56؍انچ کی چھاتی سے 56؍ انچ کے بندر تک

56؍انچ کی چھاتی سے   56؍ انچ کے بندر تک

56؍انچ کی چھاتی سے 56؍ انچ کے بندر تک

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کا مانسون اجلاس خدا خدا کرکےتمام ہوا۔ اس کے بعد سب سے زیادہ چین کا سانس بی جے پی اور اس کےرہنماوں نے لیا ہوگا کیونکہ اس دوران ہر روز کسی نہ کسی نئے ہنگامے کے سبب وزیر داخلہ سمیت وزیر اعظم کا ایوان میں آنا ٹل جاتا ۔ اس طرح وقت گزرتا رہا یہاں تک کہ آخری دن تین منٹ چند سیکنڈ کے لیے وہ دونوں ایوان میں تو آئے مگر اپنی زبان نہیں کھول سکے ۔ اس سے قبل بی جے پی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو یہ یقین دہانی کر چکے تھے کہ وزیر داخلہ ایوان میں آکر بحث کریں گے اور ہر سوال کا جواب دیں گے مگر ایسا نہیں ہوا۔ کرن رجیجو اور دیگر حضرات نے تو کانگریسیوں اور خاص طور راہل گاندھی سے کہا تھا کہ بھاگنا مت لیکن اس کی نوبت ہی نہیں آئی۔ ایک دن قبل وزیر داخلہ نے خود کے لیےبھگوڑے جیسے الفاظ کا استعمال کرنے پر افسوس کا اظہار کیا مگر پھر لوگوں نے یاد دلایا کہ خود بی جے پی والے نہ جانے کتنی بار راہل گاندھی کے لیے یہ القاب استعمال کرچکے ہیں۔ کاش کہ انہوں اس پر لگام لگائی ہوتی تھی تو انہیں شکایت کا اخلاقی حق مل جاتا مگر بی جے پی کی تو روایت رہی ہے کہ جب کسی کی ایوان میں توہین کی جاتی ہے تو یہ لوگ اس پر خوشی مناتے ہیں۔ ایسے میں کوئی شاہ صاحب سے کیسے ہمدردی کرتا؟

بی جے پی کو شکایت تھی کہ حزب اختلاف بحث نہیں چاہتا لیکن اگر وہ خود چاہتے تو ایوان میں آتے ۔ یہ مطالبہ احمقانہ تھا کہ سوالات پہلے لکھ کر دئیے جائیں اورخاموشی سے سننے پر اصرار بھی بچکانہ تھا ۔ ایوان میں جب کوئی وزیر حکومت کے موقف کا اظہار کرتا ہے تو اس پر وضاحت، اعتراض اور استفسار کیا جاتا ہے اس لیے پیشکش سے قبل پیشگی سوالات بے معنیٰ مطالبہ ہے۔ ایوان میں وزیر داخلہ خود بار بار اپنی نشست سے اچھل اچھل کر دوسروں کو ٹوکتے ہیں اس لیے انہیں دوسروں کا یہ حق بھی تسلیم کرنا چاہیے۔ وزیر داخلہ کی غیر حاضری کا بنیادی سبب حزب اختلاف کی جانب سے اٹھائے جا نے والے ایودھیا کی چندہ چوری اور جنتر منتر کے طلبا ء پر پیلیٹ گن سے گولی باری و لاٹھی چارج پر حکومت کی نیند حرام کردینا تھا ۔ حزب اختلاف کا احتجاج تو قابلِ فہم ہے لیکن حزب اقتدار ایسا کبھی نہیں کرتا مگر اس روایت کو پامال کرتے ہوئے بی جے پی نے جھارکھنڈ میں جاری احتجاج پر کانگریس کی جانب سے مبینہ طور پر توجہ نہ دینے کے معاملے پر قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے خلاف احتجاج کردیا۔ ایسا کرتے ہوئے مرکزی حکومت بھول گئی کہ اس کا عمل دخل جھارکھنڈ پر بھی ہے۔

دہلی میں ٹرپل انجن سرکار کے باوجود بی جے پی والے خود تو جنتر منتر کے قریب نہیں پھٹکے الٹا مظا ہرین کو پہلے بدنام اور پھر تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اس کے باوجود راہل گاندھی کے خلاف رانچی نہ جانے پر احتجاج نہایت مضحکہ خیز حرکت تھی ۔ مذکورہ بالا احتجاج کے جواب میں کانگریس کے رکن پارلیمان پون کھیڑا کی قیادت میں بندر کا کھلونا دکھا کر احتجاج کیا گیا۔ اس دوران ’’56 انچ کا چھوٹا بندر، جلدی آؤ سدن کے اندر‘‘ کا نعرہ لگایا گیا۔ یہ دراصل جنتر منتر پر لگے نعرے ’’56؍انچ کا چھوٹا بندر، بھاگ نریندر، بھاگ نریندر!‘‘کا چربہ تھا ۔ یہ نعرہ ویسے تو وزیر داخلہ کے خلاف تھا مگر وزیر اعظم بھی اس کی زد میں بلواسطہ آجاتے تھے۔ ایوان کےاندوہناک خاتمہ پر نئی پارلیمانی عمارت کا پرشکوہ افتتاح یاد آگیا ۔ اس وقت وزیر اعظم کوتمل ناڈو سے آکر کچھ پنڈوں نے ’سینیگال ‘د یاتھا ۔ ایسا لگ رہا تھا گویا کسی شہنشاہ کی تاجپوشی ہورہی ہے اور اب وہی ’ایک اکیلا سب پر بھاری ‘ کا نعرہ لگانے والا وزیر اعظم اپنے ہی ایوان پارلیمان سے منہ چرا رہا تھا ۔ اس سے قبل بجٹ اجلاس کے دوران بھی امسال فروری میں اسپیکر کی درخواست پر مودی جی نے ایوانِ زیریں کے بجائے ایوانِ بالا میں خطاب پر اکتفاء کیا تھا جبکہ وہ خود لوک سبھا کے رکن ہیں اور وہاں اٹھنے والے سوالات کا جواب دینا موصوف کا فرضِ منصبی ہے۔ اس پر جب ہنگامہ ہوا تو حلیف جماعت ٹی ڈی پی کے رکن پارلیمان نے یہ نامعقول دلیل دی کہ وزیر اعظم کو خواتین ارکان پارلیمان کے ذریعہ دانت اور ناخون سے حملے کا خطرہ لاحق تھا ۔
وزیر اعظم کےپاس اس کی تردید کا بہترین طریقہ یہ تھا کہ ایوان کے اجلاس میں شریک ہوکر اپنے خطاب سے یہ ثابت کر تے کہ لال آنکھیں اور چھپنّ انچ کی چھاتی والا وزیر اعظم کسی سے نہیں ڈرتا مگر موصوف نے ایوان زیریں کے بجائے ایوانِ بالا کو ترجیح دے کر اپنی مٹی پلید کروا لی ۔ ایوان پارلیمان کے پچھلے اجلاس میں مودی سرکار بغیر تیاری کے حد بندی سے متعلق آئینی ترمیم لے کر آگئی مگر اس کے لیے مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی ۔ اس طرح وہ معاملہ اوندھے منہ گرگیا ۔ اس بار امیت شاہ نے ترنمول اور شیوسینا کو توڑ کر دوتہائی اکثریت بنانے کی کوشش کی اور انہیں ڈی ایم کے کے حمایت کی بھی تو قع تھی مگر وہ اپنا ہدف حاصل نہیں کر سکی۔ اس کے علاوہ سرکار کا ارادہ ’ون نیشن، ون الیکشن‘ سے متعلق بل بھی لانے کا تھا جو اس اجلاس میں نہیں آیا بلکہ اسے سرمائی اجلاس تک کے لیے مؤخر کردیا گیا۔ ترقی یافتہ بھارت شکشا ادھشٹھان بل لایا تو گیا مگر اس کو منظوری نہیں ملی اور وہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے ہوا جس کی رپورٹ بھی مؤخر ہوگئی۔ حکومت کے پیش نظر آئین کی 130ویں ترمیم سے متعلق وزرائے اعلیٰ اور وزراء کی خودکار برطرفی کے بل بھی تھا مگر وہ بھی آئندہ اجلاس تک مؤخر کرنا پڑا۔

آر ایس ایس خود تو اپنا حساب کتاب نہیں رکھتی اوپر سے اس پر ایودھیا اور دیگر مندروں میں چندہ چوری کے سنگین الزامات لگتے رہتے ہیں مگر ان سے آنکھیں موند کر مودی سرکار ایف سی آر اے ترمیمی بل لا کر اقلیتی اداروں کو پریشان کرنا چاہتی تھی مگر اسے بھی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا گیا۔ اعدادو شمار سے متعلق انڈین اسٹیٹسٹیکل انسٹی ٹیوٹ ترمیمی بل کو اسٹینڈنگ کمیٹی میں بھیجے جانے کا کریڈٹ بھی اپوزیشن کو جاتا ہے ۔وہاں اب طلبہ، اساتذہ، ماہرین اور متعلقہ اداروں سے بات چیت کے بعد بل پر مزید غور کیا جائے گا۔ حکومت کو گھٹنے پر لانے کا یہ کام اپنے آپ نہیں ہوگیا بلکہ اس کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے فلور لیڈروں نے 18 دن تک مسلسل ملاقاتیں کیں اور مشترکہ حکمت عملی طے کرکے اس کو عملی جامہ پہنایا ۔ یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا اور کانگریس پارٹی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھے گی ۔اس کے لیے 19؍ اگست کو کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ہوگا، جس میں آئندہ تین ماہ کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی ایجنڈے پر غور کیا جائے گاتاکہ طلبہ، تعلیم اور دیگر عوامی مسائل پر غور و خوض ہو۔

مذکورہ بالا ناکامیوں کے باوجود حکومت مائنز اینڈ منرلز ترمیمی بل اور نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن ترمیمی بل منظور کروانے میں کامیاب ہوگئی مگر کانگریس نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس کے ترجمان جے رام رمیش کے مطابق ان دونوں بلوں سے ریاستی حکومتوں کے اختیارات اور وفاقی ڈھانچے سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے ان قوانین کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیے جانے کا امکان ہے۔ بی جے پی کی یہ درگت پہلی بار نہیں ہوئی بلکہ 2015 کے مانسون اجلاس بھی اسی طرح ’’واش آؤٹ‘‘ ہوا تھا ۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ 2015 میں بھی طلباء پر ویاپم بدعنوانی کے معاملے نے مانسون اجلاس کومتاثر کیا تھا لیکن وہ مسئلہ مدھیہ پردیش کی ریاستی سرکار کا تھا ۔ اس کے 11؍ سال بعد 2026 میں نیٹ اور این ٹی اے سے متعلق مسائل پر خود مرکزی حکومت گھر گئی۔ 11 سال قبل تعلیم اور روزگار کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جاتا اور موثر قوانین بناکر ان پر عمل کیا جاتا تو یہ مسائل پیش ہی نہیں آتے مگر موجودہ حکومت کو ہندو مسلم کارڈ کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں لیکن اب وہ نشہ بیکار ہوچکا ہے۔ نئی نسل کے بیدار نوجوانوں کو اگر فرقہ پرستی کی آگ میں جھونکنے کوشش کی جائے گی تو وہ خود ان زعفرانیوں کو زندہ درگور کردے گی۔ ان کے دلوں سے ترشول کا ڈر نکل چکا ہے۔وہ اپنے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ ہیں ۔ اس لیے اب ان کو نکسل نواز دماغ کہہ کر کسی کسی احساسِ جرم کا شکار کرنا ممکن ہے اور نہ ڈرانا آسان ہے۔ مودی کا ڈر تو اب خود ان کے بھگت بابا رام دیو کے دل سے نکل چکا ہے اور وہ اپنے آقاوں کو دن دہاڑے کھری کھری سنا رہا ہے۔ یہ ہوا کے رخ میں بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے مگر چونکہ مودی سرکار نے شترمرغ کی طرح اپنی گردن ریت میں چھپا رکھی اس لیے اسے حقائق نظر نہیں آتے لیکن کسی کے آنکھیں موند لینے حقیقت نہیں بدلتی اور حالات کی تبدیلی کا ادراک نہیں کرپاتے مشیت ان کو بدل دیتی ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے