ترجمہ:
بے شک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہو۔
رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی ہمارے لیے اسوۂ حسنہ، مشعلِ راہ اور عملی رہنمائی ہے۔ آپ ﷺ کے اخلاق، کردار، عبادت، معاملات، دعوت، صبر، شجاعت، سخاوت اور اللہ پر کامل توکل—زندگی کے ہر پہلو میں ہمارے لیے رہنمائی موجود ہے۔
قرآنِ مجید نے آپ ﷺ کے عظیم کردار کی گواہی دیتے ہوئے فرمایا:
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ ٤
“اور بے شک آپ ﷺ اخلاق کے عظیم مرتبے پر فائز ہیں۔” (القلم)
آپ ﷺ کی زندگی کسی ایک قوم یا ایک زمانے کے لیے نہیں، بلکہ قیامت تک آنے والی پوری انسانیت کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ کے شب و روز اللہ کی رضا، بندوں کی خیر خواہی اور دینِ حق کی سربلندی کی جدوجہد سے عبارت تھے۔
● نبوت سے پہلے کے شب و روز
نبوت سے پہلے بھی رسول اللہ ﷺ اپنی قوم کی جہالت، شرک، ظلم اور اخلاقی زوال کو دیکھ کر آپ ﷺ کا دل کرب میں مبتلا رہتا۔ جس طرح حضرت ابراہیمؑ نے اپنی قوم کے شرک سے بے زاری اختیار کرکے کائنات میں غور کیا اور اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کی، اسی طرح رسول اللہ ﷺ بھی نبوت سے پہلے غارِ حرا میں غور و فکر اور خلوت کے ذریعے ایک کار عظیم کے لیے تیار کیے جا رہے تھے۔
پھر وہ عظیم لمحہ آیا جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور پہلی وحی نازل ہوئی:
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ١
“پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔” (العلق: 1)
یہ وہ تاریخی لمحہ تھا جب 610ء میں حضرت جبرئیلؑ پہلی وحی لے کر غارِ حرا میں تشریف لائے اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا آغاز ہوا۔
؎ دل مضطر سے پوچھ اے رونقِ بزم
میں خود آیا نہیں، لایا گیا ہوں
اس کے بعد آپ ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کے پیغام کو انسانوں تک پہنچانے کے لیے وقف ہوگیا۔
● اللہ کی بڑائی کا اعلان
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ٣
“اور اپنے رب کی بڑائی بیان کیجیے (المدثر)
یہ آپ ﷺ کی دعوت کا بنیادی پیغام تھا کہ اللہ سب سے بڑا ہے، اسی کی بندگی کی جائے اور اسی کے سامنے سر جھکایا جائے۔
آپ ﷺ نے اس پیغام کو صرف زبان سے بیان نہیں کیا بلکہ اپنی پوری زندگی اس کا عملی نمونہ بن گئے۔ آرام و آسائش، مال و دولت اور ذاتی مفاد کے بجائے اللہ کی رضا اور انسانوں کی ہدایت کو اپنا مقصد بنا لیا۔
● باطل کے سامنے استقامت
اہلِ مکہ نے آپ ﷺ کو دعوتِ حق سے روکنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے۔ کبھی مال و دولت کی پیشکش کی، کبھی سرداری اور اقتدار کی، کبھی دنیاوی آسائشوں کا لالچ دیا، مگر رسول اللہ ﷺ اپنے مقصد سے ایک لمحے کے لیے بھی پیچھے نہ ہٹے۔
آپ ﷺ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جس انسان کو اپنے رب کی معرفت اور اپنے مقصد پر یقین حاصل ہوجائے، دنیا کی بڑی سے بڑی پیشکش بھی اسے حق سے نہیں ہٹا سکتی۔
● شب و روز امت کی فکر میں
رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو امت اور انسانیت کی فکر تھا۔ آپ ﷺ لوگوں کو جہنم کی آگ سے بچانے اور انہیں اللہ کی طرف بلانے کے لیے بے قرار رہتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ ٣
“شاید آپ ان کے ایمان نہ لانے پر اپنی جان ہی کھو بیٹھیں گے۔”
(الشعراء: 3)
یہ صرف دعوت دینے کا نام نہیں تھا؛ یہ انسانوں کے لیے درد، محبت اور خیر خواہی تھی۔
● غارِ ثور میں اللہ پر کامل یقین
ہجرت کے موقع پر جب دشمن غار کے دہانے تک پہنچ گئے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ کو تشویش ہوئی۔ اس نازک وقت میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا
“غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔”
(التوبہ: 40)
یہ الفاظ رسول اللہ ﷺ کے اس یقین کی عکاسی کرتے ہیں کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، اللہ اپنے بندوں کے ساتھ ہے۔
● نبی ﷺ کی ذات ہمارے لیے بہترین اسوہ
ہم بھی کلمۂ توحید کا اقرار کرتے ہیں، اللہ کو اپنا رب مانتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو اپنا نبی مانتے ہیں۔ لیکن ہمیں اپنے دل سے پوچھنا چاہیے:
• کیا ہمیں بھی انسانوں کی ہدایت کی فکر ہے؟
• کیا ہم اپنے عمل سے اسلام کی خوبصورتی دکھاتے ہیں؟
• کیا ہماری راتیں اور دن اللہ کی یاد اور اس کی رضا کی کوشش میں گزرتے ہیں؟
کیا ہم مشکلات میں “إِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا” کے یقین کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں؟
رسول اللہ ﷺ نے اپنی پوری زندگی ہمیں یہ سکھایا کہ دین صرف چند عبادات کا نام نہیں، بلکہ اللہ سے مضبوط تعلق، بندوں کی خیر خواہی، اعلیٰ اخلاق، صبر، قربانی، امانت اور حق پر ثابت قدمی کا نام ہے۔
؎ وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
آج ہمیں اپنے شب و روز کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم واقعی رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو اس محبت کا تقاضا ہے کہ ہم آپ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی میں جگہ دیں، اپنے اخلاق کو سنواریں، اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کریں اور اپنے قول و عمل سے اسلام کی خوبصورتی دنیا کے سامنے پیش کریں۔
رسول اللہ ﷺ ہمارے بہترین رہبر، قائد اور رہنما ہیں۔ آپ ﷺ کی پاکیزہ زندگی ہمارے لیے ایک روشن چراغ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اپنی زندگی کے ہر شعبے میں آپ ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔