صحابہ کرامؓ کی محبت ایمان کا تقاضا، ان کی سیرت امت کا سرمایہ..

صحابہ کرامؓ کی محبت ایمان کا تقاضا، ان کی سیرت امت کا سرمایہ..

صحابہ کرامؓ کی محبت ایمان کا تقاضا، ان کی سیرت امت کا سرمایہ
جمعیۃ علماء گریٹر حیدرآباد کے زیر اہتمام عظمت صحابہؓ و اہلِ بیت اطہارؓ کانفرنس وعظمت صحابہ ڈیجیٹل نمائش، عظمت صحابہ کوئز اور محفل منقبت صحابہ کا انعقاد
450طلبہ و طالبات مستفید۔کوئز میں کامیاب طلبہ میں گراں قدر انعامات۔ اجلاس عام میں مفتی عفان منصورپوری سمیت اکابر علماء کرام کے خطابات

حیدرآباد۔ 20؍اگست (پریس نوٹ)جمعیۃ علماء گریٹر حیدرآباد کی جانب سے عظمتِ صحابہ کرامؓ، اہلِ بیت اطہارؓ اور ازواجِ مطہراتؓ و بناتِ طاہراتؓ کے فضائل و مناقب، حیاتِ طیبہ اور ان کی دینی و ملی خدمات سے نئی نسل کو روشناس کرانے کے مقصد سے ایک عظیم الشان ڈیجیٹل کوئز، معلوماتی نمائش اور محفلِ منقبت کا منفرد پروگرام مؤرخہ 16؍اگست 2026ء بہ روزِ اتوار بہ مقام اذان انٹر نیشنل اسکول سات گنبد روڈ ٹولی چوکی منعقد کیا گیا۔ اپنی نوعیت کے اس منفرد اور بامقصد پروگرام کو اکابر علماء کرام اور شرکاء نے بے حد سراہا ۔پروگرام کا پہلا سیشن دوپہر دو بجے شروع ہوا جو شام پانچ بجے تک جاری رہا۔ اس دوران پاور پوائنٹ پریزنٹیشنز کے ذریعے ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے ہر ایک کا جامع تعارف، ان کے فضائل و مناقب، عہدِ نبوی ﷺ میں ان کی خدمات اور اسلامی تاریخ میں ان کے نمایاں کردار کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا۔ اسی طرح بناتِ طاہرات رضی اللہ عنہن، خصوصاً اہلِ بیت اطہار اور نواسۂ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سمیت اہلِ بیت کے مقدس افراد کے فضائل و مناقب اور دینی و ملی خدمات کو بھی اجاگر کیا گیا۔

پریزنٹیشنز کے ایک اہم حصے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں اہلِ سنت والجماعت کے صحیح اور متوازن عقیدے کو بھی مدلل انداز میں واضح کیا گیا، تاکہ شرکاء خصوصاً نوجوان نسل کو صحابہ و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے مقام و مرتبے اور ان کے بارے میں اسلامی تعلیمات سے مستند معلومات حاصل ہوسکیں۔ اس ڈیجیٹل تعلیمی و معلوماتی سلسلے کے لیے خواتین کے تین الگ مقامات اور مردوں کے دو کلاس رومز میں پریزنٹیشنز کا اہتمام کیا گیا۔ مجموعی طور پر تقریباً 400 سے 450 طلبہ، طالبات، مرد و خواتین نے ان پریزنٹیشنز میں شرکت کی اور نہایت دلچسپی، انہماک اور شوق کے ساتھ پروگرام سے استفادہ کیا۔ ڈیجیٹل کوئز اور امتحان میں 200 سے زائد شرکاء نے حصہ لیا ۔امتحان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 30 ممتاز طلبہ کو قیمتی انعامات اور مومنٹو پیش کیے گئے، جبکہ امتحان میں شریک تمام افراد کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں سندِ شرکت بھی دیا گیا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد نوجوان نسل اور خاص طور پر عصری علوم مدارس میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کے دلوں میں صحابہ کرامؓ، اہلِ بیت اطہارؓ اور ازواجِ مطہراتؓ کی محبت و عظمت کو اجاگر کرنا اور اسلامی تاریخ کے روشن کرداروں سے نئی نسل کا تعلق مضبوط کرنا ہے۔

اس سیشن میں مولانا عبدالرشید طلحہ نعمانی، مفتی محمد عامر قاسمی، مفتی احمد عبید الله یاسر قاسمی ،مولانا نواز شریف ،حافظ وصی الله زبیر صاحب کے افرادِ خانہ و دیگر نے پروجیکٹر کے ذریعہ پہلے مواد کو پیش بھی کیا اور تقریری طور پر حصہ لینے والے طلبہ کو سمجھایا۔ پروگرام کا دوسرا سیشن عصر کی نماز کے بعد شروع ہوا، جس میں خصوصی محفلِ منقبتِ صحابہ کرامؓ منعقد کی گئی۔ جمعیۃ علماء ہند کی روایت کے مطابق جمعیۃ علماء کی پرچم کشائی بھی عمل میں آئی اور ترانہ جمعیۃ بھی پڑھا گیا۔ ریاست کے معروف شعرائے کرام حافظ علیم الدین واحد ،مولانا پیر عبدالوہاب عمیر ،حافظ تاج الدین سعید اور حافظ عبدالعزیز مریال گوڑہ نے اپنے پُرسوز اور ایمان افروز کلام کے ذریعے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل و مناقب اور عقیدت و محبت سے بھرپور منظوم کلام پیش کیا۔ محفل مغرب تک جاری رہی اور شرکاء نے نہایت ذوق و شوق کے ساتھ اس میں شرکت کی۔پروگرام کا تیسرے اور آخری سیشن اجلاسِ عام میں ریاست کے ممتاز اکابر علماء کرام نے شرکت کی اور فکر انگیز خطابات کیے۔اس موقع پر مولانا ارشد علی قاسمی نے اپنے خطاب میں اہلِ بیت اطہار رضی اللہ عنہم کے مقام و مرتبے اور قرآن کریم کی روشنی میں اہلِ بیت کے مفہوم پر تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ اہلِ بیت کے بارے میں صحیح تصور قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ سے حاصل کیا جانا چاہیے اور محض جذبات یا کسی خاص مکتبِ فکر کی تشریحات کی بنیاد پر اس مسئلے کو نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ازواجِ مطہرات کی عظمت و حرمت اور اہلِ بیت اطہار کی محبت ایک دوسرے کے منافی نہیں بلکہ دونوں اسلامی عقیدے کے بنیادی اجزا ہیں۔مولانا ارشد علی قاسمی نے مختلف مکاتبِ فکر کے باہمی اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قرآن و حدیث میں جو بات واضح طور پر ثابت ہو، اسے اصل معیار بنایا جانا چاہیے اور کسی بھی کتاب یا روایت کو قرآن و سنت کے موافق ہونے کی صورت میں قبول کیا جائے، جبکہ جو بات قرآن و حدیث کے صریح خلاف ہو اسے قبول نہیں کیا جاسکتا۔مولانا احمد عبید الرحمن اطہر نے اپنے خطاب میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقام و مرتبے، خصوصاً حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ امتِ مسلمہ کی تاریخ میں صحابہ کرام وہ مقدس جماعت ہے جس نے براہِ راست رسول اللہ ﷺ سے ایمان، دین اور تربیت حاصل کی اور اپنے جان و مال کو اسلام کے لیے وقف کردیا۔

انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ان کے قبولِ اسلام، مالی قربانی، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رفاقتِ ہجرت اور فتنۂ ارتداد کے مقابلے میں ان کے تاریخی کردار کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد جب بعض قبائل نے زکوٰۃ سے انکار کیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دین کے اس بنیادی حکم کے تحفظ کے لیے غیر معمولی استقامت کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے نوجوان نسل کو مستند دینی کتب کے مطالعے اور معتبر علماء کی صحبت و رہنمائی اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے غیر مستند سوشل میڈیا مواد سے احتیاط کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس کے صدر جمعیۃ علماء گریٹر حیدرآباد کے روحِ رواں حضرت مولانا محمد مصدق القاسمی نے عظمتِ صحابہ مہم کے پس منظر اور اس کے مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ جمعیۃ علماء گریٹر حیدرآباد گزشتہ 17، 18 برس سے شہر کے مختلف علاقوں میں صحابہ کرام و صحابیات رضی اللہ عنہم کی عظمت، سیرت اور دینی خدمات کے حوالے سے مسلسل پروگرام منعقد کررہی ہے۔

رواں سلسلے کے تحت یکم محرم سے 10 صفر تک مساجد، اسکولوں، کالجوں، خواتین اور نوجوانوں کے اجتماعات میں مختلف پروگرام منعقد کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ اس مہم کا مقصد محض جلسوں کا انعقاد نہیں بلکہ صحابہ کرام و صحابیات کی محبت، ان کی قربانیوں اور دینی خدمات کا شعور گھروں اور نئی نسل کے دلوں میں پیدا کرنا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دین کے اولین راوی اور عملی نمونہ ہیں، اس لیے ان کے مقام و مرتبے سے متعلق پیدا کیے جانے والے شبہات کا جواب علمی، مثبت اور مدلل انداز میں دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔مولانا محمد مصدق القاسمی نے اس امر پر خصوصی تشویش کا اظہار کیا کہ سوشل میڈیا، ڈراموں، فلموں اور کھیلوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کے نتیجے میں بچوں اور نوجوانوں کو فنکاروں، فلمی کرداروں اور کھلاڑیوں کے نام اور حالات تو معلوم ہیں، لیکن انہیں رسول اللہ ﷺ کی اولاد، ازواجِ مطہرات، خلفائے راشدین اور عشرۂ مبشرہ رضی اللہ عنہم کے نام اور سیرت تک پوری طرح معلوم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتِ حال کی اصلاح کے لیے گھروں میں سیرتِ صحابہ، سیرۃ الصحابیات اور اسلامی تاریخ کے واقعات کے مطالعے اور تذکرے کا ماحول پیدا کرنا ہوگا۔اس موقع پر ملک کے ممتاز خانوادے سے تعلق رکھنے والے با صلاحیت عالم دین اور اجلاس کے مہمانِ خصوصی مولانا مفتی سید عفان منصورپوری نے بھی تفصیلی خطاب کیا۔ مفتی عفان منصورپوری نے اپنے خطاب میں محبتِ رسول ﷺ اور محبتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے باہمی تعلق کو موضوع بنایا۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ سے محبت کا حق اس وقت تک مکمل طور پر ادا نہیں ہوسکتا جب تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ صحیح عقیدت و محبت کا اظہار نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہ مقدس جماعت ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی صحبت اور تربیت کے لیے منتخب فرمایا۔ جس طرح منصبِ نبوت و رسالت اللہ تعالیٰ کے انتخاب سے عطا ہوتا ہے، اسی طرح صحابیت کا شرف بھی ایک عظیم الٰہی انتخاب ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو شخص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تنقیص، طعن و تشنیع اور گستاخی کو معمول بناتا ہے، وہ دراصل اپنے ایمان و انجام کے لیے خطرناک راستہ اختیار کرتا ہے۔مولانا مفتی عفان منصورپوری نے زور دیا کہ امت کو اپنے عقائد اور دینی تصورات قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنے چاہئیں اور صحابہ و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم دونوں کے ساتھ محبت و ادب کا متوازن اسلامی رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے حاضرین کو دعوت دی کہ وہ اپنے گھروں کو دینی تربیت کا مرکز بنائیں، بچوں کو سیرتِ رسول ﷺ، سیرتِ صحابہؓ اور سیرتِ اہلِ بیتؓ پڑھائیں اور انہیں اسلامی تاریخ کے ان روشن کرداروں سے وابستہ کریں جنہوں نے دین کی حفاظت اور امت کی رہنمائی میں عظیم قربانیاں پیش کیں۔مفتی عفان منصورپوری نے اپنے تفصیلی خطاب میں حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی حیاتِ مبارکہ کے مختلف ایمان افروز واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے مقام و مرتبے، فضائل و مناقب اور دین کے لیے ان کی بے مثال قربانیوں کو اجاگر کیا۔ پروگرام کے اختتام پر عارف باللہ حضرت مولانا شاہ محمد جمال الرحمن صاحب مفتاحی دامت برکاتہم نے مختصر صدارتی خطاب فرمایا۔

انہوں نے کہا کہ عظمتِ صحابہ کرامؓ و اہلِ بیتِ اطہارؓ کے عنوان سے منعقد ہونے والے یہ اجتماعات وقت کی اہم ضرورت اور ملک و ملت کے لیے نہایت مفید ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ایسے پروگراموں میں محض خود شرکت کرنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ اپنے ساتھ دیگر افراد کو بھی لائیں، تاکہ اس اہم دینی پیغام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے میں آسانی ہو۔ حضرت شاہ صاحب کی دعاپر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔اجلاس میں بہ حیثیت مہمانانِ خصوصی حافظ پیر خلیق احمد صابر،مفتی تجمل حسین قاسمی، مولانا سید مصباح الدین حسامی، محترم جناب سید اسماعیل صاحب و دیگر علماء و عمائدین نے شرکت کی۔ اجلاس کی نظامت جمعیۃ علماء گریٹر حیدرآباد کے جنرل سکریٹری مولانا سید نذیر احمد یونس القاسمی نے انجام دی اور جمعیۃ علماء گریٹر حیدرآباد کی مختصر مگر جامع کارکردگی رپورٹ اور مختلف شعبہ جات میں انجام دی جانے والی خدمات کا تعارف پیش کیاجبکہ اجلاس کے کنوینر مفتی عبدالملک مظاہری نے اظہارِ تشکر کے کلمات پیش کرتے ہوئے پروگرام کی کامیابی میں تعاون کرنے والے تمام شرکاء اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔پروگرام کی کامیابی اور حسنِ انتظام میں جمعیۃ علماء گریٹر حیدرآباد کی پوری ٹیم نے بھرپور محنت اور غیر معمولی عزم کا مظاہرہ کیا۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے