عوامی امانت یا خاموش خزانہ؟
پی ایم کیئرز کے اعداد کا حیران کن تضاد
از: عبدالحلیم منصور
مارچ 2020 کی وہ گھڑی ہندوستان کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے جب کورونا وبا نے پورے ملک کو خوف، بے بسی اور غیر یقینی کے اندھیرے میں دھکیل دیا تھا۔ اسپتالوں میں بستروں کی کمی، آکسیجن کا بحران، علاج کے لیے دربدر مریض، شہروں سے پیدل اپنے گھروں کی طرف لوٹتے خاندان ، بے روزگار ہوتے مزدور، بند بازار اور ویران سڑکیں ایک ایسے قومی المیے کی تصویر بن چکے تھے جس کی مثال جدید ہندوستان نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اسی پس منظر میں وزیر اعظم نریندر مودی نے پی ایم کیئرز فنڈ قائم کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ یہ ایک ایسا قومی امدادی فنڈ ہوگا جو ہر ہنگامی صورتحال میں شہریوں کی مدد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ کروڑوں ہندوستانیوں نے اس اپیل کو محض حکومتی اعلان نہیں بلکہ قومی ذمہ داری سمجھ کر قبول کیا۔ لوگوں نے اپنی جمع پونجی، زیورات، تنخواہوں اور کاروباری منافع تک کا حصہ اس فنڈ میں عطیہ کیا۔ اس وقت شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا کہ چند برس بعد یہی فنڈ شفافیت اور جواب دہی کے سب سے بڑے سوال کی علامت بن جائے گا۔
اگست 2026 میں دو سال کی تاخیر سے جاری ہونے والی 2023–24 اور 2024–25 کی آڈٹ رپورٹ نے اس بحث کو نئی شدت عطا کر دی۔سرکاری دستاویز کے مطابق 31 مارچ 2025 تک پی ایم کیئرز فنڈ میں 8,452.06 کروڑ روپے موجود تھے، جبکہ پورے مالی سال میں خرچ ہونے والی رقم صرف 87.85 لاکھ روپے رہی۔یعنی دستیاب سرمایہ کا تقریباً 0.01 فیصد۔ یہی وہ عدد ہے جس نے پورے معاملے کو محض مالیاتی بحث سے نکال کر جمہوری احتساب کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہاں سب سے پہلے ایک بنیادی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ فنڈ میں بڑی رقم کیوں موجود ہے؛ ہر قومی ہنگامی فنڈ کے لیے ریزرو سرمایہ رکھنا ایک معقول مالیاتی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی عوامی امانت کے استعمال، نگرانی اور جواب دہی کا معیار کیا ہے؟ اگر عوام نے اعتماد کے ساتھ سرمایہ دیا ہے تو کیا انہیں یہ جاننے کا حق نہیں کہ اس کی ترجیحات کیسے طے ہوتی ہیں، کن منصوبوں پر خرچ ہوتا ہے اور کن بنیادوں پر محفوظ رکھا جاتا ہے؟۔
آڈٹ رپورٹ ایک اور حیران کن حقیقت بھی سامنے لاتی ہے۔ تقریباً 7,846.65 کروڑ روپے فکسڈ ڈپازٹس میں رکھے گئے، جبکہ چھ سو کروڑ سے زیادہ رقم سیونگس اکاؤنٹس میں موجود رہی۔ انہی فکسڈ ڈپازٹس سے ایک سال کے دوران تقریباً 475 کروڑ روپے سود حاصل ہوا، جو تقریباً اسی سال عوام اور اداروں سے موصول ہونے والے عطیات کے برابر ہے۔ گویا پی ایم کیئرز اب صرف چندے سے نہیں بلکہ اپنی جمع شدہ دولت کی مالیاتی آمدنی سے بھی بڑھ رہا ہے۔
کورونا وبا کے بعد کیا واقعی ملک میں کوئی ایسی آفت نہیں آئی تھی جس نے قومی ضمیر کو جھنجھوڑا ہو؟ ہماچل پردیش اور سکم کے تباہ کن سیلاب، کیرالہ کے وایناڈ کی ہولناک لینڈ سلائیڈ، آسام اور بہار کی مسلسل سیلابی تباہ کاریاں، شمالی اور جنوبی ہند میں خشک سالی اور شدید بارشوں سے اجڑنے والے ہزاروں خاندان، بے گھر ہونے والے شہری اور روزگار سے محروم ہونے والے بے شمار مزدور—کیا یہ سب قومی ہنگامی حالات نہیں تھے؟ اگر پی ایم کیئرز کا مقصد شہری امداد اور ریلیف ہے تو پھر یہ سوال پوری سنجیدگی کے ساتھ اٹھتا ہے کہ کیا اس عظیم عوامی فنڈ میں ان متاثرین کی بحالی اور فوری امداد کی گنجائش موجود نہیں تھی؟ یا پھر اس فنڈ کی کامیابی کا معیار ضرورت مند انسان نہیں بلکہ بینک میں بڑھتا ہوا سرمایہ ہے؟ جمہوریت میں عوام عطیہ اس لیے نہیں دیتے کہ ان کی امانت محض فکسڈ ڈپازٹس میں محفوظ رہے، بلکہ اس امید پر دیتے ہیں کہ مصیبت کی ہر گھڑی میں وہ سرمایہ انسانوں کے کام آئے گا۔
یہ صورتِ حال محض مالیاتی اعداد و شمار کا معاملہ نہیں بلکہ عوامی امانت کے فلسفے سے جڑا ہوا ایک بنیادی سوال ہے۔ جب کسی فنڈ کے نام ہی میں "شہری امداد اور ریلیف” شامل ہو تو اس کی اولین ترجیح ضرورت مند انسان ہونا چاہیے یا بینک کھاتوں میں محفوظ سرمایہ؟ حکومت یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ کورونا وبا ختم ہو چکی ہے، لیکن مستقبل کی وبائیں، قدرتی آفات اور دیگر قومی ہنگامی حالات کے لیے ایک مضبوط مالیاتی ذخیرہ ناگزیر ہے۔ یہ استدلال اپنی جگہ قابلِ غور ہے، مگر اصل بحث یہ ہے کہ کیا عوام سے عطیات لیتے وقت انہیں یہ واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ ان کی دی ہوئی رقم کا بڑا حصہ فوری امداد کے بجائے طویل مدتی ریزرو اور فکسڈ ڈپازٹس کی صورت میں محفوظ رکھا جائے گا؟ جمہوریت میں صرف نیک نیتی کافی نہیں ہوتی، عوامی اعتماد کی بنیاد شفاف پالیسی اور پیشگی وضاحت بھی ہوتی ہے۔
پی ایم کیئرز کے گرد سب سے بڑا آئینی تنازع اس کی قانونی حیثیت ہے۔ فنڈ کی سربراہی وزیر اعظم کرتے ہیں، وزیر داخلہ، وزیر دفاع اور وزیر خزانہ اس کے عہدہ بہ عہدہ ٹرسٹی ہیں۔ اس کی اپیل قومی سطح پر وزیراعظم کے دفتر سے ہوتی ہے، کمپنیوں کو CSR کے تحت عطیہ دینے کی قانونی اجازت حاصل ہے اور عطیات پر سو فیصد ٹیکس رعایت بھی دی جاتی ہے۔ لیکن جب اطلاعات کے حق کے قانون (آر ٹی آئی) کے تحت معلومات طلب کی گئیں تو حکومت نے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ پی ایم کیئرز سرکاری اتھارٹی نہیں بلکہ ایک عوامی خیراتی ٹرسٹ ہے، اس لیے وہ RTI کے دائرے میں نہیں آتا۔
یہی مقام پی ایم کیئرز تنازعے کا اصل مرکز ہے۔ ایک طرف حکومت عوام سے قومی اعتماد، آئینی وقار اور وزیرِ اعظم کے منصب کی بنیاد پر عطیات وصول کرتی ہے، لیکن دوسری طرف اسی فنڈ کو معلوماتِ عامہ اور عوامی جواب دہی کے دائرے سے باہر ایک نجی خیراتی ٹرسٹ قرار دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ٹرسٹ قانونی ہے یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ کیا عوامی اعتماد سے قائم ہونے والی امانت، عوامی احتساب سے مستثنیٰ ہو سکتی ہے؟ جمہوریت میں ریاست کا وقار صرف اختیارات سے نہیں بلکہ جواب دہی سے قائم رہتا ہے، اور جہاں عوام کا پیسہ شامل ہو وہاں شفافیت کوئی احسان نہیں بلکہ آئینی و اخلاقی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
آڈٹ رپورٹ کا ایک اور خاموش مگر نہایت اہم پہلو 324.66 کروڑ روپے کی واپسی ہے۔ مختلف عمل درآمد کرنے والے اداروں نے یہ رقم فنڈ کو واپس کی، مگر رپورٹ یہ نہیں بتاتی کہ یہ رقم کن منصوبوں کے لیے جاری ہوئی تھی، کن اداروں نے واپس کی اور واپسی کی اصل وجہ کیا تھی۔ کیا منصوبے مکمل نہیں ہوئے؟ کیا خریداری منسوخ ہوئی؟ کیا آلات غیر معیاری ثابت ہوئے؟ یا یہ غیر استعمال شدہ گرانٹس تھیں؟ مالیاتی شفافیت صرف آمدنی اور خرچ کے اعداد لکھ دینے کا نام نہیں بلکہ ہر بڑی رقم کی مکمل داستان بیان کرنے کا نام ہے۔ یہی وہ خلا ہے جس نے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پی ایم کیئرز کے دفاع میں حکومت کے پاس مضبوط دلائل موجود ہیںکورونا کے ابتدائی برسوں میں اسی فنڈ سے ہزاروں کروڑ روپے وینٹی لیٹرز، آکسیجن پلانٹس، مہاجر مزدوروں کی امداد، طبی بنیادی ڈھانچے اور کورونا سے یتیم بچوں کی فلاح کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ فنڈ کبھی استعمال ہی نہیں ہوا۔ اصل سوال یہ ہے کہ وبا کے بعد اس فنڈ کا کردار کیا ہے؟ کیا یہ مستقل قومی ایمرجنسی ریزرو ہے؟ اگر ہے تو اس کی پالیسی پارلیمنٹ کے سامنے کیوں نہیں رکھی گئی؟ اگر نہیں، تو پھر آٹھ ہزار کروڑ روپے کے استعمال کا واضح روڈ میپ کہاں ہے؟
اس پوری بحث میں ایک اور پہلو بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ہندوستان میں پہلے ہی وزیر اعظم نیشنل ریلیف فنڈ موجود ہے، جو 1948 سے قدرتی آفات اور طبی امداد کے لیے استعمال ہوتا آیا ہے۔ پی ایم کیئرز کو ایک متوازی قومی فنڈ کے طور پر متعارف کرایا گیا، مگر آج بھی عام شہری کے ذہن میں یہ سوال موجود ہے کہ آخر دونوں فنڈز کے دائرۂ کار میں عملی فرق کیا ہے؟ اگر ایک فنڈ قدرتی آفات کے لیے ہے اور دوسرا بھی ہنگامی حالات کے لیے، تو ان کے استعمال کی واضح آئینی تقسیم کیوں نہیں کی گئی؟ یہ سوال سیاسی نہیں بلکہ ادارہ جاتی اصلاح کا سوال ہے۔
اس پورے معاملے میں انصاف اور صحافتی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ حقائق اور سیاسی بیانیے کو ایک دوسرے میں خلط ملط نہ کیا جائے۔ پی ایم کیئرز کو لے کر اپوزیشن نے چینی کمپنیوں کے عطیات، شفافیت اور حکومتی طرزِ عمل پر سخت سوالات اٹھائے ہیں، مگر جن دعوؤں پر کوئی عدالتی یا سرکاری ثبوت موجود نہیں انہیں ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کرنا صحافت نہیں بلکہ جانب داری ہے۔ ذمہ دار صحافت کا فرض یہ ہے کہ وہ سوال ضرور اٹھائے، مگر فیصلہ قارئین کے سامنے مستند حقائق کی بنیاد پر چھوڑے۔
جمہوریت میں عوامی چندہ محض رقم کا عطیہ نہیں بلکہ شہری اور ریاست کے درمیان اعتماد کی ایک مقدس امانت ہے۔ جب عوام اپنی مرضی سے حکومت کے زیرِ انتظام کسی قومی فنڈ میں سرمایہ جمع کرتے ہیں تو وہ اس کے ساتھ شفافیت، بروقت حساب دہی اور غیر جانبدار نگرانی کی توقع بھی وابستہ کرتے ہیں۔ اسی اعتماد کی حفاظت ہر جمہوری حکومت کی اخلاقی ذمہ داری ہے، کیونکہ عوامی امانت کی اصل قدر اس کے حجم سے نہیں بلکہ اس پر قائم عوامی اعتماد سے متعین ہوتی ہے۔
آج پی ایم کیئرز کے سامنے سب سے بڑا چیلنج رقم کی قلت نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی ہے۔ آٹھ ہزار چار سو باون کروڑ روپے کا بینک بیلنس یقیناً ایک بڑی مالی قوت ہے، مگر اس سے کہیں بڑی قوت وہ اخلاقی سرمایہ ہے جو کروڑوں ہندوستانیوں نے 2020 میں اس فنڈ کے نام کیا تھا۔ اگر اس اعتماد کو برقرار رکھنا ہے تو بروقت آڈٹ، مکمل معلومات، قانونی ابہام کا خاتمہ اور حقیقی عوامی احتساب ناگزیر ہے، کیونکہ قومی امانت کی حفاظت صرف تالوں سے نہیں، بلکہ شفافیت سے ہوتی ہے۔
haleemmansoor@gmail.com