پر غور کرنے کا ہے کہ خوشی کے اظہار کا ایسا کلچر کیوں کرفروغ پاگیا جس میں شور و شرابا، ہجوم، تیز روشنیاں، گانے، رقص اور ظاہری جوش حقیقی مقصد پر غالب آگئے؟ رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عظمت ہمیشہ شور سے پیدا نہیں ہوتی ،کبھی خاموش اخلاق ہزار نعروں سے زیادہ مؤثر دعوت بن جاتا ہے۔ اسی لیے ہمیں میلاد النبی ﷺ کے تصور کو محض ایک اجتماع یا جشن کی بجائے محبتِ رسول ﷺ، اتباعِ سنت اور تعمیرِ کردار کے موقع کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ نئی نسل میں یہ شعور بیدار کریں کہ جس نبیِ رحمت ﷺ سے ہم محبت کرتے ہیں، آپ ﷺ کی محبت دوسروں کے لئے تکلیف کا سبب بننے کا نام نہیں، بلکہ آپ ﷺ کے اخلاق، رحمت، حیا اور حسنِ معاشرت کو اپنی انفرادی اور اجتماعی رویّوں میں اختیار کرنے کا نام ہے۔ ہماری دینی، سماجی اور سیاسی قیادت کی ذمہ داری بھی محض ہجوم کو متحرک کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہئے بلکہ اسے ایک ایسے منظم گروہ کی تشکیل کی فکر ہونی چاہئے جو نظم وضبط، اخلاق وکردار، شعور اور ذمہ داری کے اعلیٰ نمونے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں لوگوں کا جمع ہوجانا اصل کامیابی نہیں، اصل کامیابی اس سوال کا جواب حاصل کرنے میں ہے کہ وہ ہزاروں لوگ اپنے ساتھ کیا لے کر واپس لوٹے…… شور یا شعور؟ محض وقتی جوش یا احساس ذمہ داری؟ بے ہنگم نعرے یا دلوں کو مسخر کرنے والے کردار؟