خونِ شہیداں سے روشن صبحِ آزادی
(ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کا کردار)
ازقلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
جامعہ عربیہ توپران ضلع میدک
وطن سے محبت انسان کی فطرت میں ودیعت ہے۔ انسان جس سرزمین پر پیدا ہوتا ہے، جہاں اس کا بچپن گزرتا ہے، جہاں اس کے آباؤ اجداد مدفون ہوتے ہیں اور جہاں اس کی زندگی کی یادیں وابستہ ہوتی ہیں، اس مٹی سے اس کا دل خود بخود جڑ جاتا ہےانسان جس سرزمین پر آنکھ کھولتا ہے، اس مٹی سے اس کا تعلق محض زمین کا تعلق نہیں رہتا؛ اس میں اس کے بچپن کی یادیں، ماں کی گود، باپ کی شفقت، اپنے بزرگوں کی نشانیاں، گلیاں، راستے، درخت، کھیت، میدان اور زندگی کے بے شمار واقعات شامل ہوجاتے ہیں۔ انسان دنیا کے کسی بھی گوشے میں چلا جائے، اپنے وطن کی مٹی کی خوشبو اور وہاں گزرا ہوا بچپن اس کے دل میں کہیں نہ کہیں زندہ رہتا ہے۔ یہی فطری وابستگی محبتِ وطن کہلاتی ہے۔ اسلام انسان کو اس فطری جذبے سے محروم نہیں کرتا، بلکہ سیرتِ نبوی ﷺ میں ہمیں اپنے وطن سے محبت کا ایک نہایت حسین نمونہ ملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ جب مکہ مکرمہ سے ہجرت پر مجبور ہوئے تو آپ ﷺ نے مکہ کی طرف رخ کرکے فرمایا: «وَاللّٰهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللّٰهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللّٰهِ إِلَى اللّٰهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ»، یعنی: ’’اللہ کی قسم! تو اللہ کی بہترین زمین اور اللہ کے نزدیک سب سے محبوب زمین ہے، اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ جاتا تو میں تجھ سے نہ نکلتا۔‘‘ (جامع الترمذی، کتاب المناقب، باب فضل مکۃ، حدیث 3925)۔ "جامع الترمذی،)
یہی فطری محبت ہندوستان کے مسلمانوں کے دلوں میں بھی موجود تھی۔ یہ وہ سرزمین تھی جہاں ان کے آباؤ اجداد نے زندگی گزاری، جہاں ان کے بزرگوں نے علم کے چراغ روشن کیے، جہاں مساجد و مدارس آباد ہوئے، جہاں نسلیں پروان چڑھیں اور جہاں ان کی تاریخ کے بے شمار نقوش ثبت ہوئے۔ چنانچہ جب اس سرزمین پر غیر ملکی اقتدار کا سایہ گہرا ہوا اور ہندوستان کی آزادی و خودمختاری خطرے میں پڑی تو مسلمانوں نے بھی اپنی استطاعت کے مطابق اس کے خلاف جدوجہد کی۔ کسی نے تلوار اٹھائی، کسی نے میدانِ جنگ میں جان دی، کسی نے علم و قلم کے ذریعے قوم کو بیدار کیا، کسی نے جیل کی صعوبتیں برداشت کیں، کسی نے وطن سے دور جلاوطنی اختیار کی اور کسی نے مالٹا کی قید میں اپنے جسم کو پابند مگر اپنے عزم کو آزاد رکھا۔ ہندوستان کی آزادی کی داستان میں مسلمانوں کی یہ قربانیاں ایک طویل تاریخی سلسلے کی صورت میں سامنے آتی ہیں، جس کا ایک اہم باب تحریکِ ریشمی رومال ہے اور مسلمان اپنے وطن کی سلامتی، آزادی، خوش حالی اور تعمیر سے محبت رکھتا ہے۔ ہندوستان بھی مسلمانوں کی صدیوں پر محیط تاریخ، تہذیب، مدارس، خانقاہوں، علمی خدمات اور قربانیوں کا امین ہے؛ اس لیے ہندوستان کی آزادی کی تاریخ مسلمانوں کی قربانیوں کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔
انگریزوں کی آمد
انگریز ہندوستان میں ابتدا میں تجارت کی غرض سے آئے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے تجارتی مراکز قائم کیے اور رفتہ رفتہ ہندوستانی حکمرانوں کی باہمی کشمکش سے فائدہ اٹھا کر اپنے سیاسی اثر کو بڑھایا۔ پلاسی کی جنگ 1757ء کے بعد بنگال میں کمپنی کی طاقت مضبوط ہوئی، پھر دیوانی اور فوجی فتوحات کے ذریعے اس نے ایک کے بعد دوسرے علاقے پر قبضہ کیا۔ یوں تجارت کے لیے آنے والی کمپنی رفتہ رفتہ ہندوستان کی سیاسی حاکم بن گئی۔ ( کمپنی کی حکومت،)
انگریزوں کا اقتدار صرف سیاسی غلامی تک محدود نہ تھا؛ ہندوستان کی دولت اور وسائل کو بھی کمپنی کے مفادات کے لیے استعمال کیا گیا۔ مقامی صنعتیں کمزور ہوئیں، دست کار متاثر ہوئے اور محصولات کے ایسے نظام نافذ ہوئے جن سے عام آدمی پر معاشی بوجھ بڑھا۔ ہندوستانی دولت کے انخلا اور معاشی استحصال نے عوام میں انگریزی اقتدار کے خلاف بے چینی پیدا کردی۔ ( ہمیں برطانوی سامراج نے کیسے لوٹا، )
ابتدائی مزاحمت
انگریزوں کے خلاف مزاحمت 1857ء سے بہت پہلے شروع ہوچکی تھی۔ جنوبی ہندوستان میں ٹیپو سلطانؒ نے انگریزوں کے بڑھتے ہوئے اقتدار کے سامنے زبردست مزاحمت کی۔ انہوں نے اپنی ریاست کی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے مسلسل جنگیں لڑیں اور 1799ء میں سرنگاپٹم میں شہید ہوئے۔ ان کی شہادت ہندوستان میں برطانوی توسیع کے خلاف مزاحمت کی روشن علامت بن گئی۔ (تاریخ تحریک آزادی ہند، )
علماء نے بھی غلامی کے خلاف شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی سیاسی فکر، سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کی جدوجہد اور بعد کے علماء کی کوششوں نے مسلمانوں میں آزادی اور دینی خودمختاری کا احساس زندہ رکھا۔ یہی فکری سلسلہ آگے چل کر 1857ء کے انقلاب میں نمایاں ہوا۔ ( شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک،)
1857ء کا انقلاب
1857ء میں میرٹھ سے اٹھنے والی بغاوت نے جلد ہی وسیع تحریک کی شکل اختیار کرلی۔ دہلی میں بہادر شاہ ظفرؒ کو علامتی طور پر ہندوستان کا بادشاہ تسلیم کیا گیا اور مختلف علاقوں میں انگریز اقتدار کے خلاف جنگ شروع ہوئی۔ دہلی، اودھ، روہیل کھنڈ، کانپور اور دیگر علاقوں میں مسلمانوں کے علماء، سپاہیوں اور عام لوگوں نے بھرپور حصہ لیا۔ (حوالہ: تاریخ جنگ آزادی ہند 1857، سید خورشید مصطفیٰ رضوی)
شاملی اور تھانہ بھون کا معرکہ علماء کی عملی جدوجہد کا اہم باب ہے۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کو امیر بنایا گیا، جبکہ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور دوسرے علماء نے انگریزوں کے خلاف میدان میں حصہ لیا۔ اسی معرکے میں حافظ محمد ضامنؒ شہید ہوئے۔ علماء نے ثابت کیا کہ آزادی کی جدوجہد صرف تقریر و تحریر تک محدود نہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر جان کی قربانی بھی اس کا حصہ ہے۔ ( میدان شاملی و تھانہ بھون اور سرفروشان اسلام)
1857ء کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے سخت انتقامی کارروائیاں کیں۔ دہلی اور شمالی ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گرفتاریاں، پھانسیاں، جائیدادوں کی ضبطی اور دیگر سزائیں دی گئیں۔ علماء اور مجاہدین کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ لیکن ان مظالم کے باوجود آزادی کی خواہش ہندوستانی دلوں سے ختم نہ ہوسکی۔ ( ایسٹ انڈیا کمپنی اور باغی علماء، شہابی)
علماء کی قربانیاں
1857ء کے بعد انگریزوں نے ہندوستان میں اپنا اقتدار مزید مضبوط کیا، لیکن علماء نے آزادی کا جذبہ زندہ رکھا۔ دارالعلوم دیوبند کے اکابر نے دینی تعلیم کے ساتھ مسلمانوں میں خودداری، آزادی اور انگریزی اقتدار کے خلاف شعور پیدا کیا۔ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی قربانیوں کا اثر بعد کی نسلوں پر بھی پڑا اور اسی ماحول سے کئی ایسے مجاہدین تیار ہوئے جنہوں نے آزادی کی جدوجہد کو آگے بڑھایا۔ ( بزرگان دارالعلوم دیوبند)
بعد کے دور میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے آزادی کی جدوجہد کو منظم شکل دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنے شاگردوں اور رفقاء کو ہندوستان کے مختلف علاقوں میں کام کرنے کے لیے تیار کیا اور بیرونی ممالک سے بھی رابطے قائم کیے۔ پہلی جنگ عظیم کے زمانے میں انہیں محسوس ہوا کہ برطانوی حکومت کو چیلنج کرنے کے لیے ہندوستان کے اندر اور باہر دونوں جگہ منظم کوشش ضروری ہے۔ ( تحریک شیخ الہند،)
اسی منصوبہ بندی کا سب سے معروف باب تحریکِ ریشمی رومال تھا۔ شیخ الہندؒ کی ہدایت پر مولانا عبید اللہ سندھیؒ افغانستان گئے اور وہاں سے آزادی کی تحریک کے لیے بیرونی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران آزادی کے منصوبوں سے متعلق بعض خطوط ریشمی کپڑے پر لکھے گئے، اسی وجہ سے یہ تحریک ’’ریشمی رومال‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ ( تحریک ریشمی رومال، ایک مختصر تعارف)
تحریک کا مقصد برطانوی اقتدار کے خلاف منظم مزاحمت پیدا کرنا اور بیرونی مدد کے ذریعے ہندوستان میں آزادی کی جدوجہد کو مضبوط کرنا تھا۔ لیکن برطانوی خفیہ نظام کو اس منصوبے کا سراغ مل گیا، خطوط پکڑے گئے اور تحریک سے وابستہ متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اس ناکامی کے باوجود تحریک نے علماء کی انقلابی سوچ اور آزادی کے لیے ان کی جدوجہد کو نمایاں کردیا۔ (ریشمی رومال تحریک اور شیخ الہند)
شیخ الہندؒ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری آزادی کی تاریخ کا دردناک باب ہے۔ مولانا حسین احمد مدنیؒ اپنے شیخ کی خدمت اور ساتھ کے لیے خود بھی گرفتاری کے مراحل سے گزرے اور مالٹا پہنچے۔ وہاں شیخ الہندؒ اور ان کے رفقاء نے طویل عرصہ قید و بند کی سختیاں برداشت کیں۔ ( سفرنامہ اسیر مالٹا،)
مالٹا کی قید نے ان مجاہدین کے عزم کو کم نہ کیا۔ قید کے باوجود ان کے اندر آزادی کا جذبہ زندہ رہا اور وطن واپس آنے کے بعد آزادی کی جدوجہد کو نئے انداز میں آگے بڑھایا گیا۔ مالٹا کی اسیری اس بات کی علامت بن گئی کہ آزادی کے لیے علماء نے صرف میدانِ جنگ ہی نہیں بلکہ جیل، جلاوطنی اور قید کی تنہائی بھی برداشت کی۔ ( سفرنامہ اسیر مالٹا، )
شیخ الہندؒ کی جدوجہد کا اگلا مرحلہ زیادہ وسیع قومی اتحاد سے وابستہ ہوا۔ ان کے بعد مولانا حسین احمد مدنیؒ اور دیگر علماء نے برطانوی اقتدار کے خلاف عوامی اور سیاسی جدوجہد کو آگے بڑھایا۔ یوں تحریک ریشمی رومال ایک باب کے اختتام کے بجائے آزادی کی جدوجہد کے اگلے مرحلے کی بنیاد بن گئی۔ ( تحریک شیخ الہند،)
پہلی جنگ عظیم کے بعد ہندوستانی مسلمانوں میں خلافتِ عثمانیہ کے مسئلے نے نئی سیاسی بیداری پیدا کی۔ تحریک خلافت کے ذریعے مولانا محمد علی جوہرؒ، مولانا شوکت علیؒ، حکیم اجمل خانؒ، مولانا ابوالکلام آزادؒ اور دوسرے مسلم رہنماؤں نے مسلمانوں کو منظم کیا۔ اس تحریک نے آزادی کی جدوجہد کو عوام کے بڑے طبقے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ( ہند میں تحریک خلافت، منظر و پس منظر،)
تحریک خلافت کے ساتھ ترکِ موالات اور عدمِ تعاون کی تحریک بھی آگے بڑھی۔ علماء نے برطانوی حکومت سے تعاون نہ کرنے، غیر ملکی اشیاء کے بائیکاٹ اور عوامی بیداری کی حمایت کی۔ جمعیت علماء ہند نے بھی اس مرحلے میں اہم کردار ادا کیا اور پانچ سو علماء کے فتوے کے ذریعے عدم تعاون کی تائید کی گئی۔ ( ترک موالات پر علمائے ہند کا متفقہ فتویٰ)
مولانا محمد علی جوہرؒ نے صحافت، سیاست اور خطابت کے ذریعے آزادی کی تحریک میں جان پیدا کی۔ ان کے اخبارات نے مسلمانوں میں سیاسی شعور پیدا کیا اور انہوں نے جیل اور مقدمات کی صعوبتیں برداشت کیں۔ وہ خلافت تحریک کے نمایاں رہنما اور ہندوستان کی آزادی کے سرگرم مجاہد تھے۔ ( مولانا محمد علی اور جنگ آزادی)
مولانا ابوالکلام آزادؒ نے قلم اور صحافت کو آزادی کی جدوجہد کا ہتھیار بنایا۔ الہلال اور البلاغ کے ذریعے انہوں نے مسلمانوں میں خودداری، آزادی اور قومی اتحاد کا جذبہ پیدا کیا۔ ان کی سیاسی زندگی کا بڑا حصہ ہندوستان کی آزادی اور متحدہ ہندوستان کے تصور کے لیے جدوجہد میں گزرا۔ ( مولانا آزاد اور ہندوستانی قومی تحریک)
جمعیت علماء ہند نے 1919ء میں منظم ادارے کی صورت اختیار کی اور برطانوی اقتدار کے خلاف قومی جدوجہد میں سرگرم ہوگئی۔ اس کے علماء نے ہندو مسلم اتحاد اور مشترکہ جدوجہد کو آزادی کا ذریعہ قرار دیا۔ 1924ء میں جمعیت کے پلیٹ فارم سے مکمل آزادی کا مطالبہ بھی نمایاں طور پر سامنے آیا۔ ( تاریخ جمعیت علماء ہند،)
مولانا حسین احمد مدنیؒ نے آزادی کی تحریک میں مسلسل حصہ لیا۔ انہوں نے متحدہ ہندوستان اور مشترکہ قومیت کی حمایت کی اور برطانوی اقتدار کے خلاف سیاسی جدوجہد میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ان کے نزدیک ہندوستان مسلمانوں کا بھی وطن تھا اور اس کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنا ضروری تھا۔ ( تحریک آزادی اور مسلمان)
اسی دور میں سرحد کے علاقے میں خان عبدالغفار خانؒ نے خدائی خدمت گار تحریک کے ذریعے برطانوی اقتدار کے خلاف جدوجہد کی۔ انہوں نے عدم تشدد کا راستہ اختیار کیا، مگر گرفتاریوں، ظلم اور سختیوں کے باوجود آزادی کا مطالبہ ترک نہ کیا۔ ان کی جدوجہد ہندوستانی مسلمانوں کی آزادی کی تاریخ میں ایک منفرد مثال ہے۔ ( جنگ آزادی میں مسلمانوں کا کردار)
آزادی کی تحریک میں نوجوانوں نے بھی اپنی جانیں پیش کیں۔ اشفاق اللہ خاںؒ کا نام ان مجاہدین میں نمایاں ہے جنہوں نے انگریزی اقتدار کے خلاف مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ کاکوری مقدمے کے بعد انہیں 1927ء میں پھانسی دی گئی۔ ان کی شہادت نے نوجوان نسل کے اندر آزادی کا جذبہ مزید بیدار کیا۔ (جنگ آزادی کے مسلم مجاہدین، )
یوں تو آزادی کی تحریک اب ایک ہمہ گیر عوامی جدوجہد بن چکی تھی۔ علماء، صحافی، سیاسی رہنما، طلبہ، نوجوان اور عام مسلمان اپنے اپنے میدان میں برطانوی اقتدار کے خلاف سرگرم تھے۔ آزادی کا مطالبہ اب صرف چند مجاہدین کی آواز نہیں بلکہ پورے ملک کے سیاسی شعور کا حصہ بن رہا تھا۔
آزادی کی آخری منزل
آزادی کی جدوجہد کے آخری دور میں مسلمانوں کا کردار مختلف میدانوں میں سامنے آیا۔ علماء نے سیاسی بیداری پیدا کی، صحافیوں نے قلم کے ذریعے آواز بلند کی، نوجوانوں نے قربانیاں دیں اور سیاسی کارکنوں نے گرفتاریوں اور پابندیوں کا سامنا کیا۔ اس طرح آزادی کی تحریک ایک وسیع قومی جدوجہد میں تبدیل ہوگئی۔ (حوالہ: تحریک آزادی میں مسلم علماء اور عوام کا کردار، )
مولانا ابوالحسن علی ندویؒ نے آزادی کی جدوجہد میں مسلمانوں کی قربانیوں کے ذکر کرتے ہوئے اس حقیقت کو نمایاں کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں نے اپنے وطن کی آزادی کے لیے مختلف زمانوں میں مسلسل جدوجہد کی۔ مدارس، علماء اور دینی حلقوں نے سیاسی شعور بیدار کرنے میں بھی اپنا حصہ ادا کیا۔ ( ہندوستان کی تحریک آزادی میں مدارس کا کردار)
آزادی کے آخری مرحلے میں آزاد ہند فوج نے بھی برطانوی اقتدار کو چیلنج کیا۔ نیتا جی سبھاش چندر بوس کی قیادت میں قائم اس فوج میں مختلف مذاہب اور علاقوں کے ہندوستانی شامل تھے۔ مسلمانوں میں شاہ نواز خان نمایاں تھے، جنہوں نے فوج میں اہم ذمہ داری ادا کی۔ ( ہند کی جنگ آزادی میں مسلمان مجاہدین، )
آزاد ہند فوج کے افسروں کے خلاف لال قلعہ میں مقدمات چلائے گئے تو پورے ہندوستان میں زبردست عوامی ردعمل پیدا ہوا۔ شاہ نواز خان، پی کے سہگل اور جی ایس ڈھلوں کے مقدمے نے یہ ظاہر کیا کہ آزادی کا جذبہ مذہبی اور علاقائی حد بندیوں سے آگے بڑھ چکا تھا۔ ( تاریخ تحریک آزادی ہند، )
آزادی کی تحریک کے آخری برسوں میں برطانوی حکومت کو یہ احساس ہونے لگا کہ ہندوستان پر پہلے کی طرح اقتدار قائم رکھنا ممکن نہیں رہا۔ سیاسی تحریکوں، عوامی مزاحمت، انقلابی سرگرمیوں اور فوجی بے چینی نے برطانوی اقتدار کی بنیادوں کو کمزور کردیا۔ ہندوستانی عوام کی مسلسل جدوجہد نے آزادی کے مطالبے کو ناقابلِ نظرانداز حقیقت بنا دیا۔ ( آزادی سے جمہوریت تک،)
بالآخر 15 اگست 1947ء کو ہندوستان برطانوی اقتدار سے آزاد ہوا۔ اس آزادی کے پیچھے ایک طویل جدوجہد تھی جس میں مسلمانوں نے بھی اپنے حصے کی قربانیاں دیں۔ کسی نے میدانِ جنگ میں جان دی، کسی نے پھانسی قبول کی، کسی نے مالٹا کی قید کاٹی، کسی نے جلاوطنی برداشت کی، کسی نے قلم اٹھایا اور کسی نے سیاسی جدوجہد کے ذریعے آزادی کی راہ ہموار کی۔
اس پورے سفر میں ٹیپو سلطانؒ سے لے کر 1857ء کے مجاہدین، شاملی کے علماء، فضل حق خیرآبادیؒ، شیخ الہندؒ، مولانا عبید اللہ سندھیؒ، مالٹا کے اسیروں، مولانا محمد علی جوہرؒ، مولانا ابوالکلام آزادؒ، مولانا حسین احمد مدنیؒ، خان عبدالغفار خانؒ، اشفاق اللہ خاںؒ اور آزاد ہند فوج کے مجاہدین تک قربانیوں کی ایک طویل زنجیر نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی آزادی کی تاریخ مسلمانوں کی قربانیوں کے ذکر کے بغیر مکمل تصویر پیش نہیں کرتی۔
آزادی ان مجاہدین کی امانت ہے جنہوں نے ذاتی مفاد سے بلند ہوکر وطن کے مستقبل کے لیے قربانی دی۔ آج ان قربانیوں کو یاد کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ آزادی کی قدر کی جائے، وطن کی تعمیر میں حصہ لیا جائے، باہمی اتحاد قائم رکھا جائے اور ملک کے تمام شہریوں کے حقوق و احترام کو مقدم رکھا جائے۔
خلاصہ کلام
ہندوستان کی آزادی کسی ایک دن، ایک جماعت یا چند افراد کی عطا نہیں؛ یہ صدیوں کی جدوجہد، بے شمار قربانیوں، قید و بند، پھانسیوں، جلاوطنیوں اور بے لوث خدمات کا نتیجہ ہے۔ اس عظیم سفر میں مسلمانوں نے بھی اپنے خون، مال، وقت، علم، قلم اور کردار سے نمایاں حصہ ادا کیا۔ ٹیپو سلطانؒ کی شہادت سے لے کر 1857ء کے مجاہدین، شاملی کے سرفروش علماء، حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ، مولانا قاسم نانوتویؒ، فضل حق خیرآبادیؒ، شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ اور تحریکِ ریشمی رومال کے مجاہدین، مالٹا کے اسیران، تحریک خلافت کے رہنماؤں اور آزادی کے آخری مرحلے کے مجاہدین تک ایک مسلسل داستانِ عزیمت ہمارے سامنے آتی ہے۔ ( تحریک آزادی میں مسلم علماء اور عوام کا کردار)
ان مجاہدین نے ہمیں یہ سبق دیا کہ آزادی صرف ایک سیاسی نعمت نہیں بلکہ ایک عظیم امانت ہے۔ جن لوگوں نے اپنی جوانیاں جیلوں میں گزار دیں، جنہوں نے پھانسی کے پھندے کو قبول کیا، جنہوں نے وطن سے دوری اور جلاوطنی برداشت کی اور جنہوں نے اپنے گھر بار کی آسائشیں قربان کردیں، ان کی قربانی ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم آزادی کی قدر کریں۔ آزادی کی حقیقی قدر یہ ہے کہ ہم اپنے ملک کو مضبوط، پرامن، خوشحال اور باوقار بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ آزادی کی تاریخ صرف کتابوں کے صفحات تک محدود نہ رہے بلکہ ہمارے کردار کا حصہ بنے۔ ہمارے نوجوان اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو جانیں، اپنے وطن سے محبت کریں، علم و محنت کو اپنا شعار بنائیں، قانون کی پاسداری کریں اور ملک کی ترقی کے لیے اپنی صلاحیتیں صرف کریں۔ وطن کی خدمت صرف سرحد پر جان دینے کا نام نہیں؛ دیانت دار استاد، ذمہ دار طالب علم، محنتی مزدور، باکردار تاجر، مخلص عالم، انصاف پسند شہری اور ملک کی تعمیر میں حصہ لینے والا ہر شخص اپنے وطن کی خدمت کررہا ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آزادی کی حفاظت اتحاد سے ہوتی ہے۔ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں مختلف مذاہب، زبانوں اور علاقوں کے لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں حصہ لیا۔ اس لیے آزادی کے ان مجاہدین کی یاد ہمیں نفرت نہیں، بلکہ باہمی احترام، امن، اتحاد اور مشترکہ ذمہ داری کا درس دیتی ہے۔ اپنے وطن سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم اس کے ہر شہری کے حق، عزت اور امن کا احترام کریں اور اختلاف کے باوجود ملک کی وحدت اور خیر خواہی کو مقدم رکھیں۔
آج جب ہم آزادی کی تاریخ پڑھتے ہیں تو ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ ہمارے بزرگوں نے وطن کے لیے کیا کیا؟ بلکہ اپنے دل سے یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ ہم اپنے وطن کے لیے کیا کررہے ہیں؟ انہوں نے غلامی کی زنجیریں توڑنے کے لیے قربانیاں دیں؛ ہمارا فرض ہے کہ ہم آزادی کو جہالت، بدعنوانی، نااتفاقی، تعصب، نفرت اور پسماندگی کی زنجیروں سے محفوظ رکھیں۔ یہی شہیدوں اور مجاہدینِ آزادی کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت ہے۔
آزادی کا جشن صرف پرچم لہرانے کا نام نہیں؛ آزادی کا اصل جشن اس وقت ہوگا جب ہمارے دلوں میں وطن کی محبت، ہمارے کردار میں دیانت، ہمارے معاشرے میں اتحاد اور ہماری زندگیوں میں خدمتِ خلق پیدا ہوگی۔ جن لوگوں نے آزادی کے لیے اپنا آج قربان کیا، انہوں نے ہمارے کل کو روشن بنانے کا خواب دیکھا تھا۔ اب اس خواب کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔
آئیے! آزادی کے ان سرفروشوں کو صرف یاد نہ کریں، ان کے جذبۂ حریت کو اپنے اندر زندہ کریں۔ وطن کی مٹی سے وفا کریں، ملک کی تعمیر میں حصہ لیں، اختلافات کو اتحاد میں بدلیں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایسا ہندوستان چھوڑیں جس پر وہ فخر کرسکیں۔ یہی آزادی کا احترام ہے، یہی قربانیوں کی قدر ہے اور یہی ہمارے بزرگوں کے خون کا صحیح تقاضا ہے۔