راہل گاندھی گوں ناگوں وجوہات کی بناء پر کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنماوں سے ملنے کے لیے خود نہیں گئے بلکہ پارٹی ترجمان پون کھیڑا کو بھیجنے پر اکتفاء کیا مگر جنتر منتر کے احتجاج میں شامل محمد عرفان سے ملاقات کےلیے وہ ان کے گھر پہنچ گئے۔ محمد عرفان امریکہ یا برطانیہ سے تعلیم حاصل کرکے نہیں آیا ۔ وہ ہندوستان کے کسی نامور تعلیمی ادارے سے بھی فیضیاب نہیں ہوسکا ۔ اس کے باوجود وزیر اعظم کا سایہ (shadow prime minister) یعنی قائدِ حزب اختلاف کا ان سے ملاقات کے جانا معمولی شرف نہیں ہے۔ سنگھ پریوار راہل گاندھی کی اس ملاقات کو محض مسلمانوں کی ناز برداری کا نام نہیں دے سکتاہے ۔ آرایس ایس کےلوگ یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ کاش ان کی شاکھا سے بھی ایک آدھ ایسا نوجوان نکلتا جس سے ملنے کی خاطر وزیر اعظم نریندر مودی جاتے لیکن بنجر زمینوں سے جھاڑ جھنکاڑ کے علاوہ کیا اُگتا ہے؟ ان کانٹے دار پودوں کومیڈیا کی مدد سے کنول کے پھول کا خوبصورت لباس پہنانا کربھی خوشنما بنانا ممکن نہیں ہے۔ محمد عرفان کے بعدمغربی بنگال کے طالبِ علم عبدالحفیظ نے سنگھ پریوار کے سو سالہ غبارے کو پنکچر کرکے اس کی ہوا نکال دی ۔ اپنے والد کی ہجومی تشدد میں موت کے باوجود تعلیمی اصلاحات کے لیے جدو جہدرکھنے کا بے مثال عزم و حوصلہ کا مظاہرہ کیا ۔
انگریز سامراج سے پنشن لینے والے وی ڈی ساورکر کے پیروکاروں کے لیے عبدل کا ہرجانہ(compensation) لینے سے انکار ایک تازیانۂ عبرت ہے۔ وہ غریب جب کہتا ہے کہ مجھے پیسہ نہیں چاہیے اگر آپ میرے والد کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں تو ان کے نام سے ایک اسکول بنوادو تو رام مندر کا چندہ چوری کرنے والوں پر کیا گزرتی ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ۔ سی جے پی کے سربراہ ابھیجیت دیپکے عبدل کی غمگساری میں کہا کہ تم نے اتنی کم عمر میں اپنا باپ کھو دیا۔ میرے پاس اس غم کے اظہار کی خاطر الفاظ نہیں ہیں ۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا بولوں تو عبدل جواب دیتا کوئی لطیفہ سنا دیجیے۔ یہ کتنی اعلیٰ ظرافت ہے؟ اس کے بعد وہ نم دیدہ ابھیجیت کا غم غلط کرنے کے لیے کہتا ہے۔ آپ آنسو نہ بہائیں ۔ آپ لڑئیے ہم آپ کے ساتھ لڑیں گے ۔ ہم سب آپ کے ساتھ اس ملک کے نظام تعلیم کو سدھاردیں گے۔یہ سارا ماجرا جس ویڈیو کے اندر قید ہے اسے دیکھ کر سر سنگھ چالک موہن بھاگوت سوچ رہے ہوں گے کہ آخر یہ عبدل اور عرفان آتے کہاں سے ہیں؟ سنگھ کی شاکھا سے ایسے ہونہار نوجوان کیوں نہیں نکلتے جبکہ ان کو ابھارنے کے لیے ساری دنیا کی وسائل جھونک دئیے جاتے ہیں اور وہ مسلمانوں میں کیوں نکل آتے ہیں جنہیں کچلنے کے لیے ساری توانائی صرف کی جاچکی ہے؟ یہ اسلامی عقیدے کی طاقت ہے۔ سنگھ کے ببول پر کبھی بھی آم نہیں لگیں گے نیز گلاب کو کھلنے واپنی خوشبو پھیلانے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی ۔ بقول ساحر لدھیانوی
ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیں
وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں
کائناتِ ہستی میں عزت و ذلت کا تعلق دولت و اقتدار سے نہیں بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مرضی پر ہوتا ہے اسی لیے جہاں جنتر منتر کی کاکروچ تحریک نے مودی و شاہ سمیت دھرمیندر پردھان کو ہیرو سے زیرو بنادیا وہیں عبدل سمیت عرفان اورمجید جیسے کئی نوجوان ہیرو بن گئے ۔ کاکروچ کی تحریک ابھیجیت دیپکے کے ذریعہ شروع ہوئی جو امریکہ میں تعلیم حاصل کررہا تھا ۔ اس کے ساتھ آنے والے بیشتر رہنما ملک و بیرونِ ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے مستفید ہونے والے ہونہار نوجوان ہیں ۔ اس تحریک کی حمایت کرنے والوں میں اکثریت بھی پڑھے لکھے طلبا و طالبات کی ہےجنہوں نے اپنے عزم و حوصلہ اور جدت و ظرافت سے پوری دنیا کا دل موہ لیا مگر اسی جم غفیر میں محمد عرفان نامی ایک ایسا باصلاحیت نوجوان بھی ابھرکر سامنے آیا جس کا نام ہے۔ وہ اپنے افکارو خیالات اور زورِ بیان سے عوام و خواص کا ایسا دل جیتا کہ راہل گاندھی نے 27؍ جولائی کوخود اُن کی جھوپڑی میں جاکر ملاقات کی اور ایک خستہ حال چارپائی پر بیٹھےنظر آئے۔ راہل کے ساتھ عرفان کے والدبنیان پہنے ہوئے تھےنیز سیدھی سادی والدہ کے ساتھ بھائی بہن بھی دکھائی دے رہے تھے۔ عرفان نے خود اپنی جھگی میں معمولی ٹی شرٹ زیب تن کررکھی تھی اس کے باوجود محل کا سماں تھا ۔
انڈیا ٹوڈے کے آج تک چینل کاسوشیل میڈیا پر للن ٹاپ کے نام سے غلغلہ ہے۔ اس کی ٹیم جب نیلے رنگ کی تال پتری سے بنے عرفان کے گھر میں داخل ہوئی اس کے کیمرے نے عرفان کی کل کائنات کو دنیا کے سامنے پیش کردیا ۔ وہاں ایک چھوٹا سا طہارت خانہ اور ایک پلنگ کے پاس کچھ معمولی سازو سامان تھا اس کے باوجود اس شکستہ مکان میں ملک کے سب سے بڑے چینل کے لوگ پہنچے ہوئے تھے ۔ محمد عرفان کا شمار عصرِ حاضر کی سائنسی تحقیق سے استفادہ کرنے والے بہترین لوگوں میں ہوگا کیونکہ وہ پڑھ لکھ نہیں سکتے ہیں اس لئے گوگل وائس سرچ سے اپنے مطلوبہ موضوع پر مواد حاصل کرلیتے ہیں۔ اسے سن کر وہ اسے یاد بھی کرلیتے ہیں۔شعرو شاعری سے اُنہیں شغف ہے۔ اپنی ادبی دلچسپی کی پیاس کو سیراب کرنے کے لیے الگ الگ موضوعات پر ان کا بے شمار معلومات حاصل کرلینا قابل رشک ہے۔ محمد عرفان نے جنتر منتر پر آئین ہند کی تمہید سے لے کر نیرج کی نظم ’’کارواں گزر گیا غبار دیکھتے رہے‘‘ سناکر میڈیا کو حیرت زدہ کردیا تھاکیونکہ ایک دہاڑی مزدوریہ سب اس اعتماد کے ساتھ کررہا تھا کہ جو اچھے اچھے ڈگری یافتہ لوگوں کے لیے ممکن نہیں تھا ۔ عرفان نے ثابت کردیا کہ انسان کی جبلی صلاحیت بیرونی وسائل محتاج نہیں ہوتی بلکہ اپنا لوہا منوا ہی لیتی ہے ۔
وطنِ عزیز میں مظلوم طبقات بشمول مسلمان رہنماوں کو مسائل کاماتم کرنے سے فرصت ہی نہیں ملتی اور شاید اسی لیے میڈیا ان پر خاطر خواہ توجہ نہیں دیتا۔ اس کے برعکس عرفان نے اپنی زندگی کا دکھڑا سنانے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔وہ اپنے جیسے ملک کے تمام مزدوروں کے مسائل پر لب کشائی کرتا ہے ۔ اُس کا کہنا ہے کہ ملک کے تمام مزدوروں کا بھلا کرکے اُن کی حالت سدھارنے والانظام ناگزیر ہے ۔ عرفان سے ملاقات کے بعد راہل گاندھی نے انسٹا گرام پر یہ لکھاکہ ’’عرفان مضافاتی دہلی کا ایسا نوجوان ہے جس کا ذہن اس کے حالات کی گواہی دیتا ہے۔ آئین کے تئیں اس کی سمجھداری، ملک کے بارے میں اس کے خیالات اور اس کا احساس ہے کہ ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے قابل ستائش نوجوان ہیں۔ مسلمانوں کو پنکچر والا کہہ کران کی تحقیر کرنے والے زعفرانیوں نے تو کانوڈ یاترا کے دوران اپنی بدمعاشی اور فحش حرکات سے ہندوتوا کا نام خوب روشن کر کے ان پر پھول برسانے والے بھگوا دھاریوں کی دھوتی کھول دی ۔ اس کے برعکس محمد عرفان کی بابت راہل گاندھی نے لکھا ان جیسے لاکھوں نوجوان اس ملک کی سچی اُمید ہیں۔ ان میں جستجو ہے، یہ حساس ہیں اور اپنے حقوق و فرائض کا شعور رکھتے ہیں۔ جنتر منتر پر تشدد نے ثابت کردیا کہ سنگھ کے لاٹھی بردار بدمعاش ان تینوں صفات سے عاری ہیں اسی لیے انہوں نے خواتین و طالبات تک کی مار پیٹ سے گریز نہیں کیا۔
فی الحال ملک پر ایک ایسا نام نہاد انٹائر پولیٹیکل سائنس میں پوسٹ گریجویٹ وزیر اعظم بنا ہوا ہے کہ جو ٹیلی پرا مپٹر کے بغیر سائپرس میں انگریزی میں دو جملے نہیں کہہ سکا اور ہندی بولنے لگا۔ لال قلعہ سے تقریر کرتے وقت بھی نصف درجن مرتبہ اس کی زبان لڑکھڑا گئی جبکہ عرفان دہلی میں سڑک کے کنارے برف بیچ کر گزارا کرتاہے۔ وہ سرسوتی ششو مندر میں نہیں گیا بلکہ ابتداء میں کسی آنگن واڑی میں داخل ہوا تھا مگر باقاعدہ اسکول کا منہ نہیں دیکھ سکا۔ اس کے باوجود وہ ٹیلی پرا مپٹر سے بے نیاز بولتا ہے۔ اسے جمہوریت، آئین ہند، مزدورو ں کے قوانین، مزدوروں کی حالت زار، مزدوروں کے حقوق، مزدورو ں کا استحصال،صحت عامہ اور عدم مساوات جیسے موضوعات پر بے تکان بولنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی ۔ یہ غریب مزدور اپنی بے ساختہ، سچی اور اثر انگیز گفتگو کے سبب سوشل میڈیا پ وائرل ہوچکاہے۔ زمینی حقائق، مزدوروں کے مسائل اور سماجی حالات پر محمد عرفان کی برجستگی اور فکری شعور کے ساتھ بیان نے راہل گاندھی سمیت لاکھوں لوگوں کو اپنا گرویدہ کرلیا ہےکیونکہ وہ نفرت کے بجائے محبت، اخلاق اور دلیل کی زبان سے ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ محمد عرفان اور عبدالحفیظ کے تئیں سنگھ پریوار کے اندر جو بغض وحسد پایا جاتا اس کی مثال محمد جنید نامی جنتر منتر پر بے لوث کھانا کھلانے والے مسلم نوجوان جنید پریوگی پولیس کی ہراسانی کے طور پر سامنے آئی ۔ اترپردیش کی پولیس نے محمد جنید کے اہل خانہ تک پر مظالم ڈھائے مگر بالآخر سچے کا بول بالا اور جھوٹے کا منہ کالا ہوگیا۔ جنید، عرفان اور عبدالحفیظ اپنے طرز عمل سے گواہی دے رہے ہیں کہ؎
آہوں سے سوز عشق مٹایا نہ جائے گا
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا