ربیع الاول کے سیرت النبی ﷺ کے پروگراموں کو اصلاح معاشرہ، تربیت نسل اور رجال سازی کا ذریعہ بنایا جائے! سیرت کے پروگراموں سے متعلق مفتی افتخار احمد قاسمی کی اہم اپیل
ربیع الاول کے سیرت النبی ﷺ کے پروگراموں کو اصلاح معاشرہ، تربیت نسل اور رجال سازی کا ذریعہ بنایا جائے!
سیرت کے پروگراموں سے متعلق مفتی افتخار احمد قاسمی کی اہم اپیل
بنگلور، 19 ؍اگست 2026 (پریس ریلیز): ربیع الاول کے بابرکت مہینے کے آغاز کے موقع پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اور جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر مفتی افتخار احمد قاسمی نے اپنے ایک اہم پیغام میں کہا ہے کہ ربیع الاول وہ مبارک مہینہ ہے جس میں حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی، اسی نسبت سے مسلمان اس مہینے میں سیرت النبی ﷺ کے پروگرام، جلسے اور اجتماعات منعقد کرتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان پروگراموں کو محض ایک رسمی تقریب نہ بنایا جائے بلکہ انہیں اصلاح معاشرہ، تربیتِ نسل، کردار سازی اور رجال سازی کا مؤثر ذریعہ بنایا جائے۔مفتی صاحب نے کہا کہ حضور اکرم ؐکی پوری زندگی ہمارے لیے اسو? حسنہ ہے۔ آپ ؐ کی مکی و مدنی زندگی، آپ ؐکے اخلاق و کردار، صبر و استقامت، دعوت و تبلیغ، قربانیاں، معاملات، عبادات، معاشرت اور انسانیت کے ساتھ حسن سلوک میں قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے مکمل رہنمائی موجود ہے۔ اس لیے سیرت النبی ؐ کے جلسوں میں صرف واقعات بیان کرنے کے بجائے یہ بھی بتایا جائے کہ آج ہمارے معاشرے کو درپیش مسائل کا حل سیرت رسول ؐ کی روشنی میں کیا ہے اور ہم اپنی عملی زندگی میں اس سے کیا سبق حاصل کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیرت النبی ؐ کے پروگرام شرعی حدود اور اسلامی آداب کے مطابق منعقد کیے جانے چاہئیں۔ ان اجتماعات میں نبی کریم ؐکی سیرت، آپ ؐ کے اخلاق، کردار، تعلیمات، قربانیوں، صبر و استقامت اور امت کے لیے آپ ؐ کی خیر خواہی کا تذکرہ ہو۔ ایسے پروگراموں کو ناچ گانے، ڈی جے اور دیگر غیر شرعی امور سے پاک رکھا جائے اور انہیں محض رسم و رواج کے طور پر منعقد کرنے کے بجائے حقیقی مقصد، یعنی اتباع رسول ؐ اور اصلاح زندگی کو پیش نظر رکھا جائے۔مولانا قاسمی نے مقررین اور خطباء سے خصوصی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیرت النبی ؐ کے پروگراموں میں گفتگو کرتے وقت علاقے کے حالات، معاشرے کی ضروریات اور موجودہ مسائل کو سامنے رکھیں۔ سیرت رسول ؐایک ایسا بحر بے کراں ہے جس میں انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ اگر موجودہ معاشرتی مسائل کا حل سیرت طیبہ کی روشنی میں عوام کے سامنے پیش کیا جائے تو یہ اجتماعات معاشرے کی حقیقی اصلاح کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کے اندر مایوسی اور بے حسی پیدا کرنے کے بجائے سیرت النبی ؐ کی مکی و مدنی زندگی، مشکلات، آزمائشوں، قربانیوں، صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر توکل کو بیان کیا جائے، تاکہ امت یہ سبق حاصل کرے کہ مشکلات کتنی ہی شدید کیوں نہ ہوں، اہل ایمان کو اپنے دین، اصولوں اور حق پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔ رسول اللہ ؐ کی زندگی ہمیں مشکل حالات میں حوصلہ، امید اور صحیح راستہ اختیار کرنے کا درس دیتی ہے۔مفتی افتخار احمد قاسمی نے کہا کہ سیرت النبی ﷺ کے پروگراموں میں عقیدۂ ختم نبوت کو خصوصی اہمیت دی جائے۔ نئی نسل کو بتایا جائے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ؐ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ ؐکے بعد کسی نئے نبی کی گنجائش نہیں۔ اسی سلسلے میں امت کو قادیانیت، گوہر شاہیت، شکیل بن حنیف اور دیگر گمراہ کن فتنوں سے بھی باخبر کیا جائے، تاکہ نئی نسل اپنے بنیادی عقائد سے واقف اور فتنوں سے محفوظ رہے۔
اسی طرح اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ والدین اپنی اولاد کی تعلیم، تربیت، کردار، دینی شعور اور ملی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ ہوں۔ بچوں اور نوجوانوں کو حضور اکرم ؐکی محبت، صحابہ کرامؓ کی زندگی، اسلامی اخلاق، والدین کے احترام، بڑوں کی عزت، چھوٹوں سے شفقت اور معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داریوں سے واقف کرایا جائے۔ صرف دنیاوی کامیابی نہیں بلکہ صالح، باکردار اور ذمہ دار انسان بنانا بھی ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔مفتی صاحب نے کہا کہ رسول اللہ ؐ کی زندگی سادگی کا بہترین نمونہ ہے۔ آج ملت میں بالخصوص شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں غیر ضروری اخراجات، نمود و نمائش اور فضول خرچی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ سیرت النبی ؐ کے اجتماعات میں اس اہم معاشرتی برائی کی اصلاح کی جائے اور لوگوں کو نکاح میں سادگی، آسانی اور اسلامی تعلیمات پر عمل کی ترغیب دی جائے۔ شادی کو بوجھ بنانے کے بجائے آسان بنایا جائے، تاکہ معاشرے میں نکاح کی راہ ہموار ہو اور غیر ضروری رسوم و اخراجات کا خاتمہ ہوسکے۔انہوں نے نوجوان نسل میں بڑھتے ہوئے نشہ اور ڈرگس کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری نئی نسل، خاندانوں اور پورے معاشرے کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ سیرت النبی ؐ کے پروگراموں میں نشہ آور اشیاء کے نقصانات، ان کے دینی و اخلاقی اثرات اور خاندان و معاشرے پر پڑنے والے تباہ کن نتائج کو واضح کیا جائے۔ والدین، علماء، ائمہ، اساتذہ اور سماجی ذمہ داران مل کر نوجوانوں کو اس لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
مولانا قاسمی نے کہا کہ سیرت طیبہ ؐمیں صلہ رحمی، رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک، پڑوسیوں کے حقوق، غریبوں اور محتاجوں کی مدد، یتیموں کی کفالت اور ضرورت مندوں کے ساتھ خیر خواہی کی بے شمار تعلیمات موجود ہیں۔ آج معاشرے میں رشتوں میں دوری، قطع تعلقی اور خود غرضی بڑھ رہی ہے، اس لیے سیرت کے اجتماعات میں لوگوں کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی ترغیب دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی کی طرف متوجہ کرنا ضروری ہے۔ عبادات کے ساتھ معاملات کی درستگی، اخلاق کی پاکیزگی اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی بھی دین کا اہم حصہ ہے۔ سیرت النبی ؐ کا یہی جامع پیغام معاشرے میں حقیقی تبدیلی پیدا کرسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں عریانیت، فحاشی اور بے حیائی کے بڑھتے ہوئے رجحانات خصوصاً نوجوان نسل کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ سیرت النبی ؐکے پروگراموں میں حیا، پاکیزگی، نگاہوں کی حفاظت، اسلامی لباس، خاندانی اقدار اور پاکیزہ معاشرت کی اہمیت کو واضح کیا جائے اور نئی نسل کو بے حیائی کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔ مفتی صاحب نے کہا کہ وقت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور سیرت النبی ؐ ہمیں وقت کی قدر اور ذمہ دارانہ زندگی کا درس دیتی ہے۔ آج موبائل فون اور سوشل میڈیا کے بے جا استعمال نے خصوصاً نوجوانوں کے قیمتی وقت کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس لیے سیرت کے پروگراموں میں موبائل فون کے مفید اور ذمہ دارانہ استعمال، فضول مشغولیات سے بچنے، وقت کی حفاظت اور علم و عمل کے لیے وقت صرف کرنے کی ترغیب دی جائے۔آخر میں مفتی افتخار احمد قاسمی نے کہا کہ سیرت النبی ﷺ کے ذریعے معاشرے کی اصلاح آج کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اگر ربیع الاول کے پروگراموں کو صرف تقریبات تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں عقیدہ و ایمان کی مضبوطی، اصلاح معاشرہ، تربیت اولاد، کردار سازی، رجال سازی، صلہ رحمی، سادگی، منشیات سے حفاظت، حیا و پاکیزگی، حقوق اللہ و حقوق العباد اور وقت کی قدر جیسے اہم موضوعات کے لیے استعمال کیا جائے تو ان شاء اللہ یہ اجتماعات معاشرے میں مثبت اور دیرپا تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے اہل علم، ائمہ مساجد، خطباء، سماجی و ملی ذمہ داران اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ربیع الاول کے سیرت النبی ﷺ کے پروگراموں کو اصلاح امت اور اتباع رسول ﷺ کی تحریک بنانے کی کوشش کریں اور حضور اکرم ﷺ کی مبارک زندگی کے پیغام کو اپنی ذات، اپنے گھروں اور پورے معاشرے میں عملی طور پر نافذ کرنے کا عزم کریں۔