بھارت ان دنوں بڑی تیزرفتاری سے بدل رہا ہے اوریہاں کی سیاست میں شایدپہلی بار ایسا منظرنامہ ابھرکرسامنے آرہاہے جس نے اقتدار کے ایوانوں کو یہ سوچنے پرمجبور کردیا ہے کہ جن نوجوان نسل کے بزرگوں اور انکے والدین کو برسوں تک مذہبی نعروں،مندر،مسجد کی بحث اور اکثریتی شناخت کی سیاست کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی گئی،اب اس نے اچانک سیاست کا رخ روزگار، تعلیم،امتحانی شفافیت اورجواب دہی کی طرف موڑدیا ہے،یہی وہ تبدیلی ہے جس نے بی جے پی و آرایس ایس کو حیران کن صورتحال سے دوچار کردیا ہے،دہلی کے جنتر منتر پرجین زی کی قیادت میں ہونے والے تاریخی احتجاج نے محض ایک امتحانی مسئلے کو نہیں اٹھایا بلکہ اس نےحکومت کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کردیا کہ نوجوانوں کو مذہبی جذبات کے نام پرووٹ دینے کے لیے کب تک تیار کیا جاتا رہے گا جبکہ ان کا مستقبل ہی غیریقینی صورتحال کا شکار ہے۔امتحانی پرچوں کے افشاء،روزگار کے بحران اور بوسیدہ نظام کی جواب دہی کے مطالبے نے ہزاروں نوجوانوں کو سڑک پرلا کھڑا کیاہے،جنتر منتر سے شروع ہونے والا مارچ اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو استعفی دینا پڑا۔نوجوانوں کی طرف سے سامنے آنے والی یہ تحریک 2014 کے بعدمودی حکومت کے لیے بڑے سیاسی چیلنجوں میں شمار کی جارہی ہے اوریہیں سے حکمراں پارٹی،بی جے پی کے لیے اصل خطرے کی گھنٹی بجنی شروع ہوچکی ہے، کیونکہ یہ احتجاج کسی روایتی اپوزیشن جماعت کے پرچم تلے نہیں تھا،اس کے نعروں کا مرکز ہندو مسلم تھا نہ مندر مسجد،اس میں نوجوانوں کے مطالبات بالکل سیدھے تھے کہ ملک بھر کے امتحانات میں شفافیت کیوں نہیں ہے؟ ملازمتیں کہاں ہیں؟اور کیوں نہیں ہیں؟ حکومت جواب دے،شاید یہی وہ سوالات ہیں،جن کا جواب مذہبی سیاست کےنعروں سے نہیں دیا جاسکتا۔بی جے پی کی سیاست نے طویل عرصے تک ہندو مسلم اور مذہبی شناخت کو انتخابی سیاست کے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے،رام مندر،ہندو شناخت اورمسلمانوں کے خلاف سیاسی بیان بازی نے قومی سیاست میں ایک طاقتور انتخابی بیانیہ تشکیل دیا لیکن نوجوانوں کا ایک بڑا حصہ،جسے جین زی بھی کہاجاتاہے،اس سیاست اور سیاسی زبان کو اسی شدت سے قبول کرتا دکھائی نہیں دے رہا ہے کیونکہ اس نسل کے ہاتھ میں موبائل ہے،اس کے سامنے پوری دنیا ہے،اسے چندسکنڈ میں مختلف ملکوں کی حکومتوں،تعلیمی نظام،روزگار کے مواقع اورسیاسی مباحث کا موازنہ کرنے کی صلاحیت حاصل ہے،اسے یہ بتانا اب کم ازکم اتنا آسان نہیں کہ اس کی بے روزگاری کا حل کسی مذہبی تنازع میں ہے کیونکہ اسے اپنے مستقبل کی فکر ہے،اسے شفاف امتحان چاہیے،اسے معیاری تعلیم چاہیے اوراسے یہ حق بھی چاہیے کہ وہ حکومت سے جب چاہیں سوال کرسکیں،یہی وجہ ہے کہ آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کوبھی اچانک نوجوانوں کےلہجے کو سمجھنے کی ضرورت محسوس ہوئی،حالیہ دنوں میں دیے گئے انکے بیانات اس بات کا اعتراف ہے کہ نئی نسل کوحکم دینے کے بجائے اسے سننا پڑے گا،ایسے میں سوال کا پیدا ہونا فطری ہے کہ اگرجین زی کے سوالات ہمیشہ جائز تھے توان کی آواز اس وقت کیوں زیادہ اہم ہو گئی جب وہ سڑکوں پر اتر آئے؟ اگرنوجوانوں کے احتجاج کو جمہوریت کا حصہ سمجھاجاتا ہے تو پھر حکومت مخالف نوجوانوں کو پہلے سیاسی دشمن سمجھنے کی روایت کیوں رہی؟ اگر نئی نسل واقعی ملک کا مستقبل ہے تو اس مستقبل کے سامنے روزگار،تعلیم اور امتحانات کی شفافیت کا مسئلہ،مذہبی نعروں سے بڑا کیوں نہیں سمجھا گیا؟پچھلے دنوں دہلی بی جے پی نے خود اعتراف کیا کہ حالیہ جین زی تحریک نے پارٹی کو کچھ حد تک حیران کردیا ہے،بعدازاں پارٹی نے جین زی کوقریب کرنے کے لیے کالجز اور یونیورسٹیوں میں نوجوانوں سے رابطہ بڑھانے یوا مورچہ اور اے بی وی پی کے ذریعے رسائی تیز کرنے کا منصوبہ بنایا یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ جین زی اور نوجوان ناراض ہے،اصل مسئلہ یہ ہے کہ جین زی کو روایتی سیاسی فارمولا سے قابو کرنا اب آسان نہیں رہا۔
ان حالات میں وزیراعظم مودی کی نوجوانوں تک پہنچنے کی نئی ڈیجیٹل کوشش بھی اسی پس منظر میں سامنے آئی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انسٹاگرام کی ریل،امتحانی پرچے کا لیک روک سکتی ہے؟ کیا میم بے روزگاری ختم کرسکتا ہے؟ کیا فرینڈز کہہ دینے سے نوجوان حکومت پراعتماد کرنے لگیں گے؟نوجوانوں کو اگرواقعی قریب لانا ہے تو اسے سیاسی برانڈنگ نہیں بلکہ نتیجہ چاہیے۔حکومت اور آر ایس ایس کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ اس نسل کومحض ایک نئے ووٹ بینک کےطور پر نہ دیکھے کیونکہ جین زی کوئی روایتی ووٹ بینک نہیں ہے،بی جے پی اگرسمجھتی ہے کہ چندنوجوانوں سے ملاقات،انسٹا گرام،ریلز اور کالج کمپین سے جین زی اس کےروایتی سیاسی بیانیے میں واپس آجائے گی تو شاید وہ ایک بنیادی تبدیلی کو سمجھنے میں ناکام ہے،برسہا برس تک مندر،مسجد کی سیاست کے بعد اب روزگار،تعلیم اور جواب دہی کی سیاست دروازے پر کھڑی ہے اوریہی وہ دستک ہے جس نے بی جے پی اورحکمراں اتحاد کو پہلی مرتبہ یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ ملک کا نوجوان صرف ہندو ووٹر نہیں رہا وہ پہلے نوجوان شہری ہے جو اپنے مستقبل کا حساب مانگ رہا ہے۔
ملک میں روزگار کا مسئلہ انتہائی سنگین ہے جہاں اپوزیشن کی جانب سے اس کے لیے مرکزی حکومت کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے وہیں حکومت کی جانب سے روزگار کی فراہمی کے بلند و بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں،سرکاری و غیرسرکاری اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح مسلسل بڑھتی جارہی ہے اورتاریخ کے نازک موڑ پر آج یہ ملک کھڑا ہے،ان حالات میں نوجوان طبقہ مایوسی کا شکار ہے،وزیراعظم مودی کی قیادت میں بی جے پی نے 2014 کے انتخابی منشور میں ہر سال دو کروڑ روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن گزشتہ ایک دہائی میں یہ وعدے محض اعلانات اوراشتہاری مہمات تک محدود رہے،حکومت نے اسٹارٹ اپ انڈیا، اسکل انڈیا اورمیک ان انڈیا جیسے کئی پروگرام لانچ کی لیکن ان کا زمینی اثر انتہائی محدود اورغیرمؤثررہا،ملک کے کروڑوں نوجوان،آج روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھررہے ہیں،حال ہی میں شائع ہونے والی سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی(CMIE) کی رپورٹ کے مطابق جون 2025 میں ملک کی مجموعی بے روزگاری کی شرح 5.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو ایک دہائی کی بلند ترین سطحوں میں سے ایک ہے،دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع سکڑچکے ہیں جبکہ شہری نوجوان کنٹریکٹ یا پارٹ ٹائم ملازمتوں پرمجبور ہیں،ماہرین اقتصادیات اور آزاد ادارے اس پر شدید خدشات کا اظہار کررہے ہیں،رائٹرز کے حالیہ سروے میں شامل 50 ماہرین میں سے 70 فیصد نے حکومت کے اعداد و شمار کو غیرحقیقی اور گمراہ کن قراردیا ہے،ان ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں اصل بے روزگاری کی شرح 7 فیصد سے 35 فیصد کے درمیان ہوسکتی ہے جو ایک خطرناک رجحان ہے،اس کے مطابق لاکھوں افراد بظاہر ملازمت یافتہ شمار کیے جا رہے ہیں،حالانکہ وہ صرف چند گھنٹوں یا کچھ دنوں کی عارضی ملازمت کررہے ہیں،سب سے بڑی خامی پیریا ڈک لیبر فورس سروے میں ہے جس میں اگر کوئی شخص ہفتے میں صرف ایک گھنٹہ کام کرتا ہے تو اسے بھی برسر روزگار مان لیا جاتا ہے،یہ طریقہ کار نہ صرف پرانا ہے بلکہ حقیقی بے روزگاری کو بھی چھپاتا ہے،اسی طرح سابق گورنر ریزرو بینک کا کہنا ہے کہ حکومت کوصرف بلند و بانگ دعوؤں کے بجائے ان شعبوں پرتوجہ دینی چاہیے جوواقعی ملازمت پیدا کرتے ہیں جیسے مینوفیکچرنگ،زراعت اورسروس سیکٹر پر، اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس مسئلے پر حکومت کو گھیرا ہے، کانگریس قائد راہل گاندھی کا یہ بیان خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ حکومت صرف اعداد و شمار کا کھیل،کھیل رہی ہے،نوجوان بے روزگار ہیں،ڈگریاں ہاتھ میں لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پرمجبور ہیں اورحکومت انہیں روزگار کے وعدوں کے بجائے ڈیٹا دکھارہی ہے،عام آدمی پارٹی اور بائیں بازو کی جماعتیں بھی حکومت پر یہ الزام عائد کررہی ہیں کہ معاشی ترقی کے دعوے صرف سرمایہ دار طبقے تک محدود ہیں اس سےعوام کو کچھ حاصل نہیں ہورہا ہے،ہرسال ملک میں تقریبا ایک کروڑ نوجوان،روزگار کے متلاشی ہوتے ہیں لیکن ان میں سے بیشتر کو یا تو کوئی کام نہیں ملتا یا بہت کم اجرت پرجز وقی یا غیرمستقل ملازمتیں فراہم ہوتی ہیں،یہ مایوسی اب صرف شخصی نہیں رہی بلکہ سیاسی شکل اختیار کرتی جارہی ہے،حال ہی میں ہونے والے ضمنی الیکشن اور سیاسی انتخابات میں نوجوانوں کا حکومت کے خلاف حق رائے دہی کا استعمال،بڑھتی ہوئی ناراضگی کا واضح اشارہ ہے ایک اور بڑا مسئلہ خواتین کی ورک فورس میں کم شرکت ہے،موجودہ دور میں صرف 20 فیصد خواتین ہی ورک فورس میں شامل ہیں جوجنوبی ایشیا میں سب سے کم شرح ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کو کام کے بہترمواقع فراہم کیے جائیں تو نہ صرف معاشی ترقی ممکن ہے بلکہ اس سے سماجی بہتری بھی آئے گی،سائنس و شماریات کے محکمہ نے اپنے اعداد و شمار کے دفاع میں کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی معیارات پر عمل کررہے ہیں اورجدید تکنیک استعمال کررہے ہیں،ان کے مطابق یہی ڈیٹا عالمی ادارے بھی تسلیم کرتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اگر سب کچھ درست ہے تو پھر نوجوان سڑکوں پر کیوں ہے؟ کیوں ہر دوسرا تعلیم یافتہ نوجوان نوکری اور روزگار کے لیے پریشان ہے؟ گزشتہ دنوں یو پی کے پریاگ راج میں کانگریس قائدراہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کےنوجوان ملک کی سب سے بڑی طاقت ہیں اوران کی صلاحیت کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں،کے پی گراؤنڈ میں چھاتروں کی گونج پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ آپ ہندوستان کی طاقت اورفخر ہیں،جب میں یہ کہتا ہوں تو میری مراد ہرہندوستانی شہری سے ہوتی ہے،انہوں نے کہا کہ آج میں آپ سے درد،ڈیٹا اور دولت کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں،قائد اپوزیشن لوک سبھا نے کہا کہ ہندوستان کے 40 کروڑ نوجوان ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے،انہوں نے کہا کہ امریکہ،چین اور روس کے بارے میں بہت ساری باتیں کی جاتی ہیں لیکن ہندوستان کے نوجوان بے مثال ہیں،راہل گاندھی نے ملک میں تعلیمی اسناد کی قدر کم ہونے پربھی تشویش کا اظہار کیا،انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان میں تعلیمی سرٹیفیکٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے،کیونکہ وہ آپ کو ملازمت نہیں دلاسکتے،انھوں نے طلبہ اورمسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے امیدواروں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا اورطلبہ کے مسائل کو سنجیدگی کے ساتھ سنا،پروگرام میں موجود طلبہ نے ہاسٹلز کے مسائل اورمسابقتی امتحانات سے متعلق اپنی تشویش کا اظہار کیا،طلباء نے یہ بھی کہا کہ وہ یہ مسائل راہل گاندھی کے سامنے اٹھانے کی امید رکھتے ہیں،قبل ازیں قائداپوزیشن لوک سبھا راہل گاندھی کا طلبہ نے زوردارنعروں کے ساتھ تاریخی استقبال کیا،تقریب کے شروع میں اتر پردیش کے دو طلبہ نے ریاست میں تعلیمی نظام کی صورتحال اور بڑھتی بے روزگاری کا درد بیان کیا،اویناش نامی ایک نوجوان نے بتایا کہ وہ 2018 سے ٹیچر بننے کی تیاری کررہا ہے اور کئی امتحانات دے چکا ہے لیکن ریاست میں تقرری ہی مناسب طریقے سے نہیں ہورہی ہے،اویناش نے یہ بھی بتایا کہ اب تک کئی امتحانات کے پیپر لیک ہوچکے ہیں،اس سے طلباء کا جووقت ضائع ہوا،اس کی جواب دہی کے لیے کوئی تیار نہیں ہے،ایک طالب علم میں نے اپنا درد بیان کرتے ہوئے راہل گاندھی کے سامنے بتایا کہ وہ بی ایڈ اور سی ٹیٹ کرچکا ہے،اسے چارسال سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن بھرتی نہیں نکل رہی ہے،اس نوجوان نے اپنی تکلیف ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمارے پاس صرف دو ہی راستے بچے ہیں،یاتو چائے کی دکان کھولیں یا پھرخودکشی کر لیں،یہ سن کرراہل گاندھی نے کہا کہ خودکشی کوئی متبادل نہیں ہوسکتا،قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے طلباء کو یقین دلایا کہ انہیں انصاف ملے گا اس کے لیے وہ ہرقدم پرطلبہ کے ساتھ کھڑے ہیں،اس درمیان کانگریس نے نظام تعلیم میں موجود خامیوں اور بڑھتی بے روزگاری پرموجود حکومت کوتنقید کا نشانہ بنایا ہے،ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے لکھا کہ سال درسال مودی حکومت کا وہی جھوٹ سن سن کر نوجوان بے حال ہو گئے ہیں،اب انکا بھروسہ پوری طرح ٹوٹ چکا ہے، گمراہی سامنے آچکی ہے،ایک دہائی بعد آج کروڑوں طلبہ کی گونج ایک آواز میں پوچھ رہی ہے کہ روزگار کہاں ہے؟کانگریس نے کہا کہ تبدیلی کے لیے آواز اٹھائیے،بے روزگاری کے خلاف ایک ساتھ آئیے،اس پوسٹ کے ساتھ ویڈیو میں کچھ عام لوگوں کے بیانات بھی دکھائے گئے ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ اتر پردیش میں روزگار نہ ہونے کی وجہ سے وہ ملک سے باہر اسرائیل جارہے ہیں،جنگ کے حالات میں بھی وہ اسرائیل جانے کو تیار ہیں کیونکہ ریاست میں ان کے لیے دو وقت کی روٹی حاصل کرنا محال ہورہا ہے،بے روزگاری کا مسئلہ ایک اقتصادی نہیں بلکہ سیاسی،سماجی اور انسانی مسئلہ بنتا جارہا ہے،اس کا حل صرف دعوؤں سے نہیں بلکہ شفاف اور قابل اعتماد اعداد و شمار،بہتر پالیسی سازی اورسب کے لیے باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے سے ہی ممکن ہے،حکومت کوچاہیے کہ وہ نئی نسل کے مستقبل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے، کیونکہ ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کا نوجوان طبقہ ہے جو آج سب سے زیادہ بے چینی اضطراب اورغیریقینی صورتحال کا شکار ہے،اپنے گھروں سے نکل سڑکوں پر ہے،اپنے مستقبل کے لئے فکرمند ہے اور اس گونگی،بہری حکومت سے پچھلے 12 سال کا حساب مانگ رہا ہے۔کیا انھیں حساب مل سکے گا؟منظر بھوپالی کی زبانی نوجوان یہ مطالبہ کررہا ہےکہ
دیش کی تباہی کا حساب دیجئے
مجھ کو میرے بینک کی کتاب دیجئے
*(مضمون نگارمعروف صحافی،کالم نویس اور سیاسی تجزیہ نگار ہیں)*
sarfarazahmedqasmi@gmail.com