للن یادو نے کلن جوشی سےپوچھا یار یہ بتاو آج کل کیا چل رہا ہے؟ اپنے رام راج میں سب خیریت تو ہے ؟؟
کس کا رام راج اور کیسی خیریت ؟ بھیا میں سبکدوش اور بچے بیروزگار ہیں ۔وہ تو خیر پشتینی مکان کا کرایہ آتا ہے تو روزی روٹی چل جاتی ہے۔
ارے بھیا تم سرکاری ملازم تھے ۔ پنشن تو ملتی ہی ہوگی ہماری طرح؟
نہیں بھائی تم خوش قسمت ہو جو اٹل جی کے قانون کی زد میں آنے سے بچ گئے۔ میں اس کا شکار ہوگیا ۔ اٹل تو ہماری پنشن بند کرکے ٹل گئے ۔
ہاں یار وہ آدمی تو اچھے تھے مگر نہ جانے ان کو کیا سوجھی کہ ارکان پارلیمان کی پنشن کے لیے ایک سیشن کی مدت کو گھٹا کر ایک سال کردیا اور۰۰۰۰
کلن بیچ میں بول پڑا جی ہاں اور ہمارے پیٹ پر لات مار کر چلے گئے ۔ کوئی ان کی جیب سے آتا تھا کیا ؟ اپنی ذات کے لوگوں سے دغا بازی کرڈالی ۔
اپنی ذات والی بات میں نہیں سمجھا۔ انہوں نے بلا تفریق مذہب و ملت سب کی پنشن بند کروائی ۔
یہ کہنے کی بات ہے۔کیا تم نہیں جانتے کہ سرکاری ملازمت میں مسلمان نہ کے برابر ہیں اس لیے ان کا نقصان بھی بہت کم ہوامگر ہمارا ہوگیا ۔
ارے بھیا ریزرویشن کا فائدہ اٹھا کر پسماندہ لوگ بھی تو سرکاری ملازم بن جاتے ہیں ۔
جی ہاں ان کو ہم لوگ چھوٹے موٹے عہدے دے دیا کرتے تھے لیکن بڑی تنخواہ اور بڑا پنشن تو ہمیں کے لیے تھا نا؟ اس لیے بڑا خسارہ تو ہمارا ہوا۔
خیر تم اپنے پرانے دنوں کا رونا لے بیٹھے مگر اب تو ’اچھے دن آچکے ہیں ‘ نا؟
کس کے اچھے دن؟ اڈانی اور امبانی کے اچھے دن ضرور آئے ۔ امیت شاہ کا بیٹا اجئے شاہ بھی عیش کررہا ہے لیکن ہمارے بچے تو بیروزگار ہوگئے نا؟
کیوں تمہارے بچوں کے لیے سرکاری نوکری نہیں ہے کیا؟
جی نہیں ان کے ٹھیکے دار کی چاکری ہے۔
بھائی پردھان جی دیش کو ٹھیکے پر چلانے میں یقین رکھتے ہیں لیکن پھر بھی اہم عہدوں تو بغیر امتحان کے براہِ راست سنگھ کے لوگوں کا تقرر ہوجاتاہے۔
بھیا یہی تو مسئلہ دراصل میری ناکامی ہے۔میں اپنے بیٹوں بیٹیوں کو شاکھا میں نہیں لے جاسکا ۔ورنہ ان کے بھی وارے نیارے ہوجاتے۔
لیکن تم تو پورے محلے کے بچوں کو شاکھا میں لے آتے تھے ایسے میں تمہاری اپنی اولاد کیسے دور رہ گئی۔
بھائی کیا بتاوں یہ سب تمہاری بھابی کا کیا دھرا ہے۔ اس نے اپنے بچوں کےذہن میں زہر ڈال کر انہیں دماغی نکسل بنا دیا ۔
ارے تو تمہیں اپنی بیوی کو سمجھانا چاہیے تھا ۔ اس کو درگا واہنی میں شامل کروادیتے۔
ارے بھائی وہ مجھے دماغی پیدل کہتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پیدل بنانے سےبہتر نکسل بنائے گی ۔
یار تمہاری بیوی پاگل واگل تو نہیں ہے۔ نکسل وادی تو بہت تشدد کرنے والے لوگ ہوتے ہیں ۔
جی ہاں میں نے اپنی بیوی سے یہ بات کہی تو وہ بولی نیلی کا فساد، گجرات کا دنگا یا منی کا تشدد نکسلوادیوں نے کیا تھا کیا؟
ہاں یار ہجومی تشدد میں شامل سبھی لوگ جئے شری رام کا نعرہ لگاتے ہیں اور اب کاکروچ پر حملہ کرنے والے بھی ہمارے ہی لاٹھی بردار تھے۔
جی ہاں اس کے خیال ہم سے زیادہ تشدد کا حامی کوئی اور نہیں ہے ۔ اسی لیے اس نے بچوں کو جنتر منتر بھیجا اور ان کی خوب حوصلہ افزائی کی ۔
یار جنتر منتر کا تو نام ہی نہ لو میری بیوی درگا واہنی کی مقامی صدر ہے پھر بھی اپنے بچوں کو روک نہیں سکی ۔
جی ہاں بھیا مجھے تو لگتا ہے اپنی اگلی نسل ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کیا کریں ؟ اب تو شاکھا میں جانے کی میری خواہش بھی نہیں ہوتی ۔
تم اپنا پرانا جیوتشی والا دھندا پھر سے شروع کیوں نہیں کردیتے ؟ کیا اس سے بھی تمہارا دل اچاٹ ہوگیا ہے؟ کہیں اسے پوری طرح بند تو نہیں کردیا ؟
کلن ہنس کر بولا بھیاکیابتاوں یوں سمجھ لو کہ وہ طوطا ہی مرگیا جو ہمارے بھاگ(قسمت ) کے پتےّ کھولتا تھا ۔ اب توہماری تقدیر ہی پھوٹ گئی ۔
اوہو طوطا کیسے مرگیا ؟ اس سے تو تمہیں بہت محبت تھی ؟
یار عجیب سوال کرتے ہو ۔ کیا وہ لوگ اس جہانِ فانی کو داغِ مفارقت نہیں دیتے جن سے آپ کو محبت ہوتی ہے؟ محبت کسی کو مرنے سے نہیں روکتی ۔
للن بولا لیکن پنڈت جی میں نے تو سنا تھا کہ موت اور محبت کا بڑا گہرا رشتہ ہے۔
ارے بھیایہ صحیح ہے کہ پریم کی ہر امر کہانی میں عاشق کو معشوق موت کو گلے لگا لیتے ہیں مگر یہ صرف کہانیوں میں ہوتا ہے حقیقت میں نہیں ہوتا ۔
لیکن تم نے اپنے طوطے کی موت کے بارے کچھ نہیں بتایا۔ وہ کیسے مرا؟
ارے بھائی جیسے کوئی مرتا ہے مرا ہوگا۔ میں نے اسے دانہ پانی دینا چھوڑ دیا تو وہ اڑ گیا اور مجھے یقین ہے کہ ابھی تک کہیں مرکھپ گیا ہوگا۔
للن نے کہا وہ بھی تمہارے بارے میں یہی سوچ رہا ہوگا مگر تم تو زندہ ہو؟
جی ہاں للن ہم زندہ تو ہیں مگر زندہ بدستِ مردہ سمجھ لو ۔ میں تو سوچتا ہوں کہ مرجاتا تو اچھا تھا ۔
یار ایسی مایوسی کی باتیں کیوں کررہے ہو ۔ آج بیشتر صوبوں میں ہماری ڈبل انجن سرکار ہے۔ ہم لوگ ’وشو گرو‘(عالمی رہنما بن چکے ہیں ۔
یہی تو قلق ہے ۔ جب ہمارے پاس اقتدار نہیں تھا تو مخالفین بھی ہماری ایمانداری کی قسمیں کھاتے تھے ۔ لیکن افسوس وہ طوطا اڑگیا، مرگیا بیچارہ۔
للن بولا یار مجھے تو لگتا ہے ہمیں اڈوانی جی کا شراپ(بددعا ) لگ گیا۔ انہوں نے رام مندر کے لیے کیا نہیں کیا؟ اور ہم نے ۰۰۰۰۰۰
ہاں للن ۔ ہم نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا ۔ اب سمجھ میں آرہا ہے کہ ان پر کیا گزری ہوگی؟
یہ تو ان کی سمجھ میں بھی آرہا ہوگا کہ جب ایک جھوٹ کی بنیاد انہوں بابری مسجد کو ڈھا دیا تو مسلمانوں پر کیا گزری ہوگی ؟
ہاں بھائی یہ قدرت کا انتقام ہے۔ انہوں نے جو مسجد کے ساتھ کیا وہی مندر والوں نے ان کے ساتھ کردیا۔ وہ انہیں اس کے پاس بھی پھٹکنے نہیں دیتے۔
لیکن ان کو روکتا کون ہے؟وہ ہماری طرح درشن کے لیے کیوں نہیں جاتے؟؟
ارے بھائی ہم ان کی طرح نائب وزیر اعظم تھوڑی نہ تھے۔ جس اقتدار کی خاطر مسجد گرائی گئی تھی جب وہی چھن گیا تو مندر میں کیوں جائیں ؟
کیسی باتیں کرتے ہو کلن۔ فی الحال اترپردیش میں اور مرکز میں اقتدار ہمارے پاس نہیں تو کس کے پاس ہے؟
بھائی اقتدارنہ اڈوانی ، نہ جوشی، نہ اوما بھارتی اور نہ ونئے کٹیار کے پاس ہے۔ ان میں سے کسی کو رام مندر کی کسی تقریب میں بلایا تک نہیں گیا ۔
ارے بھائی پردھان جی اور بھاگوت جی تو تھے نا ۔ وہی کافی ہیں ۔
اچھا للن ایک بات بتاو جس وقت رام مندر کی تحریک چل رہی تھی یہ دونوں کہاں تھے ؟
للن سرکھجا کر بولا یہ بھی کہیں رہے ہوں گے۔ نظر نہیں آئے تو کیا ہوا؟؟
تو اب بھی نظر نہ آئیں کیا فرق پڑتا ہے۔ ان لوگوں نے سب کو بھگا کر رام مندر کو اپنی اجارہ داری بنا ڈالا ۔ اسی لیے ان سب کا دل ٹوٹ گیا ۔
اچھا تو تمہیں کیا لگتا ہے؟ پپو یادو نے جب ایوان پارلیمان میں چندہ چوری کا ناٹک کیا تو انہیں کیسا لگا ہوگا؟؟
مجھے تو لگتا خوشی ہوئی ہوگی ۔ وہ سوچ رہے ہوں گے’جیسے تو تیسا ملا بڑا مزہ آیا‘۔
جی ہاں مگر کسی نے وہ بات تو نہیں کہی پھر تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو؟
دیکھو بھائی ونئے کٹیار نے تو چندہ چوری پر پہلے دن کھل کر کہا تھا مگر دباو ڈال کر اسے خاموش کردیا گیا ۔ دیگر لوگوں سے کسی نے پوچھا تک نہیں ۔
کلن نے سوال کیااچھا اگر پوچھا جاتا تو؟
تو وہ بھی اپنے من کی بات کہتے یا ڈر کے مارے خاموش رہتے مگر مرلی منوہر جوشی نے جنتر منتر کے نوجوانوں کی حمایت تو کردی نا؟ وہی کرتے ۔
اور نہیں تو کیا اور اب چندہ کم ہوجائے گا تو ہمارے دفتر کیسے بنیں گے ؟ یوپی کے الیکشن میں جو پیسوں کی ضرورت ہے وہ کہاں سے آئے گا ؟
یہ تو بہت غلط وقت میں گڑ بڑ ہوگئی ۔ الیکشن کے بعد اکھلیش کے وزیر اعلیٰ ہوتے یہ رازکھلتا تو ہم کہہ دیتے سناتن دھرم کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔
ہاں بھیا لیکن یہ سارے راز تو یوگی جی کی ایس آئی ٹی کے ذریعہ کھُل رہے ہیں ۔
جی ہاں مگر ایس آئی ٹی کی فائنل رپورٹ میں تو چمپت رائے اور انل مشرا کو کلین چِٹ دے دی گئی۔
یار یہی تو غلط ہورہا ہے۔ عوام جن کو چور سمجھتی ہے ہم انہیں بچانے کے چکر میں لوگوں کی نظر میں چور بنتے جارہے ہیں۔
جی ہاں میں بھی یہی سوچ رہا تھا کہ جب سپریم کورٹ نےپرانی کمیٹی کو برخواست کرکے نئی بنوادی تو پرانے لوگوں کی رپورٹ کس لیے لائی گئی؟
یار میرے خیال میں یہ لیپا پوتی ہمارا بیڑہ غرق کردے گی اور سو سال کی محنت پر پانی پھر جائےگا۔
بھیا اسی لیے تو کہہ رہا تھا کہ طوطا مرگیا۔ اب سمجھ میں نہیں آتا بولیں تو بولیں کیا اور کریں تو کریں کیا؟