حب الوطنی، وندے ماترم اور سیاسی کشمکش

حب الوطنی، وندے ماترم اور سیاسی کشمکش

حب الوطنی، وندے ماترم اور سیاسی کشمکش

✍️ افتخاراحمدقادری

وندے ماترم کو لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے درمیان جاری تازہ سیاسی کشمکش نے ایک مرتبہ پھر ہندوستانی سیاست کے اس بنیادی سوال کو نمایاں کردیا کہ حب الوطنی آخر کس چیز کا نام ہے؟ کیا وطن سے محبت کو کسی مخصوص نعرے، گیت یا اس کے تمام اشعار کی ادائیگی سے مشروط کیا جاسکتا ہے یا حب الوطنی کا اصل معیار دستور، وطن، عوام اور قومی وحدت کے ساتھ وفاداری، ایثار اور ذمہ دارانہ کردار ہے؟ آج جب سیاسی بیانیہ پہلے ہی مذہبی اور جذباتی تقسیم کے دباؤ میں ہے، وندے ماترم جیسے تاریخی اور حساس موضوع کو انتخابی صف بندی اور سیاسی مناقشے کا وسیلہ بنانا نہایت سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے۔ وندے ماترم ہندوستان کی آزادی کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ بنکم چندر چٹرجی کی یہ تخلیق برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت کے دور میں مجاہدین آزادی کے لیے جوش و ولولے کی علامت بنی۔ 1905ء کی تحریکِ سوا دیشی سے لے کر آزادی کی جد وجہد کے مختلف مراحل تک اس نغمے نے قومی احساس کو مہمیز دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس تاریخی حقیقت سے انکار نہ دانش مندی ہے اور نہ انصاف۔ 24 جنوری 1950ء کو دستور ساز اسمبلی کے آخری اجلاس میں ڈاکٹر راجندر پرساد نے وندے ماترم کو قومی ترانے جن گن من کے ساتھ مساوی احترام دیے جانے کا اعلان کیا تھا۔ چنانچہ اس گیت کی تاریخی عظمت، اس کی قومی اہمیت اور آزادی کی تحریک میں اس کے کردار کو تسلیم کرنا ہر ہندوستانی کے لیے باعثِ افتخار ہونا چاہیے۔ لیکن موجودہ تنازع یہ نہیں کہ وندے ماترم قابل احترام ہے یا نہیں؟ بلکہ یہ ہے کہ کیا اس کے تمام بندوں کو ہر شہری کے لیے یکساں طور پر گانا حب الوطنی کی لازمی شرط قرار دیا جاسکتا ہے؟ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے حالیہ دنوں میں اپنی تقریبات میں وندے ماترم کے صرف ابتدائی دو بند گانے کے اپنے فیصلے کو 1937ء کی قرارداد سے مربوط کیا ہے۔ یہ فیصلہ اچانک پیدا ہونے والی کوئی نئی سیاسی ترکیب نہیں بلکہ آزادی کی تحریک کے زمانے میں کیے گئے ایک تاریخی فیصلے کی تجدید ہے۔ 1937ء میں کانگریس ورکنگ کمیٹی نے واضح طور پر قرار دیا تھا کہ قومی اجتماعات میں پہلے دو بند گائے جائیں کیونکہ ان میں ایسی مذہبی علامتیں موجود نہیں تھیں جن پر کسی طبقے کو بنیادی اعتراض ہو۔
یہ تاریخی پس منظر موجودہ سیاسی بیان بازی میں کہیں پسِ پشت چلا گیا ہے۔ وندے ماترم کے ابتدائی دو بند مادر وطن کی سرسبزی، شادابی، زرخیزی، خوش گوار ہواؤں، لہلہاتے کھیتوں اور اس کی خوب صورتی کا شعری اظہار ہیں، جب کہ بعد کے بندوں میں مذہبی دیومالائی حوالوں کی صراحت زیادہ نمایاں ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ 1937ء میں قومی اجتماعات کے لیے پہلے دو بندوں کو موزوں سمجھا گیا۔ اس فیصلے میں وندے ماترم کی تحقیر نہیں بلکہ ایک کثیر مذہبی معاشرے میں قومی یکجہتی کے تقاضوں کو ملحوظ رکھا گیا تھا۔ آج مسئلہ یہ ہے کہ تاریخ کو اپنی اپنی سیاسی ضرورت کے مطابق منتخب کیا جارہا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی وندے ماترم کے مکمل گائیکی کے معاملے کو قومی وفاداری اور حب الوطنی کے پیمانے کے طور پر پیش کررہی ہے، جبکہ کانگریس اپنے 1937ء کے تاریخی فیصلے کو بنیاد بنا کر ابتدائی دو بندوں تک محدود رہنے کا موقف اختیار کررہی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کانگریس کے فیصلے کو ’’ملک دشمن‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت حملہ کیا ہے جب کہ بی جے پی صدر نتن نوین نے کانگریس کو ’’نئی مسلم لیگ‘‘ تک قرار دے دیا۔ اس لب و لہجے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ معاملہ محض ایک قومی گیت کے اشعار کا نہیں رہا بلکہ ہندوستانی سیاست کی بڑھتی ہوئی قطبیت کا ایک نیا میدان بن چکا ہے۔ سیاسی قیادت سے پوچھنا ضروری ہے کہ اگر کسی سیاسی جماعت کا تاریخی اور دستاویزی موقف مختلف ہو تو کیا اسے فوراً ملک دشمن قرار دینا سیاسی صحت مندی کی علامت ہے؟ جمہوریت میں اختلافِ رائے کو غداری کے مترادف بنا دینا دراصل جمہوری مزاج کی تضعیف ہے۔ کسی جماعت کے موقف سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، اس پر شدید تنقید بھی کی جاسکتی ہے، اس کے تاریخی استدلال کو چیلنج بھی کیا جاسکتا ہے، لیکن محض ایک گیت کے مخصوص بند نہ گانے کی بنیاد پر کسی سیاسی جماعت کو ملک دشمن کہنا سیاسی مباحثے کو استدلال سے الزام تراشی کی طرف دھکیلتا ہے۔ 1937ء کا فیصلہ کسی ایک شخص کی انفرادی پسند یا کسی ایک طبقے کی عجلت پر مبنی نہیں تھا۔ اس دور میں مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سبھاش چندر بوس اور دیگر اہم قومی رہنما وسیع تر قومی اتفاق رائے کی ضرورت سے واقف تھے۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی کی قرارداد میں وندے ماترم کے تاریخی مقام اور آزادی کی جد وجہد میں اس کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے مذہبی حساسیتوں کا بھی لحاظ رکھا گیا تھا۔ درحقیقت یہی ہندوستانی قومی تحریک کی ایک اہم خصوصیت تھی کہ اس نے مختلف مذاہب، زبانوں، تہذیبوں اور ثقافتوں کو ایک وسیع تر قومی مقصد کے تحت جمع کرنے کی کوشش کی۔ آزادی کی جنگ اگر صرف ایک مذہبی یا ثقافتی شناخت تک محدود کردی جاتی تو شاید وہ وہی وسیع عوامی طاقت حاصل نہ کرسکتی جس نے برطانوی استعمار کے خلاف ایک ہمہ گیر مزاحمت کو جنم دیا۔ اس لیے قومی علامتوں کا احترام ضرور ہونا چاہیے، لیکن ان علامتوں کے احترام کو مذہبی یکسانیت یا سیاسی وفاداری کی کسوٹی بنانا ہندوستان کے تاریخی مزاج سے ہم آہنگ نہیں۔
مسلمانوں کے حوالے سے بھی اس معاملے کو جذباتی نعروں کے بجائے اصولی انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک مسلمان اپنے وطن سے محبت کرسکتا ہے، اس کی حفاظت کے لیے جان دے سکتا ہے، اس کی ترقی کے لیے اپنی صلاحیتیں وقف کرسکتا ہے اور اس کے آئین و قانون کا احترام کرسکتا ہے لیکن اس کے مذہبی عقیدے میں عبادت کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ لہٰذا اگر کسی شعری یا مذہبی متن کے بعض حصوں میں ایسے تصورات پائے جائیں جنہیں کوئی مسلمان اپنے عقیدہ توحید سے ہم آہنگ نہ سمجھتا ہو تو اس کے تحفظات کو محض وطن دشمنی، فرقہ پرستی یا غداری کے عنوان سے مسترد کر دینا مناسب نہیں۔ اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ ہر مسلمان لازماً وندے ماترم کو یکساں انداز میں دیکھتا ہے یا ہر غیر مسلم شہری کے لیے اس کے تمام بندوں کی ادائیگی یکساں مذہبی یا ثقافتی معنی رکھتی ہے۔ ہندوستان کی کثرتیت کا تقاضا یہی ہے کہ افراد کے مذہبی اور ضمیری اختلافات کو سمجھا جائے۔ قومی اتحاد کا مفہوم یہ نہیں کہ تمام شہری اپنے مذہبی احساسات، تہذیبی ترجیحات اور فکری اختلافات ترک کرکے ایک ہی سانچے میں ڈھل جائیں؛ قومی اتحاد کا اصل مفہوم یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود دستور، وطن اور باہمی احترام پر اتفاق برقرار رہے۔ اگر وندے ماترم قومی احترام کا حامل ہے تو اس کا احترام سیاسی جماعتوں کے اقتدار یا حزبِ اختلاف میں ہونے سے مشروط نہیں ہونا چاہیے۔ اگر آج بی جے پی کانگریس کے محدود گائیکی کے فیصلے کو ملک دشمنی قرار دے رہی ہے تو اسے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ قومی علامتوں کا احترام محض سیاسی مخالف کو مطعون کرنے کا ذریعہ نہ بن جائے۔ اسی طرح کانگریس کو بھی یہ واضح کرنا ہوگا کہ تاریخی قرارداد کی آڑ میں وندے ماترم کی تاریخی عظمت یا اس سے وابستہ کروڑوں ہندوستانیوں کے جذبات کو کسی صورت مجروح نہ کیا جائے۔ حیرت انگیز صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف وندے ماترم کو لے کر سیاسی طوفان برپا ہے اور دوسری طرف بعض مواقع پر خود بی جے پی کے زیر اقتدار اداروں میں بھی صرف ابتدائی دو بند گائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ناگپور میونسپل کارپوریشن میں حالیہ اجلاس کے دوران صرف دو بند گائے جانے کی خبر نے اس سیاسی تنازع میں ایک غیر معمولی تضاد کو نمایاں کیا ہے۔ اگر دو بند گانا بذاتِ خود ملک دشمنی ہے تو پھر اس اصول کا اطلاق سیاسی وابستگی سے قطع نظر ہر جگہ یکساں ہونا چاہیے؛ اور اگر ایسا نہیں تو پھر قومی جذبے کو جماعتی عینک سے دیکھنے کی روش پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حب الوطنی نہ گلے کی آواز کی بلندی سے ثابت ہوتی ہے نہ نعروں کی کثرت سے اور نہ کسی ایک قومی گیت کے تمام اشعار کی ادائیگی سے۔ حب الوطنی کا حقیقی امتحان اس وقت ہوتا ہے جب شہری قانون کی پاسداری کرتا ہے، اپنے فرائض ادا کرتا ہے، ملک کی سلامتی اور سالمیت کے لیے کھڑا ہوتا ہے، سماج میں نفرت کے بجائے اخوت کو فروغ دیتا ہے، کمزوروں کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور قومی وسائل کو لوٹنے یا قومی مفادات کو نقصان پہنچانے سے گریز کرتا ہے۔ ایک شخص بلند آواز سے وطن دوستی کے نعرے لگا سکتا ہے لیکن اگر وہ بدعنوانی، تعصب، تشدد اور نفرت کو فروغ دیتا ہے تو اس کی حب الوطنی کی حقیقت پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔ اسی طرح کسی مسلمان کا کسی مخصوص مذہبی مفہوم والے شعر کو نہ گانا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ وطن سے محبت نہیں کرتا۔ ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انہوں نے آزادی کی جد وجہد میں قربانیاں دی ہیں، جیلیں کاٹی ہیں، پھانسیاں قبول کی ہیں اور برطانوی استعمار کے خلاف صف آرا ہوئے ہیں۔ اس تاریخی کردار کو ایک گیت کے چند اشعار سے مشروط کر دینا تاریخ کے ساتھ بھی ناانصافی ہے اور ان بے شمار قربانیوں کی تحقیر بھی جنہیں ہندوستان کی آزادی کی اجتماعی داستان کا حصہ ہونا چاہیے۔ آج ملک کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو شہریوں کو جوڑنے والی علامتوں کو مضبوط کرے، نہ کہ انہیں انتخابی کشمکش کا ایندھن بنائے۔ وندے ماترم پر بحث اگر تاریخی تحقیق، ادبی تنقید، آئینی شعور اور باہمی احترام کے دائرے میں رہے تو اس سے قومی زندگی میں سنجیدہ فکری گفتگو جنم لے سکتی ہے، لیکن اگر اسے محض سیاسی حریف کو غدار ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ بحث قومی مفاد کے بجائے جماعتی مفاد کی اسیر ہو جائے گی۔ قومی علامتوں کا وقار حکم، دھمکی اور سیاسی دشنام سے قائم نہیں ہوتا۔ احترام دلوں میں پیدا کیا جاتا ہے اور دلوں میں احترام اعتماد، انصاف اور مساوی سلوک سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر ایک شہری یہ محسوس کرے کہ اس کی حب الوطنی کو بار بار اس کے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر جانچا جارہا ہے تو قومی یکجہتی مضبوط ہونے کے بجائے احساسِ بیگانگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اگر اکثریتی طبقے کے تاریخی جذبات کو مسلسل نظرانداز کیا جائے تو اس سے بھی بے اطمینانی پیدا ہوسکتی ہے۔ دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں احساسات کو سمجھا جائے اور ایک ایسا راستہ اختیار کیا جائے جس میں نہ تاریخی ورثے کی توہین ہو اور نہ مذہبی ضمیر کی پامالی۔ وندے ماترم کا موجودہ تنازع دراصل ہندوستانی سیاست کے ایک بڑے مرض کی علامت ہے جہاں ہر قومی مسئلہ آہستہ آہستہ جماعتی رقابت، انتخابی صف بندی اور جذباتی اشتعال کا موضوع بن جاتا ہے۔ آج وندے ماترم ہے، کل کوئی دوسرا قومی نشان، تاریخی شخصیت یا تہذیبی علامت سیاسی مناقشے کا مرکز بن سکتی ہے۔ اگر ہر قومی علامت کو اقتدار اور حزب اختلاف کی کشمکش میں استعمال کیا جائے گا تو رفتہ رفتہ ان علامتوں کی تقدیس سیاسی نعروں کے شور میں دب جائے گی۔ لہٰذا! بی جے پی اور کانگریس دونوں اس تنازع کو سیاسی رسہ کشی سے نکال کر تاریخی اور قومی تناظر میں دیکھیں۔ بی جے پی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ حب الوطنی کسی سیاسی جماعت کی اجارہ داری نہیں جبکہ کانگریس کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کا تاریخی موقف وندے ماترم کی تحقیر نہیں بلکہ ایک قدیم قومی فیصلے کی پیروی ہے۔ دونوں جماعتوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہندوستان صرف حکومت اور اپوزیشن کا نام نہیں بلکہ کروڑوں ایسے شہریوں کا ملک ہے جو مختلف مذاہب، زبانوں اور تہذیبوں کے باوجود ایک مشترکہ آئینی شناخت رکھتے ہیں۔ بالآخر حب الوطنی کا سب سے معتبر پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ انسان اپنے وطن کے ساتھ کتنا مخلص ہے، اپنے فرائض کس قدر دیانت داری سے ادا کرتا ہے، دوسروں کے حقوق کا کتنا احترام کرتا ہے اور ملک کی وحدت و سالمیت کے لیے کس قدر سنجیدہ ہے۔ وندے ماترم ہندوستان کی آزادی کی تاریخ کا قابل احترام باب ہے، اس کے تاریخی کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا؛ لیکن اس احترام کو سیاسی وفاداری کا سرٹیفکیٹ بنانا بھی درست نہیں۔ قومی محبت کو نعروں کی مسابقت سے نکال کر کردار، خدمت، دیانت اور باہمی احترام سے وابستہ کرنا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہندوستان کو سیاسی قطبیت، مذہبی کشیدگی اور الزام تراشی کی گرداب سے نکال کر ایک ایسے قومی افق کی طرف لے جاسکتا ہے جہاں اختلاف دشمنی نہیں، عقیدہ غداری نہیں اور حب الوطنی کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں ہوگی۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.comy

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے