نشے کی تاریکی اور پیغامِ رحمتِ عالمﷺ
انسان کو انسان رکھنے کی جنگ
✍️۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
انسانی تاریخ میں بعض برائیاں ایسی ہیں جو صرف ایک فرد کو متاثر نہیں کرتیں بلکہ پورے خاندان، معاشرے اور تہذیب کے اخلاقی و انسانی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ نشے کی لعنت بھی انہی تباہ کن وباؤں میں سے ایک ہے۔ یہ بظاہر ایک شخص کی عادت سے شروع ہوتی ہے، مگر رفتہ رفتہ اس کی صحت، عقل، ارادے، کردار، معاشی حالت، خاندانی تعلقات اور سماجی ذمّہ داریوں کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ نشہ صرف ایک کیمیکل کا نام نہیں؛ یہ انسانی شعور پر قبضے کی ایک کیفیت ہے۔ جب انسان اپنی آزاد ارادی، فکری توازن اور اخلاقی بصیرت کو کسی مادّے کے حوالے کر دیتا ہے تو وہ صرف صحت نہیں کھوتا، اپنی شخصیت کا ایک حصّہ بھی کھو دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں رحمتِ عالم حضرت محمد مصطفیٰﷺ کا پیغام ہمارے عہد کے لیے غیر معمولی معنویت اختیار کر لیتا ہے۔ آپﷺ نے انسان کو صرف گناہ سے نہیں روکا بلکہ اسے ایسی زندگی کی طرف بلایا جس میں عقل محفوظ ہو، دل زندہ ہو، جسم پاکیزہ ہو، خاندان مضبوط ہو، معاشرہ پُرامن ہو اور انسان اپنے ربّ، اپنے نفس اور اپنے معاشرے کے سامنے ذمہ دار ہو۔ آج جب دنیا نشہ آور اشیا کے بڑھتے ہوئے استعمال، منظم جرائم، ذہنی دباؤ، نوجوانوں کی بے سمتی اور خاندانی انتشار کا سامنا کر رہی ہے، سیرتِ نبویﷺ ہمیں محض ممانعت نہیں بلکہ انسانی تعمیر، پیش بندی، اصلاح، توبہ، علاج، بحالی اور سماجی ذمّہ داری کا جامع تصور عطا کرتی ہے۔
اکیسویں صدی نے طب، سائنس، مواصلات اور ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز ترقی کی ہے، مگر اسی کے ساتھ نشہ آور اشیا کا عالمی بحران بھی زیادہ پیچیدہ ہوگیا ہے۔ مصنوعی منشیات، نئے نفسیاتی مادّے، غیر قانونی ادویات، منظم اسمگلنگ اور ڈیجیٹل ذرائع سے منشیات کی خرید و فروخت نے مسئلے کو محض مقامی یا قومی نہیں رہنے دیا۔ اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (UNODC) کی World Drug Report 2025 کے مطابق 2023ء میں دنیا بھر میں تقریباً 316 ملین افراد نے الکحل اور تمباکو کو شمار کیے بغیر کسی نہ کسی منشیات کا استعمال کیا؛ یعنی 15 سے 64 سال کی عالمی آبادی کا تقریباً 6 فیصد۔ اسی رپورٹ کے مطابق بھنگ تقریباً 244 ملین صارفین کے ساتھ سب سے زیادہ استعمال ہونے والی کنٹرول شدہ منشیات تھی، جب کہ اوپیئڈز، ایمفیٹامائنز، کوکین اور ایکسٹیسی بھی لاکھوں افراد کو متاثر کر رہے تھے۔
یہ اعداد محض اعداد نہیں؛ ہر عدد کے پیچھے ایک انسان، ایک گھر، ایک ماں، ایک باپ، ایک بیوی، ایک بچّہ اور ایک ادھورا مستقبل موجود ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق منشیات کے استعمال سے متعلق امراض صحت، خاندان، تعلیم، روزگار اور سماجی زندگی کو شدید متاثر کر سکتے ہیں، جبکہ منشیات کے استعمال سے سالانہ تقریباً چھ لاکھ اموات منسوب کی جاتی ہیں۔ علاج کے مؤثر طریقے موجود ہونے کے باوجود substance-use disorders کے علاج تک رسائی اب بھی ناکافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نشے کو صرف "اخلاقی برائی” کہہ کر چھوڑ دینا مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ یہ صحتِ عامہ، خاندان، تعلیم، معیشت، قانون، نفسیات اور اخلاق—سب کا مشترکہ مسئلہ ہے۔
اسلام نے انسانی وجود کو ایک امانت قرار دیا ہے۔ انسان کی جان، عقل، مال، عزّت، خاندان اور ایمان—سب کی حفاظت شریعت کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ اسی لیے نشہ اسلام کے اخلاقی نظام میں محض ایک ذاتی پسند نہیں بلکہ ایک ایسا فعل ہے جس کے اثرات فرد سے آگے بڑھ کر پورے معاشرے تک پہنچتے ہیں۔ قرآن مجید نے پہلے انسان کو غور و فکر کی دعوت دی: لوگ آپﷺ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں؛ کہہ دیجیے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی، لیکن ان کا گناہ ان کے فائدے سے بڑا ہے۔
یہاں قرآن کا انداز قابلِ غور ہے۔ وہ انسانی نفسیات اور معاشی حقیقت کو نظر انداز نہیں کرتا۔ یہ نہیں کہتا کہ نشہ آور چیز میں کوئی ظاہری فائدہ دکھائی ہی نہیں دیتا؛ بلکہ فیصلہ کن معیار یہ قرار دیتا ہے کہ مجموعی نقصان فائدے سے کہیں زیادہ ہے۔ بعد میں قرآن نے زیادہ واضح اور قطعی انداز اختیار کرتے ہوئے فرمایا: "اس سے بچو، تاکہ تم فلاح پاؤ”۔ اور فوراً بعد اس کے سماجی و روحانی اثرات بھی بیان کیے: "شیطان چاہتا ہے کہ نشے اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کرے اور تمہیں اللّٰہ کی یاد اور نماز سے روک دے”۔ قرآن کی یہ تعبیر بتاتی ہے کہ نشہ صرف جسم کو متاثر نہیں کرتا؛ وہ رشتوں میں نفرت، ذہن میں غفلت، ارادے میں کمزوری اور روح میں بے حسی پیدا کرسکتا ہے۔
رسول اللّٰہﷺ نے اس اصول کو انتہائی جامع الفاظ میں بیان فرمایا: "ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے”۔ یہ فرمان اسلامی قانون کے لیے ایک بنیادی اصول فراہم کرتا ہے۔ ممانعت کسی ایک تاریخی مشروب تک محدود نہیں رہتی بلکہ نشہ پیدا کرنے والی کیفیت کو اصل معیار بنایا جاتا ہے۔ یہاں پیغامِ نبویﷺ کی آفاقیت نمایاں ہوتی ہے۔ آج منشیات کی دنیا بدل گئی ہے؛ افیون، ہیروئن، کوکین، مصنوعی اوپیئڈز، میتھ ایمفیٹامائن، مختلف synthetic drugs اور دوسری نشہ آور اشیا اپنی شکلیں بدلتی رہتی ہیں، لیکن انسانی عقل کو مفلوج کرنے، ارادے کو کمزور کرنے اور زندگی کو تباہ کرنے کا بنیادی مسئلہ وہی ہے۔ اسی لیے نبوی اصول کسی ایک زمانے کا قانون نہیں بلکہ انسانی فطرت اور انسانی عقل کے تحفظ کا جامع اصول ہے۔
اسلامی احکام کو اگر صرف "حرام و حلال” کی فہرست سمجھ لیا جائے تو ان کی حکمت کا بڑا حصّہ ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ نشے کی ممانعت کے پیچھے ایک عظیم انسانی فلسفہ موجود ہے: انسان کی عقل آزاد رہے۔ اس کا ارادہ زندہ رہے۔ اس کا شعور بیدار رہے۔ اس کا خاندان محفوظ رہے۔ اس کا مال ضائع نہ ہو۔ اس کا کردار برباد نہ ہو۔ اور اس کی زندگی مقصد سے خالی نہ ہوجائے۔ اسلام عقل کو اللّٰہ کی عظیم نعمت سمجھتا ہے۔ اسی عقل کے ذریعے انسان حق و باطل میں فرق کرتا ہے، ذمّہ داری قبول کرتا ہے، عبادت سمجھتا ہے، علم حاصل کرتا ہے اور معاشرے میں خیر پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا جو چیز عقل کو مفلوج کرتی ہے، اسلام اسے محض "تفریح” کے زاویے سے نہیں دیکھتا۔
یہاں ایک نہایت اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ اسلام نے نشے کی برائی کو ختم کرنے کے لیے صرف قانونی حکم نہیں دیا بلکہ انسانی نفسیات، معاشرتی عادات اور تربیت کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھا۔ شراب کی حرمت کا قرآنی بیان ایک تدریجی تربیتی عمل کے پس منظر میں سامنے آتا ہے: پہلے اس کے نقصان اور گناہ کی طرف توجہ دلائی گئی، پھر نشے کی حالت میں نماز سے روکا گیا، اور آخرکار قطعی اجتناب کا حکم آیا۔ یہ طرزِ تربیت ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ معاشرتی اصلاح صرف قانون نافذ کرنے سے نہیں ہوتی؛ ذہن، عادت اور ماحول کو بھی بدلنا پڑتا ہے۔ آج اگر ہم نوجوان کو صرف یہ کہیں کہ "نشہ حرام ہے” مگر اس کے اندر مقصدِ زندگی پیدا نہ کریں، اسے صحت مند سرگرمی نہ دیں، اس کے ذہنی مسائل نہ سمجھیں، اس کے دوستوں اور ماحول کا جائزہ نہ لیں، گھر میں محبت اور مکالمہ نہ پیدا کریں اور اسے علاج و بحالی کا راستہ نہ دکھائیں تو ہم مسئلے کے صرف ایک حصّے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ پیغامِ رحمتﷺ ہمیں ممانعت کے ساتھ تعمیر کا راستہ دکھاتا ہے۔
ہندوستان بھی اس عالمی بحران سے الگ نہیں۔ حکومتِ ہند کی وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کے تحت ہونے والے قومی سروے نے ملک میں مختلف نشہ آور اشیا کے استعمال کی موجودگی کو واضح کیا ہے۔ ملکی پالیسی دستاویزات میں بھی منشیات اور الکحل کے استعمال کو فرد، خاندان اور معاشرے کے لیے اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ حکومت نے National Action Plan for Drug Demand Reduction (NAPDDR) کے تحت روک تھام، آگاہی، مشاورت، علاج، بحالی اور سماجی انضمام کے متعدد پروگرام قائم کیے ہیں۔ Nasha Mukt Bharat Abhiyaan بھی اسی وسیع کوشش کا حصّہ ہے، جو 2020ء میں شروع ہوا اور بعد میں ملک کے تمام اضلاع تک توسیع دی گئی۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ملکی پالیسی اب صرف گرفتاری یا سزا تک محدود نہیں بلکہ prevention، counselling، treatment، rehabilitation اور after-care کو بھی اہمیت دیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دینی تعلیمات اور جدید صحتِ عامہ کے اصول ایک دوسرے سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں: نشے کو روکنا بھی ضروری ہے اور نشے میں مبتلا انسان کو دوبارہ زندگی کی طرف لانا بھی۔
نشے کے خلاف جنگ کا سب سے اہم محاذ نوجوان نسل ہے۔ ایک ایسا نوجوان جس کے سامنے مقصدِ زندگی واضح نہ ہو، جسے گھر میں توجہ نہ ملے، جو بے روزگاری، ناکامی، تنہائی، ذہنی دباؤ یا احساسِ محرومی سے گزر رہا ہو، وہ بعض اوقات نشے میں عارضی فرار تلاش کرتا ہے۔ نشہ مسئلے کو حل نہیں کرتا؛ صرف مسئلے سے چند لمحوں کے لیے ذہن کو بے خبر کرتا ہے۔ پھر انسان دوبارہ اسی حقیقت میں لوٹتا ہے—مگر اس مرتبہ کمزور ارادے، زیادہ مالی نقصان، خراب صحت اور گہری وابستگی کے ساتھ۔ اس لیے نوجوانوں کو صرف "نشے سے بچاؤ” کی نصیحت کافی نہیں۔ انہیں مقصد دینا ہوگا، علم دینا ہوگا، کردار دینا ہوگا، کھیل دینا ہوگا، فن اور تخلیق کے مواقع دینا ہوں گے، روزگار اور ہنر کے راستے دینا ہوں گے اور سب سے بڑھ کر محبت، اعتماد اور امید دینی ہوگی۔
بچّہ سب سے پہلے مدرسہ یا اسکول میں نہیں، گھر میں انسان بنتا ہے۔ اگر گھر میں والدین اور بچّوں کے درمیان مکالمہ موجود ہو، اگر نوجوان اپنی پریشانی بلا خوف بیان کرسکے، اگر غلطی پر اسے فوراً مجرم بنا دینے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کی جائے، اگر خاندان میں محبت، نظم، عبادت اور ذمّہ داری کا ماحول ہو تو نشے کے کئی دروازے ابتداء ہی میں بند ہوسکتے ہیں۔ اس کے برعکس جہاں گھر میں مسلسل جھگڑا، تحقیر، لاتعلقی، تشدّد یا جذباتی تنہائی ہو، وہاں نوجوان بیرونی دنیا میں تعلق اور سکون تلاش کرتا ہے۔ غلط صحبت اسی خلا کو استعمال کرتی ہے۔ لہٰذا نشے کے خلاف تحریک کا آغاز گھر کی اصلاح سے ہونا چاہیے۔
مساجد صرف عبادات کے مراکز نہیں؛ اسلامی روایت میں وہ تربیت، تعلیم، مشاورت اور معاشرتی خدمت کے مراکز بھی رہی ہیں۔ آج مساجد اور دینی اداروں کو نشے کے مسئلے پر محض خطابات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ائمہ، خطباء، علماء، اساتذہ اور سماجی کارکن مل کر نوجوانوں کے لیے ایسے پروگرام تشکیل دے سکتے ہیں جن میں نشے کے طبی اور نفسیاتی نقصانات سے آگاہی؛ قرآن و سنّت کی اخلاقی تعلیم؛ والدین کی تربیت؛ نوجوانوں کے لیے counselling؛ کھیل اور صحت مند سرگرمیاں؛ ماہرینِ نفسیات اور ڈاکٹروں سے رابطہ؛ بحالی کے مراکز کی طرف رہنمائی؛ اور سابق نشہ زدہ افراد کی باعزّت معاشرتی بحالی شامل ہو۔ یہاں رحمتِ نبویﷺ کا مفہوم عملی شکل اختیار کرتا ہے۔
یہ بات انتہائی اہم ہے کہ نشے کی برائی سے نفرت کی جائے، مگر نشے میں مبتلا انسان سے نفرت نہ کی جائے۔ ایک شخص نشے کا عادی ہوگیا ہے تو اسے ذلت، طعنہ، نفرت اور سماجی بائیکاٹ کے ذریعے مزید تنہائی میں دھکیل دینا مسئلے کو بڑھا سکتا ہے۔ بے شک اگر کوئی شخص منشیات کی تجارت کرتا ہے، دوسروں کو تباہ کرتا ہے یا قانون شکنی کرتا ہے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے؛ مگر وہ شخص جو خود addiction کا شکار ہے، اس کے لیے علاج، counselling، rehabilitation اور دوبارہ معاشرے میں باوقار واپسی کا راستہ کھلا رہنا چاہیے۔ رحمت کا مطلب جرم کو جائز قرار دینا نہیں؛ رحمت کا مطلب انسان کو جرم اور تباہی سے نکالنے کی کوشش کرنا ہے۔
آج طب ہمیں بتاتی ہے کہ substance-use disorder ایک پیچیدہ مسئلہ ہوسکتا ہے جس میں جسمانی، نفسیاتی، سماجی اور ماحولیاتی عوامل شامل ہوتے ہیں۔ اسلامی اخلاق ہمیں اس کے ساتھ ایک اور پہلو فراہم کرتا ہے: انسانی ذمّہ داری، توبہ، امید اور کردار کی تعمیر۔ ان دونوں کو باہم جوڑا جائے تو ایک جامع حکمتِ عملی تشکیل پاسکتی ہے: پیش بندی + تعلیم + روحانی تربیت + نفسیاتی مدد + طبی علاج + خاندان کی معاونت + بحالی + معاشرتی قبولیت۔ یہی جامع راستہ نشے کے مسئلے کو جڑ سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
ریاست کی ذمّہ داری صرف منشیات پکڑنا نہیں؛ اسے منشیات کی طلب کم کرنے، اسمگلنگ روکنے، نوجوانوں کو محفوظ رکھنے، علاج کی سہولت عام کرنے اور بحالی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کام کرنا چاہیے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں، صحت کے محکموں، تعلیمی اداروں، مذہبی و سماجی تنظیموں اور خاندانوں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ خاص طور پر اسکولوں اور کالجوں میں محض خوف پیدا کرنے والی مہم کے بجائے evidence-based prevention programmes ہونے چاہییں۔ نوجوانوں کو یہ بتایا جائے کہ نشہ کیسے دماغ، فیصلہ سازی، تعلقات، تعلیم، روزگار اور مستقبل کو متاثر کرسکتا ہے۔
آج نشے کے خلاف جنگ کا ایک اہم میدان میڈیا بھی ہے۔ فلمیں، ویب سیریز، موسیقی، سوشل میڈیا اور بعض ڈیجیٹل رجحانات کبھی کبھی نشے کو آزادی، بغاوت، ذہانت، تفریح یا کامیابی کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ہر فن پارے کو ایک ہی پیمانے سے دیکھنا درست نہیں، لیکن مجموعی ثقافتی ماحول کے اثرات کو نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔ میڈیا کو چاہیے کہ نشے کو glamourize کرنے کے بجائے اس کے انسانی نتائج دکھائے وہ ماں جو اپنے بیٹے کے انتظار میں رات گزارتی ہے؛ وہ باپ جو اپنی جمع پونجی علاج میں خرچ کر دیتا ہے؛ وہ بچّہ جو نشے کے عادی والدین کے درمیان بڑا ہوتا ہے؛ وہ نوجوان جس کا روشن مستقبل چند سالوں میں اندھیرے میں بدل جاتا ہے۔ نشہ تفریح نہیں، انسانی المیہ ہے۔
ہندوستان اور دنیا کے دوسرے معاشروں میں نشے کے خلاف ایک ایسی تحریک کی ضرورت ہے جو صرف نعرہ نہ ہو بلکہ عملی پروگرام بنے۔ اس تحریک کے چند بنیادی اصول ہوسکتے ہیں:
* نوجوانوں میں مقصدِ زندگی اور مثبت سرگرمیوں کا فروغ۔
* اسکول اور کالج کی سطح پر سائنسی اور اخلاقی آگاہی۔
* خاندانوں کو addiction کی ابتدائی علامات پہچاننے کی تربیت۔
* علاج اور rehabilitation مراکز تک آسان رسائی۔
* نشے سے صحت یاب ہونے والے افراد کی عزّتِ نفس اور روزگار کی بحالی۔
* منشیات کے غیر قانونی کاروبار کے خلاف مؤثر قانون نافذ کرنا۔
* مساجد، مدارس، تعلیمی اداروں، ڈاکٹروں، نفسیاتی ماہرین اور سماجی تنظیموں کے درمیان تعاون۔
* میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے نشے کی حقیقت پسندانہ تصویر پیش کرنا۔
* تحقیق اور قابلِ اعتماد اعداد و شمار کی بنیاد پر پالیسی سازی۔
رسول اللّٰہﷺ کی دعوت انسان کو توڑنے نہیں، بنانے آئی تھی۔ آپﷺ نے ایک ایسے معاشرے کو بدل دیا جس میں شراب اور نشہ روزمرّہ معاشرت کا حصہ تھا۔ مگر تبدیلی صرف قانون کے ذریعے نہیں آئی؛ ایمان، شعور، صحبت، تربیت، اخلاق، آخرت کا احساس اور اجتماعی ماحول سب نے مل کر انسان کی شخصیت کو تبدیل کیا۔ یہی نبوی منہج آج ہمارے لیے رہنما ہے۔ اگر ہم نشے کے خلاف صرف غصّہ پیدا کریں گے تو شاید کچھ لوگ وقتی طور پر ڈر جائیں، مگر اگر ہم شعور، ایمان، مقصد، محبت، علم اور علاج پیدا کریں گے تو نسلیں محفوظ ہوسکتی ہیں۔
آج دنیا آزادی کے مختلف تصورات پر بحث کر رہی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ شخص آزاد ہے جو اپنی خواہش کا غلام ہوچکا ہے؟ کیا وہ نوجوان آزاد ہے جس کا دن نشے کے بغیر نہیں گزرتا؟ کیا وہ خاندان آزاد ہے جس کی خوشیاں ایک عادی فرد کے رویوں کی نذر ہو رہی ہیں؟ کیا وہ معاشرہ آزاد ہے جس کی ایک نسل مصنوعی لذتوں کے پیچھے اپنا شعور اور مستقبل کھو رہی ہے؟ حقیقی آزادی یہ ہے کہ انسان اپنی عقل کا مالک ہو، اپنے ارادے پر قائم ہو، اپنے ربّ سے جڑا ہو، اپنے خاندان کا سہارا ہو اور اپنے معاشرے کے لیے خیر کا ذریعہ بنے۔ یہی پیغامِ رحمتِ عالمﷺ کا ایک عظیم انسانی پہلو ہے۔ قرآن نے نشے سے بچنے کو محض ایک قانونی پابندی نہیں بلکہ فلاح سے جوڑا "اس سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ”۔ پس آج ہماری ذمّہ داری صرف یہ نہیں کہ ہم کہیں "نشہ حرام ہے”۔ بلکہ ہمیں یہ بھی کہنا ہوگا: "اے نوجوان! تمہاری زندگی قیمتی ہے۔ تمہارا مستقبل قیمتی ہے۔ تمہاری عقل اللّٰہ کی نعمت ہے۔ تمہارا جسم امانت ہے۔ تمہارا خاندان تمہیں چاہتا ہے۔ تمہارے اندر ایک عظیم مقصد کے لیے صلاحیت موجود ہے۔ واپس آؤ—رحمت کا دروازہ کھلا ہے”۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں حکم، حکمت بن جاتا ہے؛ ممانعت، حفاظت بن جاتی ہے؛ علاج، رحمت بن جاتا ہے؛ اور سیرتِ نبویﷺ، ایک تاریخی مطالعے کے بجائے عصرِ حاضر کی عملی رہنمائی بن جاتی ہے۔ نشے کے خلاف اصل جنگ صرف منشیات کے خلاف جنگ نہیں؛ یہ انسان کو انسان باقی رکھنے کی جنگ ہے۔ اور اگر اس جنگ میں قرآن کی ہدایت، سنّتِ رسولﷺ کی رحمت، جدید علم کی بصیرت، طب کی مہارت، خاندان کی محبت اور معاشرے کی ذمّہ داری ایک جگہ جمع ہو جائیں تو ایک ایسی نسل کی تعمیر ممکن ہے جو نشے کی مصنوعی سرشاری کے بجائے ایمان، علم، کردار، خدمت اور مقصدِ زندگی کی حقیقی سرشاری سے آشنا ہو۔ یہی پیغامِ رحمتِ عالمﷺ ہے— انسان کو گرانا نہیں، اٹھانا؛ توڑنا نہیں، جوڑنا؛ مایوس کرنا نہیں، امید دینا؛ اور انسان کو اس کے ربّ، اس کی فطرت اور اس کی حقیقی منزل سے دوبارہ جوڑ دینا۔
🗓️ (11.08.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○