آزادی: لال قلعہ کا خواب اور نلسار کی حقیقت

آزادی: لال قلعہ کا خواب اور نلسار کی حقیقت

آزادی: لال قلعہ کا خواب اور نلسار کی حقیقت

ازقلم: ڈاکٹر سلیم خان

کاکروچ جنتا پارٹی کا یہ احسان ہندوستان کا نوجوان یاد رکھے گا کہ اس نے امسال 15؍ اگست یعنی یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کو احساس دلایا کہ ملک میں طلبا اور نوجوانوں کے بھی مسائل ہیں ورنہ تو وہ انہیں بھول گئے تھے ۔ انہیں بیت الخلا سے لے کر بلوچستان تک سب کچھ نظر آتا تھا مگر نوجوان دکھائی نہیں دیتے تھے ۔ اس بار دہلی کے تاریخی لال قلعہ کی فصیل سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کی نوجوان طاقت کی جانب متوجہ ہوکر ان کے روشن مستقبل کے حوالے سے کہا کہ ہندوستان کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ملک کے ہر بیٹے اور بیٹی کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع حاصل ہوں۔ وزیر اعظم نے فرمایا کہ نوجوانوں کو مسابقتی امتحانات اور اعلیٰ تعلیم کے لیے مفت آن لائن کوچنگ فراہم کی جائے گی تا کہ دیہاتوں اور چھوٹے شہروں کے ہونہار طلباء پیسے کی کمی کی وجہ سے پیچھے نہ رہیں لیکن اگر پیپر لیک ہوتے رہے تو یہ کوچنگ کس کام آئے گی ؟ مودی جی مسابقتی امتحان (UPSC، NEET، JEE، بینکنگ، اور SSC) کی تیاری کے لیے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور انفراسٹرکچر تیار کر نے کا اعلان تو کردیا مگرخدا نہ کرے اس کا حال بھی ماضی میں کیے جانے والے اعلانات جیسا ہو جو لال قلعہ سے نکل کر ہوا ہوگئے ۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014؍ میں ملک کی کایا پلٹ کرنے کے لیے صرف پانچ سال مانگے تھے ۔ اس کے بعد 12؍ سال کا طول طویل وقفہ گزر گیا مگر حالات پہلے سے بھی دگرگوں ہوگئے۔ حکومت نے 92؍ ہزار سے زیادہ سرکاری اسکول بند کردئیے ان میں سب سے زیادہ تعداد آدرش گجرات یعنی مودی جی کی جنم بھومی اور پھر کرم بھومی یوپی کی ہے۔ مگر اب انہوں نے اس پانچ سال کی مدت کو 2047 تک بڑھا دیا ہے۔ یعنی 5؍ کے 33؍ ہوگئے ۔ یہ خواب جب شرمندۂ تعبیر ہوگا تو وزیر اعظم کی عمر 97؍ سال کی ہوگی اور وہ لال قلعہ سے کیا کہیں گے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو 12؍ سال حکومت کرنے کے بعد احساس ہوا کہ وہ مدت بہت کم تھی اور اس قلیل عرصے میں چھوٹے موٹے خواب ہی دیکھے جاسکتے ہیں اس لیے اب وہ ترقی یافتہ ہندوستان کا ہدف حاصل کرنے کے لئے بڑے خواب دیکھنے کی تلقین فرماتے ہیں ۔ موصوف کا خیال ہے کہ اس وقت دنیا اس ملک کو مختلف انداز سے دیکھنے پر مجبور ہوگی کیونکہ "ہم اس خواب کو حاصل کرنے کی سمت کام کر کررہے ہیں” لیکن اب دنیا ہمیں کیسے دیکھ رہی ہے یہ بھی تو ایک سوال ہے؟

فی الحال ملک کے اندر جس طرح مودی اور شاہ کے ساتھ صرف اڈانی اور امبانی ہیں اسی طرح عالمی سطح پر ہندوستان کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے۔ ان دونوں میں سے بھی ڈونلڈ ٹرمپ جس طرح آئے دن مودی جی کو رسوا کرتے رہتے ہیں اس کوئی مثال ملنا مشکل ہے۔ موصوف نے فرمایا "چھوٹے خواب اب کافی نہیں ہیں، ہمیں بڑے خواب دیکھنے چاہیے۔ ہندوستان کا 2047 تک ‘وکست بھارت’ (ترقی یافتہ) بننے کا بڑا خواب ہے۔ جب دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک ترقی یافتہ بننے کا عزم کرے گا۔” یعنی اگر 21؍ سال بعد عزم کیا جائے گا تو وہ پورا کب ہوگا؟ دوسروں کو بڑے خواب اور عزم کے ذریعہ صلاحیتوں کو بلندی پر لے جانے تلقین کرنے والے مودی جی کو بتانا چاہیے کہ خود ان کے ساتھ یہ سب کیوں نہیں ہوتا ۔ 12؍ سال قبل بھی وہ پریس کانفرنس کرنے کی صلاحیت سے عاری تھے اور اب بھی وہی حالت ہے بلکہ اس وقت وہ کم ازکم فراٹے دار تقریر تو کرلیا کرتے تھے۔ ایوان پارلیمنا سے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ یہ ترقی ہے یا تنزل۔وندے ماترم سے ہر دل کیوں کانپ رہا ہے یہ تو وہی بتا سکتے ہیں کیونکہ اس کا مطلب شاید ہی کسی کی سمجھ میں آتا ہو؟ سنگھ پریوار کو بار بار ہر گھر، ہر دل میں ترنگا کی بات اس لیے کرنی پڑتی ہے کیونکہ برسوں تک ان لوگوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ اس لیے وزیر اعظم کے لاکھ زورِ بیان کے باوجود قومی پرچم سے سنگھیوں کے اندر نئی توانائی اور نیا عزم مشکل ہے۔
80ویں یوم آزادی پر قوم سے اپنے خطاب میں مودی نے کہا کہ "35 سالوں سے کوئی تعلیمی پالیسی نہیں تھی۔ ہم ایک نئی تعلیمی پالیسی لائے ہیں۔” اور اس کے اندرجو تاریخ لکھی گئی اس میں سے مغلیہ دور کو غائب کردیا گیا جبکہ ہندوستان سونے کی چڑیا کہلاتا تھا یعنی ایک ایسی پالیسی لے کر آئے کہ جس میں قوم کو خود اپنے تبناک ماضی سے شرمندہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ "2004 سے 2014 تک، 350 سے کم یونیورسٹیاں تھیں۔ اور آج، 10-12 سالوں میں، تقریباً 650 نئی یونیورسٹیاں شامل کی گئی ہیں۔”ان میں سے ایک گلگوتیا یونیورسٹی بھی ہے جس نے پچھلے سال چینی روبوٹ کو بدعنوانی کی ہڈی کھلا کر ملک کا نام ساری دنیا میں روشن کردیا ۔ وزیر اعظم کا دعویٰ ہے کہ ہندوستان غیر ملکی یونیورسٹیوں کے لیے ایک پرکشش مقام کے طور پر ابھر رہا ہے لیکن کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ملک کے طلبا کی بہت بڑی تعداد معیاری اور کم قیمت تعلیم کے لیے یوروپ چلی جاتی ہے اور پھر لوٹ کر واپس نہیں آتی۔ وزیر اعظم کو پتہ ہونا چاہیے کہ ہمارے نوجوان کا ہندوستان میں ہی غیر ملکی ڈگریاں حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری اپنی تعلیم گاہوں کا معیار اچھا نہیں ہے اس لیے خود اپنی سرزمین پر غیر ملکی برانڈ کو اہمیت دی جارہی ہے۔
معیشت کے میدان میں پانچ ٹریلین کا راگ مودی جی بھول چکے ہیں ۔ بلند بانگ دعویٰ کرنے والے وزیر اعظم کو بتانا چاہیے کہ عالمی بنک کی فہرست میں ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا قرضدار ملک کیوں ہے اور اس ملک میں مفت اناج پر انحصار کرنے والے اسیّ کروڈ لوگوں کی تعداد میں کمی کیوں نہیں ہوتی؟ انہیں خود کفیل بنانے کی ساری کوششیں ناکام کیوں ہوگئی ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح ملک میں کیوں بڑھتی جاتی ہے ؟ ایسا نہ ہوتا تو کاکروچ جنتا پارٹی ان کے لیے سر در نہیں بنتی ۔ پی ایم مودی نے کہا کہ، 1947 میں آزادی کے بعد ہندوستان نے بڑے خواب دیکھے تھے، لیکن ترقی اکثر اس رفتار سے کم ہوئی جس کی ملک نے خواہش کی تھی۔ اس کے باوجود ایک چائے بیچنے والا ملک کا وزیر اعظم بن گیا ۔ فی الحال یہ حال ہے کہ پی ایچ ڈی اور انجنیرنگ کرنے والے نوجوانوں کو بھی انہیں پکوڑے بیچنے کی ترغیب دینی پڑتی ہے۔ اس لیے اب کھوکھلے نعروں کے بجائے ایسی ٹھوس معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے جس میں اڈانی اور امبانی کے علاوہ ملک کے عام لوگوں کا بھی بھلا ہو اور ہم دو ہمارے دو کا ماحول بدلے ۔ آزادی کے حوالے سے وزیر اعظم کے خوابوں کو نلسار یونیورسٹی کی ایک تلخ حقیقت نے چکنا چور کردیا ۔ وہاں کے طلبا نےانہیں کاکروچ کے لقب سے نوازنے والے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کے ہاتھوں ڈگری نہیں لینے کا اعلان کردیا ۔

طلبا کے اس فیصلے سے ناراض ہوکر بار کونسل آف انڈیا نے نلسار یونیورسٹی آف لاء کے 2026 بیچ کے گریجویٹوں کے بطور وکیل داخلہ پر پابندی لگانے کا فیصلہ سنا دیا اور اظہار رائے کے آزادی کی قلعی کھل گئی۔ بی سی آئی کے مذموم سرکلر پر مجبوراًسپریم کورٹ کو سخت نکتہ چینی کرنی پڑی ۔سی جے آئی کو کہنا پڑا کہ، طلباء کو احتجاج کا حق ہے اور بی سی آئی کے پاس انہیں روکنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے یہاں تک کہہ دیا کہ بی سی آئی کا اس معاملے میں کوئی لینا دینا نہیں ہے کیونکہ یہ ان کے اور طلباء کے درمیان بات چیت تھی۔اس پھٹکار کے بعد بی سی آئی کے وکیل نے رسوا ہوکرسرکلر واپس لے لیا ۔ بی سی آئی کے چیئرپرسن منن کمار مشرا اب بھی الزامات کی جانچ پر مصر ہیں جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اس کا بھی انہیں اختیار نہیں ہے۔ منن کمار مشرا کے ذریعہ جاری ک ریاستی بار کونسلوں کو نلسار یونیورسٹی آف لاء کے 2026 بیچ کے گریجویٹوں کو بطور وکیل داخلہ لینے سے منع کرنے نوٹس مودی دور میں آزادی کو کچلنے کے رویہ کی منہ بولتی تصویر ہے۔ موجودہ نئی نسل وزیر اعظم کی چکنی چپڑی باتوں کے جھانسے میں نہیں آئے گی کیونکہ مودی سرکار پہلے تو جنتر منتر پر تشدد کرتی ہے اور پھرخود اپنی حرکت پر معافی مانگنے کے بجائے معاف کرنے کا ڈھونگ کرتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو معلوم ہوجانا چاہیے کہ اب ان کا پالہ ایسے نوجوانوں سے پڑا ہے جن کی آنکھوں پر پٹی نہیں ہے۔ وہ اندھے بھگت نہیں ہیں اس لیے آنکھوں میں دھول جھونکنا ناممکن ہے ۔ اس لیے مودی جی کو 2047 کے خواب بیچنے کے بجائے 2026 کی حقیقت سے آنکھیں چار کرنا چاہیے ورنہ وہ ایسی ٹھوکر کھائیں گے کہ انہیں دن دہاڑے تارے نظر آنے لگیں گے۔
گ

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے