’’عکس‘‘

’’عکس‘‘

ازقلم:=سیما شکور، حیدر آباد

دل کی دیواریں …
دکھ کی زرد بیلوں سے ڈھک گئی ہیں
زرد بیلوں پہ لگی …
امید کی سرخ کلیاں کھلیں تو ہیں مگر …
ان کلیوں پہ ناامیدی کی شبنم اُترنے لگی ہے !
ناتمام خواہشات کے تاریک جنگل میں …
بھٹکتے ہوئے سوچا ہے اکثر
زندگی کے سارے رنگ کیوں نہ مل سکے مجھ کو
ساکت جھیل میں …
یہ چاند کا حسین عکس …
کتنا پاس ہے مجھ سے
لیکن …
عکس پھر عکس ہی تو ہے !!
میری زندگی …
چاند کے اِسی عکس کی طرح ہے
یہ زندگی کا عکس ہے
یہ زندگی نہیں ہے !
یہ زندگی نہیں ہے !
l l l

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے