رسول اللہؐ کی ذات اقدس منبع علم وحکمت ، پیکر حسن وجمال ، مجموعۂ اخلاق و کمالات اور انسانیت کے لئے سراپا رحمت ہی رحمت ہے ، رسول اللہؐ کی ذات مبارکہ تمام ظاہری وباطنی کمالات سے مزین اور ساری دنیا کے لئے ہدایت وسرفرازی کا ذریعہ ہے ،اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ؐ میں وہ تمام تر خوبیاں اور کمالات جمع فرمادئیے تھے جو ابوالبشر سیدنا آدم ؑ سے لے کر روح اللہ سیدنا عیسیٰ ؑ تک تمام انبیاء ورسولوں کو فرداً فرداً عطا ہوئے تھے، رسول اللہ ؐ کا علم کائنات میں سب سے بڑھا ہوا ہے ،رسول اللہؐ کی زبان اقدس سے نکلا ہوا ایک ایک جملہ دنیا کے سارے اُدبا ء ،فصحا ء اور حکماء کی حکمت اور فصاحت و بلاغت پر بھاری ہے ،اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولؐ کو جوامع الکلم کے معجزہ سے نوازا تھا ، جس نعمت کا اظہار آپ ؐ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے : اوتیت جوامع الکلم(مسند احمد:۷۶۰۸)’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے جامع کلمات عطا فرمائے ہیں‘‘ ، رسول اللہؐ کے ایک ایک کلمہ کی تشریح کیلئے ہزاروں صفحات بھی ناکافی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبؐ کو نہایت حسین بنایا تھا ، آپؐ کا حسن ایسا کہ جس کی کائنات میں مثال نہیں، صحابی ٔ رسول سیدنا جابر بن سمرہ ؓ چہرۂ اقدس کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:کان مثل الشمس والقمر(مسلم: ۶۲۳۰)’’ آپ ؐ کا چہرۂ انور آفتاب وما ہتاب جیساتھا‘‘،چہرۂ انور جلال وجمال کی روشنی سے ہر دم چمکتا اور دمکتا تھا جو ایک بار دیکھ لیتا وہ ہمیشہ کیلئے آپؐ کا دیوانہ ہوجاتا تھا ،صحابی ٔ رسول سیدنا ابورافع ؓ فرماتے ہیں کہ جس وقت میں آپ ؐکے پاس اہل قریش کا قاصد بن کر آیاتھا اُس وقت آپؐ کے رُخ انورپر جو میری نظر پڑی تودل میں اسلام کا چراغ روشن ہوگیا ،اللہ تعالیٰ اپنے حبیب ؐ کی ذات میں وہ کمال عطا فرمایا تھا کہ جو ایک مرتبہ ان کی صحبت میں بیٹھتا تھا ان کا دیوانہ ہوجاتا تھا ،جو ان کی بابرکت صحبت اختیار کرتا تھا باکمال وباخلاق بن جاتا تھا، آپ ؐ کی صحبت بابرکت جنہیں نصیب ہوگئی وہ دنیا کے سب سے خوش قسمت انسان بن گئے تھے ،اسی وجہ سے علمائے امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بڑے سے بڑا ولی بھی مرتبہ میں ادنی صحابی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا ہے ،رسول اللہؐ ؐ کی صحبت ِ بابرکت و معجزانہ تربیت نے صحابۂ کرامؓ کو کندن بنادیا تھا ،جس شخص نے بھی آپؐ کی رسالت کی تصدیق کرتے ہوئے ،کلمۂ حق زبان سے ادا کر لیا اور ایک لمحہ کیلئے ہی سہی صحبت بابرکت اختیار کر لی انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے’’ رضی اللہ عنہ کاتمغہ عطا ہو گیا‘‘،رسول اللہؐ کے اخلاق وعادات بے مثال ، نرمی و محبت کا جواب نہیں ، خوش کلامی و خوش مزاجی پر دل قربان ہوجائے ،عفو ودرگذر میں یکتا ، جانی دشمنوں کو گلے لگایا ،خون کے پیاسوں کو معافی دی ، محبت وشفقت کا یہ عالم کہ بے زبان جانور بھی قدموں میں سر رکھ دئیے ، سچ یہ ہے کہ آپ ؐ کے اخلاق حسنہ اور اوصاف حمیدہ سے سارا قرآن بھرا پڑا ہے ، قرآن مجید میں آپؐ کے اخلاق فاضلہ ،اوصاف حمیدہ اور کردار حسنہ کو ان الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے : انک لعلیٰ خلق عظیم (القلم ۴ )’’اے حبیبؐ !آپ تو(ساری انسانیت میں) اخلاق کے بلند ترین مقام پر فائز ہیں‘‘۔
رسول اللہ ؐ کی آمد و بعثت،نبوت ورسالت قیامت تک ساری انسانیت کے لئے رشد ہدایت کا ایک مینارۂ نور ہے ، آپؐ کی حیات مبارکہ کے ساتھ وابستگی ہی میں جن وانس کی دنیوی کامیابی اور اخروی نجات مضمر ہے ، آپؐکی محبت ایمان کا جزو اور آپؐ کی اطاعت کامیابی کی ضمانت ہے،اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی حیات مبارکہ اور سیرت طیبہ کے ہر گوشہ کو انسانیت کیلئے بہترین اسوہ اور نمونہ قرار دیا ہے ارشادِ ربانی ہے :لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ لمن کان یر جوا اللہ والیوم الاٰخر وذکر اللہ کثیرا (احزاب ۲۱)’’ یقینا ً (اے مسلمانو!) رسول اللہ ؐ کی ذات اقدس میں تمہارے لئے بہترین نمونہ موجود ہے، ہر اس شخص کیلئے جو اللہ تعالیٰ کی ذات پر اور قیامت کے دن کے واقع ہونے کا کامل یقین رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے‘‘، قرآن مجید میں ایک مقام پر آپؐ کی اتباع اور آپ کی زندگی کی پیروی کو ہر مسلمان کیلئے واجب قرار دیا ہے، ارشاد ِ ربانی ہے: مااٰتٰکم الرسول فخذوہ ومانھٰکم عنہ فا نتھوا واتقوا اللہ ان اللہ شدید العقاب( الحشر ۷)’’ اور تم کو جو کچھ رسول ؐدیں اُسے( برضاء ،بخوشی و بسعادت) لے لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈر تے رہا کرو یقینا اللہ تعالیٰ ( رسول ؐ کی نافرمانی کرنے اور انکی تعلیمات سے انحراف کرنے والوں کو) سخت عذاب دینے والا ہے‘‘ ، قرآن مجید میں ایک مقام پر اللہ کی محبت اور دوستی کو رسول ؐ کی اطاعت واتباع سے جوڑ ا گیاہے ارشاد ربانی ہے: قل ان کنتم تحبون اللہ فا تبعونی یحببکم اللہ ویغفر لکم ذنوبکم واللہ غفور رحیم ( اٰل عمران ۳۱)’’ (اے میرے محبوب ؐ)آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری اطاعت کرو یقیناًاللہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرمادے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے‘‘، قرآن مجید میں ایک جگہ اللہ اور رسول ؐ کی کامل اطاعت اور مکمل فرما نبر داری کو بڑی کامیابی کہا گیاہے اور ان دونوں کی نافرمانی اور ان کی تعلیمات سے روگردانی کو بڑی گمراہی قرار دیا ہے ارشاد ربانی ہے: ومن یطع اللہ ورسولہ فقد فاز فوزا عظیما (الاحزاب :۷۱)’’جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول ؐ کی اطاعت کی اُس نے بڑی کامیابی حاصل کی‘‘ ومن یعص اللہ ورسولہ فقد ضل ضلا لاً مبینا( الاحزاب:۳۶)’’جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول ؐ کی نافرمانی کی وہ بڑی گمراہی میں پڑگیا ۔
رسول اللہؐ کی اطاعت درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اور آپؐ کی تعلیمات سے روگردانی یقینا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے ،قرآن مجید میں ایک مقام پر اسی کو ذکر کیا گیا ہے ،ارشاد ہے: مَّنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰہَ (النساء ۸۰) جس نے رسول اللہؐ کی اطاعت کی اس نے دراصل اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ، امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں کہ جب میں غور کیا تو میں دیکھا کہ پورے قرآن مجید میں تینتیس (۳۳) مقامات پر اطاعت رسول ؐ کا باضابطہ حکم دیا گیا ہے،ارتقائے زندگی اطاعت رسول ؐ میں مضمر ہے ،اطاعت کے بغیر نہ راہ کامیابی ہے ، نہ ہی ارتقا ئے زندگی ہے اور نہ ہی راہ نجات ہے ،کسی نے کیا خوب کہا ہے ؎
دیکھنا ہو جس کو شانِ ارتقائے زندگی
تھام لے مضبوط دامنِ سید ابرار کا
ہر ایک مسلمان کے لئے لازمی ہے کہ وہ رسول اللہؐ کی مکمل اتباع وطاعت کرے بلکہ اتباع رسول ؐ ایمان کی بنیادی شرط ہے، رسول اللہؐ کی پاکیزہ سیرت کی اطاعت و اتباع ہی سے ایمان کے تقاضوں کی تکمیل ممکن ہے ،ایک مسلمان اُس وقت تک کامل مسلمان کہلا نے کا مستحق نہیں ہوتا جب تک کہ اس کی خواہشات آپؐ کی تعلیمات کے تابع نہ ہوجائیں ، رسول اللہؐ کا ارشاد ہے : لا یؤ من احدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت بہ (شرح السنہ:۱۰۳)’’ تم میں سے کوئی شخص بھی اسوقت تک حقیقی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہوجائیں‘‘، مذکورہ حدیث مبارکہ میں نہایت وضاحت کے ساتھ اہل ایمان اور غلامان رسولؐ کو تعلیم دی گئی ہے کہ ان کا ہر کام اور ہر ایک عمل تعلیمات نبیؐ کے مطابق ہو ، وہ جب کسی کام کو انجام دیں تو اس میں نبوی تعلیمات کا مکمل لحاظ رکھیں اور معلوم کریں کہ اس میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی رضامندی ہے یا نہیں ہے اگر اس کام میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی رضاوخوشنودی نہیں ہے تو پھر اُسے ترک کردیں چاہے اس کیلئے دنیا جہاں سے دشمنی مول لینی پڑے ،یہی ایمان کا تقاضہ،رسول اللہؐ سے سچی محبت کا معیار اور ایمان کے پرکھنے کا پیمانہ ہے ۔
قرآن مجید میں تمام اہل ایمان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں میں رسول اللہ ؐ کی مکمل اتباع کریں،آپؐ سے صرف زبانی محبت کافی نہیں ہے بلکہ آپؐ کے تمام اقوال ،افعال اور احوال کی مکمل اطاعت لازمی ہے ، صرف دکھلاوے اور زبانی نعروں سے محبت حاصل نہیں کی جاسکتی ہے بلکہ کامیابی کے لئے عملی محبت وتعلق ضروری ہے واقعہ یہ ہے کہ جس شخص کی زندگی رسول اللہؐ کے اسوۂ حسنہ سے ہم آہنگ ہے وہی شخص عاشق ِ رسول ؐ کہلانے کا مستحق ہے اور جس کی زندگی تعلیمات ِرسول ؐ سے ہم آہنگ نہیں ہے وہ ہرگز عاشق رسول ؐ نہیں ہو سکتا ہے چاہے وہ کتنی ہی محبت کا دعویٰ کرے کیونکہ عملی اتباع دعوی ٔ محبت کی دلیل اور اس کی پہچان ہے ۔
مسلمان جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دنیوی کامیابی اور اخروی نجات رسول اللہؐ کی مبارک تعلیمات اور آپؐ کی مبارک سیرت میں رکھی ہے ،سیرت وسنت پر چلے بغیر کامیابی وکامرانی کا تصور ناممکن ہے،اللہ تعالیٰ کی کامل محبت اور رضامندی کے لئے رسول اللہؐ کی اتباع ضروری ہے ،اس کے باوجود مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد تعلیمات نبویؐ سے انحراف کرتے ہوئے زندگی گزار رہی ہے ، ا ن کی زندگیاں تعلیمات نبویؐ سے بہت دور نظر آتی ہیں ، انہیں دیکھ کر لگتا ہی نہیں ہے کہ یہ وہی مسلمان ہیں جو بڑے زور وشور کے ساتھ محبت رسول ؐ کا دعویٰ ہیں اور ان پر اپنی زندگی قربان کرنے کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں ،ان لوگوں نے تو چند مخصوص رسومات کی ادائیگی کا نام محبت رکھ لیا ہے اور بہت مسلمانوں نے تو محبت کے اظہار کے لئے مخصوص ایام واوقات متعین کر لئے ہیں اور مخصوص طریقے بنالئے ہیں حالانکہ محبت کا تقاضہ عملی کردار ہوتا ہے اور وہ عاشق سے ہر عمل سے جھلکتا ہے اور عملی محبت کرتا ہے اسے محبت کا نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ،محبت عمل کا تقاضہ کرتی ہے اور تعلیمات سے گریز کرتے ہوئے محبت کا دعویٰ صرف ڈھونگ ہے ،آج بہت سے مسلمانوں کے قول وفعل میں واضح تضاد پایاجاتا ہے،زندگی کے کئی موقوں پر غیروں کی اتباع کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ، نفسانی خواہش اور معمولی دنیوی منفعت کی خاطر اپنے رسول ؐ کی تعلیمات اور آپؐ کی مبارک سیرت کی کھل کر خلاف ورزی کرتے دکھائی دیتے ہیں ، انہیں دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شائد یہ لوگ زندگی کے مختلف شعبوں میں کھلے عام اسلامی تعلیمات سے روگردانی پر فخر کر رہے ہیں ، مگر سچ یہ ہے کہ خوشی ہو یا غم ،مرنا ہو یا جینا ،کاروبار ہو یا نوکری غرض ہر کام تعلیمات رسول ؐ کے مطابق ہونا چاہئے اور اسی میں ان کی کامیابی مضمر ہے ،بعض بھولے بھالے لوگ کہتے ہیں کہ دنیا میں رہنا ہے تو دنیا داری بھی ضروری ہے شاید وہ نادان یہ سمجھ رہے ہیں کہ دین اور دنیا کے دوالگ الگ راستے ہیں جو شخص دینی اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر دنیا حاصل کرنا چاہتا ہے اس کی مثال اس نابینا کی طرح ہے جو بینائی سے محروم ہونے کے باوجود منزل کی تلاش میں مصروف ہے اور دردر بھٹکتا پھر رہا ہے ، عقل کے اندھوں کو معلوم نہیں کہ اسی مبارک دین اور تعلیماتِ رسول ؐ کے ذریعہ ہی صحابہ ؓ نے بڑی بڑی فتوحات حاصل کئے تھے اور طاقتور حکمرانوں پر اپنا کنٹرول حاصل کیا تھا ،بڑے بڑے ممالک فتح کئے تھے اور دنیا پر حکومت کرتے ہوئے اس قدر ،شاندار امن وامان قائم فرمایا تھا کہ دنیا آج تک ان کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ صحابہ ؓ کی کامیابی وکامرانی کی ایک ہی شاہِ کلید تھی یعنی حکم الٰہی کی اطاعت اور تعلیماتِ رسول ؐ کی پیروی، قرآن مجید نے اسی کو مسلمانوں کے لئے دنیا وآخرت کی کامیابی قرارد یا ہے ارشاد ربانی ہے : ومن یطع اللہ ورسولہ فقد فاز فوزاً عظیماً (الاحزاب ۷۱)’’ اور جوشخص بھی اللہ اور اس کے رسول ؐ کی اطاعت کرے گا وہ بڑی کا میابی پالے گا‘‘، آج بہت سے مسلمان اطاعت کو چھوڑ کر محبت کے نام جو طرز اپنا رہے ہیں وہ درحقیقت محبت نہیں بلکہ محبت کے نام پر خواہشات کی تکمیل ہے ،یقینا اظہار محبت کا وہ طریقہ جائز ہی نہیں ہے جس میں شریعت کی خلاف ورزی پائی جاتی ہو ،یہ کس قدرافسوس ناک عمل ہے کہ رسول اللہؐ کی محبت کے اظہار کے لئے خود رسول اللہؐ کی تعلیمات کی خلاف ورزی کی جارہی ہے اور محبت رسول ؐ کے اظہار کے لئے ان لوگوں کی نقالی کی جارہی ہے جن سے رسول اللہؐ نے سختی سے منع فرمایا ہے نیز وہ طرز اختیار کیا جارہا ہے جسے شریعت نے ناپسند قرار دیا ہے،اہل علم فرماتے ہیں کہ کامل ایمان کے لئے کامل محبت اور کامل محبت کے لئے کامل اطاعت ضروری ہے؎
شرطِ ایماں اُن کی ’’محبت‘‘ شرطِ محبت کامل ’’اطاعت‘‘
اُن کی ’’عظمت‘‘سب کو مسلم ،صلی اللہ علیہ وسلم