ہر سال 15 اگست کا دن لال قلعے کی فصیل سے لہراتے ترنگے، حب الوطنی کے نغموں اور بلند بانگ دعوؤں کے ساتھ آتا ہے۔ لیکن اس بار جشنِ آزادی ایک ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب ملک سیاسی، سماجی اور آئینی سطح پر شدید بحران سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف آزادی کی سالگرہ کا روایتی جشن ہے، تو دوسری طرف ایوان میں ہنگامہ آرائی اور سڑکوں پر نبرد آزما نوجوانی یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ کیا آزادی کا مطلب صرف تقاریب کا انعقاد ہے یا عوام کی آواز سننا؟
1. پارلیمنٹ کی بے حسی اور ہوم منسٹر کا جوابدہی سے گریز
جمہوریت کا سب سے اہم ستون پارلیمنٹ ہوتا ہے، جہاں عوام کے نمائندے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔ لیکن آج ایوان کا منظر نامہ صرف نعرے بازی اور سیاسی رسہ کشی کا میدان بن کر رہ گیا ہے۔
سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ملک میں جاری تعلیمی و معاشی بحران اور جگہ جگہ ہوتے مظاہروں کے باوجود حکومت اور بالخصوص وزیرِ داخلہ کی ایوان میں غیر موجودگی اور جوابدہی سے بچنے کی پالیسی نے شدید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے مسلسل مطالبات کے باوجود جوابدہی سے یہ گریز جمہوری روایات پر ایک گہرا چوٹ ہے۔ جب ایوان کے اندر عوام کو جواب نہیں ملتا، تو پھر فیصلے سڑکوں پر منتقل ہو جاتے ہیں۔
2. بہار اور جھارکھنڈ: تعلیمی و معاشی عدم تحفظ کے خلاف طلبہ کی آواز
ملک کا سب سے بڑا اثاثہ اس کی نوجوان نسل ہے، لیکن آج وہی نوجوان اپنے بنیادی حقوق کے لیے سڑکوں پر لاٹھیاں کھانے پر مجبور ہیں:
جھارکھنڈ کا احتجاج: امتحانات میں بے ضابطگیوں، دھاندلی اور بھرتی کے عمل میں تاخیر کے خلاف طلبہ کی بھوک ہڑتال اور مظاہرے ایک سنگین صورتِ حال اختیار کر چکے ہیں۔
بہار کا طلبہ احتجاج: یہی حال پڑوسی ریاست بہار کا ہے، جہاں پیپر لیک، روزگار کے مواقع کی کمی اور بھرتی بورڈز کی بے ضابطگیوں کے خلاف ہزاروں طلبہ سڑکوں پر ہیں۔ پولیس کا تشدد اور واٹر کینن کا استعمال ان کے غصے کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا رہا ہے۔
جب ملک کے مستقبل کے معماروں کو اپنے حق کے لیے پولیس کے لاٹھی چارج کا سامنا کرنا پڑے، تو جشنِ آزادی کے دعوے کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔
3. جنتر منتر کا احتجاج اور سیاسی عدم اطمینان
حال ہی میں نئی دہلی کے تاریخی جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج نے اس ملک گیر عدم اطمینان کو دارالحکومت کے قلب تک پہنچا دیا ہے۔ مختلف ریاستوں سے آئے طلبہ، کسانوں اور عوامی تنظیموں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عوام کا غصہ اب کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہا۔
دارالحکومت میں بنتا یہ سیاسی و سماجی دباؤ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اور حکومت کے درمیان خلیج مسلسل بڑھتی جا رہی ہے، جسے صرف نعروں سے پر نہیں کیا جا سکتا۔
خود احتسابی کا لمحہ:
ان تمام حالات کے درمیان جشنِ آزادی کا آنا صرف ایک روایتی یاد دہانی نہیں، بلکہ پورے ملک کے لیے خود احتسابی کا لمحہ ہے
اگر لال قلعے سے جشنِ آزادی کے نغمے گائے جا رہے ہوں اور دوسری طرف بہار و جھارکھنڈ کے طلبہ پر لاٹھیاں برس رہی ہوں، جنتر منتر پر احتجاجی نعرے گونج رہے ہوں، اور پارلیمنٹ میں حکومت جوابدہی سے گریزاں ہو—تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہماری جمہوریت شدید بحران کا شکار ہے۔
آزادی محض حکومت کی تبدیلی کا نام نہیں تھا، بلکہ ہر شہری کو برابری، روزگار، اور اپنی حکومت سے سوال کرنے کا حق دینے کا نام تھا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومتیں گریز اور خاموشی کی پالیسی چھوڑ کر عوامی مطالبات اور نوجوانوں کی آواز کو سنجیدگی سے سنیں، تاکہ آزادی کا اصل مقصد برقرار رہے۔