✍️۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
عصرِ حاضر کی سب سے نمایاں علامت اگر کوئی ہے تو وہ موبائل فون ہے۔ یہ ننھا سا آلہ ہماری ہتھیلی پر پوری دنیا سمیٹے ہوئے ہے۔ اطلاعات کا سمندر، رابطوں کی دنیا، علم کے خزانے، تجارت کے مراکز، تفریح کے وسائل اور مصنوعی ذہانت تک رسائی—سب کچھ چند لمس کی دوری پر ہے۔ موبائل فون نے انسانی زندگی کو آسان، تیز اور مربوط ضرور بنایا ہے، لیکن اسی سہولت کے پردے میں ایک ایسا ماحولیاتی بحران بھی پروان چڑھ رہا ہے جس پر ہماری نگاہ بہت کم جاتی ہے۔ ہم موبائل فون کی اسکرین دیکھتے ہیں، اس کے پیچھے چھپی ہوئی کان کنی نہیں دیکھتے؛ ہم اس کی چمک دیکھتے ہیں، اس کے لیے استعمال ہونے والے معدنی وسائل کی تاریکی نہیں دیکھتے؛ ہم نیا ماڈل خریدتے وقت اس کی رفتار اور کیمرہ دیکھتے ہیں، مگر پرانے فون کے انجام اور برقی کچرے کے بڑھتے ہوئے پہاڑوں پر غور نہیں کرتے۔
یہ صرف ایک موبائل فون کی کہانی نہیں؛ یہ انسان، معیشت، ٹیکنالوجی اور فطرت کے درمیان بگڑتے ہوئے تعلق کی کہانی ہے۔ قرآنِ مجید انسان کو زمین پر اختیار عطا کرتے ہوئے اسے بے لگام تصرف کا مالک نہیں بناتا بلکہ ذمّہ دار بناتا ہے۔ ارشاد ہے: وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا۔ اور زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد نہ پھیلاؤ (الأعراف: 56)۔ یہ آیت صرف قدیم زمانے کے کسی مخصوص فساد کی ممانعت نہیں کرتی؛ اس کا پیغام آج کے انسان کے لیے بھی اتنا ہی زندہ ہے۔ زمین کے وسائل کا بے دریغ استعمال، غیر ضروری پیداوار، فضول خرچی، آلودگی، برقی کچرے کا انبار اور فطرت کے توازن کو پامال کرنا اسی وسیع مفہومِ فساد کے مختلف مظاہر ہیں۔
موبائل فون بذاتِ خود کوئی شر نہیں۔ ٹیکنالوجی اللّٰہ تعالیٰ کی عطا کردہ انسانی عقل و صلاحیت کا ایک ثمر ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، ٹیکنالوجی کے استعمال کا فلسفہ ہے۔ ایک زمانہ تھا جب موبائل فون رابطے کی ضرورت تھا؛ پھر یہ معلومات کا ذریعہ بنا؛ اس کے بعد تفریح، خریدوفروخت، تعلیم اور معاشرتی اظہار کا وسیلہ بن گیا؛ اور اب بہت سے انسانوں کے لیے یہ زندگی کا مستقل ساتھی نہیں بلکہ زندگی کا متبادل بنتا جا رہا ہے۔ ہم جاگتے ہی موبائل دیکھتے ہیں، کھانا کھاتے ہوئے موبائل دیکھتے ہیں، سفر میں موبائل دیکھتے ہیں، دوستوں کے درمیان موبائل دیکھتے ہیں، حتیٰ کہ بعض اوقات عبادت اور اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کے دوران بھی ہماری توجہ اسکرین سے آزاد نہیں ہو پاتی۔ یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ موبائل ہمیں کتنا وقت کھا رہا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس موبائل کو بنانے کے لیے زمین نے کتنا دیا، انسان نے کیا قیمت ادا کی اور فطرت نے کتنا بوجھ برداشت کیا؟
ایک جدید اسمارٹ فون بظاہر چند سو گرام کا آلہ ہے، مگر اس کے پیچھے ایک طویل صنعتی زنجیر کارفرما ہوتی ہے۔ اس کے لیے مختلف معدنیات اور دھاتیں درکار ہوتی ہیں۔ ان کی تلاش اور نکاسی کے لیے زمین کھودی جاتی ہے، پہاڑ کاٹے جاتے ہیں، جنگلات متاثر ہوتے ہیں، پانی استعمال ہوتا ہے اور صنعتی عمل کے نتیجے میں فضلہ پیدا ہوتا ہے۔ یعنی ہماری ہتھیلی پر موجود ایک چھوٹا سا آلہ دراصل زمین کے وسیع تر قدرتی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ ہماری صارفانہ زندگی کا ایک المیہ یہ ہے کہ ہم چیزوں کو ان کے بازار کی قیمت سے دیکھتے ہیں، ان کی ماحولیاتی قیمت سے نہیں۔ فون ہمیں پانچ سو، ہزار یا دو ہزار ڈالر کا دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کی حقیقی قیمت میں وہ پانی، توانائی، معدنیات، زمین، محنت اور ماحولیاتی نقصان بھی شامل ہوتا ہے جو اس کی تیاری کے مختلف مراحل میں صرف ہوا۔
دنیا میں الیکٹرانک مصنوعات کی مانگ بڑھ رہی ہے اور اس کے ساتھ مختلف معدنی وسائل کی طلب بھی بڑھ رہی ہے۔ لیتھیم، کوبالٹ، نکل، تانبہ، گریفائٹ اور دیگر معدنیات بیٹریوں، سرکٹس اور مختلف الیکٹرانک اجزا میں استعمال ہوتے ہیں۔ یہ معدنیات کسی خلا سے نہیں آتیں؛ انہیں زمین کے اندر سے نکالنا پڑتا ہے۔ کان کنی کے نتیجے میں زمین کی ساخت متاثر ہوتی ہے، پانی کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، بعض علاقوں میں جنگلات اور حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور مقامی آبادیوں کی زندگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہاں ایک بنیادی اخلاقی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہماری ٹیکنالوجی کی سہولت کسی دوسرے انسان یا فطرت کی تکلیف پر تعمیر ہونی چاہیے؟ اگر ہمارا فون ہمیں دنیا سے جوڑتا ہے مگر اس کی تیاری کسی انسان کو اس کی زمین، صحت یا بنیادی حقوق سے محروم کرنے کا سبب بنتی ہے تو ہمیں اپنی ترقی کے تصور پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔
موبائل فون کی زندگی مختصر ہوتی جا رہی ہے۔ نیا ماڈل آتا ہے، اشتہار ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارا موجودہ فون پرانا ہو چکا ہے، کیمرہ بہتر ہے، اسکرین زیادہ روشن ہے، پروسیسر تیز ہے، مصنوعی ذہانت زیادہ جدید ہے—اور ہم ایک قابلِ استعمال فون کو ترک کرکے نیا فون خرید لیتے ہیں۔ یوں ٹیکنالوجی کی ترقی، صارفیت کی رفتار اور برقی کچرے میں اضافہ ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ دنیا میں ہر سال کروڑوں ٹن برقی و الیکٹرانک کچرا پیدا ہوتا ہے، جس میں موبائل فون، کمپیوٹر، ٹیبلٹ، چارجر، بیٹریاں اور دیگر آلات شامل ہیں۔ مسئلہ صرف مقدار کا نہیں؛ مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس کچرے میں موجود قیمتی اور بعض اوقات نقصان دہ مادّوں کو محفوظ طریقے سے دوبارہ حاصل اور تلف کرنا ضروری ہے۔ اگر برقی کچرا غیر رسمی یا غیر محفوظ طریقے سے جلایا، توڑا یا پراسیس کیا جائے تو مٹی، پانی اور ہوا متاثر ہو سکتے ہیں۔ یوں وہ موبائل فون جس نے ہماری زندگی کو "اسمارٹ” بنانے کا دعویٰ کیا تھا، اپنی زندگی کے اختتام پر زمین کے لیے ایک نیا مسئلہ بن سکتا ہے۔
ہم میں سے بہت سے لوگوں کے گھروں میں پرانے موبائل فون، خراب بیٹریاں، بے کار چارجر، تاریں، ہیڈفون اور دیگر الیکٹرانک اشیاء پڑی ہوتی ہیں۔ ہم انہیں پھینکتے نہیں کیونکہ شاید کبھی کام آ جائیں؛ استعمال بھی نہیں کرتے کیونکہ وہ پرانے ہو چکے ہوتے ہیں۔ یہ چھوٹی سی عادت ہمیں ایک بڑے مسئلے کی طرف متوجہ کرتی ہے: ہم نے اشیا کی قدر ان کے استعمال سے نہیں بلکہ ان کی ملکیت سے وابستہ کر دی ہے۔ ہمارے پاس چیزیں بڑھتی جا رہی ہیں، مگر ان کے لیے زمین، پانی اور خام مال لامحدود نہیں۔
جدید مارکیٹ کا سب سے طاقتور ہتھیار صرف مصنوعات نہیں بلکہ خواہش پیدا کرنا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ نیا فون ہمیں زیادہ خوش، زیادہ کامیاب، زیادہ جدید اور زیادہ قابلِ قبول بنائے گا۔ پھر ہر چند ماہ یا ہر سال نئی مصنوعات کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے۔ یہاں اسلام کا تصورِ قناعت ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ۔ "کھاؤ اور پیو، اور اسراف نہ کرو، بے شک اللّٰہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا (الأعراف: 31)۔ اسراف صرف کھانے پینے میں نہیں؛ ہر اس استعمال میں ہے جس میں ضرورت، ذمّہ داری اور توازن کو نظر انداز کر دیا جائے۔ اگر ایک شخص کا موجودہ موبائل پوری طرح قابلِ استعمال ہے، مگر صرف فیشن یا معمولی اضافی خصوصیات کی خاطر اسے بار بار تبدیل کیا جاتا ہے، تو یہ رویہ کم از کم اخلاقی اور ماحولیاتی احتساب کا تقاضا ضرور کرتا ہے۔
ماحولیاتی بحران صرف درختوں، دریاؤں اور پہاڑوں کا بحران نہیں؛ یہ انسانی تعلقات کا بحران بھی ہے۔ ہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں لاکھوں لوگ ایک دوسرے سے "آن لائن” جڑے ہوئے ہیں مگر اپنے قریب بیٹھے انسان سے دور ہیں۔ گھر ایک ہی ہے، مگر ہر فرد اپنی اسکرین میں الگ دنیا آباد کیے ہوئے ہے۔ ماں باپ بچّوں کے ساتھ ہیں مگر بچوں کی آنکھیں اسکرین پر ہیں؛ بچّے والدین کے ساتھ ہیں مگر والدین موبائل میں مصروف ہیں؛ دوست ایک میز پر بیٹھے ہیں مگر گفتگو کے بجائے اپنی اپنی اسکرینوں میں گم ہیں۔ یہ کیسی ترقی ہے جس نے فاصلے کم کیے مگر بعض اوقات دلوں کے فاصلے بڑھا دیے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں "ماحولیاتی بحران” کا مفہوم وسیع ہو جاتا ہے۔ فطرت کا ماحول آلودہ ہو تو انسان بیمار ہوتا ہے، اور تعلقات کا ماحول آلودہ ہو تو انسان اندر سے تنہا ہو جاتا ہے۔
موبائل فون کی اسکرین پر ہمیں دنیا کے ہر حصے کی خبریں ملتی ہیں۔ جنگ، قحط، سیلاب، زلزلہ، غربت، مہاجرت اور انسانی المیے چند سیکنڈ میں ہماری آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ معلومات بڑھنے کے باوجود احساس ہمیشہ نہیں بڑھتا۔ ہم ایک المیہ دیکھتے ہیں، چند لمحے افسوس کرتے ہیں، پھر اگلی ویڈیو کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ انسانی دکھ "مواد” بن جاتا ہے، مصیبت "خبر” بن جاتی ہے اور موت "اسکرول” کا ایک حصّہ۔ یہ ہماری تہذیب کا ایک خطرناک تضاد ہے: ہم دنیا کے دکھ سے باخبر ہیں، مگر ہر دکھ سے متاثر نہیں ہوتے۔ رحمتِ عالمﷺ کی سیرت ہمیں انسان کو محض خبر نہیں بلکہ انسان سمجھنے کا درس دیتی ہے۔ آپﷺ نے کمزوروں، یتیموں، مسکینوں، غلاموں، پڑوسیوں، مسافروں اور جانوروں تک کے حقوق کو اخلاقی زندگی کا حصّہ بنایا۔ آپﷺ کی رحمت کسی ایک طبقے، قوم یا نسل تک محدود نہ تھی بلکہ قرآن نے اسے رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ قرار دیا۔
اسلامی تصورِ ماحولیات کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ زمین ہماری ملکیتِ مطلق نہیں بلکہ امانت ہے۔ انسان خلیفہ ہے، مالکِ مطلق نہیں۔ اسے زمین سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے، مگر زمین کو تباہ کرنے کا حق نہیں؛ اسے وسائل استعمال کرنے کی اجازت ہے، مگر اسراف کی اجازت نہیں؛ اسے ترقی کرنے کا حق ہے، مگر دوسروں کے حقوق پامال کرکے نہیں۔ رسول اللّٰہﷺ نے شجرکاری کی ترغیب دی۔ پانی کے استعمال میں اسراف سے روکا۔ جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی۔ راستوں سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو صدقہ قرار دیا۔ طہارت و پاکیزگی کو ایمان سے جوڑا۔ یہ سب مل کر ایک ایسی اخلاقی تہذیب تشکیل دیتے ہیں جس میں انسان، حیوان، نباتات، پانی، زمین اور ہوا ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک وسیع اخلاقی نظام کا حصّہ ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کی تعریف پر نظرثانی کریں۔ کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ ہر سال نیا فون خرید لیا جائے؟ کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ فون زیادہ طاقتور ہو مگر انسان اپنے خاندان کے لیے کم وقت رکھتا ہو؟ کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ ہماری اسکرینیں زیادہ روشن ہوں مگر دریاؤں کا پانی زیادہ آلودہ؟ کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے آلات زیادہ ذہین ہوں مگر ہمارا اجتماعی ضمیر زیادہ بے حس؟ ترقی وہ ہے جو انسان کو بہتر بنائے، زمین کو محفوظ رکھے اور آنے والی نسلوں کا حق نہ چھینے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ہم موبائل فون چھوڑ دیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم موبائل فون کے غلام نہ بنیں۔ چند بنیادی اصول ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں:
اول: ضرورت کو خواہش سے الگ کیا جائے۔
صرف نئے ماڈل کی کشش میں قابلِ استعمال فون تبدیل کرنے کے رجحان کو کم کیا جائے۔
دوم: مرمت اور دوبارہ استعمال کو فروغ دیا جائے۔
ایسی مصنوعات کا انتخاب بہتر ہے جنہیں مرمت کیا جا سکے اور جن کے پرزے آسانی سے تبدیل ہوں۔
سوم: برقی کچرے کو عام کوڑے میں نہ پھینکا جائے۔
پرانے موبائل، بیٹریاں اور الیکٹرانک آلات مناسب ای-ویسٹ نظام کے ذریعے ری سائیکل کیے جائیں۔
چہارم: استعمال کی مدت بڑھائی جائے۔
ایک فون کو زیادہ عرصے تک استعمال کرنا محض مالی بچت نہیں بلکہ ماحولیاتی ذمّہ داری بھی ہے۔
پنجم: بچّوں میں ڈیجیٹل تہذیب پیدا کی جائے۔
بچّوں کو صرف موبائل استعمال کرنا نہیں، بلکہ موبائل سے فاصلہ رکھنا بھی سکھانا ہوگا۔
ششم: اسکرین سے زیادہ انسان کو اہمیت دی جائے۔
گھر میں ایسے اوقات مقرر کیے جائیں جب موبائل خاموش ہو اور گفتگو زندہ ہو۔
ہفتم: صنعت اور حکومت اپنی ذمّہ داری قبول کریں۔
کمپنیوں کو پائیدار ڈیزائن، قابلِ مرمت مصنوعات، ذمّہ دارانہ معدنی سپلائی چین اور مؤثر ری سائیکلنگ کی طرف بڑھنا ہوگا۔
ماحولیاتی بحران کا حل صرف نئی ٹیکنالوجی ایجاد کرنے سے نہیں ہوگا؛ ہمیں نیا اخلاقی شعور بھی پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے بچّوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ درخت صرف لکڑی نہیں، دریا صرف پانی نہیں، زمین صرف پلاٹ نہیں، جانور صرف خوراک نہیں اور موبائل صرف ایک گیجٹ نہیں۔ ہر چیز ایک وسیع تر نظام کا حصّہ ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارے آج کے فیصلے آنے والی نسلوں کے کل کو تشکیل دیتے ہیں۔ اگر ہم آج زمین کے وسائل کو بے دریغ استعمال کریں گے تو کل ہمارے بچے ہم سے پوچھیں گے: آپ کے پاس سہولتیں تو بہت تھیں، مگر ہمارے لیے زمین کیوں کم چھوڑ گئے؟۔ یہ سوال صرف آنے والی نسلوں کا نہیں، ہمارے ضمیر کا سوال ہے۔
موبائل فون کی اسکرین روشن ہے، مگر ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اس روشنی کے پیچھے کہیں زمین تاریک تو نہیں ہو رہی؟
ہم دنیا سے جڑے ہوئے ہیں، مگر کیا ہم زمین سے بھی جڑے ہوئے ہیں؟
ہم اطلاعات سے بھرے ہوئے ہیں، مگر کیا ہمارے دل احساس سے بھی بھرے ہیں؟
ہم ٹیکنالوجی میں ترقی کر رہے ہیں، مگر کیا ہماری انسانیت بھی ترقی کر رہی ہے؟
اصل مسئلہ موبائل فون نہیں؛ اصل مسئلہ انسان کا اپنے اختیار سے بے خبر ہو جانا ہے۔
اسلام ہمیں ایسی ترقی نہیں سکھاتا جس میں انسان سہولتوں کا بادشاہ اور زمین کا دشمن بن جائے۔ وہ ہمیں امانت، اعتدال، رحمت، قناعت اور ذمّہ داری کی تہذیب عطا کرتا ہے۔ ہمیں ایک ایسی ٹیکنالوجی درکار ہے جو انسان کی خدمت کرے، انسان کو استعمال نہ کرے؛ ایسی معیشت درکار ہے جو زمین کو کھائے نہیں بلکہ اسے سنوارے؛ ایسی ترقی درکار ہے جو آنے والی نسلوں کے حقوق محفوظ رکھے؛ اور ایسا انسان درکار ہے جس کے ہاتھ میں موبائل ہو مگر دل میں خدا کا خوف، ذہن میں ذمّہ داری اور سینے میں انسانیت کا درد باقی ہو۔
زمین ہماری ملکیت نہیں، امانت ہے۔ موبائل ہماری ضرورت ہو سکتا ہے، مقصدِ زندگی نہیں۔ اور انسانیت ہماری سب سے بڑی ذمّہ داری ہے۔ شاید آج ہمیں سب سے زیادہ ضرورت کسی نئے موبائل ماڈل کی نہیں، بلکہ انسان کے اندر ایک نئے اخلاقی ماڈل کی تعمیر کی ہے—ایسا انسان جو ترقی بھی کرے، مگر زمین کو نہ بھولے؛ ٹیکنالوجی بھی استعمال کرے، مگر انسانیت کو نہ کھوئے؛ اور دنیا کو اپنے ہاتھ میں سمیٹتے ہوئے بھی اپنے ربّ، اپنی فطرت اور اپنے جیسے انسانوں کے حقوق کو نہ بھولے۔
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○