آنکھیں (افسانہ)

آنکھیں

ازقلم: سیماشکور (حیدرآباد)

آنکھیں انسانی چہرے پرسب سے زیادہ متاثرکن ہوتی ہیں۔ آنکھیں دل کے رازعیاں کردیا کرتی ہیں۔ انسان اپنے لب ولہجے کو چاہے کتنا ہی قابو میں رکھ کر جھوٹا خلوص ظاہر کرنے کی کوشش کرے اس کی آنکھیں اس کے دل کے مکروہ پن پر سے پردہ ہٹا ہی دیا کرتی ہیں جس طرح خوشبو ساری فضا میںپھیل کر اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہے۔ اسی طرح انسانی آنکھیں بھی ہزار جدوجہد کے بعدبھی سچ بول ہی دیاکرتی ہیں۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم اپنی کوئی بے انتہاخوشی کسی کو اپنا سمجھ کر اس سے بانٹنا چاہتے ہیں لیکن یہ دیکھ کر ہمیں شدید دھچکا لگتا ہے کہ جس کو ہم اپنا جان کر خوشی بانٹ رہے تھے ان لبوں پر تو شہدجیسی مٹھاس امنڈرہی ہے لیکن آنکھوں میں برف کی سلیں رکھی صاف نظر آرہی ہیں۔ آنکھوں میں حسد وجلن کا زہر بھرا ہوتو وہ وقت ہمارے لیے بے حد نازک ہوتاہے یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہمیں خود پر قابو پانابے انتہا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس لمحے ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ دوست نہیں ہے بلکہ حسد وجلن کے جذبات اپنے اندر پالنے والا کوئی اجنبی ہے۔ اس وقت ہم محتاط ہوجاتے ہیں ایک دکھ کی لہر سینے میں اٹھتی ضرور ہے لیکن ہمیں سنبھلناہی پڑتا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم جسے اپنا دوست وغمگسار سمجھیں وہ واقعی میںغمگسار بھی ہو۔
حسد کے جذبات کسی بھی وقت ہمارے دل کی زمین میںاپنی جڑیں پھیلا دیتے ہیں۔ پھر ایسا ہوتا ہے کہ یہ جڑیںاس قدر مضبوط ہوجاتی ہیں کہ ہمارا خوش رہنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ انسان کبھی کسی کی دولت سے حسد کرتا ہے تو کبھی کسی کی خوبصورتی سے تو کبھی معاشرے میں کسی کے اعلیٰ مقام ومنصب کو دیکھ کر حسد کرنے لگتا ہے ۔ کبھی کسی کاسکون اسے برداشت نہیں ہوتا حسد ایک ایسی خامی ہے جو ہر کسی میں نہیں پائی جاتی یہ فطرتاً شخصیت کا حصہ ہوتی ہے۔ فطرت کبھی بدل نہیںسکتی جبکہ عادتوں کو آسانی سے بدلا جاسکتا ہے ۔ چہرہ ہمارے دلی جذبات کی چاہے عکاسی نہ کرے لیکن آنکھیں سچ کہہ ہی دیاکرتی ہیں۔
آنکھیں ان کہی باتیں، جذبات واحساسات کے نرم لمحے ، بھیگی بھیگی سی خواہشات ، اداس اور بوجھل لمحوں کی داستانیں ان سب کو اس طرح بیان کردیا کرتی ہیں کہ زبان حیران وپشیماں دیکھتی ہی رہ جاتی ہے۔
کچھ آنکھیں بہت خوبصورت ہوتی ہیں سمندر جیسی وسیع آنکھیں نیلگوں آسماں کی طرح ، کچھ آنکھیں سوچ کی گہری وادیوں میں کھوئی نظرآتی ہیں۔ کچھ آنکھیں سراپا سوال ہوتی ہیں۔ بنا کہے ہی سب کچھ کہہ دیا کرتی ہیں۔ کسی کی آنکھیں اس قدر اداس اوردل گرفتہ سی ہوتی ہیں کہ گویا دکھوں کا ایک لامتنا ہی سمندر ہوں۔ ایسی آنکھیں ہنستے ہوئے ہونٹوں کا ساتھ دینے سے یکسر قاصر ہوتی ہیں۔ کسی کی آنکھیں شرم وحیا کاآنچل اوڑھے نظر آتی ہیں۔ کسی کی آنکھیں عیاری و مکاری کی کھلی تصویر ہوتی ہیں ایسی آنکھیں مکرو فریب کرتی صاف نظرآجاتی ہیں۔ کچھ آنکھیں بے باک ہوتی ہیں۔ ایسی آنکھوں میںحیا دور دور تک نظر نہیں آتی ۔ایسی آنکھیں اگر بہت حسین بھی ہوں تو اپنا تاثر قائم کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ شاید اسی لئے شیکسپیئر نے کہاتھا کہ ’’ شرم کی کشش حسن سے زیادہ ہوتی ہے۔‘‘
شعراء حضرات نے آنکھوں پر بے انتہا اشعار کہہ ڈالے ہیں۔ آنکھوں کے ذکر کے بغیر شاعری بالکل ادھوری ہے۔ کچھ لوگوں کو سیاہ آنکھیں بھاتی ہیں تو کوئی نیلی آنکھوں پر فدا نظر آتا ہے تو کوئی بھوری یا سبز آنکھوں کو پسند کرتا ہے۔
آنکھیں ہمارے دلی جذبات کو عیاں کرتی ہیں۔ کچھ لوگ آنکھوں کے راستے سیدھے دل میں اتر جایا کرتے ہیں۔ ہم سے بنا پوچھے ہی چپ چاپ دل میں اس طرح اتر جاتے ہیں کہ ہم حیران ہی رہ جاتے ہیں کہ کوئی ہمارے دل کے سنگھاسن پر برجمان ہوکر اس طرح حکومت کرتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو بالکل لاچاروبے بس محسوس کرتے ہیں، اور وہ ہمارے دل وجان پر قابض ہوجاتا ہے، شاید اسی کو عشق کہتے ہیں۔
ہماری آنکھیں ہر لمحہ کچھ نہ کچھ دیکھتی ہیں۔ اگر وہ سو بھی جائیں تو خواب دیکھا کرتی ہیں۔ آنکھیں ہمیں کیاکچھ دکھاتی ہیں۔ ہم زندگی میں کئی بار دوستوں کو تو کبھی اپنوں کو تو کبھی غیروں کو بدلتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ آنکھیں ہماری زندگی کیلئے بہت اہم ہیں۔ آنکھیں ہمیں ایسے ایسے سانحات اور درد ناک واقعات دکھاتی ہیں کہ ہم سوچتے ہیں کہ کاش ہم یہ سب نہ دیکھتے۔ آج ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں شاید ایسا دور پہلے کبھی نہیں گزرا۔ ہم کہیں بھی نظر دوڑائیں ہمیں ہر طرف عریانی وفحاشی کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ سڑکوں پر عریانیت رقص کررہی ہے۔ ٹی وی پر گندگی کے مناظر دکھائے جاتے ہیں موبائل فون بھی اس سے محفوظ نہیں۔غرض ہر طرف گندگی ہی گندگی ہے۔ ہم اپنے آپ کو بہلانے کیلئے جب پارکس کا رخ کرتے ہیں تووہاں بھی عریانیت کا رقص جاری نظرآتا ہے۔ ہماری آنکھیں بار بار جھک جاتی ہیں۔
ہماری آنکھیںہر طرف جھوٹ کو پنپتے ہوئے دیکھ رہی ہیں۔ رشتوں کو بدلتے ہوئے دیکھ رہی ہیں۔ والدین کو والڈایج ہومز میں جاتا ہوا دیکھ رہی ہیں۔ معصوم بچوں سے ان کی معصومیت چھینتے ہوئے دیکھ رہی ہیں۔اونچے اونچے محلات میں شان وشوکت سے جیتے ہوئے خودغرض لوگوں کو دیکھ رہی ہیں۔چند نوالوں کیلئے ترس ترس کر مرتے ہوئے بچوں کو دیکھ رہی ہیں۔ اپنے مجبور وبے کس بھائیوں ، بہنوں اور بچوں کو دیکھ رہی ہیں جن کے سروں پر کھلا آسمان ہے۔ آنکھیں دیکھ رہی ہیں ان خوشحال مسلمان ملکوں کی غیرتوں کو جو کب سے مرچکی ہیں۔ ان کے احساسات مردہ ہوچکے ہیں۔ ان کے سینے میں دل برف بن چکا ہے انہیں کچھ نہیں ہوتا۔ وہ اپنی ذات میں مگن ہیں انہیں کوئی چیخ نہیں سنائی دیتی کوئی آنسو دکھائی نہیں دیتا ۔ایک وقت ایسا بھی ہم پر آئے گا جب ہماری آنکھیں ایک دفعہ بند ہونے کے بعد دوبارہ نہیں کھلیںگی منوں مٹی تلے دب چکی ہوںگی ہماری آنکھیں ۔ہم نے اس وقت کو فراموش کردیا ہے۔کچھ آنکھیں مجبوری وبے کسی کی تصویر ہوتی ہیں اپنی ضرورتوں اور تنگ دستی کاتذکرہ کسی سے نہ کرنے والی آنکھیں صرف اکیلے ہی پانی سے بھرجایا کرتی ہیں وہ کسی سے دست سوال دراز نہیں کرتیں غیرت مند اور خوددار آنکھیں ہی دنیا کی حسین آنکھیں ہیں۔
وہ آنکھیں جو اللہ تعالیٰ کے خوف سے آنسو بہائیں وہی آنکھیں بہترین ہیں۔ برے اورغلاظت بھرے مناظر کو نہ یکھنے والی آنکھیں اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے رات بھر جاگ کر عبادت کرنے والی آنکھیں خوبصورت آنکھیں ہیں۔ یہ دنیاظاہری خوبصورتی پر فدا ہوتی ہے۔ جبکہ باطنی خوبصورتی ہی اصل خوبصورتی ہے معمولی دکھنے والی اور شرم وحیا رکھنے والی آنکھیں ہی پرکشش ہوتی ہیں۔ ہم اپنی آنکھوں سے اس دنیا کو دیکھتے ہیں۔ اس کی رعنائیوں کا مطالعہ کرتے ہیں خوش رنگ پھول پتے ہم اپنی ان آنکھوں کی بدولت ہی دیکھ سکتے ہیں لیکن کس قدر عجیب سی بات ہے کہ ہماری آنکھیں خود کو نہیں دیکھ سکتیں اس کیلئے آئینے کی ضرورت ہوتی ہے ہماری آنکھیں جن سے ہم ایک ہی وقت میں لاکھوں ستاروں کو دیکھ سکتے ہیں وہی آنکھیں خود کو دیکھنے کیلئے آئینے کی محتاج ہیں۔
میرے نزدیک وہ آنکھیں سب سے زیادہ حسین ودلکش ہیں جو کسی کے دکھ پرآنسو بہائیں جو کسی دکھی کیلئے تڑپیں اپنے لیے تو ہر کوئی آنسو بہاتا ہے اپنے دکھ ہی دکھ محسوس ہوتے ہیں لیکن وہ آنکھیں جوکسی دوسرے کے درد کو دیکھ کر آنسو بہائیں ایسی آنکھیں اس دنیا میں نایاب ہیں۔ اسی لیے اس دنیا میں دکھ زیادہ ہیں اورخوشیاں کم کہ ہم صرف اپنے لیے ہی جیتے ہیں۔ دوسروں کیلئے اپنی زندگی وقف کردینے والے لوگ ہمارا عظیم اثاثہ ہیں۔
٭٭٭

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے