لال قلعہ سے وزیر اعظم مودی کی تقریر ’دماغی نکسل‘کی نشاندہی کرنے اور نکو بنانے کی دھمکی

لال قلعہ سے وزیر اعظم مودی کی تقریر ’دماغی نکسل‘کی نشاندہی کرنے اور نکو بنانے کی دھمکی

لال قلعہ سے وزیر اعظم مودی کی تقریر
’دماغی نکسل‘کی نشاندہی کرنے اور نکو بنانے کی دھمکی

—عبدالعزیز—

80؍واں یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر پہلے جیسی نہیں تھی۔ جوش اور جذبے سے خالی تھی۔ ان میں گھبراہٹ دکھائی دے رہی تھی اور مضطرب الحال نظر آرہے تھے۔ کاغذ پر لکھی ہوئی تحریر دیکھ دیکھ کر بول رہے تھے۔ بیچ بیچ میں اٹک بھی جاتے تھے۔ ٹیلی پرنٹر نہ ہونے کی وجہ سے انہیں پریشانی لاحق تھی۔ تقریر گھسی پٹی تھی۔ ان کے نزدیک2014ء سے پہلے ہندستان میں کچھ ہوا نہیں تھا جو کچھ ہوا 2014 کے بعد ہوا یہ اکثر دہراتے رہتے تھے اور اپنے میاں مٹھو بننے سے باز نہیں آتے۔نئی بات جو تھی وہ یہ تھی کہ پہلی بار انہوں نے اپنی تقریر میں خلافِ معمول ہندو مسلمان کی بات ، قبرستان پاکستان کی باتیں کرنے کے بجائے ملک کے اندر تک محدود رہے۔ اپنے خود ساختہ کارناموں کا ذکر بار بار کرتے رہے۔حالانکہ جو اعداد و شمار پیش کررہے تھے اُس میں سچائی بہت کم تھی۔ جھوٹ زیادہ تھا۔2047ء تک ترقی یافتہ بھارت (وِکست بھارت) بنانے کی بات انہوںنے دہرائی۔ وہ اکثر یہ بات کہتے رہتے ہیں لیکن یہ بات انتہائی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے کیوں کہ اُس وقت تک آج کے بیشتر لوگ دنیا سے جاچکے ہوں گے۔ وہ بھی ناپید ہوچکے ہوں گے۔ اُن کی راکھ بھی باقی نہیں ہوگی جب وہ وزیر اعظم نہیں تھے گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو جلد ترقی کی بات کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ کون کل کا انتظار کرتا ہے۔ ہر شخص اپنی آنکھوں سے جلد ترقی دیکھنا چاہتا ہے۔ ہر شخص نشانِ تازہ کا محتاج ہوتا ہے۔ تقریر میں انہوں نے ’دماغی نکسل‘ کی اصطلاح پہلی بار استعمال کرتے ہوئے کہا کہ پہلے مختلف شعبوں اور کمیٹیوں میں مائووادی نکسل تھے۔ جنگلوں میں جو اَربن نکسل تھے وہ ہتھیار بند تھے ۔ ان کو نیست و نابود کرنے میں بہت حد تک ہم کامیاب ہوئے لیکن دماغی نکسل جو موقع کی تلاش میں رہتے ہیںاور ملک میں بدنظمی اور فتنہ و فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی نشاندہی کرنا اور ان کو نکّو بنانا ملک کی ترقی اور نظم و نسق کے لئے بہت ضروری ہے۔ موصوف اپنے مخالفین کو اکثر و بیشتر کبھی کبھی ٹکڑے ٹکڑے گینگ، کبھی دشمنِ قوم، کبھی اَربن نکسل کہتے رہتے تھے۔ پہلی بار اُنہوںنے دماغی نکسل کو ملک کے لئے نقصان دہ بتایا لیکن یہ بتانے سے گریز کیا کہ آخر دماغی نکسل سے ان کی کیا مراد ہے؟ مگر آج کے حالات کی وجہ سے اُن کے مافی الضمیر کو سمجھنے میں شاید ہی کسی کو مشکل پیش آئی ہو۔اُن کا اشارہ کاکروچ جنتا پارٹی اور نوجوانوں ، طالب علموں اور اَلفا کی طرف تھا۔ مودی اور ان کے رفقاء نہیں چاہتے ہیں کہ کوئی ان کی جوابدہی طے کرے، ان سے سوال کرے۔ وہ اپنے آپ کو سوال اور جواب سے بالاتر سمجھتے ہیں۔
لیکن ان کی مدر تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے احتجاجی مظاہرین نوجوانوں اور طالب علموں کے بارے میں چند دنوں پہلے کہا تھا کہ’’ ان کو دشمنِ قوم کہنا صحیح نہیں ہوگا۔ یہ اپنے لوگ ہیں۔ ان کو احتجاج کرنے ،مارچ اور مظاہرے میں شامل ہونے کا حق حاصل ہے۔ ‘‘موہن بھاگوت نے 15؍ اگست ہی کو اپنی ایک تقریر میں کہا کہ ’’ملک کے لئے بحث و مباحثہ ، اختلاف رائے، احتجاج جمہوریت کے لئے ضروری ہے۔‘‘ سوچنے کی بات یہ ہے کہ موہن بھاگوت جو حقیقت میں ان کے بھی سربراہ ہیں وہ حکومت کو یا وزیر اعظم کو مشورے دیتے رہتے ہیں۔ بی جے پی ہو یا وزیر اعظم ہو سب کے لئے ان کے مشوروں کا احترام کرنا اور آر ایس ایس کے ایجنڈے کے مطابق کام کرنا ضروری ہوتا ہے۔نریندر مودی کو اکثر و بیشتر موہن بھاگوت تنبیہ کرتے رہتے ہیں ۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ دونوں الگ الگ انداز سے جو باتیں کرتے ہیں وہ باہمی مشورے سے کرتے ہیں یا موہن بھاگوت نریندر مودی کو حالات سے خبردار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جنتر منتر پر جو احتجاج اور بھوک ہڑتال ہوئی وہ تقریباً پینتیس دنوں تک جاری رہی لیکن آخری ایک ہفتے کے دوران جو کچھ ہوا نوجوانوں اور طالب علموں نے جو کچھ کیا اُس سے نریندر مودی نے 2002ء سے جو اپنی امیج بنائی تھی وہ آناً فاناً تہس نہس ہوگئی۔ اُن کو 12؍بجے رات کو پہلی بار انسٹاگرام پر فرینڈس ! کہہ کر مخاطب کیا حالانکہ وہ پہلے بہن بھائیو اور مترو جیسے الفاظ سے مخاطب کرتے تھے۔ دوست یا فرینڈس ان کے لئے کہہ رہے تھے جو جین زی ہیں۔ جین زی گودی میڈیا دیکھتے نہیں اس لئے انہوں نے انسٹاگرام پر اپنی بات کہنا مناسب سمجھا۔ وقت بھی 12؍ بجے رات اس لئے چنا کہ نوجوان طالب علم اسی وقت سوشل میڈیا پر سرگرم عمل رہتے ہیں۔ جن کو وہ دوست کہنا چاہتے تھے ان کی طرف سے کہا گیا کہ وہ وزیر اعظم کو دوست نہیں سمجھتے کیونکہ پُرامن احتجاج اور مارچ میں شامل لڑکے لڑکیوں پر انہوں نے پولس کے ذریعے لاٹھی چارج کرایا۔ پہلے پیلٹ گن کا استعمال کیا۔ لڑکیوں کے ساتھ پولس نے غلط سلوک کیا اور سادہ وردی میں بہت سارے لوگ موجود تھے جنہوں نے غنڈہ گردی اور بدمعاشی کی ۔ حکومت کی طرف سے یہی وہ کارروائی تھی جس کی وجہ سے 21؍جولائی کو ملک کے تقریباً 100 سے زیادہ شہروں اور قصبوں میں مودی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے۔ اس کی وجہ سے حکومت ِ وقت ہل سی گئی۔ مودی اور شاہ پر لرزہ طاری ہوگیا۔20؍جولائی کو کاکروچ جنتا پارٹی کے نمائندوںسے حکومت کے نمائندوں نے بات چیت کی۔ اس میں تین باتیں طے ہوئیں۔وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ، اور جو لوگ بھی گرفتار ہوئے ہیں ان کی رہائی، تیسری بات یہ تھی کہ 20-25 لڑکے لڑکیوں نے جو نیت پیپر کے لیک ہونے سے خودکشی پر مجبور ہوئے اُن کے ورثاء کو ایک ایک کروڑ کی رقم بطور معاوضہ دی جائے۔ حکومت نے پہلی شرط تو مان لی ۔ وزیر تعلیم کا استعفیٰ بھی ہوگیا۔ جنتر منتر سے احتجاج بھی ختم ہوا لیکن حکومت دوسری اور تیسری شرطوں پر عمل آوری نہیں کی۔ سپریم کورٹ کا دروازہ اس کے لئے کھٹکھٹایا گیا۔ پہلے تو چیف جسٹس آف انڈیا نے عدم توجہی اور بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا لیکن بعد میں ان کو بھی توجہ دینی پڑی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے حکومت کو مجبور ہونا پڑا۔ جو لوگ بھی احتجاج میں گرفتار ہوئے تھے ان کو رہائی دینی پڑی سوائے ان کے جن کا کریمنل گرائونڈ ہے۔
مارچ کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کو لڑکے اور لڑکیوں نے بڑے پیمانے پر گالیوں سے نوازا تھا۔ مودی جی نے انسٹاگرام پر یہ کہا کہ ’’بہت سے شرارتی بچے اور بچیوں نے ان کو گالیاں دیں اور ان کی ماں کو بھی نہیں بخشا پھر بھی میں ان بچے بچیوں کو جن کو گمراہ کردیا گیا ہے ان کو معاف کردیتا ہوں۔‘‘بات تو انہوںنے معافی کی کی لیکن ایک پندرہ سالہ لڑکی ریچا سنگھ کے خلاف ایف آئی آر درج کیا گیا اور اسے اور اس کے گھر والوں کو پولس کے ذریعہ ہراساں کیا گیا اور مجبور کیا گیا کہ وہ سوشل میڈیا میں آکر معافی طلب کرے۔ وہ لڑکی معافی مانگنے پر مجبور ہوئی۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت یا نریندر مودی کس قدر لرزہ براندام ہوئے کہ ان کو ایک لڑکی کو جو صرف 15 سال کی ہے اس کو معافی مانگنے پر مجبورکیا۔
اپوزیشن پارٹیوں اور خاص طور پر کانگریس اور راہل گاندھی کی طرف سے لڑکے لڑکیوں پر جو پولس کی طرف سے بربریت اور سفاکیت کا مظاہرہ ہوا اس کے خلاف بڑے پیمانے پر پارلیمنٹ کے باہر اور اندر مظاہرے ہوئے۔ پارلیمنٹ کے 20 روزہ سیشن میں مودی یا شاہ شریک نہیں ہوسکے۔ صرف آخری دن چند منٹوں کے لئے گئے۔ قومی ترانہ میں شامل ہوئے۔ کسی سوال کا نہ جواب دیا گیا اور نہ ہی اسپیکر نے کسی کو سوال کرنے کا موقع دیا۔سیشن کے اختتام کا اعلان کردیا جبکہ 20 روز تک اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے وزیر اعظم نریندر مودی کو معافی مانگنے اور امیت شاہ کو لوک سبھا میں آکر یہ بیان دینے کے لئے کہاگیا کہ وہ بتائیں کہ لڑکے لڑکیوں پر احتجاج اور مظاہرے کے دوران جو سفاکیت اور بربریت کی گئی وہ کس کے حکم سے ہوا۔ اگر وزیر داخلہ امیت شاہ نے حکم دیا ہے تو اپنی اس کارروائی کی وجہ سے وہ مستعفی ہوں اور اگر ان کو معلوم نہیں ہے کہ کس نے بربریت کی تو اپنی نالائقی کی وجہ سے بھی وہ اس عہدے پر فائز رہنے کا حق نہیں رکھتے۔ لوک سبھا میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے غائب رہنے سے دونوں کی پریشان حالی کا پتہ چلتا ہے کہ وہ کس طرح لوک سبھا میں غالب رہنے کی کوشش کرتے تھے لیکن اس بار کے سیشن میں دونوں کا حال یہ رہا کہ دونوں غائب رہے۔ لوک سبھا کی اجلاس میں شرکت کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔
رام دیو بابا کا ایک بیان آیاہے جس میں اُنہوں نے اپنے بیان میں ملک کی موجودہ حالت کو نہایت سنگین بتایا کہ ’’پیپرلیک ، کرپشن، اسکولوں کے اندر بدنظمی اور پورے ملک میں بے روزگاری، اسکیم اور گھپلے ہورہے ہیں جس کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔ احتجاج اور مظاہرے کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر یہ ختم نہیں ہوتا ، لوگوں کی پریشانیاں دور نہیں ہوتیں تو پھر ان کو بھی احتجاج کرنے کی نوبت آسکتی ہے۔‘‘ رام دیو بابا حکومتِ وقت کے آدمی ہیں۔ مودی اور شاہ کے چہیتے ہیں۔ ان کو کروڑوں اور اربوں کا فائدہ ہوا ہے اس کے باوجود وہ حکومت پرحملہ آور ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں تبدیلی کی آہٹ محسوس کرنے لگے ہیں۔ ان کو معلوم ہوگیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر کس قسم کی کھلبلی ہے اور اندرونِ خانہ کیا کچھ ہورہا ہے پارٹی کے دیگر لیڈران بھی بہت کچھ کہہ رہے ہیں جس سے حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔لال قلعہ کی فصیل سے مودی جب تقریر کررہے تھے تو ان کی گھبراہـٹ اور اضطراب اور ان کے باڈی لینگویج سے ہی نہیں بلکہ ان کے لب و لہجے اور اندازِ بیان سے بھی ان کی کمزوری کا پتہ چل رہا تھا۔ پہلے جیسے وہ لال قلعہ سے قوم کو خطاب کرتے تھے، چیختے چلّاتے تھے وہ بات کہیں سے بھی ان میں نظر نہیں آئی۔
جہاں تک نریندر مودی ، امیت شاہ اور ان کے کارکن اور ترجمان جنتر منتر پر احتجاج کے دوران گالیوں پر اپنا دفاع کرنے کی بات کررہے ہیں تو ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ نریندر مودی نے ہی گالیوں کا کلچر شروع کیا اور اپنے لوگوں سے شروع کرایا۔ ایک لمبی فہرست ہے کہ کس طرح مودی اور ان کے رفقاء اپنے حریفوں کو گالیوں سے نوازتے رہے۔ سوشل میڈیا میں ایک ایک کرکے مودی اور ان کی پارٹی کے لوگوں کے کرتوت پیش کئے جارہے ہیں۔ یہ کلچر جس نے شروع کیاتھا آج وہ اپنے دفاع پر مجبور نظر آرہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جو لوگ اپنی پارٹی کے لوگوں کو لڑاکو بننے کی ٹریننگ اور مغلظات کی تربیت دے رہے تھے پہلے وہ خود اپنی اصلاح کریں اور پھر دوسروں کو نصیحت کرنے کی کوشش کریں ورنہ ’’خود فضیحت دیگراں رانصیحت‘‘ کہلانے کا مصداق ہوگا۔
٭٭٭

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے