مودی سرکار دو پہیوں پر چل رہی ہے۔ اس کے آگے پہیہ وزیر اعظم نریندر مودی کی شبیہ ہے جس کو ہاتھی کے دکھانے والے دانت کہہ سکتے ہیں اور پچھلا پہیہ وہ بیانیہ ہے جس کو کھانے کے دانت کہا جاسکتا ہے کیونکہ اسی کو چبا چبا کر انتخابی دھاندلیاں جائز قرار دی جاتی ہیں اور انتخابات جیتے جاتے ہیں۔ مودی جی کی بھاری بھرکم شبیہ کیسے بنائی گئی اس راز کو معروف صحافی راج دیپ سر دیسائی نے اپنی کتاب میں فاش کردیا ۔راجدیپ ملک کے بڑےذرائع ابلاغ مثلاً ٹائمز آف انڈیا اور این ڈی ٹی وی سے آئی بی این سی این این یعنی نیوز 18 سے منسلک رہے ہیں ۔فی الحال انڈیا ٹوڈے یعنی اور آج تک چینل میں ہیں۔ انہوں نے اپنی کتابوں میں مودی کے میڈیا مینجمنٹ اور انٹرویوز پر کھل کر تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے،وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح مودی کے دور میں سیاسی انٹرویوز اور پریس کانفرنسوں کا انداز بدلا اور پی ایم او (وزیر اعظم ہند کا دفتر) کی میڈیا ٹیم نےکیا کردار ادا کیا؟راجدیپ سر دیسائی کی تازہ ترین کتاب’ 2024:ایک حیرت انگیزالیکشن‘میں انہوں نے یہ لکھ دیا کہ انڈیا ٹوڈے کے معروف چینل آج تک سے نشر ہونے والا مودی کے انٹرویو کی فلمبندی وزیر اعظم کی مرضی اور ہدایت کے مطابق پی ایم او کے اندر ہوئی اور پھر بھی اسے ایڈٹ کرنے کے بعد ہی منظر عام پر لایا گیا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ انٹرویو نہیں بلکہ ایک ایسا اشتہار تھا جس میں مودی ایک ماڈل تھے جیسےپتانجلی کے اشتہار میں خود رام دیو ہوا کرتا ہے۔
راجدیپ سردیسائی کا ایک انٹرویو نیوز لانڈری نامی چینل پر نشر ہوا۔ اس میں انہوں نے مندرجہ بالا حقائق کی یہ کہہ کر تصدیق کی کہ وہ سب کتاب میں موجود ہے اور کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا اس لیے گویا یہ سچائی ہے۔ میڈیا میں دولت و اقتدار کی مدد سے یہ ساری مشقت مودی جی کی شبیہ بنانے کے لیے کی جاتی رہی ہے تا کہ انہیں مہا مانو( عبقری شخصیت) کے طور پر پیش کیا جا سکے ۔ عام لوگوں اور اندھ بھگتوں پر اس کا جو اثر ہوا سو ہوا مگر خود وزیر اعظم اس چاپلوسی سے متاثر ہوکر اپنے آپ کو نہ صرف غیر طبعی(نان بایو لوجیکل ) سمجھنے بلکہ بولنے بھی لگے۔ میڈیا کا دوسرا ہدف وزیر اعظم کی کمزوریوں کو چھپاناتھا ۔ اس کے لیے خطاب سے قبل ان کے سامنے ہمیشہ ٹیلی پرامپٹر رکھ دیا جاتا اور انہیں پریس کانفرنس سے دور رکھا جاتا تاکہ ڈھول کا پول نہ کھل جائے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ امسال مئی 2026ء میں جب وزیر اعظم نریندر مودی ناروے کے دورے پر تھے تو وہاں کی ایک نوعمر صحافیہ ہیلی لینگ نے مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد ان سے سوال کرنے کی کوشش کی۔ اس بیچاری کا سادہ سا سوال یہ تھا کہ آخر مودی جی ناروے کے آزاد میڈیا میں سوالات کا جواب کیوں نہیں دیتے؟ اس معمولی استفسارپرخود ساختہ ’وشوگرو‘ نریندر مودی بغیر جواب دیئے فرار ہو گئے۔
ہندوستانی وزارتِ خارجہ کے حکام نے اس سانحہ پر شرمندہ ہونے کے بجائے اس صحافیہ کے ساتھ تلخ کلامی کردی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہیلی لینگ تو زیرو سے ہیرو ہو گئیں کیونکہ بی بی سی جیسے موقر ادارے نے ان کا انٹرویو لے لیا مگر مودی جی ہیرو سےزیرو ہوگئے۔ ابھی حال میں ہندوستان کے اندر امریکی سفیر سرجیو گور نے ایک نہایت دلچسپ انکشاف کرکے وزیر اعظم کی اس کمزوری پر مہر ثبت کردی ۔ انہوں نے کہا کہ جون 2026ء میں فرانس کے اندر منعقدہ جی ۷؍اجلاس کے دوران ہندوستانی وزارتِ خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے درخواست کی تھی کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا کے سوالات نہ لیے جائیں۔ یہ انکشاف کسی نجی گفتگو میں نہیں بلکہ دہلی میں منعقدہ ایک سرکاری /لیڈرز فورم سے خطاب کےدوران کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستانی حکام کی خواہش تھی کہ میڈیا کو کوریج کی اجازت تو ہو، مگر کوئی باقاعدہ پریس کانفرنس یا سوال و جواب کا سیشن نہ رکھا جائے۔
امریکی سفیر کو پتہ تھا کہ ان کو ہیلی لینگ کی طرح ڈانٹنے ڈپٹنے کی ہمت کسی میں نہیں ہے اس لیے وہ آگے بولے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے تواس بات پر راضی ہوگئے تھے، لیکن ابتدائی کلمات کے بعد یہ درخواست وہ بھول گئے اور اچانک میڈیا کو سوالات کی دعوت دے ڈالی کیونکہ مودی کی طرح عمر کا اثر تو ٹرمپ پر بھی ہوا ہے۔ اس طرح یہ ملاقات تقریباً 45 منٹ کی طویل پریس کانفرنس اور سوال و جواب کے سیشن میں تبدیل ہوگئی جس میں وزیر اعظم مودی ’ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم‘ کی کیفیت میں مبتلا دم سادھےبیٹھے رہے یہاں تک کہ ٹرمپ نے کہہ دیا’یہ فرشتہ صفت نظر آنے والا شخص سخت قاتل سودے بازہے‘۔اس ہرزہ سرائی پر بھی ان کی چونچ نہیں کھلی۔ آگے چل کراس بیان کی یہ تو ضیح کی گئی کہ صدر ٹرمپ نے نریندر مودی کی شخصیت کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دیکھنے میں فرشتے کی مانند نرم مزاج لگتے ہیں لیکن مذاکرات میں ایک ‘قاتل’ کی طرح سخت سودے باز ہیں۔یہ بات خلاف حقیقت ہے کیونکہ جب ہندوستانیوں کو بیڑیا ں ڈال کر فوجی جہاز میں بھیجا گیا تو مودی جی نے احتجاج نہیں کیا۔ آپریشن سیندور کے بعد ہندوستانی موقف کے خلاف ٹرمپ نے کئی بار جنگ رکوانے کا دعویٰ کیا مودی نے تردید نہیں کی۔ روس سے تیل لینے کی سہولت ہو یا چابہار سے نکل جانے کا حکم بلا چوں چرا حکم کی تعمیل کی گئی ایسے میں نرمی ہی نرمی دکھائی پڑی سختی کہیں نظر نہیں آئی اور جعلی شبیہ بگڑتی چلی گئی۔
اس کے برعکس حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے بھارت جوڑو یاترا کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ کشمیر سے کنیا کماری تک پیدل چلنے کے بعد وہ بھارت جوڑو نیایہ(انصاف ) یاترا کے کیے منی پور پہنچ گئے اور وہاں سے ممبئی آئے۔ ان کے سیاسی سفر کا تیسرا مرحلہ چھاتروں(طلبا) کی گونج ہے جس نے پورے سنگھ پریوار کے ہوش اڑا دئیے ہیں اور مودی و شاہ کی بولتی بند کردی ہے۔ حالیہ "موڈ آف انڈیا” ور پول ٹریکر سروے کے مطابق، وزیر اعظم نریندر مودی اور کانگریس رہنما راہل گاندھی کی مقبولیت میں 16 فیصد کا فرق دیکھا گیا ہے۔جولائی سے اگست کے دوران جن عوامی رجحانات میں تبدیلی کو نوٹ کیا گیااس کے مطابق راہل گاندھی کو بطورِ وزیر اعظم پسند کرنے کی شرح 58 فیصد ریکارڈ کی گئی۔اس کے مقابلے میں وزیراعظم نریندر مودی کی حمایت 42 فیصد رہی یعنی راہل گاندھی کے حق میں 16 پوائنٹس کی برتری ظاہر ہوئی ہے۔ایوان پارلیمان کے پورے مانسون اجلاس سے وزیر اعظم سمیت وزیر داخلہ کا غیر حاضر رہنا اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ یہ جوڑی اب عوام تو دور اس پارلیمنٹ سے بھی منہ چھپاتی پھر رہی ہے جہاں اس کو بیساکھی پر سہی اکثریت حاصل ہے اور دولت و لالچ کی مدد سے مخالف ارکان کو خرید کر اس میں اضافہ کیا جارہا ہے۔
وزیر اعظم کی شبیہ سے بیانیہ کی طرف آئیں تو یہ مشہور کیا گیا کہ بی جے پی ملک کو دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بناکر خوشحال بنا رہی ہے مگر مہنگائی کا یہ حال ہے کہ چینی کی قیمت 45 روپے فی کلوگرام سے بڑھ کر 70 روپے تک پہنچ گئی ہے، اور اب پیاز کی قیمت میں بھی 76 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ایک طرف بے روزگاری اور دوسری جانب مہنگائی کی مار کیا خوشحالی کی علامت ہے؟تہواروں کے موسم میں دودھ، تیل، پھل اور راشن بھی عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہو رہاہے کیا یہی ’اچھے دن ‘ہیں جن کا وعدہ کیا گیا تھا؟وشوگرو ہندوستان کی معاشی ترقی کے دعویٰ کی تردید اروند کیجریوال نے بنگلہ دیش کے اعدادو شمار پیش کرکے کردی ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان فی کس آمدنی کے معاملے میں بنگلہ دیش سے پیچھے رہ گیا ہے۔ کیجریوال کے مطابق بھارت کی سالانہ فی کس آمدنی $2,800 جبکہ بنگلہ دیش کی $2,900 ہے۔ یہ مودی جی کا کارنامہ ہے کیونکہ 2014 میں ہندوستان کی فی کس آمدنی ($1,600) یعنی بنگلہ دیش کی ($1,100) سے تقریباً ڈیڑھ گنا زیادہ تھی، لیکن اب وہ آگے نکل گیا اور مودی جی غبار دیکھتے رہ گئے۔
ہندوستان کی آبادی چونکہ دنیا میں سب سے زیادہ ہے اس لیے اس کی کل جی ڈی پی (تقریباً $4.1 کھرب) ضرور ہے جبکہ بنگلہ دیش (تقریباً $510 ارب) کی معیشت ہے مگروطن عزیز میں یہ دولت چند لوگوں کے ہاتھوں میں سمٹی ہوئی ہے۔مودی سرکار کی ’ہم دو ہمارے دو‘ کی پالیسی نے اس ارتکاز کو مزید بڑھایا۔ اس سے غریب اور امیر کے درمیان کی کھائی میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ منموہن سنگھ کے زمانے میں مودی جی ڈالر کے مقابلے روپئے کی قیمت کے گرنے کو ملک کے وقار سے جوڑکر تنقید فرماتے تھے مگر اب ایک امریکی ڈالر کی قیمت ہندوستان میں تقریباً 95.21 ہندوستانی روپئے تک پہنچی ہوئی ہے جبکہ چالیس سال تک خانہ جنگی کا شکار رہے افغانستان میں یہ تقریباً 65.00 افغانی (روپیہ) ہے یعنی یہاں بھی ڈیڑھ گنا کا فرق ہوگیا ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی اس خوش فہمی کا شکار رہنا چاہتا کہ ہم ’وشو گرو‘ ہیں تو اس نرگسیت کا علاج لقمان حکیم کے پاس بھی نہیں ہوگا۔ سچ تو یہ ہے کہ دن بہ دن مودی کی جعلی شبیہ اور سنگھ کے نقلی بیانیہ طلسم ٹوٹ کر بکھر رہا ہے۔