ایوانِ پارلیمان کے مانسون اجلاس پر پانی پھر گیا

ایوانِ پارلیمان کے مانسون اجلاس پر پانی پھر گیا

ایوانِ پارلیمان کے مانسون اجلاس پر پانی پھر گیا

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

ایوانِ پارلیمان کا مانسون اجلاس ابھی حال میں ختم ہوا۔ اس پرٹیکس دہندگان یعنی عام آدمی کا تقریباً 175 کروڑ روپئے کا خرچ ہوا مگر ہاتھ کیا آیا ؟ لیڈران کی آپسی بحث و تکرار، ہنگامے، نعرے بازی اور بار بار کارروائی کا التواء، یہی وجہ ہے کہ دونوں ایوان اس ہدف کے آس پاس بھی نہیں پہنچ پائے۔ اس حقیقت کی گواہی پی آر ایس لیجسلیٹو ریسرچ کے اعدادو شمار کرتے ہیں۔ رواں اجلاس میں مجموعی طور پر 19 میٹنگیں تجویز کی گئی تھیں اور روزانہ ایوان کو تقریباً 7 گھنٹے کا کام کرنا تھا۔ اس حساب سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کو تقریباً 114-114 گھنٹے کا کام کاج ہونا چاہیے تھا مگرایوان میں طے شدہ وقت کے مقابلے میں کل 37 گھنٹے 49 منٹ ہی کام کر سکا۔ ی آر ایس کے اعداد و شمار کا جائزہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ راجیہ سبھا کی پروڈکٹیوٹی محض 39.17 فیصد ہی رہی ۔ پورے سیشن کے دوران نہ صرف اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ مسلسل مختلف موضوعات پر ایوان میں ہنگامہ آرائی کرتے رہے بلکہ رانچی میں طلبا کےاحتجاج کی آڑ میں بی جے پی نے بھی اپنے ارمان نکال لیا۔ طلبہ کے احتجاج پر پولیس کی کارروائی یا دیگر سیاسی تنازعات مثلاً ایودھیا میں چندہ چوری وغیرہ پر ایوان کی کارروائی روزانہ کئی بار دوپہر یا شام تک کے لیے ملتوی ہوتی رہی۔
کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت اہم سوالات سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ حکمراں جماعت کا کہنا تھا کہ وہ بحث کے لیے ہمیشہ تیار تھی۔ مانسون اجلاس میں لوک سبھا کے ساتھ راجیہ سبھا کا بھی برا حال تھا۔پی آر ایس کے مطابق مانسون اجلاس 2026 میں لوک سبھا کی پروڈکٹیوٹی گھٹ کر صرف 16 فیصد رہ گئی۔ پورے سیشن میں لوک سبھا محض 17.4 گھنٹے ہی کام کر سکی جبکہ طے شدہ پروگرام کے حساب سے اسے کہیں زیادہ گھنٹے کام کرنا تھا۔ لوک سبھا میں بھی کئی اہم بلوں پر بحث متاثر ہوئی یہاں تک کہ جو قوانین منظور ہونے بھی ٹھیک سے بحث نہیں ہو سکی۔ قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا میں کم از کم 108 گھنٹے کا کام کاج ہونا چاہیے تھا لیکن صرف 19 گھنٹے ہی ہو سکا۔ اگر اوسط نکالیں تو لوک سبھا روزانہ صرف 60 منٹ ہی چلی ہے۔ اس دوران 12 بل پاس کیے گئے، جن میں سے ایک بل بحث کے بعد پاس ہوا لیکن 11 بل ایسے تھے جن پر نہ تو کوئی بحث ہوئی اور نہ ہی کوئی گفتگو۔ انہیں بس ہنگامے کے دوران پیش کیا گیا اور صوتی ووٹ سے پاس کر دیا گیا۔
مودی سرکار نے تعلیمی میدان میں ٹھوس اصلاحات کرنے کے بجائے تاریخ کی کتابوں سے مسلم دور کا نام و نشان مٹانے، قدیم شہروں کے نام تبدیل کرکے عوام کا دل بہلانے، تین طلاق پر قانون بنا کر ہندو انتہا پسندوں کی ناز برداری کرنے ، کشمیر کی دفع 370ختم کرکے اپنی پیٹھ تھپتھپانے ، رام مندر بناکر اپنی سیاست چمکانے ، وقف بل پیش کرکے مسلمانوں کو بدنام کرنے ، مختلف صوبائی حکومتوں کے ذریعہ بنیادی حقوق پر قدغن لگا کر سناتن دھرم کی نام نہاد حفاظت کرنے، یکساں سیول کوڈ نافذ کرکے مسلمانوں کو پریشان کرنے، مذہبی آزادی میں رکاوٹ پیدا کرنے والے قوانین بنانے اور وندے ماترم کا جھنجھنا پکڑانے میں مشغول رہتی ہے۔ یہ لوگ اسی طرح سے ہندو عوام کا جذباتی استحصال کرکے الیکشن جیتنے کے چکر میں پڑے رہتے ہیں ۔ اس بابت جو کمی رہ جاتی اسے سی بی آئی ، ای ڈی، الیکشن کمیشن وغیرہ کے بیجا استعمال سے پورا کیا جاتا مگر بنیادی مسائل نظراندازہو جاتے ہیں ۔ یہی رویہ موجودہ سرکار کو مہنگا پڑا اور کاکروچ پارٹی کے ذریعہ جب ایک آتش فشاں پھٹا تو حکومت کے پرخچےاڑ گئے ۔ ان کے لیے ایوان میں آکر جواب دینا مشکل ہوگیا۔
مانسون اجلاس کے دوران وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو تو کاکروچ کھا گئے کانگریس نے بڑا ہاتھ مارنے کا سوچا اس لیے وزیر داخلہ کو طلباء اور نوجوانوں پر فائرنگ کے لیے موردِ الزام ٹھہرا دیا گیا۔ اس بابت راہل گاندھی کا سوال بہت سیدھا تھا کہ پیلیٹ گن سے فائرنگ کے احکامات کس نے دئیے ؟ اگر وزیر داخلہ نے تو وہ اس پر معافی مانگیں اور نہیں تووزیر داخلہ کی مرضی کے خلاف پیلیٹ گن کا چلنا ان کی نااہلی ہے اس لیے استعفیٰ دیں۔ اس مسئلہ کا بہت آسان حل یہ تھا کہ دہلی کے پولس کمشنر انوراگ کمار کو بلی کا بکرا بنا دیا جاتا۔ ان کے بارے میں کہہ دیا جاتا کہ انہوں نے وزیر داخلہ کی مرضی کے خلاف طاقت کا استعمال کیا ۔ وزیر داخلہ اس پر افسوس کا اظہار کردیتے اور سب کچھ رفع دفع ہوجاتا لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ اس کی پہلی وجہ تو یہ تھی کہ سرکاری تشدد سے قبل وزارت داخلہ کے ایماء پر دہلی کے پولس کمشنر ستیش گولچا کو اچانک ہٹا کر انوراگ کمار کو آئی بی سے لایا گیا تھا ۔ اس لیے انہیں کیوں لایا گیا اور آتے ہی انہوں نے نافرمانی کی جرأت کیسے کردی ؟ یہ سوالات پیدا ہوجاتے اس لیے موٹا بھائی ڈر گئے ۔ بس پھر کیا تھا ان کے خوف نے حزب اختلاف کو شیر بنا دیا ۔ ا س کےبعد وہ پارلیمانی عمارت کی کینٹین میں آکر چائے پیتے اور دفتر سے جاتے ہوئے بیت الخلا کا استعمال کرلیتے مگر ایوان کی جانب پھٹکنے کا حوصلہ نہیں جٹا پاتے اس طرح پورا مانسون اجلاس گزرگیا اور آخری دن صرف وندے ماترم پڑھ کر چلتے بنے۔
لوک سبھا میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر گورو گوگوئی نے یہی کہا کہ حکومت پورے اجلاس کے دوران بہت ’’ڈری اور سہمی ہوئی‘‘ تھی اسی لیے وزیراعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ بیشتر وقت ایوان کی کارروائی سے دور رہے۔گوگوئی کے مطابق اپوزیشن نے اجلاس کے آغاز سے قبل ہی نیٹ امتحان، ایودھیا رام مندر ٹرسٹ کے چندے، ایتھنول میں ملاوٹ، بعض بی جے پی حکومتوں سے متعلق معاملات، چین سے متعلق خارجہ پالیسی اور سرکاری بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں معیار جیسے مسائل اٹھانے کی بات حکومت کے سامنے رکھ دی تھی۔ حزب اختلاف نے حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بلوں پر بھی مثبت کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی مگر ان اہم مسائل پر بحث ہی نہیں ہو سکی۔ گوگوئی نے بتایا کہ پیپر لیک اور طلبہ کے احتجاج سے متعلق وزیر تعلیم کے استعفے، پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ کے بیان اور وزیراعظم کی جانب سے افسوس کے اظہار کی بات کانگریس نے رکھی تھی۔ ان میں وزیر تعلیم کے استعفے سے متعلق مطالبہ پورا ہوا، جبکہ وزیر داخلہ بحث کے دوران ایوان میں آئے ہی نہیں ۔ ان کی غیر موجودگی میں ’یہ یوپی اے کی سرکار نہیں ہے، ہمارے یہاں استعفے نہیں ہوتے‘ کہنے والے راجناتھ سنگھ گم ُسُم بیٹھے رہے۔
ایوان میں ایک طرف راہل گاندھی اور کانگریس نیٹ سے متعلق بے ضابطگیوں، دہلی میں مظاہرین طلبا و نوجوانوں پر پولیس کی کارروائی پر توجہ مرکوز کیے ہوئی تھی دوسری جانب اکھلیش یادو نے اسے رام مندر کے چندہ میں چوری سے جوڑ کر کہہ دیا کہ جو چندے کی چوری نہیں روک سکے وہ پیپر لیک کیا روکیں گےَ ؟ عام آدمی پارٹی نے معدنیات معاملہ پر حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت معدنیات پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ حکومت کا ہر شعبے پر قبضہ کرنے کا ارادہ ہے۔ یہ سرمایہ داروں کا ساتھ دے رہی ہے۔ پورے اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ٹکراؤ کی کیفیت رہی ۔ ایودھیا سے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اودھیش پرساد نے چیف الیکشن افسران کی تقرری کے عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تقرری کا عمل غیر معتبر تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ امیدواروں سے پوچھے جانے والے سوالات کی نوعیت آئین کے خلاف تھی۔ سماجوادی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ان معاملات کو مسلسل اٹھاتے رہیں گے۔ سماجوادی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ ایوان میں مبینہ چندہ چوری کے معاملہ پر بحث چاہتے تھےلیکن حکومت نے اس موضوع کو اٹھانے کی اجازت نہیں دی۔
حکومت کے اس رویہ کا ردعمل یہ ہوا کہ پپو یادو سادھو کا بھیس بدل کر ایوان میں آئے اور پارلیمانی عمارت کےا حاطے میں چندہ چوری کا ڈرامہ کردیا ۔ اس دوران پارلیمنٹ کے ’مکر دروازے‘ پر اپوزیشن کے احتجاج میں حکومت کے خلاف خوب جم کر نعرے بازی ہوئی۔ احتجاج کے دوران سماجوادی پارٹی کی جانب سے علامتی چندہ بکس بھی رکھا گیا تھا ۔ سماجوادی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے مانسون اجلاس کے آخری دن اس چندہ پیٹی میں جمع ہونے والے 2.15 لاکھ روپے دہلی کے کناٹ پلیس پر واقع ہنومان مندر کو عطیہ کر دیئے۔ سماجوادی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ دھرمیندر یادو، اودھیش پرساد اور راجیو رائے نے مانسون اجلاس ختم ہونے کے بعد مندر کا دورہ کرکے جمع کی گئی رقم وہاں انتظامیہ کے حوالے کردی۔ ایوان کا مانسون اجلاس پپو یادو کے ناٹک ، کاکروچ پارٹی اور سادھو سنتوں کے جنتر منتر پر دھرنے، راہل گاندھی کی وزیر اعظم کے گھر پر گرفتاری ، وزیر تعلیم کا استعفیٰ اور پون کھیڑا کے 56؍ انچی احتجاج کے سبب یادگا ر ہوگیا۔ سچ تو یہ ہے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی تقریباً غیر حاضری اور مکمل خاموشی نے اس مانسون اجلاس کو دھو دیا ۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے